آگم ڪيو اچن...

عنوان کلام شاہ عبداللطیف رح
شارح / محقق شيخ اياز
ڇپائيندڙ سنڌيڪا اڪيڊمي
ڇپجڻ جي تاريخ 2005-01-01
ايڊيشن 1

فھرست

سر کلیان

پہلی داستان
1

تیری ہی ذات اول و آخر تو ہی قائم ہے اور تو ہی قدیم
تجھ سے وابستہ ہر تمنا ہے تیرا ہی آسرا ہے ربّ کریم
کم ہے جتنی کریں تیری توصیف تو ہی اعلیٰ ہے اور تو ہی علیم
والیِ شش جہات واحد ذات رازقِ کائنات، ربِ رحیم

[اصل بیت پڑھیں]
2

اگر اللہ پر رکھتے ہو ایماں رسول اللہ سے بھی لو لگائو
سمائے جس میں ان دونوں کا سودا کسی در پر نہ اس سر کو جھکائو

[اصل بیت پڑھیں]
3

جنہوں نے دل سے اس یکتا کو مانا محمد کو بصد اخلاص جانا
نہ ان کو کوئی گمراہی کا خطرہ نہ ان سے دور ہے ان کا ٹھکانا

[اصل بیت پڑھیں]
4

کامل ایماں کے ساتھ جس نے بھی دل سے مانا زبان سے مانا
جس کی خاطر بنی ہے یہ دنیا اس محمد کا مرتبہ جانا
فوقیت اس کو دوسروں پہ ملی اپنی ہستی کو اس نے پہچانا
جس نے اس قادر حقیقی کو وحدہٗ لا شریک گردانا

[اصل بیت پڑھیں]
5

ہیں ازل ہی سے بے نیازِ الم راز دارانِ جلوہٗ معبود
گمراہی دور ہی رہی ان سے مل گئی ان کو منزلِ مقصود
واقفِ وحدتِ احد ہو کر ہو گئے ایک شاہد و مشہود

[اصل بیت پڑھیں]
6

پرتو حسنِ دوست ہے جن پر ان کے دل روشنی سے ہیں معمور
اپنی دنیا الگ بسائی ہے خوف و رنج و غم و الم سے دور

[اصل بیت پڑھیں]
7

قتیل ذکرِ الااللہ ہیں وہ ہوئے جو واقفِ اسرار وحدت
حقیقت آشنا ہے روح ان کی بذات خود ہیں وہ خضر طریقت
سکوتِ معرفت اُن کے لبوں پر نگاہوں میں مسافت ہی مسافت
ہمیشہ بے نیازِ عیش و عشرت "لطیف" ان عاشقوں پرحق کی رحمت

[اصل بیت پڑھیں]
8

مقامِ کشتگانِ تیغ وحدت کمالِ آدمیت اوجِ ایماں
"لطیف" اس راستے پر جو چلے ہیں وہی ہیں صاحبِ ایمان و عرفان

[اصل بیت پڑھیں]
9

کشتۂ "وحدہٗ" ہوئے جو لوگ ان کو ’’اِلاّ" نے کردیا دو نیم
خوف سے جرأت آزما نہ ہوا پھر کسی اور کا سرِ تسلیم

[اصل بیت پڑھیں]
10

جسم موجود ہے تو سر غائب سر اگر مل گیا تو جسم نہیں
کچھ بھی اس کے سوا نہیں معلوم منزلِ دوست میں ہیں اہل یقیں

[اصل بیت پڑھیں]
11

وحدہٗ لا شریک کے عاشق سن سکا تو نہ اپنے دل کی پکار
جب ترے سامنے وہ آئیں گے ضبط ہو جائیگا تجھے دشوار

[اصل بیت پڑھیں]
12

وحدہٗ لا شریک کا سودا فکرِ سود و زیاں سے برتر ہے
ہے یہی تیری منزلِ مقصود اور تو خود ہی اپنا رہبر ہے
کاش وہ تشنگی ملے تجھ کو جس کا انعام حوضِ کوثر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
13

وحدہٗ لا شریک شرطِ وفا رہِ ہموارِ منزلِ توحید
جس کسی نے دوئی کو اپنایا اپنی منزل سے ہو گیا وہ بعید

[اصل بیت پڑھیں]
14

ہو گئے ایک مل کے ذات و صفات مٹ گیا فرق عاشق و معشوق
ہم ہی کوتاہ بیں رہے ورنہ وہی خالق ہے اور وہی مخلوق

[اصل بیت پڑھیں]
15

کبھی وحدت کی تنہائی میں کثرت کبھی کثرت کے ہنگاموں میں وحدت
مگر ان سارے ہنگاموں کی تہ میں بس اک محبوب ہے اور اس کی صورت

[اصل بیت پڑھیں]
16

غیر محدود ہے جلال اس کا دھر آئینۂ جمال اس کا
آپ رہبر ہے آپ ہی راہی ختم خود اس پہ ہے کمال اس کا
اس کا احساس ہر جگہ ہر وقت کہ ہمہ گیر ہے خیال اس کا
روح انساں میں جلوہ فرما ہے پر تو حسنِ بے مثال اس کا

[اصل بیت پڑھیں]
17

خالقِ حسن کائنات ہے خود خود ہی اس کائنات کا محبوب
آپ ہی اپنا آئینہ ہے وہ خود ہی طالب ہے اور خود مطلوب

[اصل بیت پڑھیں]
18

آپ ہی دوست آپ ہی دشمن آپ آغاز آپ ہی انجام
اصل میں اک حقیقت من و تو درمیاں لاکھ پردۂ اوہام
زندگی، موت، سانس، دل کی پھانس کون جانے ہیں تیرے کتنے نام

[اصل بیت پڑھیں]
19

یہ صدا اور بازگشت صدا اصل دونوں کی ایک جیسی ہے
اپنی آواز کی دوئی پہ نہ جا کہ سماعت فریب دیتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
20

قصر ہے ایک اور در لاکھوں ہر طرف بے شمار ہیں روزن
مجھ کو ہر سمت سے نظر آیا جلوہ گر ایک ہی رخِ روشن

[اصل بیت پڑھیں]
21

مظہر حسنِ ذاتِ باقی ہے اے محبت ترا ہجومِ صفات
جلوہٗ حسن یار ہر شے میں جلوہٗ حسنِ یار کی کیا بات

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

ہر کوئی اپنے ساجن کی کرتا رہتا ہے پوجا
گن ہیں جس کے بول بول میں نینوں میں ہے نیہا
ساجن پہلے جان گئے جو میں نے چت میں سوچا
گن ہیں جس کے بول بول میں نینوں میں ہے نیہا
سنو ’’لطیف‘‘ کی لے کو اس میں بھید ہے اس کے من کا
گن ہیں جس کے بول بول میں نینوں میں ہے نیہا

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

وہ عیادت کو چل کے آئے ہیں آگئی راس مجھ کو بیماری
دیکھ کر مجھ کو ایسی حالت میں رنج و غم ان پہ ہو گیا طاری
برسرِ دار ہوکے دیکھی ہیں میں نے ان کی بھلائیاں ساری

[اصل بیت پڑھیں]
2

نہیں ان چارہ سازوں میں بصیرت کہو ان سے نہ میرا جی جلائیں
اذیت ہے مسلسل چارہ سازی پلاتے ہیں دوائوں پر دوائیں
جو سولی ہی کو اپنی سیج سمجھیں وہ کیوں مرنے سے آخر جی چرائیں

[اصل بیت پڑھیں]
3

دیکھیں چلتا ہے کون اے سکھیو ہم کو سولی نے پھر پکارا ہے
انہیں جانا پڑے گا آخر کار جنہیں ساجن کا نام پیارا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

کہہ رہی ہے پکار کر سولی دیکھنا اب قدم نہ پیچھے ہٹے
عاشقو! دعویٰ وفا ہے غلط گر رہِ دوستی میں سر نہ کٹے

[اصل بیت پڑھیں]
5

سر سے پا تک خلوصِ عزم شعار جلوۂ بے نقاب سے دو چار
سولی ہے ایسے عاشقوں کا سنگھار سر بریدہ رہیں گے سارے یار
یہی روز ازل سے ہے اقرار سولی ہے ایسے عاشقوں کا سنگھار
تیز نیزوں کی دیکھ کر یلغار مانتے ہیں ’’لطیف‘‘ کب وہ ہار
سولی ہے ایسے عاشقوں کا سنگھار

[اصل بیت پڑھیں]
6

دار و دیدار کی نوید سنی مرحبا کشتگان جلوہٗ یار
اوج کی انتہا پہ جا پہنچے مطمئن ہوگئے خلوص شعار

[اصل بیت پڑھیں]
7

بر سر دار طالبِ دیدار اور کہتے ہیں کس کو اوج مقام
مڑ کے دیکھا نہیں کبھی پیچھے آگے بڑھتے رہیں گے گام بہ گام

[اصل بیت پڑھیں]
8

تمنا دار کی دل سے نہ جائے کہ ہوگا دار سے دیدار حاصل
محبت ہرقدم پر رہنما ہو تو پھر کچھ بھی نہیں ہے تجھ کو مشکل

[اصل بیت پڑھیں]
9

چھری پیوست ہو جانے دو پہلے ابھی پوچھو نہ انجام محبت
ہم آہنگ سرود زیست کر لو غم محبوب و آلام محبت

[اصل بیت پڑھیں]
10

کسی کے ہاتھ میں ہے اس کا قبضہ نہیں خود موردِ الزام خنجر
رخِ محبوب کی نظارگی سے لرز جاتا ہے یہ لوہا بھی اکثر

[اصل بیت پڑھیں]
11

اس کے خنجر کو کند رہنے دو دھار اس کی نہ تیز ہوپائے
جب چلانے لگے مرا محبوب ہاتھ کچھ دیر کو ٹھہر جائے

[اصل بیت پڑھیں]
12

خنجر اس شاہدِ حقیقی کا گوشت کیا ہڈیوں کو چیر گیا
خنجرِ شاہدِ حقیقی سے تنِ عاشق کا بند بند جدا

[اصل بیت پڑھیں]
13

رہِ محبوب ہے شمشیر کی دھار دمِ شمشیر سے ہر گز نہ ڈرنا
بہت کمیاب ہے یہ دولتِ عشق تم اپنے زخم کا چرچا نہ کرنا

[اصل بیت پڑھیں]
14

تمہیں بھی جان دینا ہے تو آئو کہ مشتاقِ شہادت صف بہ صف ہیں
یہاں سے کون گذرا ہے سلامت کہ سب اس دیس میں خنجر بکف ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
15

محبت ہے مجھے ان قاتلوں سے جو رکھتے ہیں کفِ نازک میں خنجر
رواں ہوں سوئے میدانِ شہادت کہ اک مدت سے بارِ دوش ہے سر

[اصل بیت پڑھیں]
16

جو آگے بڑھ گئے جاں دے چکے ہیں کئی سر آچکے ہیں زیرِ خنجر
جو پیچھے رہ گئے ہیں بڑھ رہے ہیں کہ ان کو بھی شہادت ہو میسر
نہ اس منزل کو تم آساں سمجھنا بڑھے آگے تو سر ہو گا زمیں پر
یہ ہے وہ میکدہ بہتا ہے جس میں لہو بھی بادۂ گلرنگ بن کر

[اصل بیت پڑھیں]
17

اگر ہے جرعۂ مے کی تمنا تو اس پیر مغاں کے در پہ جائو
قریبِ ہر خمِ مے عاجزی سے تم اپنے کاسۂ سر کو جھکائو
اگر ہو سر فروشِ مے پرستی تو بہر جرعہ یہ بازی لگائو
یہ مستی سر کے بدلے میں ہے سستی اٹھو آگے بڑھو ساغر اٹھائو

[اصل بیت پڑھیں]
18

اگر ہے جرعۂ مے کی تمنا تو اس پیر مغاں کے در پہ جائو
جو کہتا ہے "لطیف" اس کو سنو تم سر اپنا کاٹ کر خم سے ملائو
خریدو اسکے بدلے تم یہ سودا نہ خالی ہاتھ جام مے اٹھائو

[اصل بیت پڑھیں]
19

جہاں بکتی ہے، اس کوچے میں جائو اگر ہے جرعۂ مے کی تمنا
رموز مے فروشی ہیں نرالے کوئی سمجھا انہیں کوئی نہ سمجھا
خمار چشم جاناں کی، قسم ہے یہ سودا، سر کے بدلے بھی ہے سستا

[اصل بیت پڑھیں]
20

جہاں بکتی ہے، اس کوچے میں جائو اگر ہے جرعۂ مے کی تمنا
ملامت، تہمت ہستی، شہادت عجب دستور ہے اس مے کدے کا
اگر اک کوزۂ مے تم کو مل جائے تو ہر قیمت پہ یہ سودا ہے سستا

[اصل بیت پڑھیں]
21

وہاں دولت نہ کام آئے گی "سید" جہاں کونین ہے جرعے کی قیمت
قریبِ خم پہنچ کر جان دیدو یہی اک کامرانی کی ہے صورت

[اصل بیت پڑھیں]
22

غذائے عاشقاں ہے، زہر قاتل اسے وہ دیکھ کر، ہوتے ہیں شاداں
فدائے ہر ادائے قاتلانہ نثارِ جنبشِ زنجیرِ زنداں
چھپائے ہیں دلوں میں زخم کاری تبسم ریز ہیں لب ہائے خنداں

[اصل بیت پڑھیں]
23

جو تیرا دل مصائب سے، ہے خائف نہ کر بادہ پرستی کی تمنا
رگوں سے کھینچ لے جو، روح ساری مبارک ہے مزہ اس جام مے کا
جو سر کو کاٹ کر بھٹی پہ رکھ دیں انہیں کو راس آتا ہے یہ سودا

[اصل بیت پڑھیں]
24

نہیں ہے جرأت رندانہ جن میں انہیں زیبا نہیں مے کی تمنا
وہ ساقی آئے گا خنجر بکف جب تو فوراً رنگ اڑ جائیگا ان کا
انہیں زیبا ہے شغلِ جرعہ نوشی جنہیں منظور اپنے سر کا سودا

[اصل بیت پڑھیں]
25

ہوا ہے پارہ پارہ جسم ان کا الگ ہے دیگ میں ایک ایک ٹکڑا
ہتھیلی پر جو سر کو لے کے اٹھے انہی کو زیب دیتی ہے تمنا

[اصل بیت پڑھیں]
26

ابلتے ہیں یہاں دیگوں میں ٹکڑے کھڑکتی ہے یہاں ہر دم کڑھائی
جہاں یہ حال ہو اہل طلب کا وہاں کیا چارہ سازوں کی رسائی

[اصل بیت پڑھیں]
27

طلب گار سر رنداں ہے ساقی
نہ جانے مغبچے کیا مانگتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
28

بہر عنواں تمنائے محبت بہر صورت جنونِ سرفروشی
’’لطیف" ان عاشقوں کی جاں نثاری لطیف اِن عاشقوں کی گرم جوشی

[اصل بیت پڑھیں]
29

نہیں ان عاشقوں کو سر کی پروا خلوص دل ہے بارِ سر سے بہتر
کہیں اچھی ہے جلدو استخواں سے محبت کی شمیمِ روح پرور

[اصل بیت پڑھیں]
30

فقط سر دے کے کب ہوتا ہے سودا نہ سمجھو اتنا ارزاں عاشقی کو
یہ نعمت اے ہجوم سر فروشاں مقدر ہی سے ملتی ہے کسی کو

[اصل بیت پڑھیں]
31

گراں ہے عاشقوں کا قطرہٗ خوں ٹپکنے میں ہے اس کی قدر و قیمت
نگاہ ناز جاناں جلوہٗ دوست محبت کرنے والوں کی عبادت

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

مدھہ پی کے میں نے اپنے پیارے ساجن کو پہچان لیا
یہ پریت کا ناتا کرکے میں نے جانے کیا کیا جان لیا
ساجن کو پہچان لیا
اس پار کی اگنی ہے من میں، جس پار سے میں نے گیان لیا
ساجن کو پہچان لیا
یہ جگ ہے دو دن کی مایا، ساجن ہم نے یہ مان لیا
ساجن کو پہچان لیا
کہے ’’لطیف‘‘ کہ تو ہی تو ہے، یہ سارا جگ چھان لیا
ساجن کو پہچان لیا

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

آگ دل میں لگا کے چھوڑ گئے تابِ غم آزما کے چھوڑ گئے
چارہ سازوں سے اب کسے امید تم ہی اپنا بنا کے چھوڑ گئے

[اصل بیت پڑھیں]
2

ایک تیرے سوا مرے قاتل
کون ہے جس کو چارہ ساز کہیں

[اصل بیت پڑھیں]
3

میرا ہادی مرا حبیب ہوا مل گیا ایک مہرباں مجھ کو
لے گیا اپنے ساتھ درد مرا دے کے آرامِ جسم و جاں مجھ کو

[اصل بیت پڑھیں]
4

درد اس کا شدید تر ہو جائے جس کا محبوب چارہ گر ہو جائے
اور کوئی ہو چارہ ساز اگر چارۂ درد بے اثر ہو جائے
اس کو حاجت نہیں مسیحا کی جس پہ محبوب کی نظر ہو جائے

[اصل بیت پڑھیں]
5

جب سے محبوب چارہ ساز ہوا ہو گیا دور دل کا ہر آزار
وہی غمخوار بن کے آیا ہے ہم سمجھتے رہے جسے قہار
ایک انعام ہے دلِ پر خوں ایک نعمت ہے زخم خنجر یار
ہاتھ اس کا رگوں پہ رہتا ہے آشنائے نفس ہے وہ ہشیار

[اصل بیت پڑھیں]
6

کیا تڑپنا کراہنا کیسا نغمہ زن ہیں رگیں مثالِ رباب
وہی مرہم عطا کرے گا مجھے جس نے دل کو کیا جلا کے کباب
اس کا شکوہ کریں کہ شکر کریں خود ہی راحت ہے اور خود ہی عذاب

[اصل بیت پڑھیں]
7

رہ عزت ہو یا رہِ ذلت میں ہوں اور شوقِ جادہ پیمائی
کرے گمراہ یا بنے رہبر سر فرازی ملے کہ رسوائی

[اصل بیت پڑھیں]
8

راز دارانہ طور پر اس نے عاشقی کے رموز سمجھائے
دولت صبر دی کہ درد مرا چارۂ درد خود ہی بن جائے
لے کے بیٹھا ہوں جنس عجزو نیاز آج تک خود نہ سامنے آئے

[اصل بیت پڑھیں]
9

اس کے در پر جھکی ہے جس کی جبیں اور در ہوگئے سب اس پر حرام
تو بھی اس کے حضور سر کو جھکا دل میں کب تک یہ آرزوئے سلام

[اصل بیت پڑھیں]
10

اس قدر بھی وہ بے نیاز نہیں ہر نظر میں پیام ہوتا ہے
لب جاناں خموش رہ کر بھی کتنا شیریں کلام ہوتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
11

تو کرم کو سمجھ رہا ہے ستم یہ ہے تیرا قصورِ کم بینی
تو نے تلخی کہا اسے ورنہ اس کی ہر بات عین شیرینی

[اصل بیت پڑھیں]
12

جو دانستہ تجھے اپنا بنائے
کہاں وہ شکوۂ غم لے کے جائے

[اصل بیت پڑھیں]
13

تجھ کو جس کی بڑی تمنا ہے آپ ہے وہ ترا تمنائی
ذکر جس کا تری زباں پر ہے خود ترے ذکر کاہے شیدائی
دشنہ در دست اور قند بلب ہائے اے دوست تیری خود رائی

[اصل بیت پڑھیں]
14

مسکرا کر کبھی پکارا تھا میرے محبوب نے مجھے اک بار
پھر مرے دل میں عمر بھر کے لئے رہ گیا اس کا درد بے آزار

[اصل بیت پڑھیں]
15

میں نے صبحِ الست دیکھی تھی تابش جلوہٗ رخِ جاناں
چٹکیاں لے رہا ہے رگ رگ میں آج تک اس کا دردِ بے درماں

[اصل بیت پڑھیں]
16

جنہیں تیری محبت کی لگن ہے انہیں شکوہ نہیں رنج و بلا کا
وہ سب سے پوچھتے ہیں مسکرا کر کہاں ہے ہاتھ اپنے دلربا کا
دلیلِ قرب ہے ان کی شہادت یہی جینا ہے بس اہلِ وفا کا

[اصل بیت پڑھیں]
17

نویدِ قتل شیوہ دلربا کا ترا مسلک تہِ شمشیر رہنا
اجل کا سامنا کر، یہ کہاں تک خودی سے پائے در زنجیر رہنا

[اصل بیت پڑھیں]
18

خوف کیسا عتابِ جاناں سے اس کی نفرت میں بھی محبت ہے
مہرباں ہو کہ بدگماں ہوجائے جو تعلق ہے وہ غنیمت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
19

قتل کے بعد قتل سے پہلے اپنے مقتول کی نگہداری
کیوں نہ ہو اس کے زخم خوردہ کو راحتِ روح ایسی دلداری

[اصل بیت پڑھیں]
20

خود نگہدار اور خود قاتل کیوں مرے چارہ ساز، یہ کیا ہے؟
پیار کرنا عتاب بھی کرنا ناز ہے یا نیاز، یہ کیا ہے؟

[اصل بیت پڑھیں]
21

کیسی دوری کہاں کی نزدیکی رمزِ محبوب دیکھتے جائو
رفعتِ دار یا فراقِ یار جو بھی حصے میں آئے اپنائو

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

وہی بپتا میں کام آئے میرا روگ مٹائے
وہی دیالو اپنی دیا سے میری دھیر بندھائے
نیارے روپ دکھائے میرا روگ مٹائے
وہی نردھن کا رکھوالا دیکھ ریکھ کو آئے
دکھیا من بہلائے میرا روگ مٹائے
وہی آئے دکھ لے جائے تو جیون سکھ پائے
پھر جی مرا گھبرائے میرا روگ مٹائے
کہے "لطیف" کہ مجھ کو سکھیو چنچل پریتم بھائے
نینوں سے برمائے میرا روگ مٹائے

[اصل بیت پڑھیں]

سر یمن

پہلی داستان
1

تو میرا دردِ، میری دوا، میرا چارہ ساز
تجھ سے چھپا نہیں مری درماندگی کا راز

[اصل بیت پڑھیں]
2

میں جانتا ہوں مرے چارہ گر کہ تیرے سوا
نہ راس آئے گی دل کو کسی کی چارہ گری
مرے حبیب، مرے چارہ گر، مرے مالک
علاج ہے مرے غم کا تیری ہی چارہ گری

[اصل بیت پڑھیں]
5

دیکھتے کیا ہو خنجر مارو اپنا ہاتھ اٹھائو
گھائل کردو، جان بھی لے لو، میری آن بڑھائو

[اصل بیت پڑھیں]
6

ہاتھ اٹھائو خنجر مارو، مجھ کو موت گوارا ہے
کہہ نہ سکوں گی میں یہ کسی سے تم نے مجھ کو مارا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

کھینچو تیر کماں سے فوراً مارو ہاتھ اٹھا کر
صرف تمہاری ہو جائوں گی میں فتراک میں آکر

[اصل بیت پڑھیں]
8

ناوک افگن جہاں وہ ہوتا ہے
ہوش ہر چارہ ساز کھوتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
9

ہو بڑا ہی کرم مرے محبوب تو اگر خود کرے مجھے گھائل
عمر بھر زخم کھائے اور نہ ہو دل کسی چارہ ساز پر مائل

[اصل بیت پڑھیں]
11

آہنی تیر جسم میں اُترے اور عشاق ہوگئے گھائل
چار سو زخم خوردہ جسم ہی جسم خون آلودہ ہر طرف بسمل
اپنے زخموں کے آپ ہی مرہم چارہ سازوں سے بے نیاز ہے دل
کاش ان سربریدہ لوگوں سے اک شبِ قرب ہو مجھے حاصل

[اصل بیت پڑھیں]
12

قرب ان زخمیوں کا ہو اک رات درد بھی جن کا جاں نواز ہوا
خلوتِ روح میں بسا اوقات عشق خود ان کا چارہ ساز ہوا

[اصل بیت پڑھیں]
13

زخمیوں کا یہ کلبۂ خاموش اور مسلسل کراہنے کی صدا
شام ہی سے ہر ایک بسمل کو مرہمِ زخم ِ دل کا فکر رہا

[اصل بیت پڑھیں]
14

آج پھر زخمیوں کے مسکن سے آئی اندوہ ناک ایک صدا
چارہ سازوں نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور ہر زخم کھول کر دیکھا

[اصل بیت پڑھیں]
15

ہائے یہ زخم خوردگانِ وفا شکر فرما بصد شکیبائی
قرب منزل نہیں انہیں درکار ان کا مسلک ہے جادہ پیمائی

[اصل بیت پڑھیں]
16

تذکرے کشتگانِ شوق میں ہیں درد کی دلنواز لذت کے
لبِ خاموش اس کے شاہد ہیں ہیں وہ راز آشنا محبت کے

[اصل بیت پڑھیں]
17

جس کی فطرت میں ہو تن آسانی جس کی آرام سے گذرتی ہے
کیا خبر اس کو خستہ حالی پر بے بسی کتنے وار کرتی ہے
ایک کروٹ بھی لے نہیں سکتا ٹیس زخموں کی جب ابھرتی ہے
رات اس با وفا کی رو رو کر یادِ محبوب میں گذرتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
18

زخمِ دل سے جنہیں فراغت ہے درد رہتا ہے ان کے دل سے دور
کیا خبر ان کو کس اذیت سے لوٹتے ہیں زمیں پر رنجور
دائمی کرب، مستقل آزار جسم زخموں کی یورشوں سے چور
پھر بھی ثابت قدم محبت میں رات بھر اشکباریاں دستور

[اصل بیت پڑھیں]
19

مری ماں! یہ آرائشِ اشکباری یہ بہرِ نمائش غم و بے قراری
نہیں نام اس کا محبت شعاری کجا یادِ جاناں کجا آہ و زاری

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کیا اس کو کوئی مٹائے یہ روگ ہے میرے من کا
مرے دل میں درد سجن کا
اے چارہ سازو! جائو لیجائو دوائیں اپنی یہ گھائو ہے مجھ برھن کا
مرے دل میں درد سجن کا
وہ جی کا جیارا آئے جیون کا روگ مٹائے دن آئے پریت ملن کا
میرے دل میں درد سجن کا

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

اے چارہ گر تجھے مرے غم کی خبر کہاں
جو چارۂ فراق ہے وہ چارہ گر کہاں
میرے ہر ایک درد کا درماں ہے وہ حبیب
اس کے بغیر چارہ گری میں اثر کہاں

[اصل بیت پڑھیں]
2

ہم درد مند چارہ گروں سے الجھ پڑے
جتنے بھی تھے علاج کے در بند ہو گئے
آخر کہیں سے ڈھونڈ کے لائے اُسے یہاں
وہ آئے، اہل درد تنومند ہو گئے

[اصل بیت پڑھیں]
3

بے اعتدالیوں سے نحیف و نزار ہیں
خود سر ہیں اور چارہ گری کے شکار ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
4

بے اعتدالیاں ہوں تو کیا چارہ گر کرے
پرہیز ہی نہ ہو تو دوا کیا اثر کرے

[اصل بیت پڑھیں]
5

کیا ان اپاہجوں کو کسی چارہ گر سے کام
ان کو دوا سے اور نہ دوا کو اثر سے کام

[اصل بیت پڑھیں]
6

وہ آئے درد و رنج و الم خواب ہو گئے
ناقابل شفا تھے شفایاب ہو گئے

[اصل بیت پڑھیں]
7

افسوس! چارہ گر مرا درماں نہ کر سکے
یعنی علاج دیدۂ حیراں نہ کر سکے

[اصل بیت پڑھیں]
8

ہر بو الہوس فریبِ ہوس میں جو آگیا
وہ ترکِ اعتدال سے نقصان اُٹھا گیا
فطرت سے جس کو روحِ توانا عطا ہوئی
وہ خوش نصیب ہر غمِ ہستی پہ چھا گیا

[اصل بیت پڑھیں]
9

اپنے محبوب سے اگر ہے پیار سیکھ لے پہلے چور کے اطوار
رات بھر جاگنا ہو کام ترا نیند کا سکھ نہ ہو تجھے درکار
تھک بھی جائے جو دوڑ دھوپ سے تو دل نہ ہو دوڑ دھوپ سے بیزار
اک ترے دل میں اک زباں پر ہو خوفِ تعزیر، جرم سے انکار
ٹکڑے ٹکڑے ترے اگر اُڑ جائیں نہ کرے ان کے راز کا اظہار

[اصل بیت پڑھیں]
10

اپنے گھر سے نکال کر مجھ کو چارہ سازوں نے جب کیا مطعون
جس نے بھی دیکھا مجھ کو ٹال دیا اس قدر بہہ چکا تھا زخم سے خون
اس نے آکر مجھے بحال کیا اس کے لطف و کرم کا ہوں ممنون

[اصل بیت پڑھیں]
11

چارہ گر آکے بیٹھے ہی تھے ا بھی کہ وہ صورت بھی سامنے آئی
بازوئوں میں سکت ہوئی محسوس اور دل میں نئی توانائی
میرا دکھ درد ہوگیا سب دور میں نے دیدار سے شفا پائی

[اصل بیت پڑھیں]
12

آپ زخمی کیا مرے دل کو آپ زخموں کا اِند مال کیا
غمزدہ روح، ناتواں دل کو دولتِ قرب سے بحال کیا

[اصل بیت پڑھیں]
13

بن گئی میری جان پر آخر یہ نہ سمجھے مری پریشانی
جا کے محبوب کو بتائوں گا اپنے چارہ گروں کی نادانی

[اصل بیت پڑھیں]
14

چارہ گر رایگاں ہے چارہ گری جا، بگڑنے دے میری حالت کو
درد جس نے عطا کیا ہے مجھے شاید آجائے وہ عیادت کو

[اصل بیت پڑھیں]
15

چارہ سازوں میں بیٹھنا سیکھو پھر نہ ہوگا کبھی کوئی آزار
راس آئے گا ان کا قرب تمہیں جو بدلتے ہیں فطرتِ بیمار

[اصل بیت پڑھیں]
16

چارہ سازوں میں رات دن رہنا ہائے یہ بے بسی یہ بوالعجبی
ذلتِ اہل درد چارۂ غم ننگِ اہلِ وفا دوا طلبی

[اصل بیت پڑھیں]
17

داغ کر جسم اور تڑپایا کن نگہبانیوں سے مارا ہے
مجھ کو نادان چارہ سازوں نے اپنی نادانیوں سے مارا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
18

ہو گئیں چارہ سازیاں ناکام وہی محبوب دکھ مٹائے گا
ہاتھ رکھے گا جب مرے دل پر دل کو آرام آہی جائے گا
اس نے جس کی مزاج پرسی کی دکھ نہ پھر اسکے پاس آئے گی

[اصل بیت پڑھیں]
19

کر چکے اہل درد جب فریاد مہرباں چارہ گر نظر آیا
پڑ گئی جان ناتوانوں میں وہ جہاں جلوہ گر نظر آیا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کرنا میری رکھوالی اے پیارے ساجن میرے
مرتی ہوں درد سے تیرے
نردوش ہے جیون میرا بپتا ہے مجھ کو گھیرے
مرتی ہوں درد سے تیرے
بیٹھی ہوں آس لگائے مرے دن اب تو ہی پھیرے
مرتی ہوں درد سے تیرے

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

مسلسل بے کلی فریاد پیہم بڑی سفاک ہے یہ یادِ خوباں
جلا کر راکھ کردیتی ہے دل کو یہ چنگاری ہے کتنی شعلہ ساماں
مری اس بات کے شاہد ہیں دونوں یہ جوے اشکِ گرم و آہِ سوزاں

[اصل بیت پڑھیں]
2

لبوں پرنالہ ہائے جانستان ہیں تو دل میں شعلۂ سوزِ محبت تمہیں اس کا یقین آئے نہ آئے تم آکر دیکھ لو خود میری صورت

[اصل بیت پڑھیں]
3

نہ پوچھو التہابِ سوزِ ہجراں کبابِ سیخ، دل ہو یا جگر ہو
اسے امید کیا چارہ گروں سے تمہارے لطف پر جس کی نظر ہو

[اصل بیت پڑھیں]
4

لیا جس وقت کہنی کا سہارا مرے محبوب نے اک تیر چھوڑا
کمر میں ہو گیا پیوست پھر وہ پروں کے ساتھ میرے تن میں اُترا
گذر کر قلب سے پہنچا جگر تک مرے قلب و جگر کو اس نے چیرا
نہیں امید کچھ چارہ گروں سے سہارا رہ گیا ہے اب اسی کا

[اصل بیت پڑھیں]
5

وہ اس کا سنسناتا تیر توبہ وجود اپنا دگرگوں میں نے پایا
یہ پوچھے جا کے اس دلبر سے کوئی کہ اب ہاتھوں کو کچھ آرام آیا

[اصل بیت پڑھیں]
6

دوبارہ سنسناتا زنزناتا جگر کے پار اسی کا تیر پہنچا
بالآخر یوں ہوا پیوست دل میں کہ پھر کھینچے سے بھی باہر نہ آیا

[اصل بیت پڑھیں]
7

کچھ ایسا کس کے تو نے تیر مارا کہ لگتے ہی جگر کے پار پہنچا
تجھے میں نے مرے بھولے شکاری بڑا مشّاق تیر انداز پایا

[اصل بیت پڑھیں]
8

کبابِ سیخ اک مدت سے ہوں میں رگ و پے میں ہے اب تک سنسنی سی
مرے محبوب تو نے پھونک دی ہے کلیجے میں میرے ایک دھونکنی سی

[اصل بیت پڑھیں]
9

پسند ان کو ہے کیوں سوزِ محبت یہ رازِ عشق پروانوں سے پوچھو
مزا آتا ہے کیا جلنے میں آخر ذرا انِ سوختہ جانوں سے پوچھو

[اصل بیت پڑھیں]
10

اگر تم بھی ہو پروانوں میں شامل تو آئو اور یہ شعلہ بجھائو
ہزاروں، آنچ پر اس کی جلے ہیں مزا جب ہے کہ تم اس کو جلائو
کہیں ظاہر نہ ہوجائیں کسی پر رموزِ عاشقی دل میں چھپائو

[اصل بیت پڑھیں]
11

اگر تم بھی ہو پروانوں میں شامل تو اِن شعلوں میں آکر کود جائو
جلو اس آگ میں جب تک ہے جینا لگی اپنی نہ غیروں کو دکھائو

[اصل بیت پڑھیں]
12

اگر تم بھی ہو پروانوں میں شامل تو شعلے دیکھ کر واپس نہ آئو
یہ جلتی آگ اس محبوب کی ہے ججھکتے کیوں ہو فوراً کود جائو
یہ بے نوری یہ بے سوزی کہاں تک بڑھو سب خامیاں اپنی مٹائو

[اصل بیت پڑھیں]
13

ابھی کچھ جمع پروانے ہوئے تھے وصالِ شمع کی ٹھانے ہوئے تھے
کوئی ان سوختہ جانوں سے پوچھے رخِ تاباں پہ دیوانے ہوئے تھے

[اصل بیت پڑھیں]
14

شباہت زرد پھولوں کی طرح ہے دہکتی آگ پر منڈلا رہے ہیں
صلائے عام ہے یہ شمع کی لو پتنگے راستہ دکھلا رہے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
15

بجھائو آنسوئوں سے آتشِ تن نہیں ان کے سوا غمخوار کوئی
میسر ہو اگر عزلت نشینی تو پھر منزل نہیں دشوار کوئی
یہاں اہلِ جہاں سے دل لگا کر نہ پائے گا سراغِ یار کوئی

[اصل بیت پڑھیں]
16

بشر کو تو نے اے تنوّر عرفاں سراپا سوختہ ساماں بنایا
کسی کو بھی ترے ایندھن سے میں نے کبھی مل کر جدا ہوتے نہ پایا
بہر عنوان اے محبوب تو نے محبت کرنے والوں کو جلایا

[اصل بیت پڑھیں]
17

رہِ عرفان میں جو سالک دلِ فولاد رکھتے ہیں
انہیں اے دوست! آہنگر ہمیشہ یاد رکھتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
18

کان میں پھر ہے دھونکنی کی صدا برسرِ کار ہے وہ آہن گر
اُٹھ رہے ہیں مجاز کے شعلے ڈالتا جا رہا ہے وہ اخگر
مجھ سے اے میرے دھونکنی والے اب نہ جانا کہیں جدا ہو کر
پارہ پارہ نہ ہو کے رہ جائے خام لوھا دہکتے شعلوں پر

[اصل بیت پڑھیں]
19

ڈر گئے شعلۂ محبت سے آگ سے دور ہی رہے اکثر
حیف صد حیف دھونکنی والو کون کہتا ہے تم کو آہن گر

[اصل بیت پڑھیں]
20

کچھ تعجب نہیں بنا دے وہ تمہیں فولاد سے بھی محکم ترپہلے سر کو بنائو تم سنداں پھر بتائیں نشانِ آہن گر

[اصل بیت پڑھیں]
21

جذبۂ جاں کنی بڑھائے جا
تو کہ سنداں ہے چوٹ کھائے جا

[اصل بیت پڑھیں]
22

ادھر دھونکنی ہے وہ چنگاریاں ہیں
محبت کی سب شعبدہ کاریاں ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
23

دیکھ یہ شعلۂ محبت ہے جل کے بجھتا ہے، بجھ کے جلتا ہے
کیسے ہر آرزوے ہستی کو مسکراتے ہوئے نگلتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
24

آج پھر آگئے وہ صیقل گر
آب آنے لگی ہے تیغوں پر

[اصل بیت پڑھیں]
25

صیقل گرِ عشق آگئے جب
فولاد سے زنگ اُڑ گیا سب

[اصل بیت پڑھیں]
26

زنگ اترتا ہے جل کے لوہے سے دھونکنی اپنی چال چلتی ہے
دیکھ کر صورتیں ہتھوڑوں کی جیسے سنداں کو چوٹ کھلتی ہے
بھیڑ آہن گروں کی ایندھن پر دیکھئے کتنے رخ بدلتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
27

نہ ہونگی ان کی تیغیں زنگ خوردہ
یہ صیقل گر ہیں اپنے فن میں پختہ

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

مٹ جائے نراشا میری آجائے پریتم پیارا
وہ میرے جی کا جیارا
دیجائے دکھیا من کو جیون کا سکھ دوبارا
وہ میرے جی کا جیارا
آتا ہے یاد وہ ساجن روتا ہے من بے چارا
وہ میرے جی کا جیارا
مرے پیاسے من کو اس کی آشا ہے امرت دھارا
وہ میرے جی کا جیارا
روگی کا روگ مٹائے ساجن کا ایک اشارہ
وہ میرے جی کا جیارا
چمکیلی چھب دکھلا کر چمکاتا ہے جگ سارا
وہ میرے جی کا جیارا
سب دور ہوئیں بپتائیں جب اس نے مجھے پکارا
وہ میرے جی کا جیارا

[اصل بیت پڑھیں]
چوتھی داستان
1

بیک جام دو طالبِ کیف و مستی
نہیں ہے یہ دستورِ بادہ پرستی
وہی ہے سزاوار قرب الستی
رہا جس کے دل میں نہ احساسِ ہستی

[اصل بیت پڑھیں]
2

بیک جام دو تشنہ کا مانِ الفت
یہ دستور ہے مانعِ وصلِ جاناں
بجز جانگدازی بجز جاں نثاری
میسر نہیں اتصال محبّاں

[اصل بیت پڑھیں]
3

بیک جام دو تشنہ کا مانِ مستی طریقہ نہیں ہے یہ اہلِ وفا کا
شریکِ صراحی مغنی و شاعر مگر فرق کتنا ہے صوت و غنا کا
محبت میں تفریقِ ہستی نہیں ہے محبت میں تقسیم مستی نہیں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

بڑے فتنہ گر ہیں حریفانِ کثرت
انہیں دیکھ کر مجھ کو ہوتی ہے حیرت
مرے ہمنشیں ہیں وہ سرشار فطرت
جنہیں زندگی ہے تمنائے وحدت

[اصل بیت پڑھیں]
5

مرا دل وہاں ہے جہاں جلوہ گر ہیں
حدیں جزو وکل کی مٹا دینے والے
ذرا سی نگاہِ محبت کی خاطر
سروں کو خوشی سے کٹا دینے والے

[اصل بیت پڑھیں]
6

یقینا ہیں وہ ہستیاں برگزیدہ
جنہیں زہر کا گھونٹ بھی انگبیں ہے
بڑے شوق سے پی، ملے تجھ کو جو کچھ
کہ ہر جام ان کا خمار آفریں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

بفیضِ طریقت بحسنِ عقیدت
بڑھے ساقیا تیرے کوچے کی عزت
پلانا ذرا تشنہ لب راہیوں کو
چھپا کر نہ رکھنا شرابِ محبت

[اصل بیت پڑھیں]
8

پلا تشنہ لب راہ گیروں کو ساقی
چھپا کر نہ رکھ یہ شرابِ محبت
وہ جرعے جو تو ان غریبوں کو دے گا
غمِ زندگی بھی نہیں ان کی قیمت

[اصل بیت پڑھیں]
9

تشنج سا ہے ان کے کام و دہن میں
مگر زہر پینے سے ہے کتنی رغبت
وہ ان چند جُرعوں سے کب سیر ہوں گے
خموں سے نہ بھرتی ہو جنکی طبیعت
سرور ان کو آتا نہیں دختِ زر سے
یہ ہیں ساقیا تشنہ کامانِ الفت

[اصل بیت پڑھیں]
10

خموں میں بھری ہے شرابِ بہاراں
فضا کیف پرور ہوئی جارہی ہے
بلا نوش ہیں سربکف آج ساقی
بلانے کو بادِ شمال آرہی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
11

صبوحی کو آتا رہے جوش ساقی
بہکتے رہیں صاحبِ ہوش ساقی
برستی رہے بادہ آلود شبنم
سحر خیز ہیں تیرے مے نوش ساقی

[اصل بیت پڑھیں]
12

بلا نوش رندوں سے پالا پڑا ہے
ہوس جاوداں میرے ساقی رہے گی
یہ پی جائیں گے جس قدر پی سکیں گے
مگر تشنگی پھر بھی باقی رہے گی

[اصل بیت پڑھیں]
13

جان لیوا تھا اذنِ عام ان کا کیا خطا اس میں بادہ نوشوں کی
بادہ نوشوں پہ آگیا الزام رہ گئی بات مے فروشوں کی

[اصل بیت پڑھیں]
14

یہ بلا نوش مر بھی جائیں اگر بات آئے نہ کوئی اس کے سر
کون جانے بغیر ساقی کے کیسی گذرے غریب رندوں پر

[اصل بیت پڑھیں]
15

وہ بلا نوش مر گئے آخر آزمائے گی اب شراب کسے
وہ وفا کیش دوست ہی نہ رہے اب تری خود سری کی تاب کسے

[اصل بیت پڑھیں]
16

ان بلانوش مے پرستوں کو یہ نہ سمجھو شراب نے مارا
ہائے اس کا کلام زہرہ گداز ان کو جس کے خطاب نے مارا

[اصل بیت پڑھیں]
17

اپنے ساقی کا اے بلا نوشو! راس آئے گا آسرا تم کو
خم ہے مینا ہے جام و ساغر ہیں اب ہے درکار اور کیا تم کو

[اصل بیت پڑھیں]
18

زیر خنجر بھی نائو و نوش میں گم جاں نثارانِ مے پرستی ہیں
کیا کمی ان کو کیف و مستی کی واقفِ رازِ کیف و مستی ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
19

زہر نوشی سے جو نہ گھبرائے خوش رہے ان سے اہلِ میخانہ
سید ان کا ہجومِ طوفان خیز اور ساقی کا ایک پیمانہ
موت کے بعد بھی بسا اوقات تشنہ رہتی ہے روحِ رندانہ

[اصل بیت پڑھیں]
20

سرفروشی ہے شیوۂ رنداں اتنے مانوس ہیں شہادت سے
ان کے نزدیک قیمت ساغر کہیں افزوں ہے سر کی قیمت سے

[اصل بیت پڑھیں]
21

شراب ہر اک خم میں منفرد ہے جدا ہر ساغرِ مے کی ہے رنگت
تری چشمِ کرم کو جانتے ہیں بخوبی مے کشانِ حسنِ فطرت
"لطیف" اس خم کدے میں کا سۂ سر فقط اک جرعۂ مے کی ہے قیمت

[اصل بیت پڑھیں]
22

ملو ان برگزیدہ ہستیوں سے سبق آموز مے خواروں کو دیکھو
سراپا شعلۂ جان سوز ہیں یہ محبت کے خریداروں کو دیکھو

[اصل بیت پڑھیں]
23

بجائے ساغرِ مے چشم پُرنم عطا کرتے ہیں شب بیدار ساقی
مگر اس فیض سے محروم ہوں میں مری تشنہ لبی اب تک ہے باقی

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

مرا انگ انگ مسکائے، مرے دوارے ساجن گائے
دن پریت ملن کے آئے
دن ڈھلتے ہی مرے ساجن، کتنی سندرتا لائے
دن پریت ملن کے آئے
پھر بھاگ نے کایا پلٹی، برھا کے روگ مٹائے
دن پریت ملن کے آئے
وہ پاس ہے میرے من کے، جگ جس کو دور بتائے
دن پریت ملن کے آئے
کہتا ہے "لطیف" کوی، یہ دیالو کی دیا سہائے
دن پریت ملن کے آئے

[اصل بیت پڑھیں]
پانچویں داستان
1

بے نیازِ ہجوم راہگذار رازدارانِ منزلِ مقصود
رہ روان طریقِ عشق و وفا جاوداں ان کا سایۂ مسعود
اے خوشا پاکبازی و رندی ہوگئے ایک شاہد و مشہود

[اصل بیت پڑھیں]
2

ذکرِ حق سے جو بھید ان پہ کھلے کب کسی اور کو بتاتے ہیں
سانس جیسے رگوں میں پھرتی ہے جزو وکل میں وہ یوں سماتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
3

پاگئے کچھ تو ہوگئے غمگیں کچھ نہ پایا تو شاد کام رہے
بس وہی اہلِ معرفت کہلائے خود سے بیگانہ جو مدام رہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

کیا کہوں رمزِ صاحبِ عرفاں کوئی اس کے رموز کیا جانے
اپنی ہستی سے جنگ ہو جس کی دشمنوں کو جو دوست گردانے

[اصل بیت پڑھیں]
5

مرد عارف وجود خاکی کو کسوتِ آئینہ بناتا ہے
پھر اس آئینے میں رخِ محبوب اپنا جلوہ انہیں دکھاتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
6

نذرِ آتش کریں کلاہ خودی ورنہ اہلِ صفا نہ کہلائیں
اہلِ دل کے لئے نہیں ہوتیں حسرتیں، خواہشیں، تمنائیں

[اصل بیت پڑھیں]
7

سر پہ رکھتے ہو تم کلاہ اگر آئو اپنائو عارفوں کی آن
ڈھونڈ لائو وہ ساغرِ زہر اب جس کے پینے سے کچھ ملے وجدان

[اصل بیت پڑھیں]
8

اسم اعظم ہو یا ہو ذکرِ جلی ہے بہر طور ایک ہی مفہوم
جیسے ہوتا ہے سیپ میں موتی ہے یونہی دل میں ذاتِ نامعلوم
غیر کے در سے کچھ نہ پائے گا اس کے در سے جو ہوگیا محروم

[اصل بیت پڑھیں]
9

رقص میں، محورِ خودی پر ہے فہم و ادراکِ ابنِ آدم کیا؟
اک تری شعبدہ گری کے سوا میرے مولا! بساطِ عالم کیا

[اصل بیت پڑھیں]
10

موجزن چشمۂ حقیقت ہے محو طالب شعورِ کثرت میں
مجھے اقوالِ پیر رومی اور ڈالتے جا رہے ہیں حیرت میں
کیوں یہاں رونما ہوا انسان اک معما کہ خواب ہے یہ جہاں

[اصل بیت پڑھیں]
11

موجزن چشمۂ حقیقت ہے اور طالب شکار کثرت ہیں
پیر رومی کے جاودان اقوال رہنمائے رہِ حقیقت ہیں
دیکھ کر اپنی منزل مقصود کتنے خاموش اہلِ حیرت ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
12

محو طالب شعورِ کثرت میں موجزن چشمۂ حقیقت ہے
بے حجاب آئیں سامنے تو کہوں کیا ہیں وہ اور کیسی صورت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
13

دوستو! خوب دلنشیں کرلو قولِ رومی کہ بیش قیمت ہے
محو طالب فریبِ کثرت میں موجزن چشمۂ حقیقت ہے
ختم اپنے وجود کو کر دے گر طلب گارِ حسنِ وحدت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
14

دوستو! خوب دل نشیں کرلو قول رومی پیامِ راحت ہے
محو طالب فریبِ کثرت میں موجزن چشمۂ حقیقت ہے
جس نے دیکھی وہ ہستیٔ مطلق وہ مجسم سکوتِ حیرت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
15

ذکر اس کا ہے بزمِ رومی میں ذات جس کی دلیل وحدت ہے
محو طالب فریبِ کثرت میں موجزن چشمۂ حقیقت ہے
توڑ دے ہجر کے در و دیوار گر تجھے آرزوئے خلوت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
16

جو بظاہر ہیں ننگ اہلِ جہاں ان کا باطن ہے چشمۂ عرفاں
ان کے لب پر ہے وردِ حقانی اور سینے میں عشق کا پیکاں

[اصل بیت پڑھیں]
17

لب سراسر سکوتِ بے پایاں دل ہی دل میں کسی کا ذکر بھی ہے
صرف دکھ درد کی کتاب نہیں ان کے حصے میں لوحِ فکر بھی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
18

وادیٔ بے نہایت عرفاں تنگنائے حیات کی منزل
عرفانِ خدا کو دنیا میں جز الف کچھ نہ ہو سکا حاصل

[اصل بیت پڑھیں]
19

درمیاں پردۂ دوئی نہ رہا مل گئی جس کو قربتِ رحماں
رہروِ تنگنائے ہستی پر راہِ دشوار ہو گئی آساں

[اصل بیت پڑھیں]
20

کیوں ہو تم رات دن ورق گرداں وہ سبق یاد کیوں نہیں کرتے
حرفِ آغاز ہے الف جس کا ورد سے جس کے جی نہیں بھرتے

[اصل بیت پڑھیں]
21

بد نصیبی کی انتہا ہے یہ علم کچھ نہ ہوسکا حاصل
راہِ الفت نہ مل سکی تجھ کو اور خود گم ہے عقل کی منزل
جز عزازیل کوئی کیا جانے لذتِ سوز و عشرتِ غمِ دل

[اصل بیت پڑھیں]
22

وہ عزازیل عاشقِ صادق سرخرو کر گیا جسے انکار
آپ اپنی ہی آگ میں سوزاں آپ اپنی شراب سے سرشار

[اصل بیت پڑھیں]
23

وہ سبق جو پڑھا تھا روز اوّل ایک بھی سطر اس کی یاد نہیں
یہ اسی بھول کا ہے خمیازہ کوئی مجھ سا بھی بے سواد نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
24

حاصلِ فکر و غور کچھ بھی نہیں
تو ہی تو ہے بس اور کچھ بھی نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
25

نہ رہا کوئی پردۂ حائل صلۂ جستجوئے حق پایا
راز دارِ ازل سے ہوں دو چار یاد بھولا ہوا سبق آیا

[اصل بیت پڑھیں]
26

بات وہ جس سے قلبِ انساں کو گمرہی سے نجات ہوتی ہے
ہیچ ہر بات سامنے اس کے بس وہی بات بات ہوتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
27

دل میں سوزِ نہاں نہیں رکھتے زہر ہستی پیئے ہی جاتے ہیں
ہائے یہ خود فریب اہلِ خرد ظلم دل پر کئے ہی جاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
28

لازمی امتیازِ میم و الف گمرہی کی دلیل اس سے گریز
خلوتِ فکر میں رہے لب پر بس یہی ایک لے ترنم ریز

[اصل بیت پڑھیں]
29

وہی لوگ کہلائے روشن سواد
الف کے سوا کچھ نہیں جن کو یاد

[اصل بیت پڑھیں]
30

خود فریبی ہے لذت گفتار جذبِ کامل ہے رفعتِ کردار
گمرہی کے قریب جو لے جائے دور اس سے وہ علم ہے بیکار

[اصل بیت پڑھیں]
31

اس میں ہو کر میں غرق مٹ ہی گیا
لا و اِلاّ کا فرق مٹ ہی گیا

[اصل بیت پڑھیں]
32

روشنائی کا مصرفِ بیجا کاغذوں پر یہ نقش فرمائی
منزلِ شاہدِ حقیقت دور راہزن یہ عبارت آرائی

[اصل بیت پڑھیں]
33

کیوں لگایا ہے سامنے ناداں تہ بہ تہ کاغذوں کا یہ انبار
فائدہ کیا ورق الٹنے سے ایک ہی لفظ ہے تجھے درکار
صرف چلہ کشی سے کب ہو گا حسنِ محبوب کا تجھے دیدار

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

جیون آشا من کو کھینچے، ساجن آئو راہ دکھانے
روک ٹوک سے جیا نہ مانے، میں ساجن کی بنوں دُلاری
ہم دونوں کے بیچ میں کوئی، بادھا پائے نہ آنے
روک ٹوک سے جیا نہ مانے، تکوں سہارا کیوں میں کسی کا
کیا لینا ہے اب اوروں سے، پریتم جب پہچانے
روک ٹوک سے جیا نہ مانے، کیا اچھا ہو پیا کی ہو کر
انگ انگ کو کروں نچھاور، آئے پیا منانے
روک ٹوک سے جیا نہ مانے، مرنے سے کب ڈرتی ہوں میں
پریت کی ریت پرمر تی ہوں میں، ملن کے روپ سہانے
روک ٹوک سے جیا نہ مانے،۔

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

میرا کہنا بھول نہ جا، جوبن دو دن کی مایا
بھور بھئے ہر پاپن کی، درگت ہوتے دیکھ دشا
جوبن دو دن کی مایا، نندیا کا جو میت ہوا
پریتم کو اس نے کھویا، جوبن دو دن کی مایا
سکھیو یہ جھوٹا بندھن، نیند کا نینوں سے ناتا
جوبن دو دن کی مایا، کوری آنکھوں کاٹے رین
میت وہی میرے تن کا، جوبن دو دن کی مایا
آدھی رات ہے دور ہٹا، نیند کی نینوں سے چھایا
جوبن دو دن کی مایا۔

[اصل بیت پڑھیں]
چھٹی داستان
1

ہم غریبوں کی بے نوائی کو لحنِ دائود ہے نوا اس کی
زیرِ پائے سمندِ ناز ہیں ہم شہسواری ہے باد پا اس کی

[اصل بیت پڑھیں]
2

لحن دائود ہے فضائوں میں دیدنی کیفیت ہماری ہے
زیرِ پاے سمند ناز ہیں ہم خود نگر اس کی شہ سواری ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

میرے قابیل تیرا تیرِ نظر اپنے مستوں پہ ظلم ڈھاتا ہے
کرکے گھائل نہ جانے کتنوں کو جرأت شوق آزماتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

میرے قابیل تیرا تیرِ نظر ہم فقیروں کو کر گیا گھائل
ہمیں اک تیر کی بھی تاب نہ تھی دوسرا مارنے سے کیا حاصل

[اصل بیت پڑھیں]
5

تیر ہائے نظر ترے قابیل کر رہے ہیں “لطیف” کو گھائل
کیا خبر ان کو درد کیا شئے ہے جن کو تیری رضا نہیں حاصل

[اصل بیت پڑھیں]
6

میں نے دیکھا ہے اے مرے قابیل تو نے تیکھی نظر سے تیر چلائے
دوسرے تیر کی ضرورت کیا وار پہلا ہی جب نہ خالی جائے

[اصل بیت پڑھیں]
7

تیر جب وہ کمان میں کس لیں اپنا سینہ سپر بنائو تم
ناوک افگن ہے عشوۂ خوباں سامنے آ کے زخم کھائو تم
منزلِ دار حاصلِ دارین آئو کامل یقیں سے آئو تم

[اصل بیت پڑھیں]
8

جب وہ اپنی کماں میں تیر کسیں اپنا سینہ سپر بنا لینا
ناوک افگن ہے جنبشِ مژگاں صبر سے زخم دل پہ کھا لینا
رہ کے ثابت قدم محبت میں مدعائے حیات پا لینا

[اصل بیت پڑھیں]
9

وہ کسی نے کماں میں تیر کسا آگے آ جائو تان کر سینہ
جب درِ دوست پر پہنچ جائو دل میں رکھنا نہ تم کوئی کینہ

[اصل بیت پڑھیں]
10

کہیں ایسا نہ ہو مرے محبوب مجھ پر تو وار کرکے پچھتائے
میری ہستی میں ہے تیرا پرتو تیر تیرا تجھے نہ لگ جائے

[اصل بیت پڑھیں]
11

ہائے اس نازنیں کی تیر کشی جس میں ہمت نہ تھی وہ ہار گیا
آگئی راس جن کو مہر و وفا اُن کو پہلا ہی تیر مار گیا

[اصل بیت پڑھیں]
12

تیر لرزا ہوا میں اور لگا میں بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا
کاش اک بار وہ جری محبوب پھر مرے دل پہ ہو کرم فرما

[اصل بیت پڑھیں]
13

ہدف تیر بن گئے عاشق خیر ہو عرصۂ محبت کی
سامنے جو بھی آ گیا "سید" تیر نے دی صدا ہلاکت کی
بر درِ دوست خاموش بر لب کوئی حد چاہئے تھی حیرت کی

[اصل بیت پڑھیں]
14

کار زارِ وفا میں کٹ جانا عاشقوں کا سنگار ہوتا ہے
کس تمنا سے سر بریدۂ عشق قاتلوں پر نثار ہوتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
15

نعرہ زن عرصۂ محبت میں اس طرح ہو کہ باز گشت رہے
برسر دار بھی اگر جائے پھر بھی اپنی زباں سے کچھ نہ کہے
عشقِ افعی مزاج کے انداز وہی سمجھے گا جو گزند سہے

[اصل بیت پڑھیں]
16

آئے وہ عرصۂ محبت میں جو نصیحت “لطیف” کی مانے
قاتلوں کی خوشی اسی میں ہے پیش کر دیں سروں کے نذرانے
عشق افعی مزاج کے انداز کوئی کیا جانے مبتلا جانے

[اصل بیت پڑھیں]
17

دوستو! عرصۂ محبت ہے اپنے سر کی نہ تم کرو پروا
باطلِ کم نگاہ کیا جانے ہے سرِ دار راہِ دارِ بقا
سانپ ہے عشق یہ وہی جانے جو اسے جسم سونپ دے اپنا

[اصل بیت پڑھیں]
18

بڑھو آگے بشانِ لاہوتی کود کر عرصۂ محبت میں
ختم کر دو فسانۂ ہستی کیا ہے اب زندگی کی الفت میں
عشق ہے سانپ یہ وہی جانے زہر اس کا ہو جس کی قسمت می

[اصل بیت پڑھیں]
19

جسم اور روح کے تعلق کو لازمی ہے قریب تر ہونا
کھیل سمجھو نہ عشق کو یارو شرط ہے صاحبِ نظر ہونا
سر بہ نیزہ ہیں رہروانِ طلب طالبِ دوست سوچ کر ہونا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

برھا کی ریت کٹھن ہے، میں پاپن ہوں میں پاپن
جو سیج پہ بھی نا سوئیں، نینوں سے نندیا کھوئیں
بے چین رہیں جو تجھ بن، میں پاپن ہوں میں پاپن
پریمی کو نیند نہ آئے، ساجن کی یاد ستائے
وہ جاگے تارے گن گن، میں پاپن ہوں میں پاپن
کیا بات سمجھ میں آئے، جب پریت کی ریت سہائے
دوبھر ہو جائے جیون، میں پاپن ہوں میں پاپن

[اصل بیت پڑھیں]
ساتویں داستان
1

ہر تمنائے طالبِ وحدت ذکرِ اللہ سے مچلتی ہے
روح ان کی بس ایک آہ کے ساتھ جسدِ خاک سے نکلتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

عمر بھر بے قرار رہتے ہیں عاشقوں کے لئے کہاں آرام
کبھی محبوب نے جو شکوہ کیا پھر نہ آسودگی کا لیں گے نام

[اصل بیت پڑھیں]
3

تم تنومند اور توانا ہو عاشقوں کی ہے کیا یہی پہچان
وصل محبوب کے لئے بے تاب ان کا دل، ان کی روح، ان کی جان
اور اک شاہد ازل کے سوا ان کی نظروں میں ہر حسیں انجان

[اصل بیت پڑھیں]
4

موجزن ہے اگر رگوں میں لہو دعوی عشق سر بسر بے کار
زرد چہرہ ہے طالبوں کا نشاں زیب و زینت انہیں نہیں درکار
سیم و زر راہِ عشق میں حائل سرفروشی ہے عشق کا معیار

[اصل بیت پڑھیں]
5

درد سے آشنا جو لوگ نہیں
عاشقی ان کے بس کا روگ نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
6

دیکھنا چھپ کے جلوہٗ محبوب طالبوں کے لئے ہے نازیبا
ان کا شیوہ ہے یہ تن آسانی جن کو رہنی ہو جان کی پروا

[اصل بیت پڑھیں]
7

آرزو مثل دار ہے گویا انتہا موت سے عبادت ہے
عمر بھر اس کا منتظر رہنا رہ رو شوق تیری فطرت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

خود تمنا کرے کوئی ورنہ ان کو دیکھے جو ہیں تمنائی
نا شناس غمِ وفا ہے تو حیف تجھ کو طلب نہ راس آئی

[اصل بیت پڑھیں]
9

راہِ خوباں میں بیٹھ جا عاشق ہو نہ تو ان کے در سے روگرداں
ان سے وابستہ تیری ہر تقدیر اور وہی تیرے درد کا درماں
ان کے در کے بغیر ناممکن عرصۂ زندگی میں امن و اماں

[اصل بیت پڑھیں]
10

راہ خوباں میں بیٹھ جا عاشق ہوں گے وہ تیرے حال کے پرساں
ان کا یمن قدم ہی رہبر ہے ان کی چشم کرم ہے فیض رساں

[اصل بیت پڑھیں]
11

منزل عشق ہے درِ محبوب سجدہ ریزی کرو عقیدت سے
کیا عجب تم پہ مہرباں ہو جائے اور نوازے تمہیں محبت سے
کاش مل جائے خوب وزشت کاراز تمہیں اس رہبر حقیقت سے

[اصل بیت پڑھیں]
12

جسم کو پارہ پارہ کر لینا جب نظر آئے صورتِ خوباں
سرخرو تو بھی ہو محبت میں تجھے حاصل ہو قربِ محبوباں

[اصل بیت پڑھیں]
13

تجھے اس راہ میں ملیں گے بہت ساقیانِ حسین سبو بردوش
سر کی بازی لگا کے حاصل کر جام مے جو کرے تجھے مدہوش

[اصل بیت پڑھیں]
14

تم سر راہِ انتظار کرو خود پلائیں گے وہ شراب تمہیں
شرط یہ ہے نہ ہو کسی عنوان ان حسینوں سے اجتناب تمہیں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

یہ بات کبھی نہ بھولوں، سندر ہیں میرے ساجن
جب پیار کسی سے کرنا، بپتائوں سے مت ڈرنا
پریتم کے دوارے جا کر، سو بار چڑھوں سولی پر
سکھ پائے میرا جیون، سندر ہیں میرے ساجن
جو پریت کی ریت کو مانے، بھید اس کا کوئی نہ جانے
ٹکڑے ٹکڑے ہو جائوں، پھر بھی نا بھید بتائوں
میں ہاروں اپنا تن من، سندر ہیں میرے ساجن

[اصل بیت پڑھیں]
آٹھویں داستان
1

ٹھیس اپنے وقار کو نہ لگا ان کے کوچے میں بار بار نہ جا
رہگزاروں میں تو دیے نہ جلا راہ گیروں کو داغِ دل نہ دکھا
لب خاموش و حیرت ابدی راز کیف و مسرّت ابدی

[اصل بیت پڑھیں]
2

ذکر بے سود ہے دوائوں کا چارہ سازوں کی فکر ہے بے جا
چارہ سازوں کی فکر ہے اس کو جس کے دل کو کسی کا درد ملا

[اصل بیت پڑھیں]
3

جس کے دل کو کسی کا درد ملا اس کی حالت ہوئی نحیف و نزار
شہد سے بڑھ کے ہے مگر اے دوست درد مندوں کو تلخیٔ آزار

[اصل بیت پڑھیں]
4

بس و ہی چارہ سازِ قلب و نظر جس نے بخشی ہے درد کی اکسیر
تیری ہر بات اے مرے محبوب میرے حق میں نوشتۂ تقدیر
جب بھی کوئی امید بر آئی تیرے بیمار نے شفا پائی

[اصل بیت پڑھیں]
5

مثلِ ناقہ بقدرِ تشنہ لبی تم بھی پی لو کہ خود پلاتا ہے
فیض اس کی سبیل سے ورنہ کون اپنی رضا سے پاتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
6

جو رموز نفی نہیں سمجھا رازِ اثبات کیا وہ سمجھے گا
وہ تو اظہر ہے پر جو ناداں ہے غیب کی بات کیا وہ سمجھے گا

[اصل بیت پڑھیں]
7

مہرباں ہو وہ جوہری جن پر
چمک اٹھیں وہ مثلِ لعل و گہر

[اصل بیت پڑھیں]
8

اپنے کوزے کو کوزہ گر جیسے آزماتا ہے دل کو وہ دلبر
جو بھی اس نے عطا کیا مجھ کو میں نے سمجھا اسی کو شیر و شکر

[اصل بیت پڑھیں]
9

ظاہرا بے رخی ہوئی تو کیا رشتۂ روح ٹوٹ سکتا ہے!
زیست مشقِ ستم سہی لیکن دامنِ صبر چھوٹ سکتا ہے!

[اصل بیت پڑھیں]
10

گر وہ ترکِ تعلقات کرے پاس تم کو رہے محبت کا
جوڑ لو اس کو رشتۂ جاں سے ٹوٹ جائے جو تار الفت کا
وہ اذیت بھی دے اگر کوئی تم سمجھنا پیام راحت کا

[اصل بیت پڑھیں]
11

صبر کیا ہے دلیلِ رحمت ہے قہر آلودگی قیامت ہے
بھر لے دامن میں عجز کی دولت عجز ہی جوہر شرافت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
12

اپنی نظریں جھکاکے دیکھ ذرا قہر آلودگی قیامت ہے
جادہ پیمائے معرفت کے لئے عجز ہی پاے استقامت ہے
بردباری ہے مشک کی مانند یہ ضمیرِ بشر کی نکہت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
13

ذائقہ شیوۂ تحمل کا خوگرِ آہ و نالہ چکھ نہ سکا
متکبر شکست سے دو چار منکسر فاتحِ ضمیر رہا

[اصل بیت پڑھیں]
14

عجز کو جس نے اختیار کیا اس کی گذری سدا فراغت میں
شکوہ سنج غمِ جہاں کو مگر ہاتھ آیا نہ کچھ شکایت سے

[اصل بیت پڑھیں]
15

گر کسی نے برا کہا بھی تمہیں تم رہو اپنی خاموشی میں مگن
فتنہ پرور فگندہ سر آخر کینہ پرور سدا تہی دامن

[اصل بیت پڑھیں]
16

گر کسی نے برا کہا بھی تمہیں تم رہو اپنی خامشی میں مگن
قول “سید” کا جس کو یاد رہا بن گیا موم اس کا تن اور من

[اصل بیت پڑھیں]
17

بات کہنے سے کچھ نہیں حاصل دل میں رکھنا ہی اس کا اچھا ہے
جس قدر بھی کمان کھینچو گے اتنا ہی ٹوٹنے کا خطرہ ہے

[اصل بیت پڑھیں]
18

شکوے سن کر بھی تو رہے خاموش تیرے ہادی کی یہ ہدایت ہے
سرخروئی ہوئی اسے حاصل اپنے پر آپ جس کو قدرت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
19

لاکھ شکوے ہوں تم سے دنیا کو دل میں رکھو زباں سے کچھ نہ کہو
اہل دنیا سے کیا تمہیں امید کچھ بھی تم سے کہیں خموش رہو

[اصل بیت پڑھیں]
20

کچھ کہے کوئی تم سے یا نہ کہے تم ادب کوش ادب نواز رہو
بس اسی میں ہے شان استغنا آپ ہی اپنا احترام کرو
دوسروں کی سند سے کیا حاصل خود نگہدار و خود شناس بنو

[اصل بیت پڑھیں]
21

چشمہ زندگی نے یاد کیا ختم ہونے لگی ہے تیرہ شبی
جا کے ساحل پہ ڈال دے ڈیرا تاکہ باقی رہے نہ تشنہ لبی

[اصل بیت پڑھیں]
22

جن کو صحبت ہے باعثِ آزار ان کی محفل میں تو نہ ہو شامل
ان سے حاصل نہیں کچھ اس کے سوا کہ تجھے کچھ نہ ہو سکے حاصل

[اصل بیت پڑھیں]
23

عمر بھر میں انہیں کے پاس رہو جن کی صحبت میں عین راحت ہے
خیمہ زن ہو وہاں تنِ خاکی سایہ افگن جہاں محبت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

ساجن پہ جائوں واری، میں ہوں برھا کی ماری
پریتم کے دوارے ہوں گے، کتنے ہی پریم پجاری
میں ہوں برھا کی ماری، تم سندر ہو ساجن
کہتی ہے دنیا ساری، میں ہوں برھا کی ماری
میں نینوں سے لگائوں، چرنوں کی دھول تمہاری
میں ہوں برھا کی ماری، کہتا ہے “لطیف” کوی یہ
پریتم کی شوبھا نیاری، میں ہوں برھا کی ماری

[اصل بیت پڑھیں]

سر کھمبات

پہلی داستان
1

مکمل اس کا فیضِ عام سب پر مگر ہوتی رہی مجھ سے برائی
وہ شرمندہ کرے آکر نہ مجھ کو ہمیشہ جس نے کی مجھ سے بھلائی

[اصل بیت پڑھیں]
2

صبحِ روشن ہے تیری پیشانی اور دل چشمۂ محبت ہے
تیرے آنے کی منتظر ہوں میں تو جو آئے تو عین راحت ہے
ہیچ ہے تیرے سامنے خورشید مہ و انجم کی کیا حقیقت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

میرے محبوب کو ذرا اے چاند مجھ پہ بیتی ہے جو بتا دینا
جو ٹپکتا ہے دیدۂ تر سے جا کے پیغام وہ سنا دینا
کاش خلوت میں ایک بارِ آئے اور نہ پھر چھوڑ کر مجھے جائے

[اصل بیت پڑھیں]
4

پیار سے مجھ کو دیکھنے والے ہر شکایت تیری گوارا ہے
میری خلوت میں آکے جا نہ کہیں تو مری روح کا سہارا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

اے مری ناقۂ صبا رفتار تجھ کو در پیش ہے طویل سفر
چاندنی رات اور بسیط فضا کتنی پرکیف ہے یہ راہگذر
مڑ کے پیچھے نہ دیکھنا ہر گز سوئے محبوب گامزن ہو کر
مجھ کو جانا ہے اس کے پاس ابھی حرف آئے نہ عہد و پیماں پر

[اصل بیت پڑھیں]
6

چاندنی رات راستہ ہموار زورِ ہمت ہے اب فقط درکار
اے مری راز دار تیز قدم ہو کسی پر نہ راز کا اظہار
سوئے محبوب گامزن ہو جا اے مری ناقۂ صبا رفتار

[اصل بیت پڑھیں]
7

کیف پرور ہے یہ شبِ مہتاب اور پھر تیری راہ بھی ہموار
کوئی تیرے سوا نہیں ہمدم اولیں عشق، دور منزلِ یار
دیدہ دل میں جس کے جلوے ہیں اس کی فرقت ہے باعثِ آزار
اس قدر تیز چل کہ لوٹ آئیں رونما جب ہوں صبح کے آثار
کوئی تیرے سوا نہیں ہمدم اے مری ناقۂ صبا رفتار

[اصل بیت پڑھیں]
8

آج پھر چودھویں کا چاند ابھرا منتظر ہوں کسی کے آنے کی
دل مسرت سے لہلہاتا ہے کوئی پروا نہیں زمانے کی

[اصل بیت پڑھیں]
9

آج پھر چودھویں کا چاند ابھرا شام سے انتظار تھا اس کا
صبحِ نو کی نوید دینے کو وہ حسیں دوست میرے گھر آیا

[اصل بیت پڑھیں]
10

محرمیّت صلائے عام نہیں درمیاں ایک حدِّ فاصل ہے
لوگ جس کو ہلال کہتے ہیں درحقیقت وہ ماہِ کامل ہے

[اصل بیت پڑھیں]
11

کہاں وہ اور کہاں تو! ماہِ کامل ترے حق میں قیامت اس کا جلوہ
کہ حسنِ جاودانی کے مقابل ٹھہر سکتا نہیں حسنِ دو روزہ
ترے اس عمر بھر کے ماحصل سے کہیں بڑھ کر ہے اس کا ایک لمحہ

[اصل بیت پڑھیں]
12

ضیائیں لاکھ ہوں شمس و قمر کی
بغیر اس کے وہی تیرہ شبی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
13

نہیں اے چاند تو اس کے برابر کہاں تو اور کہاں محبوب میرا
دوامِ حسن اس کا روئے روشن رہینِ منتِ شب نور تیرا

[اصل بیت پڑھیں]
14

یہ تیری روشنی اے چاند مجھ کو نہ ہونے دیگی حاصل قربِ دلبر
ہمیں تو راس آتی ہیں وہ راتیں ملیں ہم جن کی تاریکی میں چھپ کر

[اصل بیت پڑھیں]
15

مرے دل کو تھی امیدِ ملاقات کیا تھا جسم کو اپنے معطّر
مگر یہ انتظارِ شوقِ پیہم کہ خوشبو اُڑ گئی کافور بن کر

[اصل بیت پڑھیں]
16

برا ہو اے مہ شب تاب تیرا نہ دیکھوں شام ہی سے تیری صورت
ملوں محبوب سے تاریکیوں میں میسر ہو مجھے قربت ہی قربت

[اصل بیت پڑھیں]
17

مرے محبوب کو دیکھا ہے تو نے کہاں وہ اور کہاں تو! ماہِ کامل
بہت دیکھے ہیں مدو جزر تیرے تغیر ہے تری فطرت میں داخل
تو اک شعلہ دہن اور شعلہ رو ہے مگر نظَّارہ اس کا سیر حاصل

[اصل بیت پڑھیں]
18

کچھ اس انداز سے ہر سمت دیکھا خمار آلودہ آنکھ اس نے اٹھا کر
مہ و خورشید و انجم تھر تھرائے ہوئی حیرت سی طاری کہکشاں پر
رخِ جاناں کے جلوئوں کے مقابل مری نظروں میں ہے ہر جلوہ کمتر

[اصل بیت پڑھیں]
19

جب آدھی رات کو اس نے دکھایا نقابِ رخ اٹھا کر اپنا چہرہ
قمر نے کہکشاں کو ساتھ لے کر لگایا نیلگوں دریا میں غوطہ

[اصل بیت پڑھیں]
20

رخِ محبوب کی صباحت دیکھ جیسے روشن ہو صبح کا تارا

[اصل بیت پڑھیں]
21

جدھر ہے نور افشاں وہ ستارہ
ادھر محبوب میرا جلوہ گر ہے
نہیں اس کی رواداری میں تلخی
وہ روحِ انگبیں و نیشکر ہے
ستاروں کی طرح ہیں خال اس کے
رخِ تابندہ مانندِ سحر ہے
بغیر اس کے مری شب زندہ داری
فقط بے کیفیِ۔ٔ قلب و نظر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

سکھی میں جائوں اس کے دوار
جی کو پیا بن چین نہ آئے
کب تک بیٹھی سوگ منائوں
تڑپے آٹھ پہر گھبرائے
جی کو پیا بن چین نہ آئے
بیکل ہیں اب تیرے میت
سینے میں گھٹ کر رہ جائے
جی کو پیا بن چین نہ آئے
کالے کوسوں اس کا دیس
کوئی کیسے پیدل جائے
جی کو پیا بن چین نہ آئے
ابلاکھا ہے من میں یہی
جا کر اس کا دیس بسائے
جی کو پیا بن چین نہ آئے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

میں یاد جنہیں کرتی تھی
میرے آنگن میں آئے
پھولوں کی مہک سانسوں میں
خوشبو میں جسم بسائے
میرے آنگن میں آئے
میں ہوں اک پریم پجارن
چھب پریتم ہی کی بھائے
میرے آنگن میں آئے
کتنے سندر ہیں ساجن
یہ بات اب کون بتائے
میرے آنگن میں آئے
کہتا ہے “لطیف” کوی یہ
پریتم کی پریت سُہائے
میرے آنگن میں آئے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

میں اپنے پیا کو منائوں
اے رات اگر تو ٹھہرے
اس اندھیاری میں جل کر
جیون کی جوت جگائوں
اے رات اگر تو ٹھہرے
دھونی پیارے پریتم کی
تن من میں آج رمائوں
اے رات اگر تو ٹھہرے
دکھ میرا کوئی نہ جانے
کیا دنیا کو سمجھائوں
اے رات اگر تو ٹھہرے
کوئی کھوٹ رہے نا مجھ میں
اس کی داسی بن جائوں
اے رات اگر تو ٹھہرے
کہتا ہے “لطیف” کوی یہ
جیتے جی پریت نبھائوں
اے رات اگر تو ٹھہرے
ہے مرگھ ترشنا جیون
میں پریت سے پیاس بجھائوں
اے رات اگر تو ٹھہرے
آشا کے سپن سہانے
بیاکل من کو بہلائوں
اے رات اگر تو ٹھہرے
اس پاپ کی نگری سے میں
اب پیا ملن کو جائوں
اے رات اگر تو ٹھہرے

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

فلک پر فروزاں ہو اے چاندجب تو
نظر ڈالنا پہلے اس مہ لقا پر
بتانا اسے حال ہم عاجزوں کا
یہ کہنا کہ جیتے ہیں تیری رضا پر
نہیں جسم و جاں میں وہ تاب و تواں اب
مگر پھر بھی قائم ہیں عہدِ وفا پر
تجھے بھیجتے ہیں سلامِ محبت
نگاہیں جمائیں ہیں حسن رجا پر

[اصل بیت پڑھیں]
2

گذر میرے محبوب کے بام و در سے
جو محرم مرے شوقِ بے تاب کا ہے
سنا اس کو اے چاند پیغام میرا
کہ تو واقفِ حال اہلِ وفا ہے
نہیںکوئی دنیا میں میرا سہارا
جدائی کے ماروں کا تو آسرا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

ہکتی ہوئی زلفِ خواب شبستان
فضائیں خنک، بوئے کافور پرّاں
یہ خوشبو میں لپٹا شبابِ زمستاں
سماں کیا سہانا ہے اے ماہِ تاباں
یہاں درد رنجوری و رنج دوری
وہاں اضطراب اور پہلوے جاناں

[اصل بیت پڑھیں]
4

کوئی ناقۂ تیز رفتار یا رب
کہ ہو اس کے در تک میسر رسائی
مجھے اس سے محروم رکھے گی کب تک
یہ دشواریٔ راہ و بے دست و پائی

[اصل بیت پڑھیں]
5

مجھے لذتِ قرب سے آشنا کر
تری انجمن سے بہت دور ہوں میں
غمِ ہجر کا کوئی آخر مداوا
غمِ ہجر سے سخت رنجور ہوں میں

[اصل بیت پڑھیں]
6

تڑپتے ہیں دل میں رموزِ معانی
کہاں ہے مرا رازدارِ محبت
مری خانہ ویرانیوں کی قسم ہے
کبھی آ بھی جا اے بہارِ محبت

[اصل بیت پڑھیں]
7

ادھر اس کی ضد کا یہ عالم کہ توبہ
ادھر پے بہ پے شورشِ باد و باراں
اِدھر سینے میںدل ٹھہرتا نہیں ہے
ادھر ہے کجاوے سے ناقہ گریزاں
جدھر ہمسفر ہو چکے ہیں روانہ
ادھرتک رہی ہے بصد یاس و حرماں

[اصل بیت پڑھیں]
8

کوئی ناقہ نہ راہوار کوئی
کیسے چل کر تمہارے پاس آئوں
کوئی صورت کہ میں ترے در تک
رات ہی رات میں پہنچ جائوں

[اصل بیت پڑھیں]
9

اے مری ناقۂ صبا رفتار
مجھ کو پہنچا دے ان کے پاس ابھی
ورنہ تجھ کو بھی راکھ کر دے گی
لب پہ آتے ہی آہِ نیم شبی

[اصل بیت پڑھیں]
10

دوسروں کے لئے خس و خاشاک
اور کھلاتا رہوں تجھے چندن
اے مری ناقۂ صبا رفتار
دور ہے میرے دوست کا مسکن
رات ہی رات میں وہاں پہنچ
ہے جہاں روے یار جلوہ فگن

[اصل بیت پڑھیں]
11

اب تامل نہ ہو ذرا اس میں
دیکھ اے میری ناقۂ غمخوار
سامنے ہے رہِ دیارِ حبیب
رات پر کیف راستہ ہموار

[اصل بیت پڑھیں]
12

تجھ کو جس خاندان سے نسبت ہے
فرض اس خاندان کی عزت ہے
فرق آئے نہ چال میں تیری
تو وفا کیش و نیک طینت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
13

میں نے اس کو درخت سے باندھا
تاکہ یہ اسکی کونپلیں کھائے
حیف یہ خوگر خس و خاشاک
خس و خاشاک ہی اسے بھائے
اس کی ضد کا کوئی ٹھکانا ہے
ایسے ضدی کو کون سمجھائے

[اصل بیت پڑھیں]
14

حرف آئے نہ باد پائی پر
اے مری ناقۂ صبا رفتار
چل! کہ اس کارواں سے مل جائیں
میرا محبوب جس کا ہے سالار

[اصل بیت پڑھیں]
15

اے مری ناقۂ صبا رفتار
بیش قیمت مہار لائوں گی
زر و لعل و گہر کے ہاروں سے
تیری گردن کو میں سجائوں گی
ڈالیاں نرم نرم، مہندی کی
اور چند تجھے کھلائوں گی
شرط یہ ہے کہ پاس ساجن کے
رات ہی رات میں پہنچ جائے

[اصل بیت پڑھیں]
16

یہ مری رازدار رنج والم
میری خوددار و خودنگر ناقہ
جو نہ کھاتی ہے اور نہ پیتی ہے
اور جس کو پسند ہے فاقہ

[اصل بیت پڑھیں]
17

جا رہی ہے وہ جانب محبوب
خوگر رنج و فقر و فاقہ ہے
سر کی پروا نہ تن کا ہوش اسے
میری ناقہ عجیب ناقہ ہے

[اصل بیت پڑھیں]
18

ساتھیوں کا یہ مجمع خورسند
اور یہ شاخہائے خوشبودار
اپنے گلّے میں خرم و شاداں
اور دل میں وہی غم دلدار
ریت پر نقشِ پا نہ چھوڑے گی
یہ مری ناقۂ صبا رفتار
ماں! تجھے بد گمانیاں کیوں ہیں
خوف افشائے راز ہے بیکار

[اصل بیت پڑھیں]
19

بور ہو یا درخت کی کونپل
اب کوئی چیز یہ نہ کھائے گا
میرے محبوب کے تحائف کو
اتنی جلدی یہ بھول جائے گا؟
رات کھاتا رہا جہاں چندن
وہ چمن اس کو یاد آئے گا
یہ مرا اشترِ وفا طینت
گن اسی باغبان کے گائے گا

[اصل بیت پڑھیں]
20

کیا ہوا آج میری ناقہ کو
اپنی حالت یہ کیا بنائی ہے
شاید اس نے روا روی میں کہیں
کوئی زہریلی چیز کھائی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
21

کھیت کی لہلہاتی بیلوں میں
اس نے دانستہ اپنا منہ ڈالا
مشتعل ہو کے آگئے دہقان
اور وہ ڈرپورک بھاگ بھی نہ سکا
آخر کار اُشتر نادان
اپنی وارفتگی کو بھول گیا

[اصل بیت پڑھیں]
22

شہد جس کو سمجھ رہا ہے تو
درحقیقت وہ بیل ہے مسموم
کہیں ایسا نہ ہو اسے کھا کر
تجھ کو رہنا پڑے سدا مغموم

[اصل بیت پڑھیں]
23

ناقۂ دل کو ہے یہی درکار
کوئی مضبوط سی بنائو مہار
لہلہاتی ہیں ہر طرف بیلیں
کتنی خوش رنگ کیسی خوشبودار
لگ گئی اس کو ان کی چاٹ اگر
ہاتھ آئے گی پھر نہ یہ زنہار

[اصل بیت پڑھیں]
24

ناقۂ بے مہار پر عائد
لاکھ پابندیاں ہوں سب بیکار
ایسی بیلوں کی اس کو عادت ہے
زہر جن کا ہے باعث آزار

[اصل بیت پڑھیں]
25

اس سے پہلے کہ اے مری ناقہ!
میرے ہاتھوں میں تازیانہ ہو
گامزن ہو مرے اشارے پر
تو رہ راست پر روانہ ہو

[اصل بیت پڑھیں]
26

یہی “کھمبات” کا جزیرہ ہے
ڈالو چاروں طرف نظر، دیکھو
ہر طرف دعوت تماشا ہے
حسنِ مطلق کو جلوہ گر دیکھو

[اصل بیت پڑھیں]
27

دیکھ اے میری ناقۂ ناداں
مجھے تجھ سے بڑی شکایت ہے
ہر طرف ڈالیاں ہیں چندن کی
“آک” سے کیوں تجھے یہ رغبت ہے
جس نے اونٹوں کو کردیا مسموم
تجھ کو اس بیل سے محبت ہے!

[اصل بیت پڑھیں]
28

میری ناقہ ہے تند و شوخ و شریر
دوستو کردو اس کو پا بہ رسن
اسے کھانے کو جب بھی دیتی ہوں
ہوتی ہے اس کو دیکھ کربدظن
لاد دو اس پہ کوئی بار گراں
ورنہ اس کا یہی رہے گا چلن

[اصل بیت پڑھیں]
29

سینہ زنجیر سے جکڑ ڈالو
اور پیرں میں رسیاں باندھو
میرے قابو میں یہ نہیںاے ماں!
دوں کہاں سے میں تازہ پھل اس کو
بات کس کی بھلا وہ مانے گی
اپنے آقا کا جس کو پاس نہ ہو

[اصل بیت پڑھیں]
30

لگ گئی کس کی بددعا تجھ کو
اے مری ناقۂ سبک ساماں
بند آنکھیں کئے ہوئے اپنی
کیوں ہے کولہو کے گرد تو گرداں

[اصل بیت پڑھیں]
31

پابہ زنجیر کر دیا میں نے
پھر بھی مجھ سے گریز پاہی رہی
توڑ کر قید و بند کو ناقہ
سوئے محبوب تیز پاہی رہی

[اصل بیت پڑھیں]
32

میں نے کیں لاکھ کوششیں لیکن
اس نے چھوڑی نہ اپنی خود رائی
ہوگئے میرے سب جتن بیکار
جانے کس دلربا کی یاد آئی

[اصل بیت پڑھیں]
33

سخت نفرت ہے اس کو چندن سے
اور بیکار ہیں گلِ مشکیں
اس کو بھاتے ہیں جنگلی پودے
عود و عنبر سے کوئی انس نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
34

میں تو حیراں ہوں کہ یہ ناقہ
صاف پانی پئے نہ چند ن کھائے
جنگلی بوٹیاں اگر مل جائیں
عود و عنبرکے بھی قریب نہ جائے

[اصل بیت پڑھیں]
35

دل نشیں خوشہ ہائے رنگا رنگ
اور وہ شاخہائے بیش بہا
ایک پتا بھی جس کا ہو انمول
کیا ہو اندازہ اس کی قیمت کا
جا کے اس باغ میں میری ناقہ!
کتنا نقصان ہائے تو نے کیا

[اصل بیت پڑھیں]
36

دولت بے شمار کے بدلے
مدعا میں نے اپنا پایا ہے
اشترِ لاجواب و لاثانی
ہاتھ خوش قسمتی سے آیا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
37

یہ کجاوے کو جب اٹھائے گا
رشک بادِ صبا کو آئے گا
راز دارانہ مخلصانہ مجھے
اپنے محبوب سے ملائے گا
کوئی اس کی نہیں مثال کہیں
بھید کیا اس کا کوئی پائے گا

[اصل بیت پڑھیں]
38

اس کو مرغوب الائچی ہے بہت
کتنا خوش ہو کے ان کو کھاتا ہے
اور پھر مجھ کو آن واحد میں
جا کے محبوب سے ملاتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

ماں! بھید ہے یہ مرے من کا
رکھتی ہوں سجن سے آشائیں
تڑپائین جو مجھ برھن کو
راتیں نہ وہ لوٹ کے پھر آئیں
رکھتی ہوں سجن سے آشائیں
جو اپنے پیا کے ساتھ کٹیں
اے کاش مجھے پھر مل جائیں
رکھتی ہوں سجن سے آشائیں
جھانکوں میں جھروکوں سے من کے
چھب اپنی پریتم دکھلائیں
رکھتی ہوں سجن سے آشائیں
کس طرح “لطیف” کی رات کٹے
وہ یاد آکر جب تڑپائیں
رکھتی ہوں سجن سے آشائیں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کب آئے سندیسوں پر ساجن
کب آشائوں سے ملے پیا
راتوں کو لہو کے چھینٹوں سے
نینوں میں من کی جوت جگا
کب آشائوں سے ملے پیا
دکھلائی نہ جس نے پیٹھ کبھی
رن برھا کا اس نے جیتا
کب آشائوں سے ملے پیا
ساجن ہوں جس کے پردیس
وہ کیوں نہ سنائے نیر کتھا
کب آشائوں سے ملے پیا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

دھتکارو یا للکارو
آئی ہوں سرن تمہاری
تم سیدھے منہ بھی نہ بولو
میں جائوں واری واری
آئی ہوں سرن تمہاری
جگ چھان لیا ہے میں نے
ہے تو ہی تو گردھاری
آئی ہوں سرن تمہاری

[اصل بیت پڑھیں]

سر سورٹھ

پہلی داستان
1

چنگ آراستہ کئے “چارن‘
منتظر تھا کہ رائے “ڈیاچ‘ آئے
اور یہ اس کے موہ لینے کو
راگ عہدِ الست کا گائے

[اصل بیت پڑھیں]
2

مانگتا کب ہے درہم و دینار
اس کا مطلوب ہے سر سردار
دور ہے دیس اس مغنّی کا
آ رہی ہے صدائے پراسرار
کاٹ لے نے نواز اگر چاہے
اب تو سر سے رہا نہیں سروکا

[اصل بیت پڑھیں]
3

مجھ غریب الدیار سائل کو
تیرے نام و نشاں سے کیا نسبت
میں کہاں اور کہاں ترا رتبہ
خاک کو آسمان سے کیا نسبت
پھر بھی کچھ عرض حال کرنا ہے
تجھ سے سر کا سوال کرنا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

سن لے “سورٹھہ‘ کے خوبرو سرتاج
اک انوکھا سوال لایا ہوں
نرغۂ دشمناں میں ہوں لیکن
تیرا سر مانگنے کو آیا ہوں
جلد سائل کو سرخرو کردے
ورنہ محروم آرزو کردے

[اصل بیت پڑھیں]
5

سردیاں قہر ہیں مرے نزدیک
گرمیاں بھی نہیں ہیں مجھ کو ٹھیک
سن لے میرے رباب کی فریاد
اور دے دے جو مانگتا ہوں بھیک
کچھ تو آجائے میری جھولی میں
ڈال دے منہ سے پان ہی کی پیک

[اصل بیت پڑھیں]
6

اپنے دریوزہ گر مغنّی کو
جسم اور جان کی اماں دینا
والیِ جنّت عدن مجھ کو
نار دوزخ سے تو بچا لینا
دور سے تیرے پاس آیا ہوں
سرخروئی کی آس لایا ہوں

[اصل بیت پڑھیں]
7

اضطراب آفریں صدائوں میں
آرزوئے قرار لایا ہوں
چھوڑ کر میں ہر ایک در پیارے
آج تیرے حضور آیا ہوں

[اصل بیت پڑھیں]
8

بھاڑ میں جائیں اور دروازے
لو لگائے ہوں میں ترے در سے
میرے پیارے “کماچ‘ کا آہنگ
تیرے دیوار و در سے جب بر سے
کاش تو بھی ہو گوش بر آواز
ہو عیاں راز ساز مضطر سے

[اصل بیت پڑھیں]
9

پیاری ’سورٹھ‘کے خوبرو سرتاج
میری جھولی کی بھی رہے کچھ لاج
چھوڑ کر میں ہر ایک دروازہ
سر جھکائے ہوں تیرے در پر آج

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

راج پاٹ کو بھینٹ چڑھایا
’ڈیاچ‘ نے سیس کٹایا
راجہ نے ہر رانی چھوڑی
سارا راج گنوایا
’ڈیاچ‘ نے سیس کٹایا
ہاتھ میں جب ’کماچ‘ لئے
پردیسی ’چارن‘ آیا
ایسا رنگ جمایا
’ڈیاچ‘ نے سیس کٹایا
دور دور تک پھیل گیا
دیالو راجہ کا نام
بن گیا اس پریمی کے ہاتھوں
’بیجل‘ کا بھی کام
سب کچھ دان میں پایا
’ڈیاچ‘ نے سیس کٹایا

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

دور سے ’جونا گڑھ‘ میں آیا ہے
اک عجیب و غریب موسیقار
مضطرب شہر ہوگیا سارا
سن کے اس کے رباب کی جھنکار
ہوگئی سب پہ بیخودی طاری
نغمے کی لے سے ہوگئے سرشار
کون جانے وہ ایک قاتل ہے
صرف راجا کے سر کا سائل ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

گونج اٹھا ہے نشہ آور ساز
دیکھ ’بیجل‘ ہے زمزمہ پرداز
خود فراموش ہو گیا راجا
سن کے سائل کی سرمدی آواز
اور آخر طلب کیا اس کو
خلوتِ خاص میں بصد اعزاز
مٹ گیا فرق ما و تو یکسر
سوزِ نغمہ ہوا اثر انداز
بھید کیا تھا کسی کو کیا معلوم
کس طرح دونوں ہوگئے ہمراز

[اصل بیت پڑھیں]
3

رنگ محلوں سے آگیا راجا
سن کے اس نے نواز کا نغمہ
خلوت خاص میں طلب کر کے
آخر کار اس نے حکم دیا
اسپ تازی و زینِ پرجوہر
میری جانب سے دو اسے تحفہ
کیا خبر تھی کہ ساز گار نہیں
کوئی سوغات اس کو سر کے سوا

[اصل بیت پڑھیں]
4

ہو کے خوش نے نواز ’چارن‘ کو
بخشے راجہ نے قیمتی انعام
لیکن اس نے کہا کہ اے سلطان
مجھ کو ہے صرف تیرے سر سے کام
مال و زر کی کمی نہیں مجھ کو
ان سے کوئی خوشی نہیں مجھ کو

[اصل بیت پڑھیں]
5

تھیلیوں کی نہیں مجھے حاجت
ہوں مبارک یہ تجھ کو اے سردار
اپنے اس مال و زر کو واپس
مجھ کو ہے صرف تیرا سر درکار

[اصل بیت پڑھیں]
6

میں فقط تیرے سر کا طالب ہوں
ہاتھی گھوڑے مجھے نہیں درکار
مانگتے ہیں جو ہاتھ پھیلا کر
وہ کوئی اور ہوں گے موسیقار

[اصل بیت پڑھیں]
7

فطرۃٔ تو ہے ایک موسیقار
تو نے پایا ہے فن وراثت میں
مائل ارتعاش کردے آج
کوئی نغمہ مری سماعت میں

[اصل بیت پڑھیں]
8

گم ہوں اس سوچ میں کہ اے ’بیجل‘
کیا ہے یہ ساز اور یہ آواز
کس لئے اتنی دور سے آیا
کاش معلوم ہو مجھے یہ راز

[اصل بیت پڑھیں]
9

دور سے تیرے پاس آیا ہوں
اب نہیں واپسی کے امکانات
مال و زر کی ہوس نہیں مجھ کو
اور ہی کچھ ہیں میرے احساسات
پیاری ’سورٹھ‘ کے خوبرو سرتاج
کاش سمجھے تو میرے دل کی بات

[اصل بیت پڑھیں]
10

وہ نہیں ملک و مال کا سائل
اس کے دل میں ہے اور ہی کچھ بات
چاہتا ہے ’ڈیاچ‘ سے کرنا
خلوتِ خاص میں بسر اوقات

[اصل بیت پڑھیں]
11

کیا امیر اور کیا غریب یہاں
وہ تو سب کا ہی جان لیوا ہے
اس کی زد سے بچے کوئی کب تک
صبح و شام اس کو سر کا سودا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
12

آگئے جب گرفت میں تیری
ہوگئے خاک اہلِ تخت و تاج
کاش پھر آئے تو نہ اے سائل
تیری آمد ہے یا اجل کا راج

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

اے البیلے چارن تو نے کیسا راگ سنایا
مجھ کو مست بنایا
جو تو میرا سیس نہ مانگے دے دوں لاکھوں دان
اے البیلے چارن تو نے میرا من برمایا
مجھ کو مست بنایا
کہتا ہے یہ ’لطیف‘ ہمیشہ دیکھو ںتیری اور
اے البیلا چارن تو نے اپنا رنگ جمایا
مجھ کو مست بنایا

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

صبحدم باکمال ’بیجل‘ نے
جانے کس دھن میں راگ اک گایا
جب سنا کاخ و کو میں راجہ نے
اس کو یہ راگ اس قدر بھایا
بے حجابانہ اس مغنی کو
شوق سے اپنے پاس بلوایا
بولا اے میرے اجنبی مہماں
ایک کیا تجھ پہ لاکھ سر قرباں

[اصل بیت پڑھیں]
2

بیٹھ ڈولی میں اور اوپر چل
صبحدم یہ پیام آیا ہے
تجھ کو اونچے محل میں راجہ نے
دیکھ کس شوق سے بلایا ہے
عین ممکن ہے وہ کرم کردے
آپ ہی اپنا سر قلم کر دے

[اصل بیت پڑھیں]
3

جا رہا ہے محل میں وہ سائل
چھیڑنے ہی کو ہے پھر اپنا ساز
ڈر ہے کردے نہ بام و در مسمار
اس کے نغموں کا فتنہ زا اعجاز
سر اٹھائے نہ شور و شر بن کر
دفعتاً سحر آفریں آواز
مٹ ہی جائے گا شہر جونا گڑھ
اس کو ہونے دو زمزمہ پرداز
چال ایسی چالے گا وہ ’بیجل‘
سر ہی لے کر ٹلے گا وہ ’بیجل

[اصل بیت پڑھیں]
4

درمیاں سائل اور سخی کے ہے
اور کیا چیز ماورائے ساز
گونجتی ہے جو تار میں اکثر
ان کی روحوں میں ہے وہی آواز
کہہ رہا ہے کوئی سلام تجھے
تو کہ سائل ہے آج اس در کا
تجھ کو کیا ہو گیا بتا ’بیجل‘
کیوں تقاضا ’ڈیاچ‘ کے سر کا
اور اگر ہے یہی ترا ارماں
تیرے ارمان پر یہ سر قرباں

[اصل بیت پڑھیں]
5

کیسے کیسے سخی ملے مجھ کو
زخم دل کا نہ بھر سکا کوئی
چھان مارا ہے میں نے ’گربیلہ‘
سر کا وعدہ نہ کر سکا کوئی

[اصل بیت پڑھیں]
6

سر تو اپنے ہی بس میں تھا ورنہ
اور اگر کچھ طلب کیا ہوتا
ہو کے اپنے سوال سے محروم
ہم کو بدنام کر دیا ہوتا

[اصل بیت پڑھیں]
7

سر کو تجھ پر نثار کرتا ہوں
لے یہ ناچیز استخواں لے جا
نہیں ایفائے عہد میں تاخیر
تو جہاں چاہے اب وہاں لے جا
یہ ترے کام آسکے شاید
جان حاضر ہے جانِ جاں لے جا

[اصل بیت پڑھیں]
8

ہو سکے کیا برابری تیری
میں کہاں اور کہاں ترا اعجاز
سر ہے حاضر کہ ہیں کہیں بہتر
میری رگ رگ سے تار ہائے ساز
اور کیا دوں میں تجھ کو نذرانہ
سن کے یہ تیری سرمدی آواز
سر مجھے بارِ دوش ہے لے جا
ہے نہیں مجھ کو یار دوش پہ ناز

[اصل بیت پڑھیں]
9

ایک سر کیا جو لاکھ سر ہوتے
وہ بھی قربان ساز پر ہوتے
لاکھ سر دے کے اے مغنی ہم
تیرے ممنون کس قدر ہوتے

[اصل بیت پڑھیں]
10

سر کا نذرانہ اس کو کیا دشوار
جو فدائے کمال ہو جائے
کوئی ایسی عطا ہو سائل پر
جو عدیم المثال ہو جائے

[اصل بیت پڑھیں]
11

لاکھ مشکل سہی مگر اے ’ڈیاچ‘
وہ عطا کر جو چاہتے ہیں تار
کر چکا ہوں سوال اب سر کا
لوٹ کر جائوں گا نہ میں زنہار
دیکھنا چاہتا ہوں اے فیاض
آج میں تیرے فیض کا معیار

[اصل بیت پڑھیں]
12

سر بھی دینا قبول تھا اس کو
بڑھ کے ’خادم‘ سے تھی سخا اس کی
پوچھتا تھا ’ڈیاچ‘ ’بیجل‘ سے
درحقیقت جو تھی رضا اس کی
نیستی ہے کہ رازِ ہستی ہے
دل کی مستی عجیب مستی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
13

شہر میں جب ’ڈیاچ‘ کے آیا
وہ مغنی لئے ہوئے اک چنگ
دونوں عالم تھے گوش بر آواز
ہر طرف تھی صدائے خوش آہنگ
رائے سے سر طلب کیا اس نے
دے دیا اس نے بے دریغ و درنگ
مسکراتی ہے آج اس کی ماں
ناز کرتے ہیں اس پہ نام و ننگ

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

سیس تو تیرا ہو چکا اے ’چارن‘ مہمان
دینا ہے کچھ اور بھی بن مکھ مانگے دان
اے چارن مہمان
’بیجل‘ اب نہ چھپائیو مجھ سے من کی بات
جونا گڑھ میں لے چلوں تجھ کو اپنے سات
واروں لاکھوں سیس میں سن کر تیری تان
اے چارن مہمان
لاج نہ جائے پریم کی چاہے سر کٹ جائے
سب کچھ تجھ پہ واروں پھر بھی چین نہ آئے
کہتا ہے جو ’لطیف‘ ہمیشہ رکھیو اس کا دھیان
اے چارن مہمان
دینا ہے کچھ اور بھی بن مکھ مانگے دان

[اصل بیت پڑھیں]
چوتھی داستان
1

کتنی پرنور ان کی آنکھیںہیں
بام و درجن سے جگمگاتے ہیں
کون جانے کہ مصلحت کیا ہے
جویہ سائل محل میں آتے ہیں
بادشاہانِ وقت کس کے لئے
سر جھکاتے ہیں سر کٹاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
2

تو کہ ہے سائل خجستہ قدم
تیری آمد پیام رحمت ہے
بسکہ ہوں راز داں ترے فن کا
مجھ پہ ظاہر تری حقیقت ہے
جو بھی پڑ جائے تیری جھولی میں
جانتا ہوں بہت غنیمت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

تیرا مضراب تار ساز پہ تھا
رگِ گردن پہ چل رہی تھی چھری
چھین لی سحر آفریں ہو کر
تیرے نغموں نے زندگی میری
اے مغنی مگر تری فطرت
مطمئن ہی رہی، چہ بوالعجبی

[اصل بیت پڑھیں]
4

نغمہ زن ہے یہ تار کی آواز
یا ہے در پردہ اور کوئی راز
خود مغنی ہے صاحب اعجاز
ورنہ کس کام کے یہ تار یہ ساز

[اصل بیت پڑھیں]
5

میرے دل میں اتر گئی ہر تان
ایک سر کیا ہزار سر قربان
لیکن ایسی عطا سے کیا حاصل
اور کچھ مانگتا مرے مہمان
بے بضاعت ہے ٹوٹنے کے بعد
آب و گل کا مجسمہ، انسان

[اصل بیت پڑھیں]
6

جسم کے ساتھ یا جدا کرکے
بول کس طرح اپنا سر دوں میں
مجھ کو تیرا خیال ہے سائل
یوں تو دینے کو بحروبر دوں میں
میں کہاں اور کہاں ترا اعجاز
کاش ہو جائوں تیرا مونسِ راز

[اصل بیت پڑھیں]
7

کچھ سمجھ کر ہی برمحل اس نے
چھیڑ دی اک بڑی سریلی تان
جانے کیا چاہتا تھا وہ ’چارن‘
سر کا ملنا تو تھا بہت آسان

[اصل بیت پڑھیں]
8

تجھ پہ سب کچھ نثار اے ’جاجک‘
تیرا نغمہ عدوے حرص و آز
کاٹ لے سر کو اور خوش ہو جا
پھر نہ آنا تو اپنا لے کر ساز
پھر رہی ہے اجل تعاقب میں
کھل گیا مجھ پہ تیرے فن کا راز

[اصل بیت پڑھیں]
9

اب یہ گردن ہے اور یہ خنجر ہے
اور ترے روبرو مرا سر ہے
جس کی خاطر سفر کیا تو نے
کوئی ایثار اس سے بڑھ کر ہے
ملک مانگا نہ مال و زر مانگا
جانے کیوں تو نے صرف سر مانگا

[اصل بیت پڑھیں]
10

دستِ ’بیجل‘ میں اک انوکھا ساز
اور اس ساز کی عجب آواز
ہوگیا رائے ’ڈیاچ‘ پر ظاہر
سائل خوش گلو کے فن کا راز
اس کو اپنا بنا کے چین آیا
سر کی بازی لگا کے چین آیا

[اصل بیت پڑھیں]
11

چل بسا رات وہ مہاراجہ
سوگوار اس کی راجدھانی ہے
ایک سورٹھ پہ ہی نہیں موقوف
اشکبار آج ہر جوانی ہے
جوناگڑھ میں بلا کا ماتم ہے
نوحہ خوانی ہی نوحہ خوانی ہے
جانے کیا کر گیا وہ موسیقار
خاک میں مل گیا گلِ ’گرنار‘

[اصل بیت پڑھیں]
12

ہاتھ ملتا ہے لے کے سر ’چارن‘
کچھ نہ لیتا تو سب سے بہتر تھا
اس سخی ’ڈیاچ‘ نے دیا جو کچھ
صرف پاسنگ کے برابر تھا
لے کے آیا ہے سر کو اب واپس
حوصلہ دیکھئے تو ’بیجل‘ کا
بڑھ گیا ’ڈیاچ‘ کی سخاوت سے
اور بھی اشتیاق سائل کا

[اصل بیت پڑھیں]
13

کہہ رہے ہیں کہ مر گئی سورٹھ
اب نہ وہ انتظار ہے نہ عذاب
سب نشیب و فراز گونج اٹھے
ہو گئے نغمہ ریز چنگ و رباب
نغمہ و حسنِ جاوداں باقی
ورنہ سب کچھ خیال ہر شے خواب

[اصل بیت پڑھیں]
14

راگ باقی رہا نہ رنگ کوئی
’ڈیاچ‘ کے بعد مرگئی سورٹھ
اس جہانِ فریب ساماں سے
دل گرفتہ گذر گئی سورٹھ
پائے گا آکے کیا ادھر ’بیجل‘
کس کو لوٹائے گا یہ سر ’بیجل‘

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

تو جدا ہوگیا ہائے ہائے
کیسے تجھ کو یہ سورٹھ بھلائے
آج خاموش ہیں ساز تیرے
تو ہی ساز حقیقت بجائے
جو محبت کے نغمے سنائے
کیسے تجھ کو یہ سورٹھ بھلائے
کر گیا کیسا جادو وہ ’بیجل‘
جو سپوتوں کے بھی ہوش اُڑائے
کون تھا جو ترا سر کٹائے
کیسے تجھ کو یہ سورٹھ بھلائے
چھاتیاں کوٹتی ہیں اب اپنی
کون سکھیوں کو قابو میں لائے
پیار سے انکے جی کو لبھائے
کیسے تجھ کو یہ سورٹھ بھلائے

[اصل بیت پڑھیں]

سر آسا

پہلی داستان
1

ابتدا ہے نہ انتہا کوئی
کیا لگائے ترا پتا کوئی
بے شریک و عدیل و بے ہمتا
تجھ سا پایا نہ دوسرا کوئی

[اصل بیت پڑھیں]
2

خواہش وصل جان ہستی ہے
نہ خودی ہے نہ خود پرستی ہے
روئے جاناں سے مثلِ پرتو گل
عالم رنگ و بو میں مستی ہے
صد صنم خانۂ خیال اب تک
سجدہ گاہ فریب ہستی ہے
پھر بھی حسن و جمال سے ہر سو
اس کی وحدانیت برستی ہے
نظر مشرکانہ کیا جانے
زندگی جلوۂ الستی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

خود کو سمجھا ہے شرک سے خالی
اور پھر بھی یہ خود پرستی ہے
کچھ خبر بھی ہے تجھ کو اے ناداں
اس کی ہستی سے تیری ہستی ہے
اہلِ عرفان کا ہر نفس غافل
محرم جلوۂ الستی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

عبد و معبود کے تعلق میں
ابتداء ہے نہ انتہا کوئی
وہ ہمیشہ کو گم ہوا آخر
کر سکا اس کی جو رضا جوئی

[اصل بیت پڑھیں]
5

کرئی تکریم ہے نہ اب تعظیم
وہ کہاں اور کہاں جبیں سائی
عارفوں نے وہ جلوہ گاہِ جمال
ماورائے دل و نظر پائی

[اصل بیت پڑھیں]
6

میں ترا عبد ہوں مرے معبود
شرک و الحاد سے مجھے کیا کام
خلش انگیز آرزو تیری
میرے قلب و نظر میں صبح وشام

[اصل بیت پڑھیں]
7

تجھ میں جب تک ہے ذوق خود بینی
تیرا شوقِ نماز بے توقیر
بھول جا اپنے آپ کو پہلے
زیب دے گی زباں کو پھر تکبیر

[اصل بیت پڑھیں]
8

وہ وظیفے نہ وہ نمازیں ہیں
خود فراموش سی طبیعت ہے
جب سے دل پر ہے عشق کی یورش
کتنی بے کیف ہر عبادت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
9

گر نہیں دل میں شوقِ وارفتہ
تیرے کس کام یہ جبیں سائی
کیا کسی نے کبھی شرر کے بغیر
صرف پھونکوں سے آگ بھڑکائی

[اصل بیت پڑھیں]
10

بانی۔ٔ جلوہ زار ہست و بود
اس کو شاہد کہوں میں یا مشہود
چشم خود بیں حجاب ہے ورنہ
وہ ہے ہر ایک شکل میں موجود
اس کا عرفاں سہل ہو جائے
فہم و ادراک ہوں اگر مفقود
بے خودی کے بغیر ناممکن
بختِ بیدار و طالع مسعود
ماورائے خرد ازل سے ہے
نوع انسان کی منزلِ مقصود

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

موہے اکیلے چین نہ آئے
برھن رین نہ کاٹی جائے
برھا کے دکھ کیسے جھیلے
کوئی کب تک نیر بہائے
برھن رین نہ کاٹی جائے
کس پربت چت چور چڑھے ہیں
مجھ کو کوئی راہ سجھائے
برھن رین نہ کاٹی جائے
انجانے سے آس نہ ٹوٹے
جیون جب تک بھی بھٹکائے
برھن رین نہ کاٹی جائے
من میتوں کی یاد ہی من میں
پریت ملن کی آس جگائے
برھن رین نہ کاٹی جائے

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

یہی بہتر نکال دو آنکھیں
نذر زاغ و زغن کروں آنکھیں
تاکہ وقت سحر نہ دیکھ سکیں
جلوۂ یارِ پرفسوں آنکھیں
تابہ حد نظر اسے دیکھا
جب ہوئیں مائلِ دروں آنکھیں

[اصل بیت پڑھیں]
2

صبح دم آب و دانہ سے پہلے
جس نے پائی نویدِ جلوۂ یار
اس کو ہر آرزو سے بہتر ہے
اس عدیم المثال کا دیدار
جسم و جاں جس کے روبرو ہوکر
بھول جاتے ہیں زیست کا پندار

[اصل بیت پڑھیں]
3

ہائے آنکھوں کی حسرت دیدار
صبح سے پہلے ہوگئیں بیدار
منتظر ہیں بہ آرزوئے دوام
کب نظر آئے حسنِ جلوۂ یار
خوب تھا اس کا جلوۂ بے رنگ
کتنی رنگینیاں ہوئیں بے کار

[اصل بیت پڑھیں]
4

مستی۔ٔ چشمِ جاوداں سی ہے
کوئی وارفتگی نہاں سی ہے
کششِ عشق اور کیا ہو گی
ہر تمنّا جواں جواں سی ہے
کس کو دیکھا کہ آج آنکھوں میں
اک چمک جیسے ارغواں سی ہے
کون جانے کہ ان کی بیتابی
اک پراسرار داستاں سی ہے
کیا بتائوں ’لطیف‘ اس کا راز
نگہ دوست مہرباں سی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

صرف دکھ درد کی رفاقت ہے
ان کی عادت عجیب عادت ہے
دوسروں کے لئے ان آنکھوں میں
جانے کیوں اتنی جاذبیت ہے
بے سنان و سپر انہیں درپیش
کار زار غمِ محبت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
6

سوچتا ہوں کہ دیدۂ حیراں
ایک آتشکدہ ہے یا حمام
لاکھ پرنم سہی مگر اس میں
سوز ہی سوز ہے بہر ہنگام
تجھے دیکھے بغیر اے محبوب
مل سکے گا نہ اب مجھے آرام

[اصل بیت پڑھیں]
7

تیری آنکھیں ہیں تیغ کے مانند
جو کئی زخم ڈال دیتی ہیں
لیکن اکثر دلوں پہ پڑتے ہی
سارے دکھ درد ٹال دیتی ہیں
سرمگیں اور سرمے سے خالی
تیری آنکھوں کا ہے عجب دستور
اپنے مدہوش جاں نثاروں پر
ان کا ہر ایک وار ہے بھرپور

[اصل بیت پڑھیں]
8

تیری آنکھوں کی مسکراہٹ میں
ہم نے چاندی کی سی چمک دیکھی
تو جو آیا ہماری آنکھوں ن
تیرے قدموں کی چاپ تک دیکھی
تو جو سویا تو خوب ہم جاگے
تیرے چہرے پہ کیا دمک دیکھی

[اصل بیت پڑھیں]
9

تیری آنکھوں نے میری آنکھوں کو
عشوۂ و ناز بھی سکھایا ہے
عشق نے روٹھنے کا یہ انداز
میرے پیارے تجھی سے پایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
10

لاکھ روکا مگر ان آنکھوں نے
میرے پیارے تجھی سے پیار کیا
اپنے راز و نیاز کی خاطر
ہائے بے موت مجھ کو مار دیا

[اصل بیت پڑھیں]
11

یہ جھگڑنے کو ہیں سدا تیار
ان کے لڑنے کے ہیں عجب اطوار
ان پہ ساون کو رشک آتا ہے
جب لرزتے ہیں آنسوئوں کے تار
نت نئی آن بان سے دیکھا
میں نے آنکھوں کو برسرِ پیکار

[اصل بیت پڑھیں]
12

بے ادب ہوگئی ہیں کیا آنکھیں
منتہاے نظر سے پیار نہیں
غیر سے جن کی آشنائی ہو
ایسی آنکھوں کا اعتبار نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
13

عید کیسی بغیر آنکھوں کے
عید آنکھوں سے ہی عبارت ہے
یہ نہ ہوتیں تو کون کہہ سکتا
زندگی کتنی پرمسرت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
14

جس میں رہتا ہے جان کا خطرہ
وہی انداز اختیار کیا
مجھ سے پوچھے بغیر آنکھوں نے
جانے کس کس کا اعتبار کیا
جہاں چلتی نہیں کسی کی بات
پھر اسی رہ گذر سے پیار کیا
ہائے کس راہ گیر کی خاطر
روح کو وقف انتظار کیا

[اصل بیت پڑھیں]
15

وہ بلا نوش حسنِ ہستی ہیں
رات دن غرقِ کیف و مستی ہیں
کوئی دیکھے تو میری آنکھوں کو
جو گھٹا کی طرح برستی ہیں
جو کئی بار سیر ہو کر بھی
جلوۂ یار کو ترستی ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
16

تو ہی مجھ پر اگر ترس کھائے
آرزو میرے دل کی بر آئے
گوہرِ دل کی قدر جانے کون
کاش تیری نگاہ پڑ جائے
جس کے پرتو سے زندگی میری
تیری احسان مند کہلائے
ہائے کس منہ سے روبرو تیرے
مدعا اپنا کوئی دہرائے
عقل گم ہے کہ تیری رحمت کو
دلِ وارفتہ کیسے اپنائے
یہ بھی کیا کم ہے گر تصور میں
تجھ کو محو خرام سا پائے

[اصل بیت پڑھیں]
17

تو نے چھوڑا انہیں جہاں پیارے
محوِ حیرت رہیں وہی آنکھیں
تجھے دیکھا تھا پہلی بار جہاں
ڈھونڈھتی ہیں تجھے وہیں آنکھیں
نذر زاغ و زغن انہیں کرتی
اور پڑتیں اگر کہیں آنکھیں

[اصل بیت پڑھیں]
18

جس طرف دیکھتی ہے یہ دینا
تو ادھر چشم شوق وا نہ کرے
تیرے راز و نیاز ہیں کچھ اور
کیوں کرے تو بھی جو زمانہ کرے

[اصل بیت پڑھیں]
19

میری آنکھوں میں تازگی آئے
ان کا دیدار ہی غنیمت ہے
اور اگر وہ ہوں مجھ سے رو گرداں
پھر بھی ان سے بڑی محبت ہے
دل کی آنکھوں سے کوئی دیکھے تو
ہر ادا ان کی خوبصورت ہے
کوئی ان کے سوا کسے دیکھے
کب کسی غیر میں وہ غیرت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
20

عشق کے مشورے سے آنکھوں نے
میرے دل کو وہاں پھنسایا ہے
جس جگہ عارفوں نے حیرت سے
نطق کو سربمہر پایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کہاں رہیں گے تجھ بن ساجن یہ دکھیارے نین
تو ہی پالن ہار ہے، ان کا تجھ سے ہے سکھ چین
پائوں بنا کر ان کو پریتم ڈھونڈوں گی دن رین

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

پیا ملن کو چلی ہوں سکھیو رکھیو میرا دھیان
کیسے ہانکوں اونٹ کو اپنے باگ ہے ان کے ہاتھ
مڑ جاتے ہیں پائوں ادھر کو چاہیں جدھر کو ناتھ
بھاگ میں ہے سو بھوگ رہی ہوںمیں برھن انجان
رکھیو میرا دھیان
ان کے دوار کی داسی ہوںمیں، ٹوٹ نہ جائے آس
کہے ’لطیف‘ وہ آجائیں گے، کبھی تو میرے پاس
ان پہ بھروسہ ان کا سہارا جب تک جان میں جان
رکھیو میرا دھیان

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

بند کرلے یہ ظاہری آنکھیں
سر خوشِ بادۂ مجاز نہ ہو
جس حقیقت کا نام ہے عرفاں
اس حقیقت سے بے نیاز نہ ہو
چشم و دل معتبر نہیں جب تک
ان کے پردے میں کوئی راز نہ ہو

[اصل بیت پڑھیں]
2

اشکِ گلگوںسے پہلے دھو آنکھیں
اے طلبگار حسنِ جلوۂ یار
سدِ راہِ طلب ہے گرد مجاز
سیر حاصل ہو کس طرح دیدار

[اصل بیت پڑھیں]
3

اپنی سانسوں کو مشکبار کروں
اپنے سینے کو جلوہ زار کروں
انتظار وصال یار کیا
اہتمام وصال یار کروں

[اصل بیت پڑھیں]
4

وہ سپیدی ہو یا سیاہی ہو
مجھے دونوں ہی سے محبت ہے
میرے پیارے تیری حضوری میں
نہ کوئی رنگ ہے نہ صورت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

عشق آنکھوں میں جب ہوا پیدا
خواہشِ وصل ہوگئی مقبول
عاشقوں کے لئے نہیں ہوتے
اہتماماتِ علت و معلول

[اصل بیت پڑھیں]
6

بھول کر شاہد حقیقی کو
آرزوئے مجاز کرتی ہے
آہ نیرنگیٔ مجاز تجھے
عشق سے بے نیاز کرتی ہے
دیکھ تو ان کی بے ثباتی کو
جن حسینوں پہ ناز کرتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

کتنا بے حس بنا کے چھوڑ گیا
حسنِ عشوہ طراز تو دیکھو
روئی کی طرح دھن رہی ہے تجھے
آرزوے مجاز تو دیکھو

[اصل بیت پڑھیں]
8

ایک ہی ضربِ لاالہ میں بس
جسم سے جان کو جدا پایا
میرے پیارے ترے بغیر یہاں
اور کوئی نہ آسرا پایا
جھانک کر جس نے روح میں دیکھا
صرف تجھ کو ہی اے خدا پایا

[اصل بیت پڑھیں]
9

محوِ حیرت ہوں بام و در سارے
حشر برپا ہو مرغزاروں میں
اس حقیقت کا ہو اگر اظہار
آگ لگ جائے کوہساروں میں

[اصل بیت پڑھیں]
10

دل وہیں ہے جہاں ہے وہ پیارا
اب نفی ہے، نہ ہے کوئی اثبات
چشم حیراں اسے کہاں پائے
دیدنی کب ہے اس خدا کی ذات
اس کے راز و نیاز کا عالم
سربسر ماورائے امکانات
میری سعی و طلب سے بالاتر
اس عدیم المثال کی ہر بات
بے خودی آرزو کا شیرازہ
اور خودی انتشارِ احساسات

[اصل بیت پڑھیں]
11

دیکھئے اس کے حسن کا فیضان
جس نے آنکھوں کو کردیا حیران
ایسی حیرت یہاں نصیب کسے
جان و دل اس کی دین پر قربان

[اصل بیت پڑھیں]
12

ہر تگ و دو ہے جن کی ناہموار
ایسے قلب و نظر سے کس کو پیار
وہ نہ سمجھے کسی اشارے کو
پھر رہے ہیں ادھر ادھر بیکار
خس و خاشاک سے جنہیں نسبت
کیا وہ دیکھیں گے حسن جلوۂ یار

[اصل بیت پڑھیں]
13

بس اسی جان نثار عاشق کو
اپنی آنکھوں سے وہ لگائے گا
غم جاناں سے مضمحل ہو کر
جو سلائی سا تن بنائے گا

[اصل بیت پڑھیں]
14

آکے آنکھوں میں بیٹھ جا پیارے
بس مجھے تو ہی تو نظر آئے
بند کر لوں میں اس طرح آنکھیں
اور کوئی نہ پھر تجھے پائے

[اصل بیت پڑھیں]
15

اے مرے آشنائے راز وفا
مفسدوں کو بتا نہ کوئی بات
عین ممکن ہے بات بڑھ جائے
بیت جائے یہ مختصر سی رات

[اصل بیت پڑھیں]
16

تیری باتوںکا اے دلِ مشتاق
مفسدوں کو کوئی پتا نہ لگے
تو ہو خود اپنے راز کا محرم
اس دبی آگ کو ہوا نہ لگے

[اصل بیت پڑھیں]
17

آج پھر روبرو ہے جلوۂ یار
ہمنشیں جرم تو نہیں دیدار
مفسدوں کو پتا بھی چل جائے
فکر پھر بھی نہیں مجھے زنہار
سر بسر زخم خوردہ قلبِ حزیں
سخت بے تاب دیدۂ خونبار

[اصل بیت پڑھیں]
18

شر پسندوں کو ایسی عبرت ہو
پھر کبھی سر نہ وہ اٹھا پائیں
دوسرے کے لئے جو کھودا ہے
آپ ہی اس گڑھے میں گرجائیں
دیکھ کر تجھ کو اے مرے پیارے
اپنی کوتاہیوں پہ شرمائیں
اور پھر گھٹ کے اس ندامت میں
آپ ہی اپنی موت مرجائیں

[اصل بیت پڑھیں]
19

شرپسندوں سے ان کو خطرہ ہے
عشق جن کا بجھا بجھا سا ہے
جس کے دل میں لگی رہے یہ آگ
وہ تو خود ان کو مار دیتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
20

اسے ڈس لے نکل کے کالا ناگ
ایسے مفسد پہ ہو خدا کی مار
سن رہا ہے ہماری باتوں کو
چپ کھڑا ہو کے جو پسِ دیوار

[اصل بیت پڑھیں]
21

اے جفا پیشہ مفسدِ بدکار
تو ہمیشہ رہے ذلیل و خوار
ہو کے حائل مری محبت میں
تو نہ پھولے پھلے کبھی زنہار
تو نے رسوا کیا مجھے ناحق
روسیہ! تجھ پہ ہو خدا کی مار

[اصل بیت پڑھیں]
22

میرے پیارے ترے قرینے کو
کب وہ خانہ خراب سمجھے ہیں
اپنی کوتاہی۔ٔ نگاہ سے جو
رحمتوں کو عتاب سمجھے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
23

عقل و فہم و خرد سے بالاتر
یوں تو کتنے ہی حادثات ہوئے
جو کبھی سننے میں نہ آتے تھے
چند ایسے بھی واقعات ہوئے

[اصل بیت پڑھیں]
24

برتر از طول و عرج و صورت ہے
اس کی قدرت عجیب قدرت ہے
ہر اشارے میں کیا محبت ہے
وہی سمجھے جو محوِ حیرت ہے
ہر فسانے میں اک حقیقت ہے
کون جانے جو اس کی ندرت ہے
جلوۂ حسنِ یار دیکھ سکیں
اہلِ ظاہر میں کب یہ ہمت ہے
وہی دیکھے گا اس کے جلوے کو
جو ذرا صاحبِ بصیرت ہے۔

[اصل بیت پڑھیں]
25

اس کی پہچان ہے بڑی مشکل
دیدۂ دل کو کھول کر دیکھیں
کوئی ہاتھی نہیں جسے اندھے
ہر طرف سے ٹٹول کر دیکھیں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

چہرہ تو خلیل سا ہے لیکن حالت ترے دل کی ابتر ہے
اصنام خیالی ہیں دل میں تو آزر ہے تو آزر ہے
کہتا ہے ’لطیف‘ کہ دنیا میں ہر سو وہی حسنِ وحدت ہے
مائل بہ دوئی ہے کیوں ناداں، کیا اس کو دوئی سے نسبت ہے
ہر جلوہ اسی کا جلوہ ہے ہر صورت اسی کی صورت ہے
شاید تجھے یہ معلوم نہیں، رب تیرا سب سے بڑھ کر ہے
تو آزر ہے۔ تو آزر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

خدایا جدا ہو نہ مجھ سے وہ پیارا
اسی سے امیدیں اسی سے سہارا
بہت دور ہیں اس کی وہ شاہراہیں
جنہیں دیکھ آئی ہیں میری نگاہیں
اگر مائلِ لطف اس کا قلم ہو
تو لوحِ دل و جاں پہ کیا کچھ رقم ہو
نہ ہو میری قسمت میں کوئی خسارا
اسی سے امیدیں اسی سے سہارا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

موت کھڑی ہے تاک میں یارو
آئو کئے پر پچھتائو
ایک ہی لاٹھی سے یہ بیرن
ہانکے گی سب کے جگ جیون
زیادہ پائوں نہ پھیلائو
آئو کئے پر پچھتائو
سن لو غفلت کے متوالو
شیش محل میں رہنے والو
اتنا بھی مت اترائو
آئو کئے پر پچھتائو
جائے گا جب پیا ملن کو
پہنے گا ہر ایک کفن کو
کہے ’لطیف‘ کوی آئو
آئو کئے پر پچھتائو

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

وہ فوق البشر رہنما مل گیا ہے
وسیلے سے جس کے خدا مل گیا ہے
مسیحائے ہر دوسرا مل گیا ہے
مجھے اپنا درد آشنا مل گیا ہے
ہوا اس کا دیدار آنکھوں کو جب سے
سمجھتا ہوں ہر مدعا مل گیا ہے
مرا مقصدِ زیست جس کی طلب تھی
وہ سرتاجِ مہر و وفا مل گیا ہے
مرے دیدہ و دل میں ہے جس کا پرتو
وہ خورشید صدق و صفا مل گیا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
چوتھی داستان
1

دیکھ کر بھی اسے نہ پہچانے
ہائے یہ ناشناس فرزانے
فکر یوم الحساب کیا کہیے
سن رہا ہوں ہزار افسانے
محرمِ راز بھی ہیں سکتے میں
مصلحت کیا ہے کوئی کیا جانے
درسِ عبرت ہے ان کی محرومی
حکمِ رب سے رہے جو بیگانے
آدمی زادہ ہو کہ ہو حیواں
سب اسی کے ہیں تابع فرماں

[اصل بیت پڑھیں]
2

آدمی کی بساط ہی کیا ہے
جیسے کوئی حباب پھوٹ گیا
یا کسی طائرِ پر افشاں سے
دفعتاً آشیانہ چھوٹ گیا
وائے محرومیِ۔ٔ دلِ ناکام
سانس کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا

[اصل بیت پڑھیں]
3

بے نیازِ حیات ہو جانا
اک ثبوت ثبات ہو جانا
جس کو سن کر ہو بیخودی طاری
وہ انوکھی سی بات ہو جانا
دل کی گہرائیوں میں گم ہو کر
آپ اک کائنات ہو جانا
مدعائے طلب ہے دل سے محو
فرقِ ذات و صفات ہو جانا

[اصل بیت پڑھیں]
4

گر ہے تحقیقِ حسن کا ارمان
دست و پا کا نہ سر پہ لے احسان
یہ ہے اک رہ گزارِ پرُاسرار
کام آتے نہیں یہاں اوسان
یہ ترے چشم و گوش کیا جانے
اس سراپا جمال کی پہچان

[اصل بیت پڑھیں]
5

حسبِ معمول دن گزارے جا
ہو ہی جائے گا اس کا نظارا
غور سے دیکھ سامنے تیرے
ہو نہ ہو آگیا وہی پیارا

[اصل بیت پڑھیں]
6

جس کے جلوئوں کے ہم ہیں شیدائی
خود ہمیں میں وہ جلوہ آرا ہے
کہہ دو وہم و گماں سے اب جائیں
میرے دل میں مکیں وہ پیارا ہے
جس نے اک حسن بے نیازی سے
اپنے شہکار کو سنوارا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

دیکھنا ہے جو حسن جلوۂ یار
اپنے ہی دل میں بے حجابانہ
پہلے جمعیتِ حواس ہو پھر
ترک ہو جائے اب اور دانہ

[اصل بیت پڑھیں]
8

ان کے ہی حق میں امن و راحت ہے
جن میں کچھ باطنی بصیرت ہے
اک مجسم مشاہدہ ہیں وہ
دور رس جن کی محرمیت ہے
سرِ افعی بھی ان کے آگے خم
سہمی سہمی سی جن کی فطرت ہے
حق نگر ہیں سب اولیائے کرام
ان پہ بے شک خدا کی رحمت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
9

دل کی آنکھیں جو کھول کر دیکھے
روبرو اس کو جلوہ گر دیکھے
پھر نہ کہلائے تو کبھی مشرک
ہر طرف حسنِ معتبر دیکھے

[اصل بیت پڑھیں]
10

جس کو گرداب راس آجائے
ہر کنارہ اسے کھٹکتا ہے
اپنے ہی دل میں دیکھ لے اس کو
کس لئے جا بجا بھٹکتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
11

اس طرح تو نفی کو اپنائے
شرکِ اثبات دل سے مٹ جائے
اس کے نزدیک کچھ نہیں من و تو
راس جس کو یہ بیخودی آئے
خود پرستی کا عارضی پندار
آپ ہی آپ دور ہو جائے

[اصل بیت پڑھیں]
12

سفر زیست میں بسا اوقات
پیش آتے ہیں نت نئے حالات
نور و ظلمت میں دائم آویزش
کفر و ایماں میں کشمکش دن رات
لیکن اک حق نگر موحد کو
درحقیقت ہے ایک ہی سی بات
شرک پروردہ قلب آزر میں
پائے جاتے ہیں ایسے احساسات
جن کی تہ میں دوئی نے رکھے ہیں
وصل جاناں کے چند امکانات

[اصل بیت پڑھیں]
13

کلمہ پڑھنے ہی سے ارے نادان
پختہ ہوتا نہیں کبھی ایمان
تو ہے مانندِ آزرِ مشرک
حق پرستی کی تجھ کو کیا پہچان
پیشِ حق خم سر نیاز ترا
دل میں موجود ہے مگر شیطان

[اصل بیت پڑھیں]
14

صرف ظاہر پرستیاں کب تک
اے منافق رضائے دل پہچان
تو کسی بات پر نہیں قائم
کفر تجھ میں نہ تجھ میں ہے ایمان

[اصل بیت پڑھیں]
15

تیری صورت کلیم جیسی ہے
اور سیرت میں سربسر شیطان
ایک ہو جائیں صورت و سیرت
تابکے یہ حماقت اے ناداں

[اصل بیت پڑھیں]
16

چہرہ آئینہ سے بھی روشن تر
اور دل میں بھری کدورت ہو
ایسے ظالم کے دل میں ناممکن
پرتو راز محرمیت ہو

[اصل بیت پڑھیں]
17

جن کے دل آشنائے وحدت ہیں
وہ سمجھتے ہیں اس کا ہر انداز
ہر طرف وادیٔ محبت میں
سن رہے ہیں اسی کی وہ آواز

[اصل بیت پڑھیں]
18

نت نیا حسن تیری قدرت کا
کس کو دعویٰ ہو محرمیّت کا
وہ بھی سمجھے نہ اس تغیر کو
فخر ہے جن کو تیری قربت کا

[اصل بیت پڑھیں]
19

جو عزازیل کی طرح ’سید‘
خود پسندی ہی میں نہ کھو جائے
اس خوش اعمال کو نہیں کچھ فکر
اس پہ دوزخ حرام ہو جائے

[اصل بیت پڑھیں]
20

دیدہ و دل سے تو گواہی دے
یہ مسلمان کی عبادت ہے
رخنہ اندازیٔ دوئی کب تک
تو پرستار حسنِ وحدت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
21

سرمہ ہوتا ہے عورتوں کے لئے
مرد ہو کر تو کیوں لگاتا ہے
اس کی آنکھوں میں ڈال دے آنکھیں
جو انہیں ارغواں بناتا ہے
ہر سپیدی میں ہے اسی کا نور
جو نظر میں تری سماتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
22

پیٹ کی فکر جن کو لاحق ہے
کیسے ان کا خواص میں ہو شمار
فارسی سیکھ لی غلاموں سے
ہائے پھر بھی نہ بن سکے سردار

[اصل بیت پڑھیں]
23

جانِ جاں کے قریب تر جانا
درد کی راہ سے گذر جانا
کیسا امروز اور کیا فردا
نام روشن جہاں میں کر جانا

[اصل بیت پڑھیں]
24

جس نے لاکھوں کو کردیا اندھا
اس اندھیرے سے کچھ فراغ نہیں
جستجو کس طرح کرے گا تو
پاس جب تک کوئی چراغ نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
25

تو نے جس کو چراغ سمجھا ہے
وہ تو ہے صف جلوۂ خورشید
کیسے اندھوں کو اس اندھیرے میں
اس سراپائے راز کی ہو دید

[اصل بیت پڑھیں]
26

کیوں لئے پھر رہا ہے تو اس کو
تیرے حق میں چراغ ہے بیکار
ڈھونڈہ اس کو نہ جا کے اور کہیں
خود ترے دل میں ہے جمال یار

[اصل بیت پڑھیں]
27

روبرو ان کے روے جاناں ہے
کون جانے جو عہد و پیماں ہے
تک رہی ہیں اسی طرف آنکھیں
جس طرف وہ بہار ساماں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
28

یوں تو بھیگی ہوئی سی ہے ہر آنکھ
غور کیجئے تو شعلہ افشاں ہے
بیر آپس میں ہے پسِ پردہ
پھر بھی آنکھوں کا ایک ارماں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
29

شرم رکھ لی مری ندامت نے
ورنہ بے فیض تھے مرے اعمال
جن کو میں نے ثواب سمجھا تھا
بن گئے ہیں گناہ وہ افعال
مجھ سے روٹھا ہوا تھا وہ پیارا
زندگی بن گئی تھی اک جنجال
آگئی کام خود فراموشی
اس کا لطف و کرم ہے شاملِ حال

[اصل بیت پڑھیں]
30

اپنے دل سے جسے چھپایا تھا
تو نے وہ راز آشکار کیا
میرے بس میں نہیں دلِ بیتاب
کیا ستم اے فراقِ یار کیا

[اصل بیت پڑھیں]
31

دشمنِ جاں یہ زرد چہرہ تھا
اب تو آنکھیں بھی بن گئیں غماز
مفسدوں کو کہاں خبر ہوتی
گر ترے غم کا راز رہتا راز

[اصل بیت پڑھیں]
32

وہم کثرت کو غرقِ وحدت کر
مان لے خود پرستیوں کی ہار
راز ہے تیری کامیابی کا
بیخودی ہی میں اے تلاشِ یار

[اصل بیت پڑھیں]
33

جستجو وہ کریں گی اس کی خاک
کرسکے جو نہ اس کا نظارا
ڈھونڈھنا کیا ادھر ادھر اس کو
خود مرے دل ہی میں ہے وہ پیارا
جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے
مسکراتا ہے وہ جہاں آرا

[اصل بیت پڑھیں]
34

ساری دنیا پہ ’میں‘ کا جادو ہے
’میں‘ کے عرفان سے مگر محروم
یہ خداناشناس کیا جانے
جو قضا و قدر کا ہے مفہوم
لا و ا۔لاّ کے درمیان کیا ہے
اس کو یہ راز ہی نہیں معلوم
حق ہے الحق ہمہ صفت موصوف
چند روزہ ہے یہ دوئی کی دھوم

[اصل بیت پڑھیں]
35

جاننا ان کا سخت مشکل ہے
جز غمِ عشق کوئی کیا جانے
ماورائے عدم ہیں کیا کیا راز
ان کو جانے تو بس خدا جانے

[اصل بیت پڑھیں]
36

جو بھی اپنی خودی مٹائے گا
دوست اس کے قریب آئے گا
تجھ سے وہ جان جاں جدا تو نہیں
اپنے ہی دل میں اس کو پائے گا

[اصل بیت پڑھیں]
37

میری قسمت کہ اس کو کھو بیٹھی
میری ہر سانس میں تھا جو موجود
میں ناحق اِدھر اُدھر دیکھا
خود مرے دل میں ہے مرا مشہود

[اصل بیت پڑھیں]
38

دل نہ پرسوز ہو تو کیسا عشق
دور کی بات ہے وصالِ یار
جیسے ہوتا ہے گوشت کا پکنا
صرف بھوسے کی آگ پر دشوار

[اصل بیت پڑھیں]
39

سوچتا ہی رہے گا ہر عاشق
راز اپنا نہیں بتائے گا
کب تک اشکوں کو اور آہوں کو
اہل دنیا سے وہ چھپائے گا

[اصل بیت پڑھیں]
40

دل میں رکتی نہیں سجن کی بات
خود بہ خود یہ زباں پہ آتی ہے
کچھ سہارا نہیں ہے یہ مشکیزہ
موج طغیانیوں کو لاتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
41

رگ و پے میں ہیں موجزن یا رب
جانے کتنے ہی بحرِ تند و تیز
کاش ہو جائے نذر سوزِ دروں
اُن کی طغیانیوں کی جست و خیز

[اصل بیت پڑھیں]
42

وصلِ جاناں کی راہ میں حائل
دیدہ و دل کی خود پرستی ہے
تجھ پہ طاری ہے نشۂ اثبات
تیری ہستی بھی کوئی ہستی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
43

مجھ میں جب تک شعور ہستی ہے
شاملِ حال خود پرستی ہے
سوچتا ہوں کہ پھر کہاں جائوں
جب بلندی کا نام پستی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
44

اس کی ہستی ہے سر خوشِ وحدت
ذاتِ حق کا جسے ہوا ادراک
شرط یہ ہے سرور جاں کے لئے
دل ہو آلائش خودی سے پاک

[اصل بیت پڑھیں]
45

اپنی ہستی سے ہوگئے بیزار
آپ ہی بن گئے جمالِ یار
اے غم عشق یہ کرم ہے ترا
مٹ گئے ہیں خودی کے سب آثار

[اصل بیت پڑھیں]
46

آئینہ ہے اسی کا ہر انسان
لیکن اس کو عوام کیا جانیں
جو ہیں خاصانِ حق فنا فی اللہ
وہ انا الحق کا مدعا جانیں

[اصل بیت پڑھیں]
47

سر بسر ناقبول ہیں اعمال
گر نہ اس کی رضا ہو شاملِ حال

[اصل بیت پڑھیں]
48

جو چراتا ہے کب بتاتا ہے
کس کو معلوم کیا چراتا ہے
راز ہے اس کی زندگی کا یہی
چور خود کو سدا چھپاتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
49

کیا کرے کوئی ڈھونڈھنے والا
لاکھ ڈھونڈھے مگر نہ پائے گا
کہہ رہا ہے کھڑا ہوا اک چور
کون میرا پتا لگائے گا

[اصل بیت پڑھیں]
50

خود پرستوں کا کفر یا اسلام
کچھ نہیں ہے بجز خیال خام
اس دل درد مند کے قرباں
جس نے سمجھا ہو درد کو آرام

[اصل بیت پڑھیں]
51

قعرِ دریا میں چھوڑ کر مجھ کو
یہ کہے جا رہا ہے وہ پُر فن
کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت میں
بھیگ جائے تیرا سر دامن

[اصل بیت پڑھیں]
52

قعر دریا میں پھنس گئی ہوں میں
میرے دامن کی لاج رکھ لینا
کوئی تیرے سوا نہیں جس کا
اس ابھاگن کی لاج رکھ لینا

[اصل بیت پڑھیں]
53

جو شریعت کا راہبر بن جائے
اس طریقت کی شرط لازم ہے
جلوۂ شیخِ معرفت درکار
نورِ وحدت کی شرط لازم ہے
تو جو چاہے کہ تر نہ ہو دامن
استقامت کی شرط لازم ہے

[اصل بیت پڑھیں]
54

جھوٹ کا پھل کسے ملا اب تک؟
کہ یہ سوکھی ہوئی سی ڈالی ہے
دیکھ سنیاسیوں نے اے غافل
غیرتِ آرزو بچالی ہے
جس سے گذرے ہیں بے نیازانہ
راہ ایسی بھی اک نکالی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
55

اہلِ دل کی جہاں رسائی ہے
اس جگہ عشق کی خدائی ہے
جانے کتنا عمیق ہے گرداب
جس کی تہ عرش کبریائی ہے
اب نہ حمد و ثنا نہ وہ تعظیم
ہر طرف بے خودی سی چھائی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
56

تو ہے محروم لذت آزار
تجھ کو حاصل ہو کیا وصال یار
جس میں اس کی رضا نہ ہو شامل
وہ تمنّا وہ آرزو بے کار

[اصل بیت پڑھیں]
57

وصل کی آرزو نہیں زیبا
جن کا مسلک ہے طاعتِ رحماں
زیب و زینت انہیں مبارک ہو
جن کا اس کی رضا پہ ہے ایماں

[اصل بیت پڑھیں]
58

زحمت انتظار سے چھوٹے
دور ہر ایک اضطراب ہوا
جن کی آنکھوں میں بس گیا پیارا
خواب ان کے لئے ثواب ہو

[اصل بیت پڑھیں]
59

جسم تسبیح اور دل موتی
نیند ان کے لئے عبادت ہے
وحدہٗ لا شریک کی خاطر
جن کی رگ رگ میں سازِ وحدت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
60

وہ کہاں ہے رضا و رغبت میں
بدگمانی میں جو لطافت ہے
عشق کا بھید کھل نہ سکتا تھا
یہ کسی غیر کی شرارت ہے
اس پہ بھی مطمئن ہے دل میرا
روح پرور غمِ محبت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

وہ مقبول ہیں اس کے در پر، ہیچ ہیں جو انسانوں میں
کوئی تو ہوگی بات انوکھی، فرسودہ خس خانوں میں
وہ اس کے نزدیک ہیں، ان سے راضی انکا پیارا ہے
جن لوگوں کو دنیا والے، گنتے ہیں بے گانوں میں
فرسودہ خس خانوں میں
چھوڑ دے اے غافل من مانی خلقِ خدا کی خدمت کر
تو بھی ہو جائے گا شامل پھر اس کے پروانوںمیں
فرسودہ خس خانوں میں
اس کا راج ’لطیف‘ جہاں میں،جو کچھ ہے سو اس کا ہے
محلوں میں ایوانوں میں، صحرائوں میں ویرانوں میں
فرسودہ خس خانوں میں

[اصل بیت پڑھیں]

سر پربھاتی

پہلی داستان
1

کہے گا کون پھر تجھ کو مغنی
نہ رکھے ساتھ گر تو ساز اپنے
نہیں ’بھانو‘ کا یہ طور و طریقہ
کہ ٹانگے کیل پر تو ساز اپنے
نہ جانے آج تجھ کو کیا ہوا ہے
سحر کے وقت چپ بیٹھا ہوا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

تجھے او نیند کے مارے ہوا کیا؟
نہ تو ہوگا نہ یہ اعجاز ہوگا
جو گانا ہو تو گالے آج کی رات
کہ کل ٹوٹا ہوا یہ ساز ہوگا

[اصل بیت پڑھیں]
3

نہیں ہے ’جاجکوں‘ کا یہ طریقہ
ارے غافل یہ تجھ کو کیا ہوا ہے
سرہا نے رکھ کے اپنا ساز ناداں
سحر کے وقت بھی سویا ہوا ہے
تجھے بھی خوں رلائے گی یہ غفلت
کہ غفلت سے بھلا کس کا ہوا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

سکھاتے ’جاجکوں‘ کا جو سلیقہ
گئے منہ موڑ کر وہ یار سارے
خطا سے در گذر کر میرے راجہ
میں بھولوں گا نہ تیرا نام پیارے

[اصل بیت پڑھیں]
5

اٹھا کر دوش پر بربط چلا ہے
سرابوں میں بھٹکتا پھر رہا ہے
ہمیشہ سے یہی ہے اس کا عالم
کبھی آرام ’چارن‘ کو ملا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
6

اٹھا کر ساز سورج ڈوبتے ہی
ہوئے جانے کدھر ’جاجک‘ روانہ
ترے سازوں کے زنگ آلودہ ہیں تار
لٹکتے رہ گئے چنگ و چغانہ
ترے ہم قوم شرماتے ہیں تجھ سے
کہ تیری زندگی ہے سائلانہ

[اصل بیت پڑھیں]
7

کہیں گے کیا ترے ہم قوم تجھ کو
مغنی ہے مگر تو بے ہنر ہے
ندامت سے مری جاتی ہے ’لنگھی‘
جو دکھیا تیری منظور نظر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

مسافت دور کی ہے کیسے آئوں
شکستہ پا مغنی ہوں تمہارا
یہیں تم بھیج دو، دینا ہے جو کچھ
کہ تم ہو بے سہاروں کا سہارا

[اصل بیت پڑھیں]
9

چھپا کر سب سے مجھ سے بے ہنر کو
دیئے ہیں تو نے اکثر جو سہارے
اگر اہل ہنر وہ جان لیتے
تو فوراً توڑ دیتے ساز سارے

[اصل بیت پڑھیں]
10

جو ان کے در سے وابستہ رہے ہیں
نہیں ان سائلوں کی ایسی عادت
کہ راتیں پائوں پھیلا کر گزاریں
رہے ان پر مسلط خوابِ غفلت

[اصل بیت پڑھیں]
11

وہ تیرے کاتنے کے دن کہاں ہیں
گئی بیکار سب تیری جوانی
کہا تھا میں نے چرخے سے لگا دل
مگر تو نے نہ میری بات مانی

[اصل بیت پڑھیں]
12

نہ جانے کل تو اے سائل کہاں تھا
نظر آتا ہے آج اتنا پریشاں
یہاں اب گھومنے پھرنے سے حاصل
وہیں ہے تیرے دردِ دل کا درماں
سخی کی سامنے جا اے سوالی
اسی در سے ہے کچھ ملنے کا امکاں

[اصل بیت پڑھیں]
13

اسے معلوم ہے سب حال تیرا
وہ تیرے دل کی باتیں جانتا ہے
وہ بن مانگے عطا کرتا ہے سب کو
تو اپنے منہ سے کیوں کچھ مانگتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
14

بھریں دم بھر میں سارے خشک نالے
اگر اس کو کچھ ان کا دھیان آئے
سخی ہے وہ ’سپڑ‘ جنکی عطا سے
ہوئے ہیں شاد سب اپنے پرائے
’لطیف‘ اس کے خزانے میں کمی کیا
جو پانی کی طرح موتی لٹائے

[اصل بیت پڑھیں]
15

تو اپنے ساز کو تیار کرکے
اسی سردار سے کچھ مانگنے جا
سہارا عجز کا لیکر مغنّی
خلوصِ دل سے اس کے سامنے جا

[اصل بیت پڑھیں]
16

امیدیں بھی ہیں اس سے خوف بھی ہے
مغنّی کو مگر ہے یہ سہارا
میں کیسابھی ہوں لیکن اپنے در سے
نہ لوٹائیگا خالی ہاتھ پیارا

[اصل بیت پڑھیں]
17

تو سائل ہے بھروسا کر سخی پر
اٹھا سر کو نہ اس کے آستاں سے
لگالے سینہ سے چنگ و چغانہ
کہ یہ بہتر ہیں ہر اک ارمغاں سے

[اصل بیت پڑھیں]
18

جو دانستہ کہے انجان ہوں میں
در جاناں پہ ہے اس کی رسائی
وہی مقبول ہے اس کی نظر میں
جسے ہو اعترافِ بے نوائی

[اصل بیت پڑھیں]
19

اٹھو آگے بڑھو اے بے نوائو!
بلاتا ہے وہ انجانوں کو، جائو
نہیں ہیں تار ان کے زنگ آلود
بجائو بربط و دف کو بجائو
بجائو گائو تم سے خوش ہے راجہ
طریق اس کا ہے جو مانگو سو پائو

[اصل بیت پڑھیں]
20

اسے نام و نسب سے واسطہ کیا
کہ اس کی دین کا باعث ہنر ہے
سنا ہے میں نے انجانوں پہ اس کی
محبت ریز اور گہری نظر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
21

جو گہری نیند میں سوئے ہوئے تھے
انہیں اس پیارے مطرب نے جگایا
جو نغمہ حاصلِ مضرابِ جاں تھا
وہی نغمہ زمانے کو سنایا

[اصل بیت پڑھیں]
22

مغنّی نے کہیں نزدیک آکر
اچانک نغمۂ صحرا سنایا
ہوا محظوظ جب بیلے کا راجہ
اسے لینے کو ڈولی لے کے آیا
سخی نے اس کے دل کی بات سن کر
کرشمہ جوشِ رحمت کا دکھایا
گذشتہ رات اس مطرب نے ’سید‘
خدا جانے وہاں کیا کیا نہ پایا

[اصل بیت پڑھیں]
23

’سپڑ‘ سائل سے کتنا خوش ہوا ہے
سمجھ میں اس کی جب یہ بات آئی
کہ اس انجان کے قلب و نظر پر
مصیبت بن گئی ہے بے نوائی
’سپڑ‘ نے اس کی باتیں مان لیں سب
سحر آسودگی کا دور لائی

[اصل بیت پڑھیں]
24

کمی کیا ہے اسے نغموں کی مطرب
ترا نغمہ وہ کیا خاطر میں لائے
وہ پارس اور ہم سب جیسے لوہا
جسے چاہے اسے سونا بنائے

[اصل بیت پڑھیں]
25

صدا ایسی ہی نہ اے سائل لگانا
عیاں جس سے تری حرص و ہوا ہو
سخی بھر دے ترے دامن کو، لیکن
ہمیشہ کے لئے تجھ سے خفا ہو

[اصل بیت پڑھیں]
26

اسے محبوب ہیں انجان سائل
کہ اپنے آپ کو پہچانتے ہیں
بہت خوش ان سے ہے بیلے کا مالک
نہ وہ کہتے نہ وہ کچھ جانتے ہیں
عطا اس نے کئے رہوار ان کو
تہِ دل سے جو اس کو مانتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
27

صبحدم آکے نے نوازوں نے
اس کے در پر وہاگ گایا ہے
اور پھر اس سخی کے ہاتھوں سے
زندگی کا سہاگ پایا ہے
کون ہم بے کسوں کا داتا ہے
تیرے پیاروں سے دل لگایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
28

ہاتھ میں جن کے اس کی قسمت ہے
اس گدا کو انہیں سے ہے سروکار
کس قدر خوش نصیب ہے چارن
کہ وہ کہلا رہا ہے موسیقار

[اصل بیت پڑھیں]
29

بے غم یار، بے نوا، بے کار
اور کہلا رہا ہے موسیقار
کس توقع پہ ساتھ دے تیرا
وہ وفا آشنا سخی سردار
ان کی قسمت میں اس کی ڈولی ہے
جن کو محبوب لذت آزار

[اصل بیت پڑھیں]
30

میں فرومایہ اور تو پارس
میں گدا پیشہ تو سخی سردار
تیری خاطر یہ ساز اٹھا یا ہے
یہ سمجھ کر کہ تو ہے پالنہار
مجھ سے انجان کے لئے پیارے
اشتیاق آفریں ہے تیرا پیار

[اصل بیت پڑھیں]
31

نیند میں بیتی جارہی ہے رات
اے مغنّی کھلی ہے راہِ نجات
ماہ و انجم لٹا رہا ہے کوئی
نہ رہا کوئی صاحبِ حاجات
وہ کھلا ہے خزینۂ فطرت
موتیوں سے بھرے ہیں سب کے حات
ساز اٹھا، ساز اٹھا، مغنّی! ساز
دے ہی دیگا سخی تجھے سوغات

[اصل بیت پڑھیں]
32

ٹھیس کھا کر بذاتِ خود اس نے
سائلوں کو دیا ہے یہ پیغام
جب سبھی کچھ ہے میری قدرت میں
غیر کے در سے پھر تمہیں کیا کام
بے سلیقہ تری گدائی ہے
میرے جود و سخا پہ کیا الزام

[اصل بیت پڑھیں]
33

کل اسے کیسے منہ دکھائیگا
آج اگر اس کے در سے پیار نہیں
مانگ اسی سے جو روز دیتا ہے
غیر کے در کا اعتبار نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
34

بھول جانا نہ اس کو اے مطرب
جانِ جاناں ہے وہ سخی سردار
عجز سے کورنش بجا لانا
اپنے بربط پہ کس کے سیمیں تار

[اصل بیت پڑھیں]
35

نہ کسی نے یہ ان کو سمجھایا
نہ یہ ان کی سمجھ میں آیا ہے
گرد آلودہ سائلوں کو بھی
اس نے کس پیار سے بلایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
36

تجھ سے بیچاری کو گلا کیا ہے!
اے مغنّی، تری خطا کیا ہے!
تیری ہر لے فریب سے معمور
تیرا ہر ساز روح فرسا ہے
کیا ہوئی تیری شانِ استغنا
اے مغنّی تجھے ہوا کیا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
37

جن سے راضی ہوا سخی سردار
وہ ہوئے راگ رنگ سے بیزار
کوئی آواز ہی نہیں آتی
زمزمے ہیں نہ اب وہ موسیقار
چل دیئے لے کے اپنے اپنے ساز
کون جانے کہاں ہیں منگنہار

[اصل بیت پڑھیں]
38

پیٹ بھرنا بھی اس کو دوبھر تھا
وقت ایسا بھی اس پہ آیا ہے
جس کو معتوب جانتے تھے سب
آج اعزاز اس نے پایا ہے
کہ سخی نے اسے بہ لطف و کرم
اپنی ڈولی میں خود بلایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
39

میں ہوں لوہا تری نظر پارس
تو غنی میں ہوں سائلِ نادار
سونا بن جائے پل میں لوہا بھی
تو اگر چاہے اے سخی سردار

[اصل بیت پڑھیں]
40

میں فرومایہ ہی سہی لیکن
تیرے ہی ہاتھ میں ہے میری لاج
لطف تیرا شریکِ حال رہے
تو سخی اور ہم سبھی محتاج

[اصل بیت پڑھیں]
41

اٹھ کے محبوب کو وھاگ سنا
ڈوب جائے نہ صبح کا تارا
ہر طرح سے پرکھتا رہتا ہے
مطربوں کے دلوں کو وہ پیارا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

اگر آسرے پہ ہے جام کے، کسی اور در پہ نہ جا کبھی
تجھے مانگنا ہے جو مانگ لے،کہ گدا نواز ہے وہ سخی
یہی چارنوں کا سہاگ ہے، کبھی اس کی لے کو نہ توڑنا
کہ سخی ’سپڑ‘ کی انیسِ جاں ہے یہی وھاگ کی راگنی
جسے چاہے جان سے مار دے، جسے چاہے پار اتار دے
نہ کسی سے اس کو ہے دشمنی، نہ کسی سے اس کی ہے دوستی
ترا راز داں ہے وہ حق نگر، تجھے اس کے راز کی کیا خبر
بجز ایک حسنِ صفات کے نہیں کوئی بات بھی راز کی
یہ سنو تو بات لطیف کی، کہ اسی کے لطف و کرم سے ہے
ترے حال پر یہ نگاہ بھی، ترے ساز دل میں یہ نغمہ بھی

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

وہی ایک شایانِ جود و سخا ہے
ہر اک آدمی اس کے در کا گدا ہے
کوئی بے ہنر یا اپاہج ہو کوئی
بہرحال بندوں پہ اس کی عطا ہے
وہ چاہے تو عزت، وہ چاہے تو ذلت
جسے جو ملا ہے اسی سے ملا ہے
عدم سے کیا اس نے تخلیق سب کچھ
وہی خالق بزمِ ہر دوسرا ہے
وہ قادر ہے، ہر شے پہ قدرت ہے اس کو
اسی کے لئے ساری حمد و ثنا ہے
انہیں پر ہوا ہے عتاب اس کا نازل
جنہیں حرصِ دولت نے بہکا دیا ہے
لطیف ایسے آقا کی تعریف کیا ہو
مقدم بہرطور اس کی رضا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

اسی گدا کی سخی سے ہوئی شناسائی
کہ جس کی نغمہ سرائی اسے پسند آئی
نہیں کسی کو بھی بے قدریٔ جہاں کا گلہ
دکھا رہا ہے وہ سردار شان یکتائی
نہ رہ سکے گا کوئی اس کے فیض سے محروم
کہ سب نے اسکے کرم سے مرادِ دل پائی

[اصل بیت پڑھیں]

سر رامکلی

پہلی داستان
1

تیرے یوگی، جہانِ تیرہ و تار
جلوہٗ نور ہیں کہ شعلۂ نار
بزم ہستی پہ ضوفگن ہیں وہ
ان سے دنیا ہوئی ہے پر انوار
وہ نہیں جب تو زندگی کیسی
زندگی سے میں ہوگئی بیزار

[اصل بیت پڑھیں]
2

در بدر مانگنے سے بہتر تھا
ایک ہی در تلاش کر لیتے
یہ گدایانِ کوچہ گرد اے کاش
کوئی جوہر تلاش کرلیتے

[اصل بیت پڑھیں]
3

چھوڑ کر جس نے عیش و عشرت کو
آزمایا غمِ محبت کو
میں نے دیکھا اسی گدا گر میں
جلوہ گر نورِ حسن فطرت کو

[اصل بیت پڑھیں]
4

ان کے ناقوس میں ہے یہ آواز
سرنگوں جس کے سامنے ہر ساز
میں تو ان کے بغیر جی نہ سکوں
ان کا غم میری زندگی کا راز
یہ حقیقت شناس لاہوتی
باعث درد اور درماں ساز

[اصل بیت پڑھیں]
5

سن کے کوئی صدائے پر اسرار
میں چلی پھاند کر در و دیوار
میرے ہوش و حواس پر طاری
اک خوش آیندہ لہجۂ گفتار
کون جانے کدھر گئے جوگی
جستجو میں ہیں طالبِ دیدار
گریۂ انتظار نے مجھ کو
زندگانی سے کردیا بیزار

[اصل بیت پڑھیں]
6

ان کے نقشِ قدم کو پا لینا
عجز سے اپنا سر جھکا لینا
دور افتادہ ہیں وہ بیراگی
رفتہ رفتہ پتا لگا لینا
ان کے قدموں میں عالم لاہوت
ان کے دامن میں بے بہا یاقوت

[اصل بیت پڑھیں]
7

ان کے ناقوس میں جو نغمہ ہے
سامنے ان کے سیم و زر کیا ہے
اب نظر میں کوئی نہیں جچتا
میں نے بیراگیوں کو دیکھا ہے
جانے کس وقت کوچ کر جائیں
پائوں مشرق کی سمت اٹھا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

تیرتھوں کو چلے گئے جوگی
ہاتھ مل مل کے رہ گئی میں ہائے
لے گئے اپنے ساتھ دل کا چین
اب مرے دل کو چین کیوں کر آئے

[اصل بیت پڑھیں]
9

مست ہیں اپنے حال میں ہر وقت
اور ہر قیل و قال سے بالا
ان کے ناقوس کی صدائے بلند
طلب مال و جاہ سے بالا
جان و دل میں سما گئے وہ لوگ
سو رہی تھی ، جگا گئے وہ لوگ

[اصل بیت پڑھیں]
10

ان کے ناقوس میں ہے سوز و گداز
جن سے آتی ہے سرمدی آواز
رسنِ شوق کھینچتی ہے مجھے
جس طرف ہیں وہ زمزمہ پرداز
جانتی ہوں کدگھر گئے وہ لوگ
مجھ پہ ظاہر ہیں جوگیوں کے راز
جی سکوں گی نہ اب میں ان کے بغیر
کاش آجائیں پھر وہی دمساز

[اصل بیت پڑھیں]
11

اک صدائے رحیل و بانگ جرس
صبحدم تھی یہاں ترنم ریز
بھر نہ جانے کدھر گئے جوگی
دے کے مجھ کو پیامِ دل آویز
ڈھونڈھتی ہوں مگر نہیں ملتے
جانے ان کے قدم تھے کتنے تیز
یاد آتے ہیں اب وہ بیراگی
ان کی ہر بات ہے خیال انگیز
میں فراموش کر نہیں سکتی
وہ فضا وہ ہواے عنبر بیز
میری ہستی پہ چھا گئے ہیں وہ
کب ملیں گے وہ مجھ سے کم آمیز

[اصل بیت پڑھیں]
12

وہ جہاں دھونیاں رماتے ہیں
نفس کی ہر خودی جلاتے ہیں
اپنے ناقوس جب بجاتے ہیں
جانے کتنے سرور پاتے ہیں
وہی جینے سے کرتے ہیں بیزار
وہی جینا مجھے سکھاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
13

مشغلہ جن کا آہ و زاری ہے
میں نے ان جوگیوں سے پیار کیا
ان کی دلکش قیام گاموں نے
دیدہ و دل کو بے قرار کیا
ان کے ناقوس کی صدائوں نے
بارہا مجھ کو اشک بار کیا
مجھ کو بیراگیوں کی صحبت نے
مائل عجز و انتظار کیا

[اصل بیت پڑھیں]
14

چل دیئے وہ قلات کی جانب
میں تڑپتی رہی جدائی میں
ہائے اب کیسے جی سکوں گی میں
اس جنوں خیز بے نوائی میں

[اصل بیت پڑھیں]
15

ان کے ہمسایوں میں رہی لیکن
نہ میسر ہوا مجھے دیدار
پھر بھی طاری ہے دیدۂ و دل پر
ان کے حسن و جمال کا پندار
ہائے ان شوخ جوگیوں کے بغیر
میرا جینا ہے کس قدر دشوار

[اصل بیت پڑھیں]
16

ہر خودی کو مٹاکے بیراگی
منہ کسی اور سمت موڑ گئے
عشق کی وسعتوں میںگم ہو کر
رشتۂ آب و گل کو توڑ گئے
اپنی پرکیف گوشہ گیری کا
سلسلہ میرے دل سے جوڑ گئے
کون جانے وہ میرے دل آرام
کیوں مجھے بے قرار چھوڑ گئے
اب مجھے زندگی سے کیا حاصل
آرزوے حیات لا حاصل

[اصل بیت پڑھیں]
17

سوئے، نانی، چلے گئے سوامی
اب یہاں کون ہے مرا ہمراز
صبحدم آج کل نہیں ہوتے
ان کے ناقوس زمزمہ پرداز
جی سکوں گی نہ اب میں ان کے بغیر
تھے وہی میرے مونس و دمساز

[اصل بیت پڑھیں]
18

چل دیئے ہنگلاج سے وہ لوگ
جن کو نانی کی سمت جانا ہے
یہ سنا ہے کہ دوارکا جا کے
انہیں دل کی مراد پانا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
19

چھوڑ کر مجھ کو چل دیئے جوگی
دیدنی میری بے قراری ہے
جی رہی ہوں اگرچہ ان کے بغیر
ایک لمحہ بھی مجھ پہ بھاری ہے
ان پہ قربان جسم و جاں میرے
ان کی ہر ایک بات پیاری ہے

[اصل بیت پڑھیں]
20

سونی سونی ہر ایک بیٹھک ہے
اب وہ جوگی رہے نہ ان کا جوش
جی سکوں گی نہ اب میں ان کے بغیر
اب نہ دل میں سکوں، نہ صبر، نہ ہوش

[اصل بیت پڑھیں]
21

پوچھتے کیا ہو مجھ سے ان کا نشاں
راز سربستہ ہیں وہ خوش اطوار
توڑ کر سب سے رشتہ و پیوند
ہوگئے محوِ جستجوے یار
بے خودی میں رواں دواں پیہم
انہیں رختِ سفر نہیں درکار
جی سکوں گی نہ اب میں ان کے بغیر
چشم پرنم ہے طالبِ دیدار

[اصل بیت پڑھیں]
22

جسم پر خاک ہاتھ میں ناقوس
اور ہی کچھ ہیں جوگ کے آداب
سمتِ نانی چلے ہیں سنیاسی
کوئی دیکھے تو ان کی آب و تاب
میرے دل کا قرار ہیں وہ لوگ
رحمتِ کردگار ہیں وہ لوگ

[اصل بیت پڑھیں]
23

تیرتھوں کی لگن لگی من میں
دل کہیں اور کیا لگائیں گے
مجھ سی معذور جوگنوں کو وہ
ساتھ لے کر کبھی نہ جائیں گے

[اصل بیت پڑھیں]
24

کب روانہ ہوئے یہاں سے وہ
مجھ پر ظاہر نہ ہو سکی یہ بات
کر رہے تھے یہاں وہ بیراگی
راز دارانہ ہی بسر اوقات
سوچتی ہوں میں اب کہ ان کے بغیر
کیا رہے زندگی کے امکانات

[اصل بیت پڑھیں]
25

اس سماعت میں بھی تھا کوئی راز
میرے جوگی تھے گوش بر آواز
ان کے چہرے تھے مضمحل لیکن
ان کی روحیں تھیں زمزمہ پرداز
جی سکوں گی نہ اب میں ان کے بغیر
نغمہ زن دل میں ہے انہیں کاساز

[اصل بیت پڑھیں]
26

مٹ گئی جز و کل کی ہر تفریق
جوگیوں نے عدم کو اپنایا
اپنے ناقوس کی صدائوں کو
ماورائے غمِ جہاں پایا
دور ہر ایک رہگزر سے دور
جادۂ حق انہیں نظر آیا
ان سے آباد دل کی بستی ہے
ان سے وابستہ میری ہستی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کتنی دلکش ہے تار کی آواز
سرنگوں جس کے سامنے ہر ساز
اس کے نغموں کی دلکشی مت پوچھ
منفرد ہے وہ زمزمہ پرداز
ماورائے صفات ہے شاید
اس مغنی کے سحر فن کا راز
’سوہنی‘ اور ’ڈیاچ‘ کیا معنی
ہر نفس کے لئے ہے وہ دمساز
جس کو چاہے جلائے یا مارے
اس کی بانگِ رحیل کا اعجاز
سننے والوں پہ بے خودی چھائی
نت نئی دھن ہے نت نیا انداز
اس کی ہر لے میںدل کی بیتابی
اس کی ہر تان رح کی غمّاز
زہر سمجھو کہ انگبین جانو
کبھی ایسی سنی کوئی آواز
سندھ اور ہند ہی پہ کیا موقوف
کون سے دیس میں ہے ایسا ساز

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

ان کے دکھ درد کوئی کیا جانے
وہ ہوا خواہِ کنجِ خلوت ہیں
جانتی ہوں میں جوگیوں کا حال
وہ سراپا گمِ محبت ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
2

سن لیا پاس بیٹھ کر میں نے
جوگیوں سے تمام دل کا حال
ہائے ان کا لباس گرد آلود
اور سر پہ وہ لمبے لمبے بال
جسم و جاں کی خبر نہیں ان کو
زندگی کو سمجھتے ہیں جنجال
اہل دنیا سے چھپ کے چلتے ہیں
کوئی دیکھے تو جوگیوں کی چال

[اصل بیت پڑھیں]
3

کچھ خس و خار ساتھ لاتے ہیں
اور پھر دھونیاں رماتے ہیں
میں نے دیکھا ہے جا کے ان کے پاس
کیا بتائوں وہ کیا جلاتے ہیں
اپنے قلب و نظر کے شعلوں کو
دوسروں سے سدا چھپاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
4

کون ہے جس کے درد نے مارا
کس نے گھائل کیا خدا جانے
ان کے جوش و خروش کا عالم
جز غم عشق کوئی کیا جانے
وہ شب و روز کیوں تڑپتے ہیں
جوگ کا درد لا دوا جانے
محو ہیں کس خیال میں جوگی
کس طرح کوئی دوسرا جانے
فکر و اندیشہ کیا اسے ’سید‘
جو محبت کو رہنما جانے

[اصل بیت پڑھیں]
5

اپنے سوز و گداز کا عالم
جانے کیوں خلق سے چھپاتے ہیں
کوچۂ شوق کی گدائی میں
مدعاے حیات پاتے ہیں
یہ خدا دوست اپنے تن من کو
آتشِ عشق میں جلاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
6

ہاتھ میں کاسۂ گدائی ہے
دل کی ہر آرزو چھپائی ہے
دور افتادہ منزلِ جاں ہے
رازدارانہ لو لگائی ہے
دمبدم اس کا نام جپتے ہیں
روح کو جس سے آشنائی ہے
شاد ہیں یہ نجات کے طالب
اپنے دل کی مراد پائی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

جابجا پھر رہے ہیں یہ جوگی
ان سے قائم ہے جوگ کا دستور
رام ہی رام ان کے لب پر ہے
دل میں اسی اک لگن سے ہے معمور
سب میں شامل بھی اور سب سے الگ
اتنے نزدیک اور اتنے دور

[اصل بیت پڑھیں]
8

خلوتِ شب نے دیدہٗ و دل کو
حسنِ باطن کی دلکشی بخشی
ہائے وہ دل کا مرشدِ کامل
جس نے پرسوز زندگی بخشی
ان کی جلوتِ میں حسن خلوت ہے
والہانہ سی محرمیت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
9

دشمن رہگزار ہیں جوگی
کتنے خلوت شعار ہیں جوگی
مل گئی ان کو منزل مقصود
سرخوشِ وصلِ یار ہیں جوگی
یاترا سے سکون دل پایا
ان کی تقدیر یک بیک جاگی
دیکھ کر جلوۂ خدا اوصاف
دم بخود ہوگئے ہیں بیراگی

[اصل بیت پڑھیں]
10

خواہشیں ان کی ہوگئیں پوری
آبِ گنگا سے شاد کام ہوئے
کوئی سمجھانہ ان کے دل کا راز
گرچہ لاکھوں سے ہم کلام ہوئے

[اصل بیت پڑھیں]
11

صبح دم یہ غریب بیراگی
روح پرور صدا لگاتے ہیں
اٹھ کے اپنی قیامگاہوں سے
دور کی بستیوں میں جاتے ہیں
عہد و پیماں کا پاس ہے کتنا
دل کی وارفتگی چھپاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
12

یہ لنگوٹے یہ خوشنما کشکول
بھید ان کا کسی کو کیا معلوم
سوے کابل چلے ہیں لاہوتی
کس کے طالب ہیں یہ خدا معلوم

[اصل بیت پڑھیں]
13

اپنے کشکول کر لئے تیار
ہورہی ہے کدھر کی تیاری
دیکھتی ہوں کہ پھر مرے سوامی
کر رہے ہیں سفر کی تیاری
راز ان کا کسی کو کیا معلوم
جارہے ہیں کہاں خدا معلوم

[اصل بیت پڑھیں]
14

دل ہے سوزو گداز سے معمور
نغمہ خوانی سے ان کو رغبت ہے
رات رو رو کے کاٹ دیتے ہیں
رنج بھی ان کو عین راحت ہے
ان فقیروں کا مقصد ہستی
رات دن دور کی مسافت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
15

وہ کہیں جھونپڑی بناتے ہیں
اور نہ اس کو بنا کے ڈھاتے ہیں
جانتے ہیں نوشتۂ تقدیر
حسب توفیق سر جھکاتے ہیں
ان کو عرفانِ محرمیت ہے
وہ محبت کے گیت گاتے ہیں
بھید ان جوگیوں کا جانے کون
اپنے دل کی لگی چھپاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
16

اپنے دل کے حصار میں محصور
ان سے کیسے ہو باخبر کوئی
بھید زمّار کا نہ کھولیں گے
پوچھنا چاہے بھی اگر کوئی
منزل معرفت سے جب لوٹے
دور تک تھا نہ ہم سفر کوئی

[اصل بیت پڑھیں]
17

جانے کیوں جوگیوں کو شوق سفر
سوے گنگا ہے جانبِ گرنار
اور لنکا انہیں خدا جانے
لے گیا کس کے عشق کا آزار
کس کو معلوم کیوں یہ لاہوتی
ہوتے جاتے ہیں اتنے پراسرار

[اصل بیت پڑھیں]
18

چل دیے ہنگلاج کی جانب
جانے کس نے انہیں بلایا ہے
کون ناوک فگن ہے پردے میں
زخم کس کا جگر پہ کھایا ہے
سرخرو ہوگئے ہیں بیراگی
من کو کس آگ میں تپایا ہے
آپ اک راز بن گئے ورنہ
پردہ ہرراز سے اٹھایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
19

چشم پرنم ہے اور دل پرسوز
ایسے آتے ہیں جیسے دل میں راز
ان کو جوگی بھی یاد رکھتے ہیں
جو اٹھاتے ہیں جوگیوں کے ناز

[اصل بیت پڑھیں]
20

آج پھر ایک شور و غوغا ہے
کون جانے کہاں کا سودا ہے
دفعتا اشتیاقِ جاناں میں
ذکر پھر سے سفر کا چھیڑا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
21

کردیا ان کی یاد نے بے چین
آہ پھر میری آنکھ بھر آئی
پوربی جوگیوں کی فرقت میں
پھر مری روح تن میں گھبرائی

[اصل بیت پڑھیں]
22

کھول دیتے ہیں سر کے بالوں کو
اور تن پر بھبوت ملتے ہیں
دور آبادیوں سے جنگل میں
جانے کیا ڈھونڈھنے نکلتے ہیں
جوگیوں کے وہ پرمحن ناقوس
غم ہستی کا راز اگلتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
23

راکھ ملتے ہیں جسم پر جوگی
اور شب و روز دکھ اٹھاتے ہیں
چند کشکول، گدڑیاں، ناقوس
یہی سامان لے کے آتے ہیں
کس قدر حق شناس ہیں یہ لوگ
جوگ کے راز کو چھپاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
24

جوگیوں میں سفر کا ذکر چھڑا
اپنے سازوں کے کس رہے ہیں تار
ہر برائی سے دور رہتے ہیں
یہ خدا دوستانِ خوش اطوار
راز دارانِ حسنِ وحدت ہیں
ہر ادا ان کی عالم اسرار

[اصل بیت پڑھیں]
25

یہ شہیداں حسن جلوۂ یار
طالبان تجلی۔ٔ دیدار
عزم ہیں ان حسینیوں کے بلند
واصل یار ہوں گے آخر کار
شادماں دشت دشت پھرتے ہیں
ان کی نظروں میں ہے جمال نگاہ

[اصل بیت پڑھیں]
26

ابتدا جذب شوق، ذوق طلب
انتہا وصلِ شاہد و مشہود
ان پہ طاری ہے عالمِ لاہوت
مل گئی ان کو منزل مقصود

[اصل بیت پڑھیں]
27

ان کی آنکھوں میں ایک مدت سے
نظر آتے ہیں خون کے آنسو
گیسوئوں پر ہے بارِ گرد و غبار
دوش پر بارِ جاوداں گیسو
درد ان جوگیوں کی فطرت ہے
اور سوز و گداز ان کی خو
اس جہاں سے انہیں تعلق کیا
ذاتِ واحد میں گم ہیں یہ حق جو

[اصل بیت پڑھیں]
28

عمر اس طرح کیوں گزرتی ہے
غم فزا کیوں ہیں ان کے ماہ و سال
بے دلی کیوں ہے بیخودی کیسی
دوش پر کیوں ہیں الجھے الجھے بال
کوئی ان جوگیوں سے پوچھے تو
کون سے غم میں ہوگیا یہ حال

[اصل بیت پڑھیں]
29

جانے ان جوگیوں نے کیوں آخر
عمردکھ درد میں گزاری ہے
میں کہ روتی ہوں یاد کرکے انہیں
مجھ سے بھی ان کی پردہ داری ہے
ماں انہیں جا کے اب کہاں ڈھونڈوں
ایک وحشت سی مجھ پہ طاری ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

اپنے لئے کانٹے بوتاہے
جو غافل وقت کو کھوتا ہے
کیوں اس کو ملے ساجن پیارا
جو گہری نیند میں سوتا ہے
دل اس کو بھلا کر شاداں تھا
اب خون کے آنسو روتا ہے
اللہ کو جس نے یاد کیا
اللہ اسی کا ہوتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

آئے ہیں پیارے بیراگی
میں ان کے ساتھ ہی جائوں گی
وہ مایا لوبھ کو چھوڑ چکے
جگ جیون سے منہ موڑ چکے
ہر سکھ سے ناتا توڑ چکے
بیراگ سے آس لگائوں گی
میں ان کے ساتھ ہی جائوں گی
گھر بار لٹا کے آئے ہیں
لاہوت سے دھیان لگائے ہیں
گدڑی میں لعل چھپائے ہیں
بن دیکھے چین نہ پائوں گی
میں ان کے ساتھ ہی جائوں گی

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

سوئے مشرق وہ روشنی کیا ہے
کس کے جلوے نظر میں رہتے ہیں
تیر کس درد آفریں کے نہاں
ان کے قلب و جگر میں رہتے ہیں
آئو ان جوگیوں کو دیکھ آئیں
جو ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں
ان کی باتوں سے کچھ پتہ نہ چلا
کس جہانِ دگر میں رہتے ہیں
منزلِ معرفت نظر میں ہے
اجنبی رہ گذر میں رہتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
2

تجھے اپنا نہ کوئی ہوش رہے
زندگی بے خودی بدوش رہے
محرمانہ شعور لاہوتی
ساز وحدت کا پردہ پوش رہے
کاپڑی ہو کہ ہو کوئی سوامی
خود فراموش و سرفروش رہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

کس کے حلقہ بگوش ہیں جوگی
آئو معلوم تو کریں یہ بات
بے خودی ہو کہ فاقہ مستی ہو
والہانہ ہیں ان کے احساسات
ان کی دھونی کے شعلوں سے یکسر
خاک خس خانۂ فریب صفات
نہ ہوا و ہوس نہ حرص و آز
اپنی دھن میں مگن ہیں وہ دن رات
نہ طلبگار نان و خواب و لباس
نہ ہراسان گردش حالات
انس ہے ہنگلاج سے ایسا
کہ بسر ہوتے ہیں وہیں اوقات

[اصل بیت پڑھیں]
4

آو سکھیو! چلو انہیں دیکھیں
جو چھداے ہوئے ہیں اپنے کان
میں ہوں ان کے نیاز مندوں میں
مجھ پہ ان جوگیوں کا ہے احسان

[اصل بیت پڑھیں]
5

کردیا ان کی یاد نے بے تاب
بند حجروں کو کر گئے جوگی
رام کی جستجو میں نکلے تھے
کون جانے کدھر گئے جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
6

دل ہے بیگانۂ گناہ و ثواب
آتشِ عشق میں جگر ہے کباب
رات رو رو کے کاٹ دیتے ہیں
روح کرتی ہے جب انہیں بے تاب
ان سے پوچھے تو کوئی کیا پوچھے
جن کے لب کو نہیں مجالِ جواب

[اصل بیت پڑھیں]
7

سوئے کابل کبھی مسافت ہے
بتکدوں میں کبھی عبادت ہے
لے کے چلتے ہیں دوش پر ناقوس
رنج و غم سے انہیں محبت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

توشۂ رنج و غم ہے ان کے ساتھ
کون جانے کہاں کہاں ہیں وہ
عہد و پیماں کا پاس ہے ان کو
محرم حسنِ جاوداں ہیں وہ
اپنے ناقوس کی صدائوں پر
صبحدم پھر رواں دواں ہیں وہ

[اصل بیت پڑھیں]
9

اب کھٹکتا ہے خار کی مانند
جس سے کل تک بڑی محبت تھی
کوچ کرنا ہی تھا جب اے سوامی
پھر یہ حجرے کی کیا ضرورت تھی

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

ہے جس کے من میں مالا
وہ جوگی ہے متوالا
وہ سوامی ہے وہ سوامی
ہے جس کے کان میں بالا
وہ جوگی ہے متوالا
میں ساتھ چلی مندر میں
پگ پگ ہوا اُجالا
وہ جوگی ہے متوالا

[اصل بیت پڑھیں]
چوتھی داستان
1

جس کسی کو ہو جوگ کا سودا
ہر تعلق کو خیرباد کہے
ترکِ دنیا ہے رمزِ لاہوتی
بس الف اور میم یاد رہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

یہ صنم خانے اور یہ ناقوس
کاش ہٹ جائیں تیری راہوں سے
دیکھ ساجن تجھے بلاتا ہے
کن نفاست بھری نگاہوں سے
گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
اپنا دامن بچا گناہوں سے

[اصل بیت پڑھیں]
3

گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
اے بشر فکر این و آں سے بھاگ
تجھے نور ازل بلاتا ہے
بھاگ ہر اک غمِ جہاں سے بھاگ

[اصل بیت پڑھیں]
4

گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
تجھے لازم ہے نفس کا ایثار
جسم مندر ہے اور دل حجرہ
جوگ میں ہیں یہی ترے گھر بار
در بدر ڈھونڈھتا ہے تو جس کو
جلوہ گر تیرے دل میں ہے وہ نگار

[اصل بیت پڑھیں]
5

چھوڑ دے وہم کے صنم خانے
بھول جا آرزو کے افسانے
تیری راہ طلب میں حائل ہیں
بستیاں، شہر، دشت ویرانے
در بدر اس کی جستجو تجھ کو
اس سے روشن دلوں کے افسانے

[اصل بیت پڑھیں]
6

گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
اپنی ہستی کو غرقِ وحدت کر
عشق کی دھونیاں رما دل میں
نفس کو بیخ و بن سے غارت کر
یاد رکھ مدعائے ذکر خفی
صرف اسی ایک سے محبت کر

[اصل بیت پڑھیں]
7

گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
محرم حسنِ جاوداں ہو جا
نہ رہے فرقِ آستان و جبیں
سر بسر خاکِ آستاں ہو جا

[اصل بیت پڑھیں]
8

وہ ابلتے ہیں نور کے چشمے
سوئے مشرق رواں دواں ہو جا
بن کے راز آشنائے ذکر خفی
خلوتِ خاص میں نہاں ہو جا
تیری منزل ہے عالمِ لاہوت
بے نیازِ غمِ جہاں ہو جا
تیرا مسلک غمِ محبت ہے
اپنے مسلک کا پاسباں ہو جا
مستقل اپنے دل کی آگ میں جل
آپ ہی اپنا امتحاں ہو جا

[اصل بیت پڑھیں]
9

اجنبی بستیوں سے تو منہ موڑ
آئے دن کا یہ رونا دھونا چھوڑ
جوگ لے اس کے گائوں میں جا کر
توڑ دنیا سے اپنے ناتے توڑ

[اصل بیت پڑھیں]
10

جوگ لینا ہے تو زمانے سے
ہر تعلق کو توڑ لے پہلے
جسم کو چھوڑ، روح کا رشتہ
ذات واحد سے جوڑ لے پہلے
جس طرف منزلِ محبت ہے
رخ ادھر اپنا موڑ لے پہلے

[اصل بیت پڑھیں]
11

گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
تہِ دل سے ہو قائلِ توحید
تیرے صوم و صلوٰۃ ہیں بے کار
دل نہیں ہے جو مائلِ توحید
جوگ لینے کی آرزو ہے اگر
رب کو پہچان سائلِ توحید

[اصل بیت پڑھیں]
12

گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
تیرِ غم قلب میں اتر جائے
جسم ہو جائے نذر سوزِ دروں
آتشِ شوق کام کر جائے
کیوں نہ بن جائیں اس کے سارے کام
جس کی اللہ پر نظر جائے

[اصل بیت پڑھیں]
13

گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
اور دل آشنائے وحدت ہو
چھوڑ دے کوچہ گردیٔ شب و روز
گوشہ گیر سکونِ خلوت ہو
کیا خبر تجھ کو تیری خاموشی
محرمِ راز محرمیت ہو

[اصل بیت پڑھیں]
14

گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
اپنے مالک سے لو لگائے جا
من کی مالا نہ ہاتھ سے چھوٹے
اور یہ سنکھ بھی بجائے جا
دھول تن پر نہ ڈال اے سوامی
صبر کی گڈریاں سلائے جا

[اصل بیت پڑھیں]
15

گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
جا بڑے پیار سے گرو کی اور
ڈھونڈے لے ہنگلاج میں جا کر
کہ وہیں ہیں کہیں ترے چت چور

[اصل بیت پڑھیں]
16

کل وہ حلقہ بگوش بیراگی
کر گئے کوچ کیوں خدا جانے
کیوں گئے ہیں وہ جانبِ مشرق
کوئی ان کے رموز کیا جانے
کیسے آئے قرار اس دل کو
جو انہیں اپنا آسرا جانے
سرخ و معصوم و مشکبو چہرے
چھپ گئے ہیں کہاں خدا جانے
کتنی سنسان ان کی راہیں ہیں
کتنی ویراں قیامگاہیں ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
17

گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
لوحِ لاہوت پر ہو تیرا نام
چھوڑ حرص و ہوا کی دنیا کو
اور بن اس کا بندۂ بے دام
پیر و مرشد کے پاس جا کر سن
محرمیت کا نت نیا پیغام
سفر ہنگلاج ہے درپیش
اس سفر میں ہیں سنگِ رہ اوہام
گھر تری پاشکستگی کی دلیل
زہرِ قاتل ترے لئے آرام
کوئی گل رنگ منتظر ہے ترا
سمتِ مشرق سے آرہے ہیں پیام
عیش و عشرت کی آرزو بے سود
جوگ کی شرط ہیں غم و آلام

[اصل بیت پڑھیں]
18

راز دارِ رضائے حق ہو کر
اپنی ہستی کو تو مٹائے جا
گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
عشق کی دھونیاں رمائے جا

[اصل بیت پڑھیں]
19

تو ازل ہی سے طالبِ حق ہے
بھول کر بھی نہ لے خودی کا نام
گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
بادۂ نیستی کا پی لے جام

[اصل بیت پڑھیں]
20

گر یہ چاہے کہ تو بنے جوگی
کرلے اپنی ضرورتیں محدود
دل نہ جب تک ہو مائل ایثار
تیری حلقہ بگوشیاں بے سود

[اصل بیت پڑھیں]
21

میری حالت ہے قابل افسوس
مجھ میں پیدا نہ ہوسکا ایثار
جوگ ان جوگیوں کو زیبا ہے
جن کا دستور بن گیا ایثار

[اصل بیت پڑھیں]
22

دیکھ ان سوامیوں کی آنکھوں سے
اشکِ خوں گر رہے ہیں گام بہ گام
جوگ تیرے لئے نہیں موزوں
جوگ کا لے رہا ہے ناحق نام
جب سفر ہی کی ٹھان لی دل میں
سر زمینِ وطن سے پھر کیا کام

[اصل بیت پڑھیں]
23

جن کا مسلک ہی بے نیازی ہو
ان کو اپنے وجود سے کیا کام
جوگ لیتے ہی مرگئے جوگی
لے نہ اب تو بھی زندگی کا نام
نغمۂ غم سے آشنا کر دے
تیرے کانوں کو بھی وہی پیغام

[اصل بیت پڑھیں]
24

جس کو سمجھے ہیں زندگی جوگی
وہ سراسر غمِ محبت ہے
سن میری بات عازمِ مشرق
درد ہی تیرے دل کی راحت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
25

گڈریوں اور سنکھ سیلوں سے
ہوسکے گی نہ جوگ کی تعمیل
قصر باطن کو ریزہ ریزہ کر
تاکہ ہو جذب و شوق کی تکمیل
دل ہو مانند شعلۂ بے دود،
ورنہ ہر رسمِ ظاہری بے سود

[اصل بیت پڑھیں]
26

تیری حلقہ بگوشیاں بے سود
کوششِ رائیگاں سے کیا حاصل
سخت مشکل ہے جوگ کی منزل
جوگ کے امتحان سے کیا حاصل
تو ہے سردی سے لرزہ بر اندام
جوگ کا لے رہا ہے ناحق نام

[اصل بیت پڑھیں]
27

جانے کس جستجو میں رہتے ہیں
سوئے مشرق رواں دواں جوگی
اک سراپا جمال ہے دل میں
جسے کہتے ہیں جانِ جاں جوگی
سرخروے غمِ محبت ہیں
بے نیاز غمِ جہاں جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
28

میری غفلت سے گم ہوئے جوگی
کس طرف ان کو ڈھونڈنے جائوں
وہ مکٹ ان کے اور وہ چکرے
اب میں کس شے سے دل کو بہلائوں
کہیں ان کا نشاں اگر مل جائے
کرکے منت انہیں بلا لائوں
جھونپڑی چھوڑ کر کسی دھن میں
وہ گئے ہیں جہاں وہیں جائوں
پہلے اپنا وجود گم ہوجائے
پھر یہ ممکن ہے کچھ نہ کچھ پائوں

[اصل بیت پڑھیں]
29

اب کہاں جائوں اب کسے پوجوں
کیا کروں اب یہ دھوپ اور دھانی
جا کے مندر میں دیکھتی کیا ہوں
تیرتھوں کو چلے گئے گیانی

[اصل بیت پڑھیں]
30

شکم آسودہ جوگ کیا جانیں
جوگیوں میں وہ ہو گیا بد نام
راہ گم کردہ وہ تہی داماں
ایسے جوگی کو جوگ سے کیا کام

[اصل بیت پڑھیں]
31

جوگ دل سے قبول کر جوگی
یوں دکھاوے کو اختیار نہ کر
ترک کردے دروغ گوئی بھی
راست بازی بھی اختیار نہ کر
فکرِ روزِ جزا رہے دل میں
اس کی رحمت کو شرمسار نہ کر

[اصل بیت پڑھیں]
32

تو نے چھدوا لئے ہیں اپنے کان
اب نبھانا ہے جوگیوں کی آن
جان لیوا ہے یہ لگن پیارے
اور جو تجھ کو کہیں عزیز ہو جان
کیوں ہے گونگوں کی طرح اب چپ چاپ
بھید پیارے کا پوچھ لے انجان
عجز کو پیشوا بنا اپنا
عجز ہی سے ملے گا تجھ کو گیان
چھوڑ یہ احتیاط لاہوتی
عشق کا تیر دل پہ کھا نادان

[اصل بیت پڑھیں]
33

جس سے بن جائے آگ بھی پانی
کاش مل جائے تجھ کو ایسا گیان
پریم کی دھونیاں رما دل میں
ڈال دے اس چتا میں اپنی جان

[اصل بیت پڑھیں]
34

کاپڑی! کان کس لئے چھدوائے
تجھ کو زیبا نہیں زنانہ جوگ
فرق ہے جوگ جوگ میں جوگی
کم ہی پہچانتے ہیں اس کو لوگ
اس کو دھوکے میں ڈالتا ہے رام
جو نہ سمجھے کہ پیڑ ہے یا پھوگ

[اصل بیت پڑھیں]
35

سن سکے یہ نہ گیان کی باتیں
کان تیرے ہیں یا گدھے کے کان
بیچ کر ان کو دوسرے لے آ
جن کو ہو بات بات کی پہچان
دل نہ جب تک ہو گوش بر آواز
کس طرح مل سکے گا تجھ کو گیان

[اصل بیت پڑھیں]
36

سوئے نانی چلا ہے کیوں نانگا
تیری منزل یہیں کہیں ہوگی
جس حقیقت کو ڈھونڈتا ہے تو
تیرے ہی دل میں وہ مکیں ہوگی
ایک ہوجائیں تیرے دیدہ و دل
پھر کوئی جستجو نہیں ہوگی

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

ٹھیرے نا رات کو ساجن
آیا سنسان سویرا
سجنی اب کون ہے تیرا
وہ جوگی ہیں وہ جوگی
کیا ناتا آن سے تیرا
سجنی اب کون ہے تیرا
لائے تھے چھرا لاہوتی
جو جگ جیون پہ پھیرا
سجنی اب کون ہے تیرا

[اصل بیت پڑھیں]
پانچویں داستان
1

طور سینا ہے ان کو ہر اک گام
محوِ نظارہ ہیں وہ صبح و شام
رازدارِ یقین وحدت ہیں
دور ہے ان سے کثرتِ اوہام
زیر پایہ جہانِ فانی ہے
ان کو پیارا ہے بس خدا کا نام
مثل موسیٰ ہوئے نہ وہ بے ہوش
ان کا ذوقِ نظر ہے خوش انجام
ان کے سجدوں کی محرمیت نے
سن لیا کوئی دلنشین پیغام
دل ہے راز نشاط سے آگاہ
دیکھنے میں ہیں سر بسر آلام
یہ ہیں نور ازل کے گرویدہ
اب کسی اور سے انہیں کیا کامڀ

[اصل بیت پڑھیں]
2

جسم مسجد ہے اور دل قبلہ
ساز گار ان کو بزم خلوت ہے
آپ محراب آپ ہی منبر
اُن پر روشن ہر اک حقیقت ہے
موجزن ان کے دیدہ و دل میں
نورِ سرچشمۂ ہدایت ہے
ہر گناہ و ثواب سے بالا
اے ازل تیری محرمیّت ہے
حسنِ والا صفات کی تحقیق
جوگیوں کی یہی عبادت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

بزم لاہوت سے گزر آئے
اب ہے دل میں اُلوہیت کی دھوم
دیکھ کر ان کو کچھ پتہ نہ چلا
راز دل کا کسی کو کیا معلوم

[اصل بیت پڑھیں]
4

ان کے ننگے بدن پہ خاکستر
روح میں آتش محبت ہے
عیش و عصیان سے دور رہتے ہیں
پارسائی ہی ان کی فطرت ہے
آپ ہی اپنی آگ میں جلنا
سوزِ دل اُن کو عین راحت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

چھوڑ یہ جوگیوں کے جاگوٹے
اور ان دھونیوں سے ہو بیزار
آتشِ عشق میں جلا دل کو
اے طلبگار حسن جلوۂ یار
لگ گئی جس کو معرفت کی آنچ
مل گئی اس کو دولت دیدار

[اصل بیت پڑھیں]
6

صرف حلقہ بگوشیوں سے کیا
لطف تو جب ہے سر قلم ہو جائے
نورِ عرفاں ہو راہبر تیرا
جوگیوں میں ترا بھرم ہو جائے
مہرباں ہو وہ جانِ جاں تجھ پر
دور سب فکر بیش و کم ہو جائ

[اصل بیت پڑھیں]
7

ڍکر گئے کوچ جانبِ مشرق
ساری دنیا کو چھوڑ کر جوگی
ان کے دل نے جدھر اشارہ کیا
گامزن ہوگئے ادھر جوگی
جانے پھر اس طرف سے کب گزریں
ہائے یہ صاحب نظر جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
8

کون جانے کہ یہ روش جوگی
کس لئے اختیار کرتے ہیں
کفر و ایماں سے ہو کے بیگانہ
ذاتِ واحد سے پیار کرتے ہیں
ذکرِ جنت نہ فکرِ دوزخ ہے
خواہش وصلِ یار کرتے ہی

[اصل بیت پڑھیں]
9

زالِ دنیا قبیح صورت ہے
اس سے ترکِ تعلقات کرو
دردِ ہستی نہ دردِ سر بن جائے
حاصل اس درد سے نجات کرو
نفس کو پہلے سرنگوں کر لو
پھر کوئی معرفت کی بات کر

[اصل بیت پڑھیں]
10

اپنے ناقوس کی صدائوں سے
مجھ پہ یہ جادو سا کر گئے جوگی
سونے سونے سے ان کے حجرے ہیں
کیا بتائوں کدھر گئے جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
11

جوگ میں پیروِ شریعت ہیں
ان کے دل عارف حقیقت ہیں
بزمِ ملکوت و عالمِ جبروت
اس تفکر کی قدر و قیمت ہیں
جس کے فیضان سے یہ لاہوتی
سرخوش بزمِ محرمیّت ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
12

چھوڑ کر آج عالمِ ناسوت
جا رہے ہیں وہ جانبِ ملکوت
ان کے ناقوس کی صدائوں سے
گونج اٹھی ہے محفلِ جبروت

[اصل بیت پڑھیں]
13

قابلِ داد ہے دروں بینی
جا کے دیکھے نہ کابل و کشمیر
دھونڈھتے تھے وہ جا بجا جس کو
اپنے ہی دل میں مل گیا وہ پیر
چشم و دل کی یگانگت دیکھو
کھل گئی ان کے جسم کی زنجیر
گامزن تھے رہِ صداقت میں
جانے کب سے یہ کاپڑی رہگی

[اصل بیت پڑھیں]
14

یاس و حسرت سے آشنا ہیں وہ
اپنی قسمت سے آشنا ہیں وہ
بحر و بر سے گذر گئے بے باک
ہر صعوبت سے آشنا ہیں وہ
ان کے لب پر نہیں کوئی شکوہ
رازِ وحدت سے آشنا ہیں وہ

[اصل بیت پڑھیں]
15

سر خوشِ وصل یار ہیں جوگی
کیا سراپا بہار ہیں جوگی
بحرِ عرفاںمیں غوطہ زن ہو کر
خود یمِ بے کنار ہیں جوگی
عارفانہ ہیں ان کے پیچ و تاب
کیا انہیں فکرِ موجہ و گرداب

[اصل بیت پڑھیں]
16

نامرادی مراد میں بدلی
جب عدم آشنا ہوئے جوگی
اب کسی چیز کا سوال نہیں
تاجدار رضا ہوئے جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
17

غمِ فردا نہ فکرِ دوش انہیں
اک ہوا خواہ دم کے ساتھ رہا
سخت دشوار تھی رہ عرفاں
جانِ جاں ہر قدم کے ساتھ رہ

[اصل بیت پڑھیں]
18

ناسمجھ ہیں ’لطیف‘ وہ رہرو
جو تکبّر کے ساتھ چلتے ہیں
ان کی تقدیر میں ہے گمراہی
گھر سے بے راہبر نکلتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

دلنشین ان کا ہر اشارا ہے
مجھ کو ان جوگیوں نے مارا ہے
موت بھی کوچۂ گدائی میں
ان کی خاطر مجھے گوارا ہے
کیسے بھائے دوئی کی بات انہیں
جن کو وحدت کا نام پیارا ہے
اڑ گئی نیند میری آنکھوں سے
جانے کس نے مجھے پکارا ہے
کس کے رازِ فرار نے اکثر
دل میں اک تیر سا اتارا ہے
ان خدا آشنا فقیروں نے
میرا ذوقِ طلب نکھارا ہے
تیری رحمت ’لطیف‘ پر یا رب
ایک تو ہی مرا سہارا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
چھٹی داستان
1

درد کی ٹیس دل میں اٹھتی ہے
رات دن بے قرار رہتے ہیں
کس نے ان پر چھری چلائی ہے
جانے کیوں سوگوار رہتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
2

ان کے لب پر ہیں گرچہ کیا کیا نام
ان کے دل میں فقط رام ہی رام
جادہ پیماے معرفت جوگی
پی چکے ہیں مئے ازل کے جام
کوئی ان سامیوں سے پوچھے تو
ان کی تقدیر میں ہیں کیوں آلام
بال کیوں اس قدر بڑھائے ہیں
بن گئے کس کے بندۂ بے دام
یاد کرتا ہوں میں انہیں ’سید‘
دل کی گہرائیوں سے صبح و شام

[اصل بیت پڑھیں]
3

عالم بے خودی میں آئے ہوئے
پیچ و تاب خودی مٹائے ہوئے
کچھ سفیدی سیاہ بالوں میں
غمِ فرقت کے دکھ اٹھائے ہوئے
اور ہر وقت پیار کے آنسو
ان کی آنکھوں میں ڈبڈبائے ہوئے
ایک مدت یوں ہی بیٹھے ہیں
گرد آلودہ سر جھکائے ہوئے
من کی دنیا میں ہیں مگن جوگی
پریت کی دھونیاں رمائے ہوئے
کیا سروکار بزم ہستی سے
وہ خدا سے ہیں لو لگائے ہوئے

[اصل بیت پڑھیں]
4

ان کا دل ہے خزینۂ عرفان
آپ ہی اپنے کارساز ہوئے
بس گیا ان کی روح میں بھگوان
پیرو مرشد سے بے نیاز ہوئے

[اصل بیت پڑھیں]
5

گرم و سردِ زمانہ نے ان کو
کیا کہوں کس قدر ستایا ہے
خود بھی بیراگیوں نے تن من کو
آتش عشق میں جلایا ہے
کس نے اس شان دلبری سے انہیں
دربدر مانگنا سکھایا ہے
کس ادب سے کھڑے ہیں اسکے حضور
حرفِ مطلب زباں پہ آیا ہے
فکرِ اہل و عیال سے ان کو
مطلقاً بے نیاز پایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
6

دھیان ہر نام سے لگاتے ہیں
اعتبار خودی مٹاتے ہیں
یہ خدا دوست اپنے ظاہر کو
نورِ باطن سے جگمگاتے ہیں
سعی۔ٔ پیہم کے بعد بیراگی
ناتھ کو اپنے دل میں پاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
7

ان خدا آشنا فقیروں میں
باہمی ربط و ضبط ہوتے ہیں
رچ گیا رام ان کی روحوں میں
راہ چلتے ہوئے بھی روتے ہیں
جاگتے رہتے ہیں یہ ساری رات
جب کہ اہلِ زمانہ سوتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
8

زیر خرقہ ہے یوں بدن ان کا
خار و خس میں چھپا ہو جیسے گلاب
گنجِ عرفاں ہے بوریا ان کا
اس میں پنہاں ہے گوہر نایاب

[اصل بیت پڑھیں]
9

ہاتھ میں سبحہ دوش پر زنار
یوں ہوئے جلوہ گر سر بازار
ہائے وہ صورتیں خمار آگیں
دیکھنے والے ہوگئے سرشار

[اصل بیت پڑھیں]
10

ان کے ناقوس کی صدائوں نے
یاد آکر مجھے ستایا ہے
گرد آلودہ جوگیوں نے مجھے
آتشِ ہجر میں جلایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

آنکھوں نے مجھے الجھایا ہے
سپنوں کا جال بچھایا ہے
اب دوش کسے دوں اے سکھیو
پھل میں نے پریت کا پایا ہے
بیکار دوائوں نے اکثر
برھن کا روگ بڑھایا ہے
من میت سمجھتی ہوں اس کو
جس نے سکھ چین مٹایا ہے
کہتا ہے ’لطیف‘ سنو سکھیو
پلٹی پریتم نے کایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
ساتویں داستان
1

جانے کس کے اسیر ہیں جوگی
آپ اپنی نظیر ہیں جوگی
فاقہ مستی کے راز دار ہیں یہ
کتنے روشن ضمیر ہیں جوگی
کوئی ان کا، نہ یہ کسی کے یار
رنج و غم کی نفیر ہیں جوگی
کنجِ خلوت ہیں ان کو ویرانے
دم بخود گوشہ گیر ہیں جوگی
کوئی اس کے سوا نہیں دل میں
جس کے در کے فقیر ہیں جوگی
کیا غرض ان کو پیرو مرشد سے
آپ ہی اپنے پیر ہیں جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
2

شام ہی سے وہ کیوں نہ سوجائیں
جاگنا جن کو اک مصیبت ہے
ہاں مگر وہ غریب لاہوتی
جاگتے رہنا جن کی عادت ہے
کس طرف اپنے پائوں پھیلائیں
ہر طرف قبلہ۔ٔ حقیقت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

صبح کے وقت یا کبھی سرِ شام
یوں ہی کچھ دیر کو وہ سوتے ہیں
اور پھر اٹھ کے اپنے چہروں کو
دھول سے بار بار دھوتے ہیں
فاقہ مستی میں بھی یہ بیراگی
بھیک سے بے نیاز ہوتے ہیں
کون جانے کہ رات بھر چپ چاپ
وہ کسے یاد کرکے روتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
4

اپنی دھن میں ہیں مست بیراگی
ان کی روحوں میں رام کا گھر ہے
نہ انہیں بھوک پیاس کا احساس
اور نہ کوئی لباس تن پر ہے
ایسی باندھی ہیں رسیاں کس کر
سخت مجروح جسمِ لاغر ہے
ان کی خاکِ بدن کا ہر ذرہ
اک عدیم المثال جوہر ہے
گامزن ہیں رہِ طریقت میں
کیا خبر کون ان کا رہبر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

نوبنو جوگیوں کے جلوے ہیں
اب کسی اور بھیس میں ہوں گے
وہ یہاں سے چلے گئے افسوس
جانے کس دور دیس میں ہوں گے

[اصل بیت پڑھیں]
6

حرص سے بے نیاز رہتے ہیں
با ادب پاکباز رہتے ہیں
خلوتِ روح میں خدا سے یہ
محوِ راز و نیاز رہتے ہیں
بے تعلق جہاں سے ہیں پھر بھی
کتنے در ان پہ باز رہتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
7

جھیل ان کے لئے سبھی دکھ درد
دل اگر جوگیوں پہ وارا ہے
یہ لنگوٹی یہیں اتارے جا
ان کو ننگا بدن ہی پیارا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

سجدۂ شوق میں جھکی ہے جبیں
انہیں پابندیٔ وضو بھی نہیں
سن چکے ہیں وہی اذاں جوگی
قبلِ اسلام جو ہوئی تھی کہیں
اور کوئی رہا نہ ان کے ساتھ
مل گئے جب سے پیارے گورکھناتھ

[اصل بیت پڑھیں]
9

جسم کو رسیوں سے باندھے ہیں
اور ان کے سروں پہ صافے ہیں
ہائے یہ رازدارِ غم جوگی
ان کے انداز کتنے اچھے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
10

کیوں نہ پیارے ہوں مجھ کو بیراگی
ان کے پیغام دل بڑھاتے ہیں
لائیو ان کو میرے گھر یا رب!
جن سے دکھ درد بھاگ جاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
11

ہائے یہ ان کا دیدۂ خونبار
اشک آلودہ سرخیٔ رخسار
چھید کانوں میں زخم کی مانند
اور تن پر ردائے گرد و غبار
دم بخود، زندگی سے بے پروا
وہ کسی کے نہ کوئی ان کا یار

[اصل بیت پڑھیں]
12

ان خدا آشنا فقیروں کو
جُز غمِ عشق کچھ نہیں درکار
زندگی ان کی اک ازل کی آگ
جسم و جاں صبح و شام شعلہ بار
کون جاکر کہے کہ ان کے بغیر
ہوگئی میری زندگی دشوار
کون جانے کہاں گئے جوگی
توڑ کر رشتہ ہائے قرب و جوار

[اصل بیت پڑھیں]
13

بے نیازی پہ حرف آتا ہے
خلق کو اپنا رازداں نہ بنا
تیری ہستی گراں بہا ہے اسے
ہر کہہ و مہ کا آستاں نہ بنا
وصل منظور ہے تو دل کے لئے
حرص کو باعث زیاں نہ بنا
کوئی منزل نہیں تمنا کی
جادۂ عمر بے نشاں نہ بنا

[اصل بیت پڑھیں]
14

کیوں کراتا ہے بندگی اپنی
تجھ کو اس برتری سے کیا حاصل
ڈھونڈھ لے روح کی توانائی
ہو کے دکھ درد کی طرف مائل
بے خودی کے بغیر اے جوگی
مل سکے گا نہ مرشدِ کامل

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

وہ کاپڑی گئے کہاں
کبھی یہاں کبھی وہاں
رواں دواں رواں دواں
وہ تن بدن دھواں دھواں
نفس نفس شرر فشاں
وہ کاپڑی گئے کہاں
وہ قلب و جاں کے راز داں
غم و الم کے پاسباں
کب ان کو پائے گی یہاں
یہ میری چشمِ خونفشاں
وہ کاپڑی گئے کہاں
نہ ان میں کوئی قلبہ راں
نہ ان کو فکرِ جسم و جاں
بہ فیضِ عشق بے اماں
رواں دواں رواں دواں
وہ کاپڑی گئے کہاں

[اصل بیت پڑھیں]
آٹھویں داستان
1

آج تجھ پر ہیں مہرباں جوگی
کل نہ جانے ہوں پھر کہاں جوگی
ان کی صحبت بڑی غنیمت ہے
روز آتے ہیں کب یہاں جوگی
صبح سے پہلے ہی نہ ہو جائیں
اور جانب کہیں رواں جوگی
ڈھونڈھنے والوں کو بتاتے ہیں
منزلِ شوق کا نشاں جوگی
سوئے ہنگلاج جانے والے ہیں
چھوڑ کر اب یہ بستیاں جوگی
پھر یہ لمحے نصیب ہوں کہ نہ ہوں
تو کہاں اور پھر کہاں جوگی
لوٹ کر پھر نہ آسکیں شاید
ہر طرف ہیں رواں دواں جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
2

ان کی صحبت کو تو غنیمت جان
تجھ پہ جب تک ہیں مہرباں جوگی
ان کی منزل ہے عالمِ لاہوت
تو کہاں اور پھر کہاں جوگی
آئے ہیں اس سراب ہستی میں
مثلِ آھو رواں دواں جوگی
لذتِ وصل کے تمنائی
دردِ فرقت کے راز داں جوگی
زندگی ان کی جاودانہ سفر
بے وطن اور بے اماں جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
3

دیکھ تو ہیں کہاں وہ لاہوتی
اب نہ ہوں گی یہ بیٹھکیں آباد
بیٹھ کر دل ہی دل میں رولینا
جب بھی آجائیں تجھ کو جوگی یاد

[اصل بیت پڑھیں]
4

اب نہ وہ بیٹھکیں نہ وہ باتیں
سُونی سُونی فضائے قرب و جوار
کتنی ویراں ہے رہِ پر پیچ
کتنے سنسان ہیں در و دیوار
یہ چپ و راست ڈھیر یادوں کے
یہ بھٹکتا سا دیدۂ خوں بار
یہ خموشی یہ رات کے سائے
کون جانے کہاں گئے وہ یار

[اصل بیت پڑھیں]
5

سامنے میرے آگئے جوگی
اپنا جلوہ دکھا گئے جوگی
اس طرح مسکرا گئے جوگی
مست و بے خود بنا گئے جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
6

مجھے اپنا بنا گئے جوگی
دیدہ و دل پہ چھا گئے جوگی
جا کے پھر یاد آگئے جوگی
کچھ نئے گل کھلا گئے جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
7

نہ صدائے جرس نہ نغمۂ ساز
چار سو اک سکوت بے آواز
دھونیاں ہیں نہ وہ خس و خاشاک
ہوگئے سرد کاخ و کوئے مجاز
کر گئے کوچ پوربی جوگی
اب نہ شعلے نہ شمعِ محفلِ راز
نہ چراغِ طلب نہ دودِ چراغ
نہ وہ خلوت نشیں نہ خلوتِ ناز
دفعتاً دل میں ہوک سی اٹھی
پھر مجھے یاد آگئے دمساز
ہائے وہ خود شناس سنیاسی
اہلِ عرفان و صاحبِ اعجاز

[اصل بیت پڑھیں]
8

گر یہاں میرے راز داں ہوتے
کیوں یہ مندر وبال جاں ہوتے
بندگی کی مراد بر آتی
وہ مرے دل پہ مہرباں ہوتے
ان کے چرنوں میں جان دے دیتی
کاش وہ آج کل یہاں ہوتے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

وہ کان چھدائے بیراگی
کیوں مجھ سے ناتا توڑ گئے
دکھ درد دیا سکھ چین لیا
مجبور کیا منہ موڑ گئے
وہ سنکھ بجاتے آئے تھے
اک ٹیس سی دل میں چھوڑ گئے

[اصل بیت پڑھیں]
نویں داستان
1

فاقہ مستی ہی فاقہ مستی ہے
ان کی ہستی عجیب ہستی ہے
زندگی تشنہ کامیٔ پیہم
دل ہوا خواہِ مے پرستی ہے
دلِ ویراں کی تہ میں پوشیدہ
خوبصورت سی کوئی بستی ہے
ہر خودی کی سزا شکستِ خودی
ہر بلندی کے بعد پستی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

نہ بدن کو ہے پیرہن درکار
نہ سفر میں عزیز توشہ ہے
گھرکو ویران کرکے نکلے ہیں
اور معمور دل کا گوشہ ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

آب و دانہ کی جستجو کیسی
دل خدا سے لگالیا ہوتا
خانہ بردوش جوگیوں نے کاش
راہِ عرفاں کو پالیا ہوتا

[اصل بیت پڑھیں]
4

کوئی کاسہ نہ کوئی گدڑی ہے
جھولیاں ہیں سو وہ بھی خالی ہیں
خانہ بردوش جوگیوں نے اب
دشت میں دھونیاں رما لی ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
5

راحت جاں غمِ محبت ہے
احتیاطً جسے چھپائے ہیں
بے سروکار لوٹ جائیں گے
بے سروکار جیسے آئے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
6

تشنگی میں عجیب راحت ہے
فاقہ مستی میں طرفہ لذت ہے
یہ شکم پروری و تن پوشی
جوگ سے ان کو خاک نسبت ہے
تیرے ساتھی ہیں واصل منزل
تو غبارِ رہِ ندامت ہے
تجھ سے اللہ دور ہے اب تک
ان کے حق میں نوید رحمت ہے
آج ہی مر کے دیکھ لے ورنہ
کل کو مرنا تو سب کی قسمت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

گائوں گنجے پہاڑ کا تج کر
پھر روانہ ہوئے کہیں جوگی
جان دی اس گرو کے چرنوں میں
ہو گئے جس کے ہم نشیں جوگی
مل گئے رام آگیا آرام
اتنے مایوس بھی نہیں جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
8

رات بھر بے کلی سی رہتی ہے
نیند اکثر اڑی سی رہتی ہے
پیارے آدیسیوں کی آنکھوں میں
آنسوئوں کی نمی سی رہتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
9

شعلۂ جذب و شوق بھڑکالے
دل میں دھونی فنا کی سلگالے
ابھی زندہ ہیں صاحبِ ناقوس
ان کا سوز و گداز اپنا لے

[اصل بیت پڑھیں]
10

ذات واحد کو یاد رکھتے ہیں
اور مرنے کو ہر گھڑی تیار
راحت خواب جوگیوں پہ حرام
انکو رہنا ہے تا ابد بیدار

[اصل بیت پڑھیں]
11

خوئے مہر و وفا نہیں جس میں
معتبر ہو سکی نہ اس کی بات
بے حجابانہ جو نظر آئے
بے نیازِ صفات ہے وہ ذات

[اصل بیت پڑھیں]
12

بہر نظارہ بند کر آنکھیں
کاوشِ جستجو سے کیا ہوگا
شعلۂ آرزو میں جلتا رہ
طلبِ رنگ و بو سے کیا ہوگا
ڈھونڈ اسے ہنگلاج میں جا کر
گردش کوبکو سے کیا ہوگا

[اصل بیت پڑھیں]
13

فائدہ کیا تلاشِ پیہم سے
جب غم زیست سے فراغ نہیں
راہ میں چار سو اندھیرا ہے
پاس تیرے کوئی چراغ نہیں
اپنے حجرے سے تو نکل باہر
منزلِ زیست بے سراغ نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
14

کھل گیا ہے بھرم بھی آخر کار
سفرِ ہنگلاج تھا بے کار
جلوۂ آفتاب کیا جانیں
جو اندھیروں ہی سے رہیں دو چار
جوگیو! تم وہاں نہ دیکھ سکے
جلوہ گر تھا جہاں جہاں رخِ یار

[اصل بیت پڑھیں]
15

جانتے تھے کہاں ہے اس کا گھر
پھر بھی شوقِ سفر نے اکسایا
کتنے خوش اعتقاد تھے جوگی
ناتھ کو ہنگلاج میں پایا

[اصل بیت پڑھیں]
16

کون جانے یہ جوگیوں کے سوا
کہ گدائی میں بادشاہت ہے
چھوڑنا مت سلوک کو سوامی
شوقِ ہجرت نویدِ رحمت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
17

سہل اندیش لوگ کیا جانیں
اس عدیم المثال کی پہچان
در بدر جو صدا لگاتے ہیں
ان کو ملتا ہے عشق سے فیضان
تا ابد ہو گئے سکوت بہ لب
جب ودیعت ہوا انہیں عرفان

[اصل بیت پڑھیں]
18

کیسی دھونی کہاں کے جا گوئے
دل میں سوز و گداز پیدا کر
بڑھ کے لاہوت سے بھی کچھ آگے
سیر حاصل کوئی نظارا کر
قرب و دوری فریب ہیں جوگی
اپنے سینے کو طور سینا کر
نیستی ہی ثبوتِ ہستی ہے
مر کے شانِ ثبات پیدا کر

[اصل بیت پڑھیں]
19

خیمہ زن دل میں ہیں وہ بیراگی
خوب عالم ہے دل کا عالم بھی
آئو ان کے الائو پر چل کر
آگ کچھ دیر تاپ لیں ہم بھی

[اصل بیت پڑھیں]
20

لوگ ہوتے ہیں دیکھ کر حیراں
جسم پر ان کے ہے عجب پوشاک
بھوک ہے بھیک جوگیوں کے لئے
’دھوپ‘ ہے ان کو دربدر کی خاک

[اصل بیت پڑھیں]
21

یہ صدائے درا و بانگِ راحیل
گمرہوں کو فریب منزل ہیں
عار ہے بھیک مانگنے سے انہیں
جوگ میں جو فقیر کامل ہیں
راہ گنگا کی پوچھتا کیوں ہے
دل کے نظارے سیر حاصل ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
22

شہر لاہوت کی فضا سے وہ
رشتۂ زیست جوڑ دیتے ہیں
حسرت و یاس ہوں کہ وہم و گماں
سب صنم خانے توڑ دیتے ہیں
جانے کیوں پھینک دیتے ہیں ناقوس
اور کشکول چھوڑ دیتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
23

جائیں یہ گدڑیاں جہنم میں
کاسے بھی ان کے خاک ہو جائیں
جوگ کی راہ میں قدم ہے تو کیا
دیدہ و دل بھی راہ پر آئیں
کون جانے کہ جوگ کی خاطر
سنکھ کیا کیا مصیبتیں لائیں

[اصل بیت پڑھیں]
24

زندگی دے رہی ہے تجھ کو فریب
زندگی سے فریب کرنا سیکھ
آخرِ شب بسوز لاہوتی
آگ سی جسم و جاں میں بھرنا سیکھ

[اصل بیت پڑھیں]
25

سنکھ کے ساتھ باندھنے کے لئے
بٹ رہے تھے وہ درد کے دھاگے
پھر وہ بل کھولتے ہوئے اٹھے
کون جانے کہ کیا ہوا آگے

[اصل بیت پڑھیں]
26

پھینک مت اپنی گدڑیاں جوگی
اپنے کاسے بھی آگ میں نہ جلا
ایک نعمت ہے سنکھ کی سنگت
جوگ ہی جوگ جسم و جاں میں رچا

[اصل بیت پڑھیں]
27

زیب تن کی ہے جس نے یہ گدڑی
مہرباں اس پہ ذاتِ باری ہے
کیا بتائوں میں خوبیاں اس کی
کہ یہ ملبوس خاکساری ہے
بے بہا لعل اس کے اندر ہیں
دیدنی اس کی رازداری ہے

[اصل بیت پڑھیں]
28

گدڑی والے غریب بیراگی
قابلِ احترام ہوتے ہیں
جن کے تن اجلے اور من میلے
وہ گدھوں کے غلام ہوتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
29

دیکھنے میں توگل ہیں رنگا رنگ
سوچیے تو ہے ایک ہی سی بات
ہم نہ اس کی صفات کو سمجھے
خالقِ رنگ و بوہے جس کی ذات

[اصل بیت پڑھیں]
30

کیا کہیں اپنے سنکھ اور کاسے
کیوں یہ درویش چھوڑ آئے ہیں
ترکِ اسبابِ ظاہری کرکے
حسنِ باطن سے لو لگائے ہیں
خاکساروں کے دیدۂ تر نے
کون جانے جو گل کھلائے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
31

گدڑیوں کو کبھی نہیں دھوتے
دل مگر پاک صاف ہوتے ہیں
درد ہی درد ہیں یہ لاہوتی
روز و شب دل ہی دل میں روتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
32

جوگیوں کی عجیب باتوں کو
راز سربستۂ جہاں کہئے
فہم و ادراک محوِ حیرت ہیں
وہ زباں ہے کہ چیستاں کہئے

[اصل بیت پڑھیں]
33

معنی۔ٔ زیست تک کبھی اے کاش
کوئی امکان ہو رسائی کا
گردشِ ماہ و سال تا بہ ابد
سلسلہ ہے شبِ جدائی کا

[اصل بیت پڑھیں]
34

اک معما ہے زندگی ان کی
نہ وہ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں
ہم تو اس بات کو سمجھ نہ سکے
کس طرح سے یہ لوگ جیتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
35

وہ رہ و رسم چھوڑ دیں اپنی
حق شناسی سے تو نہ پھر جانا
چھپ گئے ہیں یہیں وہ پردیسی
تجھے لازم ہے ڈھونڈھ کر لانا

[اصل بیت پڑھیں]
36

رات کو رام سے لگائیں دھیان
بھور ہوتے ہی وہ کریں اشنان
اور پھر موسمی پھلوں کی بانٹ
یہ ہے دیوانے جوگیوں کی آن

[اصل بیت پڑھیں]
37

ابھی بیٹھے تھے سرنگوں سارے
اب زمیں میں گڑے ہیں کیوں جوگی
کچھ تو دیکھا ہے ان کی آنکھوں نے
محو حیرت کھڑے ہیں کیوں جوگی

[اصل بیت پڑھیں]
38

جھولیوں میں تھا کچھ نہ گدڑی میں
ان کو دیکھا تھا میں نے خالی ھات
پھر بھی قسمت سے مل گئی مجھ کو
ان کے در سے نہ جانے کیا سوغات

[اصل بیت پڑھیں]
39

جھے زیبا ہے معتکف جوگی!
چھوڑ کر ظاہری لباس آئے
لذت درد پر قناعت کر
بھوک کا غم نہ تیرے پاس آئے
سانس لے تو فضا مہک اٹھے
چار سو دور دور باس آئے

[اصل بیت پڑھیں]
40

ان ستاروں کے کارواں سے دور
ماہ و خورشید و کہکشاں سے دور
کارفرمائی مکاں سے دور
شعبدہ کاریٔ زماں سے دور
منزل عمر بے نشاں سے دور
اعتباراتِ جسم و جاں سے دور
اس زمیں اور آسماں سے دور
خلوتِ حسنِ جاوداں سے دور
حق نگر جوگیوں کا مسکن ہے
جن سے وابستہ میرا دامن ہے

[اصل بیت پڑھیں]
سی حرفی

سر کھاہوڑی

پہلی داستان
1

حاصلِ مدعا کو ڈھونڈ لیا
بندگی نے خدا کو ڈھونڈ لیا
کرکے کھاہوڑیوں نے ذکرِ خفی
عشق کی انتہا کو ڈھونڈ لیا
وسعت لا مکاں میں گم ہو کر
جانِ ہر دوسرا کو ڈھونڈ لیا

[اصل بیت پڑھیں]
2

عشق جن کا خدا رسیدہ ہے
میں نے ان عاشقوں کو دیکھا ہے
ان کے اسرار کا بتائے کوئی
جن کے سر دروں پہ پردہ ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

جن کو دیکھا ہے میں نے محو شہود
ان کی صحبت عجیب صحبت ہے
ان کے ساتھ ایک شب بسرہو جائے
وصل جاناں جنہیں ودیعت ہے
موج و طوفاں سے پار کرتے ہیں
قرب ان کا بہت غنیمت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

سوے کہسار گامزن پایا
بھید ان’ڈوتھیوں‘ کا کیا معلوم
محو نظارہ ہیں سرابوں میں
کس لئے روز و شب خدا معلوم

[اصل بیت پڑھیں]
5

پوچھ لے راز آشنائوں سے
ان خوش آواز ڈوتھیوں کا راز
کس طرح ڈُتھ تلاش کرتے ہیں
دشت و کہسار میں بصد اعجاز

[اصل بیت پڑھیں]
6

دور افتادہ ڈُتھ ملے کیسے
دل تن آسانیوں پہ مائل ہے
صبح سے رہ نورد ہیں ڈوتھی
اور تو شام کو بھی غافل ہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

وادیٔ کوہسار میں اکثر
تپشِ آفتاب ہوتی ہے
جل رہے ہیں، انہیں نہ جانے کیوں
آرزوے عذاب ہوتی ہے
اے محبت تری لگن شاید
التہاب التہاب ہوتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

اک مسلسل نجات کی دھن میں
ماوراے حیات جاتے ہیں
اور چمکتے ہوئے سرابوں میں
راحتِ بے حساب پاتے ہیں
ہم سفر کی غنودگی پر وہ
پیچ کھاتے ہیں سٹ پٹاتے ہیں
راز کی بات ہے کوئی اس میں
ڈوتھی کیوں اتنے دکھ اٹھاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
9

دیکھتے ہیں کسی کو جب غافل
دفعتاً پیچ و تاب کھاتے ہیں
کس کو معلوم ان سرابوں میں
کس لئے اتنے دکھ اٹھاتے ہیں
جانتے ہیں رموز عشق مگر
احتیاطاً انہیں چھپاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
10

جسم ان کے غبار آلودہ
دشتِ غم میں رواں دواں ہیں وہ
راز افشا کیا نہیں کرتے
اہلِ دنیا سے بدگماں ہیں وہ

[اصل بیت پڑھیں]
11

عشق کھاہوڑیوں کی فطرتِ ہے
درد ان ڈوتھیوں کی راحت ہے
ان کا سرمایۂ حیات ہے کیا
دردِ الفت غمِ محبت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
12

آئی آواز کوہساروں سے
کوئی کھاہوڑی ہو تو آ جائے
منتظر بزمِ محرمیت ہے
سرگذشت وفا سنا جائے

[اصل بیت پڑھیں]
13

ان کو ڈتھ کی کمی نہیں کوئی
حسب توفیق مل ہی جاتے ہیں
راز داران معرفت ہیں جہاں
دور وہ منزلیں بتاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
14

مقصد زندگی ہے ڈتھ کی تلاش
سہل ان کا اصول ہوتا ہے
ڈوتھی بن کر پہاڑ پر جانا
صرف ان کو قبول ہوتا ہے
جن خدا آشنا فقیروں پر
رحمتوں کا نزول ہوتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
15

مرمٹے ہیں خداے واحد پر
ڈتھ کا ملنا ہے اب انہیں آساں
وہ گھروں میں کبھی نہیں رہتے
چھان مارے ہیں سیکڑوں میداں
چشم پرنم نگاہِ غم آلود
ڈوتھیوں کی ہے بس یہی پہچاں

[اصل بیت پڑھیں]
16

بال بکھرائے پیٹھ پر مشکیں
ان کا عالم عجیب عالم ہے
کوئی دیکھے تو ان کی جست و خیز
ڈتھ ہی ڈتھ کی صداے پیہم ہے
کہہ رہے ہیں کہ جا رہی ہے رات
دور ’ڈونرے‘ ہیں وقت بھی کم ہے

[اصل بیت پڑھیں]
17

ڈتھ کی دھن میں مگن ہیں صبح و شام
ڈوتھیوں پر حرام ہے آرام
دشت، کہسار، وادیاں، میدان
جادہ پیمائی ہے بس ان کا کام
زندگی ہے رواں دواں ہر وقت
محوِ نظارہ ہیں بہر ہنگام
محرمِ لامکاں ہیں کھاہوڑی
کہ سمجھتے ہیں عشق کا انجام
محرمِ رازِ زندگی ہیں وہ
سہل ہی ان پہ زیست کے آلام

[اصل بیت پڑھیں]
18

تشنہ کام سراب عشق ہیں وہ
ان کی راہیں ہیں ریگزاروں میں
سنگ ریزوں سے پیر چھلنی ہیں
جادہ پیما ہیں کوہساروں میں
ایک تیرے سوا مرے پیارے
کون ہے ان کے غم گساروں میں

[اصل بیت پڑھیں]
19

جانتے ہیں وہ منتاے طلب
زحمت انتظار سے واقف
ہر سحر ہے انہیں پیام سفر
سختیِ کوہسار سے واقف

[اصل بیت پڑھیں]
20

سر بسر دشمن تن آسانی
کس کو معلوم کب وہ سوتے ہیں
ان کو ڈتھ کی تلاش رہتی ہے
کب وہ بیکار وقت کھوتے ہیں
چھوڑ کر اپنی دھونیاں ڈوتھی
ننگے پاؤں روانہ ہوتے ہیں
سعیِ پیہم سے پیار ہے ان کو
نت نیا انتظار ہے ان کو

[اصل بیت پڑھیں]
21

پائوں میں ہیں شکسہ چاکھڑیاں
اور چہرے نہ جانے کیوں مغموم
اشک آنکھوں میں آرزو دل میں
بھید ان کا کسی کو کیا معلوم
ان کو حاصل وہ محرمیت ہے
جس سے ہر آگہی رہی محروم

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

میں برکھا رت بن جائوں
نینوں سے نیر بہائوں
جب پیا ملن کو جائوں
کاٹوں دن رات سفر میں
انجانی پریت ڈگر میں
میں لوٹ کے پھر نہ آئوں
جب پیا ملن کو جائوں
ہر وقت ’لطیف‘ ہے کہتا
مجھ کو ہے دھیان اسی کا
گن اس کے ہی میں گائوں
جب پیا ملن کو جائوں

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

جن کو گنجے پہاڑ کی آواز
دے گئی ہے پیامِ پراسرار
ہوگئے ہیں وہ لوگ لاہوتی
چھوڑ کر اپنے سارے کاروبار

[اصل بیت پڑھیں]
2

اڑ گئی نیند ان کی آنکھوں سے
بس گیا جن میںانتظار اس کا
ہوگئے بے نیاز سود و زیاں
پڑ گیا جن پہ بھی غبار اس کا

[اصل بیت پڑھیں]
3

ہوگئے سر بسر وہ لاہوتی
مل گئی جن کے دل کو بینائی
جانے کس جستجو میں کھوئے گئے
چھوڑ کر جسم و جاں کی خود رائی
حرصِ دنیا پہ آگئی غالب
عزمِ راسخ کی ہمت افزائی
راز سربستہ کر گئی ظاہر
ان کے قلب و نظر کی یکتائی
دے رہی ہے پیام جست و خیز
عشق پروردہ کوہ پیمائی

[اصل بیت پڑھیں]
4

ہر جھلک سنگلاخ کی ان کو
دفعتاً بے قرار کرتی ہے
وسعت کوہ کو نظر ان کی
کس تمنا سے پیار کرتی ہے
لیکن اے دوست جستجو ایسی
دل کو پر انتشار کرتی ہے
ہر شکست غرور انساں کو
کس قدر کامگار کرتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

کھینچتا ہے وہ کوہِ پراسرار
جس کو بھی اس کا ہو گیا دیدار
اس کی راہوں پہ چلنے والو بڑھو
اب یہاں سے ہے لوٹنا دشوار

[اصل بیت پڑھیں]
6

فہم و ادراک سانپ کے مانند
پیدا کرتے ہیںدل میں اک ہیجان
ہاںمگر اس نے انگبیں پایا
جو بھی اس راہ میں ہوا حیران

[اصل بیت پڑھیں]
7

محرم لا مکاں ہیں کھاہوڑی
اپنی دھن میں رواں ہیں کھاہوڑی
دم بخود ہیں یہاں پرندے بھی
کیا بلند آشیاں ہیں کھاہوڑی
شعلۂ عشق آتش افشاں ہےl
حسن کے رازداں ہیں کھاہوڑی

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

میں برھن جیسی بھی ہوں
پر اس کی ہی داسی ہوں
اس آری جام سجن کے
چرنوں کی دھول بنی ہوں
انجانی کیچ ڈگر میں
میں ساری رات پھری ہوں
کہتا ہے ’لطیف‘ ہمیشہ
میں اس کی پریت لڑی ہوں
یہ جیون دین ہے اس کا
میں داسی جو اس کی ہوں
جس پردیسی کے کارن
پربت پربت بھٹکی ہوں

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

محو آہ و فغاں ہیں کھاہوڑی
کیا ہوا ہے انہیں خدا معلوم
جب سے یہ ہو گئے ہیں لاہوتی
دل میں ہے کوئی دردِ نامعلوم
بند ہیں ان کے چشم و گوش و زبان
راز ان کا کسی کو کیا معلوم

[اصل بیت پڑھیں]
2

رسم و راہ زمانہ سے بیزار
کوئی منزل نہیں انہیں درکار
پائوں کی گرد کوہ و صحرا ہیں
سنگ ریزوں سے پاؤں خوں افشار
جن کی منزل ہے عالمِ لاہوت
ان کو آساں ہے جادۂ دشوار
راہ پیماے معرفت ہیں وہ
ان کو معراج عشق ہے سرِ دار

[اصل بیت پڑھیں]
3

دل کے سوز و گداز میں جلنا
ہر ثوابِ عظیم سے بہتر
محرمانہ غلط روی اکثر
جادۂ مستقیم سے بہتر

[اصل بیت پڑھیں]
4

رہ رووں کا ہجوم گھبرا کر
لوٹ آیا رہِ حقیقت سے
طے کئے جا رہے ہیں دیوانے
جادۂ دوست کو عقیدت سے
ان کو فکر تعینات نہیں
آشنا ہیں رموزِ وحدت سے

[اصل بیت پڑھیں]
5

گامزن جادۂ یقین پر ہیں
ان کا دل ہے امین سوز و گداز
چاہے کس سمت سے پکارے کوئی
وہ ہمیشہ ہیں گوش بر آواز

[اصل بیت پڑھیں]
6

ان کے اونٹوں کی خاک پا سے پوچھ
کن کڑی منزلوں سے آئے ہیں
ان حقیقت شناس لوگوں نے
دور دیسوں سے دل لگائے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
7

ساری دنیا کو چھان مارا تھا
تھک کے اب سو گئے ہیں وہ تہِ خاک
روندتے جا رہے ہیں لوگ انہیں
ہائے یہ اختتامِ عبرتناک

[اصل بیت پڑھیں]
8

میں نے پوچھا تو بولے وہ بیباک
یہ سفر ہے بڑا ہی عبرتناک
ان کڑی منزلوں کی وحشت کا
چند لوگوں کو ہو سکا ادراک
راہ میں خشمگیں شکاری ہیں
جو بھی تنہا گیا ہوا وہ ہلاک

[اصل بیت پڑھیں]
9

جانتے ہیں کہ گمرہی کیا ہے
رہبری کیا ہے رہزنی کیا ہے
تارک دوجہاں ہیں کھاہوڑی
اب انہیں کوئی خوف ہی کیا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
10

لگ گئی آگ اس بیاباں میں
وہ کمیں گاہِ رہزناں نہ رہی
ہو گئے ایک طالب و مطلوب
کوئی دیوار درمیاں نہ رہی

[اصل بیت پڑھیں]
11

نوحہ خواں ہیں اداس ویرانے
وہ شکاری کہاں گئے جانے
اب نہ وہ جال ہیں نہ کتے ہیں
صرف باقی ہیں چند افسانے
جانے پھر کب یہاں سے گذریں گے
وہ بیاباں نورد دیوانے

[اصل بیت پڑھیں]
12

ایسے لوگوں سے دور رہنا تم
جن کا مسلک دروغ گوئی ہو
بیٹھ ایسوں میں جن کی صحبت میں
حسن و حق کے سوا نہ کوئی ہو

[اصل بیت پڑھیں]
13

کاش باقی رہے نہ کوئی یار
حسرت کوے یار مٹ جائے
کتنی دل کش ہے وہ اندھیری رات
جس میں ہر رہ گزار مٹ جائے

[اصل بیت پڑھیں]
14

فطرت حسن حسنِ فطرت ہے
نہ کوئی رنگ ہے نہ صورت ہے
ظلمت شب سپیدۂ سحری
اس دوئی میں بھی رازِ و حدت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
15

طلب حسن میں گناہِ عظیم
روح پر چشم و گوش کا احساں
آہ یہ رہگزارِ پراسرار
جس میں ہو جاتے ہیں خطا اوساں
پا نشینانِ کوے جاناں کو
میں نے دیکھا ہے سر بسر حیراں
سہل اندیش لوگ کیا جانیں
حسنِ مشکل پسند کی پہچان

[اصل بیت پڑھیں]
16

جستجوے دوام سے پیدا
روح میں ارتعاش کرتے ہیں
کوہساروں پہ خیمہ زن ہو کر
ڈوتھی ڈتھ کی تلاش کرتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
17

کون جانے کب آئیں گے ڈوتھی
ڈتھ کی خاطر ادھر بصد ارماں
جن میں کل خیمہ زن تھے کھاہوڑی
آج وہ کوہسار ہیں ویراں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

اپنا کے انہیں تو نے نادان، کب اپنے آپ کو پہچانا
اب ڈھونڈہ رہی ہے کیا اس میں بیکار ہے تیرا کاشانہ
گر ان کے ساتھ چلی جاتی ،تجھ پر یہ مصیبت کیوں آتی
تو ان کے الائو سے لوٹ آئی، لازم تھا اسی میں جل جانا
دل ریت کی صورت بیٹھ گیا، اب سانسیں آہیں بھرتی ہیں
رگ رگ میں چبھن سی ہوتی ہے اف تیرا تڑپنا تڑپانا
تو سمجھی تھی وہ اپنے ہیں چھوٹے گا نہ ان کا ساتھ کبھی
لیکن تری چاہت سے ان کو پایا ہے میں نے بیگانہ

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

جو گہری نیند میں سوتی ہے
وہ ناداں سب کچھ کھوتی ہے
دکھ دیکھو تو اس برھن کا
جو پیا سے بچھڑ کر روتی ہے
جو دیکھو نیند سے بوجھل ہیں
کب ان میں من کا موتی ہے
وہ ساجن کو کیا دیکھیں گی
یہ غفلت جن میں ہوتی ہے
ان ہوتوں ہی کے ساتھ گئی
جو تیری جیون جوتی ہے
اب یاد انہیں کرکے پیاری
تو خون کے آنسو روتی ہے
کہتا ہے ’لطیف‘ کہ مل جائے
جو تیرے من کا موتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]

سر پورب

پہلی داستان
1

عجز سے اس کے پاس جا کاگا
پیارے ساجن کے پانو پڑجانا
اس کی دیوار ہی پہ دم لینا
راستے میں نہ دل کو بہلانا
میں نے جو راز تجھ کو سونپا ہے
وہ کسی اور کو نہ سمجھانا
بیٹھ کر اس کے پاس اے کاگا
تم اسے بار بار دہرانا
اور پھر لے کے وصل کا پیغام
میری جانب خوشی سے لوٹ آنا
جو بظاہر ہے دور افتادہ
اس کو مجھ سے قریب تر لانا

[اصل بیت پڑھیں]
2

میرا پیغام لے کے جا کاگا
زیب دیتا ہے تجھ کو بس یہ کام
بیٹھ کر شاخ پر سنا کاگا
میرے پیارے کا پھر کوئی پیغام
جو گئے تھے قلات کی جانب
آنے والے ہیں پھر وہ دل آرام
جا انہیں اپنے ساتھ ہی لے آ
تجھ کو پہچانتے ہیں وہ گلفام

[اصل بیت پڑھیں]
3

کون جانے چلے گئے کس دیس
سوے محبوب پرفشاں ہو جا
اے وفادار و دل نشیں قاصد
تو ہی میرا خبر رساں ہو جا
جو برستی نہیں ترستی ہیں
تو ان آنکھوں کا ہم زباں ہو جا

[اصل بیت پڑھیں]
4

میرے پیارے چلے گئے پردیسی
کاگا جالے کے آ کوئی پیغام
اپنے زردوز سے کرادوں گی
میں پروں پر ترے سنہرا کام

[اصل بیت پڑھیں]
5

بیٹھ کر اس درخت پر کاگا
اپنی بولی میں کچھ سنائے جا
بول کس حال میں ہیں وہ پیارے
ان کی باتیں مجھے بتائے جا
ہر گھڑی جن کی راہ تکتی ہوں
ان سندیسوں سے دل بڑھائے جا

[اصل بیت پڑھیں]
6

میرے آنگن میں بیٹھ کر کوا
مجھ کو پہنچا رہا ہے تیرا سلام
دل کا آرام ہیں تیری باتیں
روح کی ہے غذا ترا پیغام

[اصل بیت پڑھیں]
7

جھونپڑی پر جو آکے بیٹھا تھا
بولو کس نے اسے اڑایا ہے
تم نے سوچا نہ یہ مری سکھیو!
کس کا پیغام لے کے آیا ہے
ہائے تم نے اڑا کے کوے کو
مجھ ستم کش پہ ظلم ڈھایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

آ تجھے دل نکال کر دے دوں
جا کے تم اس کے سامنے کھانا
جب وہ دیکھیں تو یہ کہیں پیارے
ہو گا ایسا بھی کوئی دیوانہ

[اصل بیت پڑھیں]
9

بائیں جانب کی شاخ پر کوا
رازدارانہ کہہ گیا اک بات
کاتنے بیٹھی تھی جو دکھیاری
پھینک کر پونی مل رہی ہے ہات

[اصل بیت پڑھیں]
10

تمہیں غارت کرے خدا سکھیو
بھاڑ میں جائے کاتنے کا کام
چپ تو ہو جائو تاکہ میں سن لوں
جانے کس حال میں ہیں دل آرام
بائیں جانب کی شاخ سے کوا
دینے آیا ہے پھر کوئی پیغام

[اصل بیت پڑھیں]
11

کون ایسے میں کات سکتی ہے
چھا گئے صحن پر غم و آلام
بائیں جانب کی شاخ پر کوا
دے گیا آکے جانے کیا پیغام

[اصل بیت پڑھیں]
12

آکے بیٹھا ہے شاخ پر کوا
پھر سجن کا سلام لایا ہے
اب نہ کاتے کوئی سکھی چرخہ
سن تو لوں جو پیام لایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
13

جھوٹ کب بولتے ہیں وہ کوّے
جو ساجن کے وطن سے آتے ہیں
بیٹھ کر اونچی اونچی شاخوں پر
اس کی باتیں مجھے بتاتے ہیں
میں سمجھتی ہوں ان کی فریادیں
اور وہ پیغام جو سناتے ہیں
باوفا ہیں ’لطیف‘ یہ پنچھی
جو مرے رنج و غم مٹاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
14

تیری آوز سنتے ہی کاگا!
روح دکھ درد بھول جاتی ہے
نافۂ مشک ہے زباں تیری
تجھ سے بوے بہار آتی ہے
تیری دلدوز و دلنشین آواز
جانِ جاں کا پیام لاتی ہے
اپنے پیارے کی بات سن سن کر
آرزو تازگی سی پاتی ہے
دفعتاً عالم تصور میں
بزمِ محبوب جھلملاتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
15

کیوں پڑا ہے زمین پر کاگا!
کچھ بتا یہ تجھے ہوا کیا ہے
جو تجھے ناگوار تھی ابتک
اب وہ گرمی تجھے گوارا ہے
دیکھ کر تیری مردنی پیارے
سارے کوّوں نے غل مچایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
16

راستے سے نہ لوٹ آنا تھا
تجھے ساجن کے پاس جانا تھا
میں نے تجھ کو دیا تھا جو پیغام
یاد کرکے اسے سنانا تھا

[اصل بیت پڑھیں]
17

میرے کاگا یہ تیری جست و خیز
دل نشیں، غم ربا، خیال انگیز
دیکھ کر تجھ کو اس دو شاخے پر
ہوگئی میرے دل کی دھڑکن تیز
تو جو پیغام لے کے جاتا رہے
آتا جاتا رہے وہ کم آمیز

[اصل بیت پڑھیں]
18

جاکے پیارے سے یہ کہو کاگا!
کیوں یہ پردیس تم کو بھائے یں
کونسی ہے وہ ایسی مجبوری
جو یہاں اتنے دن لگائے ہیں
اس دکھی دل کی بھی خبر ہے کچھ
دن مصیبت کے جس پہ آئے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
19

آج پھر مجھ کو دینا ہے کاگا!
ایک خط اپنے جانِ جاں کے نام
چھپ چھپا کر تم اس کو دے دینا
خود پڑھائے کسی سے وہ گلفام
دل یہ کہتا ہے آئیگا وہ ضرور
سن کے دردِ فراق کا پیغام

[اصل بیت پڑھیں]
20

کیوں نہ اترا زمین پر کوا
آخر اس میں تھی راز کی کیا بات
اڑتے اڑتے یہ کہہ گیا مجھ سے
آنے والے ہی ہیں وہ خوش اوقات

[اصل بیت پڑھیں]
21

آ مرے پاس بیٹھ جا کاگا!
میں سنوں تیرے میٹھے میٹھے بول
حال ہے کیا وطن میں پیاروں کا
لا یہاں لا کے ان کے خط کو کھول

[اصل بیت پڑھیں]
22

خط جو لایا ہے آج تو کاگا
اس نے کتنی تسلیاں دی ہیں
میں انہیں بار بار پڑھتی ہوں
جتنی باتیں بھی اس نے لکھی ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
23

کب وہ قاصد ادھر کو آئیں گے
اور خوشی کی خبر سنائیں گے
راہ پیارے کی تک رہی ہوں میں
کب وہ آکر گلے لگائیں گے
یہ جدائی کا درد یہ پردیس
مجھ کو کب تک یوں ہی رلائیں گے

[اصل بیت پڑھیں]
24

تیرے کنبے کا مجھ پہ احساں ہے
اس مصیبت میں میرے کام آنا
دیس پیارے کا ہے جدھر کاگا!
صبحدم تو ادھر کو اڑ جانا
ادب و عجز و انکسار کے ساتھ
اس کو یہ بات جا کے سمجھانا
اور تجھ سا نہیں کوئی محبوب
جانتا ہے تو سب کے دل کو خوب

[اصل بیت پڑھیں]
25

جانے کیا کیا پیام لایا ہے
آج پھولا نہیں سمایا ہے
میری آنکھوں میں بیٹھ جا آکر
کیوں سر شاخ مسکرایا ہے
جو کسی سے نہ ہوسکا کاگا
تو نے وہ کام کر دکھایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
26

میں نے کوے سے جب کہا آنا
حال پیارے کا کچھ سنا جانا
بولا کوّا کہ وہ نہیں غافل
ہاں جدائی میں تم نہ گھبرانا

[اصل بیت پڑھیں]
27

کوئی کتا ہو یا کوئی کوّا
حال اس کا مجھے سنا جائے
اس پہ قربان جاؤں میں سو بار
جو بھی پیارے کے دیس سے آئے

[اصل بیت پڑھیں]
28

پیٹ کی فکر میں ہے وہ کوّا
مردہ لاشیں تلاش کرتا ہے
کیا وہ پہنچائے گا مرا پیغام
جو تن آسانیوں پہ مرتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

توڑوں گی نہ جوگ سے میں ناتا
جوگی کی بات نبھائوں گی
یہ کہہ گئے پیارے آدیسی
میں ہنگلاج کو جائوں گی
رہتے ہیں وہیں وہ بیراگی
پورب میں کھوج لگائوں گی
جس تیرتھ کو کل دیکھا تھا
میں آج بھی دیکھ کے آئوں گی

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

شوق وارفتہ لے چلا مجھ کو
دل میں اک آرزوے دید لئے
جانے کب وہ نگاہ پڑ جائے
پھر رہا ہوں یہی امید لئے

[اصل بیت پڑھیں]
2

سوامیوں کو ہے عشق کا آزار
درد و غم نے انہیں گھلایا ہے
نہ کوئی غم نحیف ہونے کا
نہ انہیں بھوک نے ستایا ہے
دلنشیں ہیں وہ بولتی آنکھیں
جنہیں ہنستے ہوئے اٹھایا ہے
ایک ہی بار دیکھ کر مجھ کو
جو بھی دکھ درد تھا مٹایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

جو تن آسانیوں کا عادی ہے
اس کو کیا حق ہے سوامی کہلائے
کیا ملے گا گرو سے اس کو گیان
دو قدم بھی جو چل کے تھک جائے
چند دانوں کی بھیک کی خاطر
اس نے بیکار کان چھدوائے
خوش مقدر وہی ہے آدیسی
موت سے پہلے ہی جو مرجائے

[اصل بیت پڑھیں]
4

صبحدم جن کے ذکر سے اکثر
دلِ پر شوق ہو گیا مسرور
آخرِ شب وہ پوربی جوگی
بیٹھکیں چھوڑ جا بسے ہیں دور
کس طرح اب ملے گا ان کا سراغ
وہ ہیں مختار اور میں مجبور

[اصل بیت پڑھیں]
5

صبح ہوتے ہی پوربی جوگی
چل دئے سوے منزلِ مقصود
اب نہیں بیٹھکوں میں آدیسی
مشک بو ہے فضائے لامحدود

[اصل بیت پڑھیں]
6

سوے مشرق وہ رہروانِ طلب
کس عقیدت سے بڑھتے جاتے ہیں
ننگ ہے ان کو مستقل آرام
نت نئی بیٹھکیں بناتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
7

جاکے پورب میں جا بجا میں نے
لاکھ ان کا پتا لگایا ہے
لیکن ان جوگیوں کی منزل کا
کس نے اب تک سراغ پایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

کیوں مجھے ان سے ہو گیا ہے عشق
میں کہاں اور کہاں وہ لاثانی
عشق سے سب کو منع کرتی تھی
ہائے نکلی میں آپ دیوانی
سوے مشرق رواں دواں سی ہے
دیدہ و دل کی خانہ ویرانی
جان لیوا ہے دل کی بے تابی
اب کہاں جائوں اے گراں جانی

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

چھوڑ حلال کی روزی کو جو روز حرام کی کھاتے ہیں
سورج ڈوبتے ہی وہ کوّے کاں کاں کرتے آتے ہیں
یہ آنکھوں کے اندھے پنچھی خاک سندرتا کو جانیں
سڑی گلی اور مردہ لاشیں جھپٹ جھپٹ کر لاتے ہیں
ہد ہد اور ہما کو سمجھیں چونچ کٹی چمگادڑیں کیا
دیکھ کے ہنج اور مور کو اکثر یہ بیری جل جاتے ہیں
کوئی انہیں سمجھائے کیسے وہ مورکھ کب سمجھیں گے
کوڑے کرکٹ ہی میں رہ کر جانے کیا سکھ پاتے ہیں
ان کو اپنے حال پہ چھوڑو جاننے والا جانتا ہے
دیکھیں کب تک اس جیون پر وہ یوں ہی اتراتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

اسی کی یہ تخلیق ارض و سما ہے
وہی ان میں شامل وہی ماورا ہے
جدا اس سے بے تاب ہیں دیدہ و دل
وہ پیارا جو رگ رگ میں میری بسا ہے
فریبِ نظر ہے یہ دو دن کی دنیا
وہی ابتدا ہے وہی انتہا ہے
جو سمجھے اسے جو محمدؐ کو مانے
یہ سمجھو کہ اس کا بھلا ہو گیا ہے

[اصل بیت پڑھیں]

سر بلاول

پہلی داستان
1

جن کو صدق و صفا سے نسبت ہے
اُن پہ اس جانِ جاں کی رحمت ہے
جمع ہوتی ہیں گرسنہ روحیں
سب کو عزم و یقیں کی دعوت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

مفسدوں کو نکال کر گھر سے
کرو سلطاں سے امن و صلح کی بات
جاں فروشوں نے پائے ہیں اکثر
اس کے در سے وفا کے انعامات

[اصل بیت پڑھیں]
3

تیری تشنہ لبی پہ حرف نہ آئے
تجھے مل جائے گر شرابِ طہور
سب اسی کے حضور سے لینا
غیر کے سائے سے بھی رہنا دور

[اصل بیت پڑھیں]
4

اے سما! تو ہے تاجدار زماں
ورنہ یوں توبہت سے ہیں سردار
جوق در جوق میں نے دیکھے ہیں
تیرے در پہ ہزاروں خدمتگار
ہر کسی کا ہے اپنا پنا ظرف
تیرے جود و سخا سے کیا انکار

[اصل بیت پڑھیں]
5

تیرے کس کام آئیں گے پیارے
آپ ہی توڑ دے یہ نقارے
اسے غیروں کے در سے کیا سروکار
جس کا حامی ہو ہاشمی سردار

[اصل بیت پڑھیں]
6

اس سے بغض و عناد تھا جن کو
پھر ’سما‘ نے انہیں کو دی آواز
کون ہے ہم پناہ گیروں کا
یار وغمخوار و مونس و دمساز
گر وہ امداد پر ہو آمادہ
مجھ پہ کھل جائیں مغفرت کے راز

[اصل بیت پڑھیں]
7

چھا رہا ہے سکوت کا عالم
متبسم وہ روے زیبا ہے
خوف کیا ہم پناہ گیروں کو
بے وسیلوں کا وہ وسیلہ ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

لاکھ یورش کیا کریں اغیار
پھر بھی ثابت قدم ہے وہ سردار
لائو لشکر سے وہ نہیں ڈرتا
قابل داد ہے وہ خوش اطوار
اے ’لطیف‘ اس کا حوصلہ تو دیکھ
روند ڈالی ہے اس نے ہر یلغار
مہربان ہے پناہ گیروں پر
وہ بہادر وہ مالکِ ہالار

[اصل بیت پڑھیں]
9

جابجا خیمہ زن نہ ہو اے دوست
کوئی اچھا سا ڈھونڈھ لے تالاب
کاش اس ملک میں چلا جائے
جلوہ گر ہے جہاں وہ خوش آداب
جو ہے تیری ہی قوم کا سردار
جس کا پرتو ہے عالم اسباب
دیکھ لے وہ جسے محبت سے
اس پہ کھل جائیں رحمتوں کے باب

[اصل بیت پڑھیں]
10

جو بھی اس کی پناہ میں آیا
نہ رہا اس کو خطرۂ اغیار
وہ غضب ناک ہو کے آیا ہے
بھاگ نکلا ہے لشکرِ جرّار
سر کی بازی لگائی ’ابڑو‘ نے
فوج سلطاں سے ہو گیا دو چار
اور پھر جس طرف نگاہ گئی
زیرِ لب تھا تبسم پندار

[اصل بیت پڑھیں]
11

کتنا خوف و ہراس تھا ہر سو
دفعتاً ’بھج‘ پہ جب ہوئی یلغار
چڑھ کے ہاتھی پہ جب علاء الدین
ساتھ لایا تھا لشکرِ جرار
اس کے حملے کی تاب تھی کس کو
ہاں مگر وہ مرا جری سردار
اپنی مہمان عورتوں کے لئے
کھینچ لی جس نے دفعتاً تلوار
حشر ساماں تھا جنگ کا میدان
ہو گیا جب سمہ ستیزہ کار

[اصل بیت پڑھیں]
12

سائلو! تم اسی کے در پہ چلو
’جکھرے‘ جیسا نہیں کوئی سردار
اس کے جود و سخا کا کیا کہنا
صاحب حلم، پیکر ایثار

[اصل بیت پڑھیں]
13

تابعِ شاہ ہو گئے فوراً
سارے قرب و جوار کے سردار
لیکن ابڑو کو کب گوارا تھا
وہ حریصانہ غلبۂ اغیار

[اصل بیت پڑھیں]
14

جنگلوں میں پناہ دیتا ہے
جیسے کوئی درخت سایہ دار
پیارے ابڑو کا حال بھی ہے یہی
جو ہے اک نیک دل سخی سردار
فیض اس کا مثالِ باراں ہے
جس سے سیراب ہیں سبھی نادار
کون لوٹا ہے در سے خالی ہاتھ
اس نے بخشے ہیں بارہا رہوار
کر سکیں جو برابری اس کی
اب کہاں ہیں وہ صاحب ایثار

[اصل بیت پڑھیں]
15

جو ہیں تیری پناہ میں ابڑو
تو ہے ان بے کسوں کا پالن ہار
کچھ کے راجہ! مگر یہ دھیاں رہے
ترک تجھ پر کریں گے اب یلغار

[اصل بیت پڑھیں]
16

اپنے وابستگانِ دامن کو
موج و طوفان سے پار اتارے گا
عرصۂ حشر میں رفیقوں کو
اب وہ خیر البشر پکارے گا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

میں انجان رہی، غفلت میں ساری عمر گئی بیکار
تجھ کو خبر ہے سب کچھ پیارے خادم ہوں میں اے ستار
غیب کی باتیں تجھ پر ظاہر، رحم سراپا تیری ذات
مجھ میں عیب ہزاروں لیکن تیرے کرم سے کب انکار
دل ہو شگفتہ مثلِ گل تر آنکھوں کی امید بر آئے
’سید‘ کو ہو جائے میسر کاش مدینے کا دیدار

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

پھر وہی شہسوار آیا ہے
دور آسودگی کا لایا ہے
شیر کی طرح پیارے جکھرونے
سب حریفوں کا دل ہلایا ہے
اس کی حمد و ثنا کروں کیا کیا
جس خدا نے اسے بنایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

ایک جکھرو ہے قابلِ تعریف
کوئی سردار ہے نہ کوئی جام
بس وہی لائقِ ستائش ہے
یوں تو مشہور ہیں ہزاروں نام
ختم ہے اس پہ حسنِ صنّاعی
اس کے دلدادہ ہیں خواص و عام

[اصل بیت پڑھیں]
3

وہ بیٹھی ہیں تجھی سے لو لگائے
غنیمت ہیں ترے دامن کے سائے
کوئی ایسی خبر مجھ تک نہ لائے
جو میرا غمزدہ دل توڑ جائے
تجھے میں زندہ و پائندہ پائوں
تو اے جکھرو ہر ایک غم بھول جائوں

[اصل بیت پڑھیں]
4

یہ سب کچھ اس کے ہی زیرنگیں ہے
وہ جکھرو لائق صد آفریں ہے
نظر آئے بہت سردار مجھ کو
مگر اس کا کوئی ثانی نہیں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

جسے حاصل ہو جکھرو کی حمایت
اسے پھر اور کس کا آسرا ہو
وہاں چھوٹے کنوئوں کی کیا ضرورت
جہاں سر چشمۂ مہر و وفا ہو

[اصل بیت پڑھیں]
6

ڈھونڈ لے ایک پر فضا چشمہ
اب نہ پی گھاٹ گھاٹ کا پانی
دل کو صدق و صفا پہ مائل کر
اے طلب گار فضل ربانی

[اصل بیت پڑھیں]
7

رات دن اس کے میکدے میں ہجوم
وہ پلاتا ہے سب کو جام پہ جام
اسکے دروازے سے نہیں لوٹا
آج تک کوئی شخص تشنہ کام

[اصل بیت پڑھیں]
8

کوئی دیکھے تو یہ رواداری
مہرباں سب پہ ہے وہ دل آرام
وہ سخاوت میں حاتم ثانی
فیض جاری ہے صبح ہو یا شام

[اصل بیت پڑھیں]
9

یاد اس کو رہا نہ پھر کوئی
جس کو بھی اس کا ہو گیا دیدار
راحت جاں ہے اس کا ہر پیغام
پیارا جکھرو ہے قوم کا سردار

[اصل بیت پڑھیں]
10

ہفت اقلیم میں ہے تو مشہور
مرحبا میری قوم کے سردار
مسجدوں کے مسافروں کو بھی
تو نے بخشے ہیں قیمتی رہوار
تیرے جود و سخا کا کیا کہنا
کوئی دیکھا نہ تجھ سا خوش اطوار

[اصل بیت پڑھیں]
11

جس نے دیکھا ہے وہ سخی جکھرو
کیا رہے اس کو اور کوئی یاد
ان کا حامی ہے وہ سما سردار
جن کی سنتا نہیں کوئی فریاد

[اصل بیت پڑھیں]
12

کوئی ویسا نہیں ہوا ابتک
سارے نبیوں کا پیشوا ہے وہ
لقب اس کا ہے ہادیٔ برحق
سر بسر رحمت خدا ہے وہ

[اصل بیت پڑھیں]
13

سندھ اور ہند میں نہیں کوئی
کر سکے جو برابری اس کی
اس کے جود و سخا کا کیا کہنا
سخت مشکل ہے ہمسری اس کی
تو اسی در سے مانگ اے سائل
کر کے تسلیم برتری اس کی
جادۂ مغفرت دکھاتی ہے
دور اندیش رہبری اس کی

[اصل بیت پڑھیں]
14

وہ امیدوں کا بحرِ بے پایاں
نہیں محدود چند دھاروں تک
جیسے دریائے گنگا کی موجیں ہیں
دور افتادہ کوہساروں تک

[اصل بیت پڑھیں]
15

چھوڑ بھی دے یہ حیلہ و حجت
پیارے جکھرے کا رازداں ہو جا
گنگا جل کی جہاں روانی ہے
تو اسی کوٹ میں نہاں ہو جا
یاد اللہ میں فنا ہو کر
بے نیاز غمِ جہاں ہو جا

[اصل بیت پڑھیں]
16

اس کے جود و سخا کا کیا کہنا
وہ دل خوش خصال رکھتا ہے
اور غضبناک ہو کے بھی اکثر
دشمنوں کا خیال رکھتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

ہمیں ہے اسی کی رضا کا سہارا
وہی راہبر اور حامی ہمارا
میں جائوں میں جائوں میں جائوں میں جائوں
ادھر کاش ناقے کو لائے وہ پیارا
وہ ہادی کہ ہے نام جس کا محمد
اسی کی شفاعت اسی کا سہارا
نجات اس کو ہو گی غمِ دو جہاں سے
وہ کردے گا جس کے لئے بھی اشارا
’لطیف‘ اس کا لطف و کرم جاو داں ہے
دو عالم کو جس نے بنایا سنوارا

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

میرا پرسان حال تھا نہ کوئی
تو نے ہی مجھ پہ التفات کیا
تیرے جود و سخا نے اے کامل
کتنے ہی حاتموں کو مات کیا

[اصل بیت پڑھیں]
2

پیارے جکھرو کے پاس ہی جانا
بن کے آیا ہے تو اگر سائل
عشق کی آبرو نہ کھودینا
ہو کے اب غیر کی طرف مائل
اس سخی کے سوا ہر اک در پر
تیرا عجز و نیاز لاحاصل

[اصل بیت پڑھیں]
3

چھیڑ جا کر اسی کے در پر ساز
جس نے رہوار بھی کئے ہیں عطا
کتنے ننگے سروں کو ڈھانپا ہے
سایۂ حق ہے اس سخی کی ردا

[اصل بیت پڑھیں]
4

کیسے کیسے غریب اور نادار
اس کے ہی در سے فیضیاب ہوئے
سائلان شکستہ خاطر پر
اس کے الطاف بے حساب ہوئے
تھیلیاں موتیوں کی آپہنچیں
جب بھی کچھ لوگ باریاب ہوئے
دور جکھرو کا جب سے آیا ہے
رنج و حرماں خیال و خواب ہوئے

[اصل بیت پڑھیں]
5

کیوں ہے اس کی عطا سے تو محروم
نہیں جس کی نوازشوں کا حساب
جن کو عریاں تنی کا شکوہ تھا
ان کے تن پر ہیں اطلس و کمخواب
تشنہ لب سائلوں کو جکھرو نے
جامِ شفقت سے کر دیا سیراب

[اصل بیت پڑھیں]
6

وہ سلامت رہیں سدا یا رب
جن کے سایے میں دن گزارے ہیں
تا ابد خشک ہو نہ وہ چشم
جس میں لطف و کرم کے دھارے ہیں
ربط ہے جن سے دیدہ و دل کو
وہ دل آرام کتنے پیارے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
7

ایک ٹھنڈا کنواں ملا مجھ کو
مٹ گئی ساری تشنگی میری
اس بیاباں میں بھی مرے پیارے
تو نے ہی کی ہے رہبری میری

[اصل بیت پڑھیں]
8

بیکسوں اور عاجزوں کا یار
کتنے فاقہ کشوں کا پالن ہار
ہر کسی کا خیال رکھتا ہے
وہ جواں حوصلہ سما سردار

[اصل بیت پڑھیں]
9

یوں تو اکثر سنا ہی کرتی تھی
سب کا ہے کارساز وہ سردار
ماں! مجھے دیکھ کر یقیں آیا
واقعی وہ سما ہے پر ایثار

[اصل بیت پڑھیں]
10

پیارے جکھرو کو دیکھ کر سائل
کیوں نہ ہو جائے سرخوش پندار
ایک ہی گھونٹ میں کیا اس نے
پینے والوں کو اس قدر سرشار
جیسے اک بیقرار عاشق کو
عین خلوت میں ہو وصال یار

[اصل بیت پڑھیں]
11

وہ اٹھا ہے تو آج پھر ہوگی
سونے چاندی کی ہر طرف برسات
پیارا جکھرو ہے صاحبِ ایثار
اس کے جود و سخا کی ہے کیا بات

[اصل بیت پڑھیں]
12

جو ہیں بے یار و بے سر و ساماں
ان پہ ہوں گے سما کے احسانات
اس سے دامن کشاں رہیں گے جو
وہ نہ پوچھے گا جا کے ان کی بات

[اصل بیت پڑھیں]
13

عمر اس کی دراز ہو یا رب
مجھ کو جس جام کا سہارا ہے
ہر نظر اس کی بے کسوں کی طرف
اک محبت بھرا اشارا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
14

آرزو تھی یہ موجِ گنگا کو
سامنے آئے وہ سما سردار
اب کھڑی ہے نیاز مندانہ
دیکھ کر اس سخی کو گوہر بار

[اصل بیت پڑھیں]
15

مے کی قیمت ہزار بڑھ جائے
پر چھلکتے رہیں گے اس کے جام
نہیں لوٹا ہے تشنہ لب کوئی
جکھرو کے میکدے میں اذن ہے عام

[اصل بیت پڑھیں]
16

جوش میں ہے وہ چشمۂ رحمت
موجزن کتنے آب گیر ہوئے
ان کو سیراب کردیا فوراً
جکھرو کے در کے جو فقیر ہوئے
شاہ ہو یا گدا کوئی سید
سب ہی آسودۂ ضمیر ہوئے

[اصل بیت پڑھیں]
چوتھی داستان
1

دیدنی اس کی آشنائی ہے
ایک ہی در سے لو لگائی ہے
کیاکہیں کیوں ’وگند‘ کے سر میں
کھانے پینے کی دھن سمائی ہے!
اس گدا کے مشام جاں میں آج
اس کی بوے بہار آئی ہے
جس کے گھوڑے کی لید بھی اکثر
اس قدر پیار سے اٹھائی ہے!
کھانے پینے کے شوق میں اس نے
ہر مصیبت گلے لگائی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

دل کو عطار سے لگایا ہے
پاے مرشد پہ سر جھکایا ہے
جسم گندا غلیظ بدبودار
حال دانستہ یہ بنایا ہے
پھر بھی دیکھو وگند کی صورت
کیسے حلیے میں آج آیا ہے!

[اصل بیت پڑھیں]
3

دیکھتا ہوں کہ دوزخی بن کر
بارہا وہ وگند آیا ہے
لیکن اکثر نگاہِ ’سید‘ نے
اس کو جنت نشاں بنایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

کوئی دیکھے وگند کی صورت
پھر وہ مکروہ بے نماز آیا
ایسا آیا جھپٹ کے خوشبو پر
جیسے تیتر پہ کوئی باز آیا!

[اصل بیت پڑھیں]

سر سارنگ

پہلی داستان
1

یہ دہقان کیوں ہیں اپنے جھونپڑوں میں
کہوں ان سے کہ میدانوں میں آئیں
سیہ بادل برستے جا رہے ہیں
چراگاہوں میں چوپائو کو لائیں
"لطیف" اللہ کی رحمت ہو ان پر
مرادیں اپنے اپنے دل کی پائیں

[اصل بیت پڑھیں]
2

سیہ بادل فلک پر چھا رہے ہیں
مسلسل رحمتیں برسا رہے ہیں
کس و خاشاک کے پژمردہ چہرے
تر و تازہ سے ہوتے جا رہے ہیں
’لطیف‘ اس ذاتِ باری کے کرم سے
یہ دہقاں زندگی سی پا رہے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
3

نہیں ان بادلوںسے پیار مجھ کو
نہ ہو جب تک ترا دیدار مجھ کو
دل وارفتہ کو جن کی لگن ہے
نظر آئے نہ وہ آثار مجھ کو
کہیں بہتر برستے بادلوں سے
تمناے وصالِ یار مجھ کو

[اصل بیت پڑھیں]
4

جب آیا دیس میں ساجن تو فوراً
قرار آیا مرے قلب و جگر کو
نہ پھر باقی رہا دکھ درد کوئی
سکوں دیدار نے بخشا نظر کو

[اصل بیت پڑھیں]
5

شمالی بادلوں کی آبیاری
مٹا دیتی ہے سب کی بیقراری
وہ بیچارے ہوئے سیراب آخر
مسلسل تشنگی تھی جن پہ طاری

[اصل بیت پڑھیں]
6

آ رہے ہیں شمال سے بادل
ملک بارش سے ہو گئے آباد
میرے اللہ، میرے ساجن کو
آ نہ جائے کوئی سفر پھر یاد

[اصل بیت پڑھیں]
7

کوکتی ہے شمال میں کوئل
ہل کسانوںنے کرلئے تیار
گلہ بانوں پہ کیف طاری ہے
دیکھ کر یہ فضاے خوش آثار
ابرِ باراں کے پیرہن میں آج
کتنا پرکیف ہے جمال یار

[اصل بیت پڑھیں]
8

بدلیان پھر شمال سے برسیں
ہر طرف سرمئی گھٹا چھائی
ہو گئے شاد کام چوپائے
ڈالی ڈالی نے تازگی پائی

[اصل بیت پڑھیں]
9

اٹھ رہے ہیں شمال سے بادل
اور موسم ہے برق و باراں کا
روٹھنا چھوڑ، لوٹ آ پیارے
وقت آیا وفاے پیماں کا

[اصل بیت پڑھیں]
10

کالے بادل شمال سے امڈے
برق و باراں کی بات بن آئی
آئے پردیس سے مرے ساجن
ہر طرف ہے عجیب رعنائی

[اصل بیت پڑھیں]
11

چھا رہے ہیں شمال کے بادل
روح پرور ہے موسمی برسات
پھر خوشی کی ترنگ میں بدلے
غمزدہ سانگیوں کے احساسات

[اصل بیت پڑھیں]
12

آج دل پر ہے یورشِ جذبات
آگئی یاد تیری ہر اک بات
یہ گھٹائیں یہ جھومتا ساون
جاگ اٹھے خوشگوار احساسات
تو اگر پاس ہو تو اے محبوب
میرے گھر صبح و شام ہے برسات

[اصل بیت پڑھیں]
13

اٹھ رہے ہیں شمال سے بادل
اب مدینہ کی سمت جائیں گے
لے کے فیضانِ روضۂ اطہر
تپتے صحرا کو لوٹ آئیں گے
بات بن آئے گی سنگھاروں کی
وہ پیام بہار لائیں گے
پھیل جائے گی مشک کی خوشبو
جب فضا پر وہ آکے چھائیں گے
دشت و در میں چہل پہل ہوگی
وہ نئی بستیاں بسائیں گے

[اصل بیت پڑھیں]
14

پھر سے لبریز ہوگیا ’نارا‘
بارشیں کتنی رحمتیں لائیں
بجلیاں بدلیوں کو برساتی
چوم کر روضۂ رسول آئیں
منظرِ ابرو باد کیا کہیے
پڑ رہی ہے پیا کی پرچھائیں

[اصل بیت پڑھیں]
15

ہوگیا صاف دل کا آئینہ
آرزوے وصال بر آئی
ہوںگی رازو نیاز کی باتیں
صورت جانِ جاں نظر آئی

[اصل بیت پڑھیں]
16

خلق کی تشنگی بجھانے کو
بدلیاں پھر سے لوٹ آئیں ہیں
بجلیاں سرمئی گھٹائوں میں
جوے آب حیات لائی ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
17

گائیں بھینسیں ہوئیں تر و تازہ
اور بچھڑے بھی اب توانا ہیں
یہ برستی ہوئی گھٹائیں بھی
جوش رحمت کا اک بہانا ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
18

کچھ خبر بھی ہے تجھ کو اے بادل
آ بتائوں میں راز کی اک بات
دیکھ لیتا جو میری آنکھوں کو
پھر نہ تھمتی کبھی تری برسات

[اصل بیت پڑھیں]
19

سر میں بادل سے کچھ امنڈتے ہیں
اور آنکھوں میں ہے گھٹا چھائی
حسن جاناں سے ملتی جلتی ہے
ابر و باراں کی شانِ رعنائی
ان نگاہوں کی منتظر ہوں میں
جن کا اعجاز ہے مسیحائی

[اصل بیت پڑھیں]
20

بادلوں کی اڑان ہو کہ نہ ہو
چشمِ غم کی گھٹا نہیں جاتی
اے غریب الدیار دوست تری
یادِ مہر و وفا نہیں جاتی
کیوں نہ روئیں سپرد گانِ وفا
کششِ دیرپا نہیں جاتی

[اصل بیت پڑھیں]
21

میرے پیارے یہ تیرے احسانات
مٹ گئے رنج و غم کے احساسات
اس برس ہوگئی ہے پھر ہر سمت
موسلا دھار موسمی برسات
اب غمِ قحط و آب و دانہ نہیں
ہر طرف ہے اناج کی بہتات

[اصل بیت پڑھیں]
22

بھینسیں اور گھوڑے میرے در پر ہوں
عیش و آرام سب میسر ہوں
میرے پہلو میں ہو مرا پیارا
اور مہکتے ہوئے سے بستر ہوں
عیش پروردہ ہوں میرے دن رات
اور ہوتی رہے سدا برسات

[اصل بیت پڑھیں]
23

ہوگئی باغ و راغ میں برسات
جاگ اٹھے ہیں خوشی کے احساسات
تر و تازہ ہیں آج کل بھینسیں
اور گھر گھر ہے دودھ کی بہتات
کوئی دیکھے ’سنگھاریوں‘ کا حال
سب نے مکھن میںبھرلئے ہیں ہات
ہو گئے صحن و بام و در آباد
ذات باری کے ہیں یہ احسانات

[اصل بیت پڑھیں]
24

دیکھ پیاسوں کا حال اے بادل
آج برسا دے جابجا پانی
دور ہو یہ اناج کی قلت
اور ہر چیز کی ہو ارزانی
پھر ’سنگھاروں‘ کو تو عطا کردے
فارغ البالی و فراوانی

[اصل بیت پڑھیں]
25

دیکھتی ہے صدف بوقتِ سحر
آسمانوں پہ ابر باراں کو
ایک سا انتظار ہے اس کا
آہوئے دشت اور انساں کو
ایک مدت سے ہے امید کرم
تشنہ مرغابیاں پراں کو
کوئلیں ہوگئیں ترنم ریز
دیکھ کر موسم در افشاں کو
کاش یہ پھر برس پڑے اک بار
سیر کر دے زمین ویراں کو

[اصل بیت پڑھیں]
26

میرے پیارے نہ بیچ بھینس کوئی
خوبصورت یہ پورا گلۂ ہے
اور یہ بھیڑیں لحیم ہوں کہ نحیف
تجھ کو سب کا خیال رکھنا ہے
چھوڑ دے یہ فراز کے میداں
تیرے حق میں نشیب اچھا ہے
اب تیرے صحن میں پیام یار
آخر اے دوست آنے والا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
27

جوت کر ہل یہ غمزدہ ہاری
تیری برسات کے لئے ترسے
اور تو آسمان پہ اے بادل
یوں ہی منڈلا رہا ہے بن برسے!

[اصل بیت پڑھیں]
28

بجلیاں بادلوں کو لے آئیں
ہر طرف خوب ہو گئی برسات
سارے میدان ہوگئے شاداب
فیض رحمت کے ہیں یہ احسانات

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

سجدے میں سر کو جھکائے ہوں
اللہ سے آس لگائے ہوں
جب صور کی آواز آئے گی
سورج کی تپش جھلسائے گی
وہ روح کہاں گھبرائے گی
جو پیارے نبی کو پائے گی
محبوب خدا کے وعدے کو
اپنا ہمراز بنائے ہوں
اللہ سے آس لگائے ہوں

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

لاکھ کی طرح کالی کالی سی
سرمئی بادلوں کی رنگت ہے
جیسے کوئی رنگا دوپٹا ہو
ایسی ان بدلیوں کی صورت ہے
’بھٹ‘ ہی پر کیا کراڑ پر بھی آج
گہر افشاں سحابِ رحمت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

آج سوے شمال برقِ تپاں
مثلِ شاخ ِ سمن لہکتی ہے
سبزۂ ریگزار ہے لرزاں
یا کوئی گلبدن مہکتی ہے
بھٹ پر آئے رواں دواں بادل
زندگی چار سو چہکتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

ہر طرف ہو رہی ہے پھر برسات
پھر ’مکھی‘ اور ’کراڑ‘ ہیں لبریز
موسم نو بہار آیا ہے
’پب‘ کے گرد و نواح ہیں گل بیز
کیا سہانا سماں دکھاتا ہے
ریگزاروں پہ سبزۂ نوخیز
ترہیں، ’ھڑکی‘، ’گڑنگ‘ و ’ماکانی‘
دور و نزدیک بھر گیا پانی

[اصل بیت پڑھیں]
4

رات بھر خم کے خم لنڈہائے ہیں
ابرِ باراں نے بے دریغ و درنگ
نغمۂ سرمدی برستا ہے
چھڑ گئے ہر طرف رباب و چنگ
ہو رہی ہے ’پڈام‘ پر برسات
ہائے یہ ابرہاے رنگارنگ

[اصل بیت پڑھیں]
5

مینہ اور نینہ کیوں مففیٰ ہیں
یہ فقط اتفاق ہی تو نہیں!
دیکھ کر جلوۂ گریزاں کو
وقف نالہ ہے آج ابر حزیں
شاید اے دوست دیکھ کر تجھ کو
میں بھی ہو جائوں مثلِ ابر غمیں

[اصل بیت پڑھیں]
6

پھربرس جائے تو کہیں بادل
یاد آجائے وہ مرا پیارا
تربتر ہوں یہ کھیت یہ میداں
پھر ہو ان مہوشوں کا نظارا

[اصل بیت پڑھیں]
7

دیکھ کر ابر و برق و باراں کو
کتنی مایوس ہوگئی ہیں آج
ہائے یہ بدنصیب بیوائیں
داغِ دل دے گئے جنہیں سرتاج
وہ جہاں سر چھپائے بیٹھی ہیں
ہو نہ جائیں وہ جھونپڑے تاراج
کون ان کا ترے سوا یا رب!
رکھیو ان کے دکھی دلوں کی لاج

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

چرنوں پہ سیس جھکائوں گی
ساجن کے دوارے جائوں گی
مرے من کی آگ سلگنے دو
تن جلتا ہے تو جلنے دو
یہ اگنی میں نہ بجھائوں گی
ساجن کے دوارے جائوں
پائل ہے پریت کی پانووں میں
پریتم ہیں مری آشائوں میں
میں ناچوں گی اور گائوں گی
ساجن کے دوارے جائوں گی

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

کیسی ساز و سرود کی رت ہے
وہ اڑا ابر وہ گھٹا چھائی
موسلا دھار بارشیں لائیں
مستی کیف و رنگ و رعنائی
کتنے خوش ہو رہے ہیں چوپائے
دیکھ کر سبزہ زارِ صحرائی
کون دیکھے سنگھاریوں کے ٹھاٹھ
وہ گلوبند اور وہ زیبائی
ہل اٹھائے ہیں پھر کسانوں نے
جسم میں ہے نئی توانائی
عام ہے اب اناج اور مکھن
وہ مصائب ہیں اور نہ مہنگائی
لے کے آئی ہے جلوۂ صد رنگ
میرے پیارے کی شان یکتائی

[اصل بیت پڑھیں]
2

’رائک‘ اور ’پل‘ پہ ہو گئی بارش
’لوتڑی‘ کا نشیب بھی سیراب
دور و نزدیک بھر گیا پانی
سارے دشت و جبل ہوئے شاداب

[اصل بیت پڑھیں]
3

میرے پیارے ابھی سکوں کیسا
آ رہا ہے شمال سے طوفان
برق و باراں کی یورشیں ہوں گی
چھوڑ دے یہ نشیب کے میداں
چل وہاں چل کے جھونپڑی ڈالیں
برق و باراں سے ہو امان جہاں

[اصل بیت پڑھیں]
4

آہیں بھرتی ہے روح وارفتہ
میرے پیارے تجھے خدا لائے

[اصل بیت پڑھیں]
5

رنگ لائی ہے آخری بارش
صلۂ رنج و غم وصول ہوا
جوش رحمت کو آگیا کیسا
کس کا عجز دعا قبول ہوا

[اصل بیت پڑھیں]
6

آئے برسات کی طرح پیارے
ان کی آغوش ہوگئی آباد
جن کو آتی رہی ہے ساری عمر
اپنے بچھڑے ہوئے سجن کی یاد

[اصل بیت پڑھیں]
7

دل مرا شام ہی سے گھبرائے
میں ہوں بے چین کون بہلائے
جھونپڑی اور سردیوں کی رت
رات بھر تیری یاد تڑپائے
یہ ہوا یہ خنک خنک بستر
کیسے تیرے بغیر نیند آئے
نیند آجائے تیرے پہلو میں
جنت جاودانہ مل جائے

[اصل بیت پڑھیں]
8

ابر رحمت برس گیا شب کو
تر بتر ہوگئے ہیں میرے بال
صبحدم آگئے مرے ساجن
ہوگئی میری جھونپڑی خوشحال

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

ساری دنیا ہے شیدائی
صلی اللہ تیری زیبائی
سجدے میں ہیں دونوں عالم
شوکت کسری درہم و برہم
تیرا پر تو عرشِ اعظم
تو ہے نورِ ازل کا محرم
وہ تری جلوہ آرائی
ساری دنیا ہے شیدائی
صلی اللہ تری زیبائی
پانو کی تیری دھول بھی پیاری
قسمیں کھائے ذاتِ باری
ہر سو تیرا فیض ہے جاری
جاگ اٹھی تقدیر ہماری
بارش رحمت نے برسائی
ساری دنیا ہے شیدائی
صلی اللہ تری زیبائی

[اصل بیت پڑھیں]
چوتھی داستان
1

پردۂ ابر سے کبھی خورشید پیاری پیاری جھلک دکھاتا ہے
برق نے دی نویدِ کیف و نشاط دیکھ ہر ایک مسکراتا ہے
اے دلِ زار آج پھر کوئی کر کے قصدِ بہار آتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

’پارکر‘ اور ’پران‘ میں ہو کر اب ’عمرکوٹ‘ بھی وہ چھائیں
تر ہیں ’سامارہ‘ اور ’کامارہ‘ بدلیاں ڈھٹ سے پھر نکل آئیں
سبز و شاداب ہوگئے میدان رنگ کیا کیا نہ بارشیں لائیں
جا بجا سرمئی گھٹائوں میں بجلیاں بار بار لہرائیں

[اصل بیت پڑھیں]
3

’ڈھٹ‘ سے امڈی ہیں بدلیاں کیا کیا کتنے پرکیف ہیں یہ نظارے
چوکڑی بھررہے ہیں چوپائے تربتر کھیت ہوگئے سارے
اس کڑک اس گرج سے ڈرنا کیا بج رہے ہیں خوشی کے نقارے
اپنی ویران جھونپڑی کو سجا دیکھ آنے کو ہیں ترے پیارے
اس کی نظروں کے سامنے ہیں ہیچ چاند خورشید اور سیارے

[اصل بیت پڑھیں]
4

ابر باراں کا فیض جاری ہے ہر طرف ہیں خوشی کے نظارے
یہ سنگھار اور ان کے چوپائے تیرے رحم و کرم پہ ہیں پیارے

[اصل بیت پڑھیں]
5

لذت چشم تر ملے تجھ کو جاوداں تو بھی اشک برسائے
یہ برسنا بھی کیا برسنا ہے صبح تک تو برس کے تھم جائے
بارش صبح و شام سے اے ابر تاابد تیرا جی نہ اکتائے

[اصل بیت پڑھیں]
6

رخ کسی کا ہے سوے ’استنبول‘ کوئی جاتی ہے ’کابل‘ و ’قندھار‘
اک ’سمرقند‘ کی طرف مائل اک گریزاںہے جانب ’گرنار‘
عازم ’روم‘ ہے کوئی بدلی اور کسی کو عزیز ہے ’ولھار‘
کوئی بدلی ہوئی ’دکن‘ کو رواں کوئی ’دلی‘ کی سمت ہے تیار
الغرض بدلیوں نے کردی ہے برق و باراں کی ہر طرف یلغار
’سندھ‘ پر بھی ترا کرم ہوجائے اے دھنی تو ہے سب کا پالن ہار

[اصل بیت پڑھیں]
7

پھر گھٹائیں امنڈ کے چھائی ہیں
برق و باراں کو ساتھ لائی ہیں
زندگی کے خمار خانے میں
کیف و مستی لٹانے آئی ہیں
بارش آلود ریگزاروں نے
کیسی رعنائیاں دکھائی ہیں
وہ بہاریں جو مضمحل سی تھیں
پھر پیام نشاط لائی ہیں
ہو گئے ہیں کساں پھر بشاش
کھیتیاں پھر سے لہلہائی ہیں
اب کہاں قحط، چور بازاری
ابر نے نعمتیں لٹائی ہیں
بادل آئے گراں فروشوں نے
شرم سے گردنیں جھکائی ہیں
زن و شوہر نے صلح جو ہو کر
باہمی تلخیاں بھلائی ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
8

روز و شب کھوئے کھوئے رہتے ہیں
ان کی یادوں کے برق و باراں میں
یہ لگاتار روح میں رم جھم
اور جھڑی سی یہ چشم گریاں میں

[اصل بیت پڑھیں]
9

یورشِ بے پناہ سے وہ ابر
دیکھ سوے شمال چھایا ہے
آج اس دور دیس والے سے
مجھ کو برسات نے ملایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

رت برکھا کی آئی ہے
دیکھو میں نے اپنی چندریا
کسم میں آج رنگائی سے
رت برکھا کی آئی ہے
ساونی سج دھج میں ساجن نے
سندر چھب دکھلائی ہے
رت برکھا کی آئی ہے
’لار‘ بندھے بھیگے بچھڑوں نے
من کی مستی پائی ہے
رت برکھا کی آئی ہے
آجا میں بے چین ہوں کب سے
ساجن تیری دہائی ہے
رت برکھا کی آئی ہے

[اصل بیت پڑھیں]

سر سریراگ

پہلی داستان
1

یاد محبوب سے گریز نہ کر کیا عجب وہ بھی تجھ کو یاد کرے
ہو کے خوش تیری وضع داری سے اپنے لطف و کرم سے شاد کرے

[اصل بیت پڑھیں]
2

کیا عجب وہ بھی تجھ کو یاد کرے
یادِ محبوب سے نہ ہو غافل
سامنے اس کے جا کے پھیلادے
اپنے دامن کو صورتِ سائل

[اصل بیت پڑھیں]
3

کیا عجب وہ بھی تجھ کو یاد کرے
یادِ محبوب سے نہ ہو غافل
بادباںجس کا دامن دل ہو
اس کی کشتی کو مل گیا ساحل

[اصل بیت پڑھیں]
4

وہ طلبگار گوہر نایاب
اور ترے دل میں کانچ کا انبار
اس کو صدق و صفا پسند ہے جب
کس لئے پھر یہ جھوٹ کا بیوپار

[اصل بیت پڑھیں]
5

تیرے دل پر ہے گردِ مکر و فریب
اور مکدّر ہے آئینہ دل کا
بادباں جس کے دل کا پاک رہا
اس کو کیا انتظار ساحل کا

[اصل بیت پڑھیں]
6

کیا عجب تجھ پہ مہرباں ہو کر
یاد کرلے تجھے ترا پیارا
تیری آنکھوں سے ہے نہاں ابتک
ساحلِ زندگی کا نظارا
بحرِ عرفاں میں ڈال دے کشتی
موج و طوفاں سے رہ ستیز آرا
زندگی کا یہی قرینہ رہے
جگمگاتا ترا سفینہ رہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

چھوڑ کر میں نے گوہر نایاب
سنگ ریزوں کا کرلیا سودا
پڑ گئے میری عقل پر پتھر
سنگ ریزوں سے جی کو بہلایا
جب تک اس کا کرم نہ ہو ’سید‘
کیسے حاصل ہو مدعا دل کا

[اصل بیت پڑھیں]
8

سنگ ریزوں سے بھرلیا دامن
گوہر بے بہا کو چھوڑ دیا
موجِ طوفان معصیت نے آہ !
میری کشتی کے رخ کو موڑ دیا
ہائے وہ عہد جس کو اے مالک
اپنی غفلت سے میں نے توڑ دیا

[اصل بیت پڑھیں]
9

قدر کر گوہر صداقت کی
پڑھ مناجات حسن وحدت کی
خس و خاشاک ہیں یہ مکر و فریب
آگ دل میں جلا محبت کی

[اصل بیت پڑھیں]
10

جس میں شامل تری عنایت ہو
بس وہی سود مند ہے سودا
میرے ہادی! ترے بغیر کسے
ساحلِ زیست کا سراغ ملا
تند موجوں میں گھر گئی افسوس
میری کشتی کو آکے پار لگا

[اصل بیت پڑھیں]
11

بحر ہیبت فزا کی طغیانی
شورانگیز و فتنہ ساماں ہے
ان جزیروں سے بھی بچا ہم کو
جن کے گرد اک مہیب طوفاں ہے
زد میں اب کشتیوں کے تختے ہیں
اے خدا! تو ہی بس نگہباں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
12

بادباں صافِ قیمتی چپو
رسیاں بھی نئی میسر ہیں
پھر بھی یہ نیک بخت سوداگر
اے خدا! تیرے آسرے پر ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
13

ادباں صاف، رسیاں مضبوط
اور ملاح کشتیوں کے امیر
میرے ساتھی سفر پہ چل نکے
بخش دے ان کی اے خدا تقصیر
یہ خلوص و وفا کے پیکر ہیں
ان کی عزت میں ہے تری توقیر

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کس منہ سے میں کروں بیان
ساجن کے لاکھوں احسان
اس کے گن کیا گائوں میں
جگ سے نیاری اس کی شان
ساجن کے لاکھوں احسان
جانے کیا کیا روپ دکھائے
من میں رہ کر وہ مہمان
ساجن کے لاکھوں احسان
اس پیارے کی بات بڑی
اس کو جو بھولے وہ انجان
ساجن کے لاکھوں احسان
جس کو سہائے پریت کی ریت
یاد رہے اس کو گنوان
ساجن کے لاکھوں احسان
اپنے ہی من کی ٹیس بڑھائو
اس اسے لگائو اپنا دھیان
ساجن کے لاکھوں احسان
وہ جس کو بھی پریم جتائے
اس کا ہوجائے کلیان
ساجن کے لاکھوں احسان
اس کی داسی وہ بن جائے
سکھی جو اپنائے نروان
ساجن کے لاکھوں احسان
جو بھی توڑے من کا جال
اسے ملے گا سچا گیان
ساجن کے لاکھوں احسان
جو مانے پریم کی بات
کون کرے اس کا اپمان
ساجن کے لاکھوں احسان
جو آنکھوں میں کاٹے رات
سب سے الگ ہے اس کی آن
ساجن کے لاکھوں احسان
اس کو من کا میت بنالے
تجھ کو بتائے یہ قران
ساجن کے لاکھوں احسان
جو بھی تجھے دے پالن ہار
اس کامت کرنا اپمان
ساجن کے لاکھوں احسان
پگ پگ اپنے نین بچھائے
یہی ہے پریمی کی پہچان
ساجن کے لاکھوں احسان
جگ جھوٹا ہے آئو چھڑالو
جھوٹے جگ سے اپنی جان
ساجن کے لاکھوں احسان
جی کو کتنا سکھ پہنچائے
’سید‘ پریم کا بردان
ساجن کے لاکھوں احسان

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

ساجن من میں ہیں مہمان
رہی میں ان سے کیوں انجان
ان نینوں سے نین ملائوں
جو ہیں من مندر کی آن
رہی میں ان سے کیوں انجان
ملا مجھے جیون کا بھید
ہوئی جب ان کی کچھ پہچان
رہی میں ان سے کیوں انجان
ان چرنوں پر سیس نوائوں
جن کی سیوا ہے نروان
رہی میں ان سے کیوں انجان
وہی ہے ان کا سچا میت
ملے جو ان سے بن ابھمان
رہی میں ان سے کیوں انجان

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

یہ رنگا رنگ موجودات عالم
بقید زیست ہیں جن کے سہارے
’لطیف‘ اس کا اگر لطف و کرم ہو
تو پھر جائیں نہ کیوں یہ دن ہمارے

[اصل بیت پڑھیں]
2

کٹی آنکھوں میں جن کی رات ساری
رہا سبحان ہی جن کی زباں پر
یہ ان کی خاک در کا مرتبہ ہے
جھکے ہیں سیکڑوں سر آستاں پر

[اصل بیت پڑھیں]
3

’لطیف‘ اس بحرے پایاں کے قرباں
خزانہ جس کا ہیں انمول موتی
چمکتے موتیوں کی جستجو ہے
تو اس میں ڈوب کر تو رول موتی

[اصل بیت پڑھیں]
4

نہیں ارض وسما بھی ان کی قیمت
نہاں اس بحر میں ہیں جتنے گوہر
جو روشن بخت ہیں وہ اس کی تہ سے
اڑا لائے نہ جانے کتنے گوہر
سوا اس بحر عرفاں کے کہیں اور
نہ تجھ کو مل سکیں گے اتنے گوہر

[اصل بیت پڑھیں]
5

اسے طوفان عصیاں کا نہیں ڈر
میسر جس کو ایماں کا کنارا
بھنور سے وہ نکل آئے گا بچ کر
لیا جس نے توکل کا سہارا
ملا اکثر میان قعر دریا
وہ کامل جس نے آخر پار اتارا

[اصل بیت پڑھیں]
6

ہے شب زندہ داران سحر خیز
نظر میں جن کی ہے معبود کامل
انہیں کیا بحر طوفاں خیز کا ڈر
ذرا سی جست اور بس وہ ہے ساحل

[اصل بیت پڑھیں]
7

رواں ہیں اپنی اپنی نائو میں سب
عبودیت کا لے کر ساز و ساماں
وہ ہیں سوداگراں لعل و گوہر
کہ یہ بیوپار ہے مقبولِ یزداں
نہیں ہے کوئی ان سا پاک دامن
مقدر سرخرو، فطرت درخشاں
عجب کیا ایسے بندوں کی بدولت
میسر ہو مجھے ساحل کا داماں

[اصل بیت پڑھیں]
8

مبارک عزت و شانِ صداقت
سلامت ساز و سامانِ صداقت
انہیں کیا خوف طوفانِ بلا کا
جو روح صدق ہیں، جانِ صداقت

[اصل بیت پڑھیں]
9

جو بہ جو موجہائے قلزم ہیں
بے خطر ہو کے کود جاتے ہیں
چیر کر سینۂ صدف غواص
گوہر شاہوار لاتے ہیں
عزم و ہمت کی آب و تاب سے وہ
زندگانی کو جگمگاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
10

بپھر کر سامنے آئی تھیں موجیں
بڑی مشکل سے ہم طوفاں سے نکلے
کیا تقسیم ان کو دوستوں میں
جو گوہر بحر بے پایاں سے نکلے

[اصل بیت پڑھیں]
11

جو پہنچے بحر بے پایاں کی تہ تک
وہ نکلے گوہر شہوار لے کر
ہوئیں نظارۂ حاصل سے آنکھیں
درخشاں و فروزاں مثل گوہر

[اصل بیت پڑھیں]
12

ادھر دلدل ادھر موجوں کی یورش
میں اپنی نائو کو کیسے بچائوں
اگر تیرا کرم شامل ہو یا رب!
بخیر و عافیت اس پار جائوں

[اصل بیت پڑھیں]
13

یہ بحر موج خیز زندگانی!
ہمیشہ ورطۂ غفلت سے ڈرنا
ہزاروں کشتیاں ٹوٹی پڑی ہیں
بڑا صبر آزما ہے پار اترنا

[اصل بیت پڑھیں]
14

یہی اک فکر دل کو رات دن ہے
بہت مجبور ہیں طوفاں کے مارے
تلاطم خیز ہے یہ بحر ہستی
لگے گی کس طرح کشتی کنارے

[اصل بیت پڑھیں]
15

بشر کچھ اور دل میں سوچتا ہے
مگر کچھ اور فطرت کا اشارا
پھنسی گرداب میں جب کوئی کشتی
اشارے ہی سے اس نے پار اتارا
سفینوں کو تلاطم خیزیوں میں
ہمیشہ اس کی رحمت کا سہارا
عجب ہے اس کی شانِ کارسازی
بھنور خود بن گیا اکثر کنارا
شناسا گوہر عرفاں کے ہیں یہ
بچا تو ان کی کشتی کو خدارا
رواں سوے در شاہِ عرب ہے
جو معبود حقیقی کا ہے پیارا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

میں پاپ میں ڈوبی پاپن
اب ڈھونڈوں کہاں کنارا
ساجن ہے مرا سہارا
روٹھے نا مجھ سے پریتم
روٹھا ہی رہے جگ سارا
ساجن ہے مرا سہارا
میں پیا کی ایک ابھاگن
مرا حال ہے جگ سے نیارا
ساجن ہے مرا سہارا
منجدھار میں میری نیّا
اب کون ہے کھیون ہارا
ساجن ہے مرا سہارا
بپھرا ہوا جیون ساگر
میں تنہا دور کنارا
ساجن ہے مرا سہارا
دکھیاروں کی بپتا میں
کام آئے پریتم پیارا
ساجن ہے مرا سہارا
یہ داسی درشن پیاسی
لیتی ہے نام تمہارا
ساجن ہے مرا سہارا
اے نردھن کے رکھوالے
مرا من ہے دکھ کا مارا
ساجن ہے مرا سہارا
یہ آس بھکارن کی ہے
آجائے وہ آنکھ کا تارا
ساجن ہے مرا سہارا
جب انت کال ہو جگ کا
موھے سہائے پریتم دوارا
ساجن ہے مرا سہارا
آشا ہے ’لطیف‘ کی ہر دم
رہے پیا کو دھیان ہمارا
ساجن ہے مرا سہارا

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

سینۂ موج پر رواں کشتی
اور موافق ہے آج باد شمال
لادکر کشتیوں میں چل نکلے
سارے سوداگر اپنا اپنا مال
اے خدا تو ہی اب نگہباں ہے
تو ہی اب آکے چپوئوں کو سنبھال

[اصل بیت پڑھیں]
2

کار آمد ہے بس وہی سودا
اس کی نظروں میں جو قبول ہوا
بس وہی شے خریدنا اچھا
جس کو لے کر نہ تو ملول ہوا

[اصل بیت پڑھیں]
3

نا خدائوں نے ہم کو دکھلائے
جانے کتنے ہی ساحلوں کے خواب
اور وہاں کی خبر نہ دی کوئی
ہے جہاں صبر آزما گرداب

[اصل بیت پڑھیں]
4

تیری رحمت ہے یا مری کشتی
اک ذریعہ مری رسائی کا
مل گیا تیرا آسرا جن کو
غم نہیں ان کو ناخدائی کا

[اصل بیت پڑھیں]
5

گناہوں سے نہ کر اس کو گراں بار
یہ کشتی ہو چکی ہے اب پرانی
نہ جانے ہوگئے ہیں کتنے سوراخ
کہ تہ میں سے چلا آتا ہے پانی
تو کّل کے سہارے جینے والے
ہر اک شے ہے یہاں کی آنی جانی

[اصل بیت پڑھیں]
6

تری کشتی میں ہیں سوراخ کتنے
چلا آتا ہے جن سے تہ میں پانی
بہت کمزور ہے مستول اس کا
ہیں اس کی رسیاں کتنی پرانی
خدا کی ناخدائی کی بدولت
اتر جائے گی دریا کی روانی

[اصل بیت پڑھیں]
7

سمندر میں اُسے جس وقت ڈالے
سفینہ رنگ و روغن سے سجالے
کوئی سوراخ رہ جائے نہ باقی
پرانی رسیوں کو آزمالے
کنارا دور اور گہرا سمندر
تری کشتی ہے طوفاں کے حوالے
تجھے درپیش اک لمبا سفر ہے
سفر کے قابل اس کو تو بنالے

[اصل بیت پڑھیں]
8

سامنے ہے وہ ساحل ہستی
ذکر جس کا وبال گوش رہا
کیوں خدا کو نہ تو نے یاد کیا
وقت یاد خدا خموش رہا
سب پہ طاری تھی نیند کی غفلت
اور تجھے بھی نہ اپنا ہوش رہا
وقفِ گرداب تھا سفینہ ترا
پھر بھی تو محوِ نائو نوش رہا

[اصل بیت پڑھیں]
9

اس شکستہ جہاز کی ہو خیر
جس کو درپیش ہے طویل سفر
ان ضعیفوں کی لاج رکھ لینا
جو رواں ہیں ترے سہارے پر
دور ہیں میرے ہم سفر ’سید‘
وہ پہنچ جائیں کاش ’پُربندر‘

[اصل بیت پڑھیں]
10

مری کشتی! بڑھے جا سوئے ساحل
ہزاروں کشتیوں کے ساتھ مل کر
ابھر کر دے رہی ہے موج اک آواز
بپھر کر کہہ رہا ہے کچھ سمندر
اگر اس پار ہے تم کو اترنا
تو ہو رختِ سفر بہتر سے بہتر

[اصل بیت پڑھیں]
11

اکھڑ جانے کو ہیں سب اس کے تختے
بھنور میں آکے کشتی پھنس گئی ہے
ابھرنا ڈوبنا اور پھر ابھرنا
سنبھلنے کی کوئی تدبیر بھی ہے؟

[اصل بیت پڑھیں]
12

ہمارے ناخدائوں کو ہوا کیا
بدل کر بھیس آئے ہیں فرنگی
بتائو ہے کوئی ملاح ایسا
کہ روکے یورش دزدانہ ان کی
وہاں تیرے سہارے پر رواں ہیں
جہاں ہر ایک کشتی آکے ڈوبی

[اصل بیت پڑھیں]
13

تجھے کچھ فکر سامان سفر ہے
کہ تیری نائو کے ہر سو بھنور ہے
تجھے لازم ہے ترکِ خوابِ غفلت
تمنا پار اترنے کی اگر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
14

خبر بھی ہے تمہیں کشتی نشینو!
کہ ہر سو یورش موج بلا ہے
بھرا ناحق پرایا مال اس میں
وہی آخر مصیبت بن گیا ہے
یہ کشتی کا کنارے سے بھٹکنا
تمہارے خواب غفلت کی سزا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
15

تمہیں کچھ ہوش اے ملاح تجھ کو
کٹی ہے خواب غفلت میں تری رات
یہ نیند، اس پر کنارے کی تمنا
نرالی ہے زمانے سے تری بات
وہاںپہنچے گا تو پوچھیں گے تجھ سے
کہ اس دنیا سے کیا لایا ہے سوغات

[اصل بیت پڑھیں]
16

یہ طوفاں خیز موجوں کی روانی
ٹھہرتے ہی نہیں پانی میں لنگر
بڑی مشکل سے ہیں ساحل سے لگتے
بڑے بیڑے بھی اس طوفاں سے بچ کر
جو ہیں مانوس طوفانِ بلا سے
وہی ہیں بحر ہستی کے شناور
سناتے ہیں بڑی پرہول باتیں
وہ اپنے دوستوں سے پار اتر کر

[اصل بیت پڑھیں]
17

بحرِ پُرہول منتظر ہے ترا
کیوں یہ بے چارگی، یہ غفلت کیا
تیری کشتی بڑی پرانی ہے
رنگ و روغن لگا تہ و بالا
موج کی زد میں ہے وہی کشتی
جس کے کشتی نشیں ہیں بے پروا

[اصل بیت پڑھیں]
18

ناخدا کر رہا ہے یہ تاکید
کہ مکمل ہو سب کا زاد سفر
لطف جن پر ’لطیف‘ اس کا ہو
وہی پہنچے عدن کے ساحل پر

[اصل بیت پڑھیں]
19

خبردار اے بہادر ناخدائو!
کہ پھر طوفان کی زد میں ہے بندر
پھنسا ہے ایسے چکّر میں کنارا
کہ جیسے چھاچھ ہو مٹکے کے اندر

[اصل بیت پڑھیں]
20

سوگئے ہیں تمام کشتی میں
پا کے فوراً اشارہ رہبر
کوئی طوفاں نہیں سمندر میں
اور خطرے سے دور ہے بندر
تم بھی سو جائو اب تو ملاحو!
چھوڑ کر اپنی نائو ’سید‘ پر

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

سکھیوں نے کی تیاری
اب دور دیس ہے جانا
تیری نینوں میں ہے نندیا
بیٹھے ہیں سب نر ناری
ساگر میں ڈالے ڈیرا
تیری نینوں میں ہے نندیا
اپنی اپنی نیّا کی
سکھیوں کو رہی ہے چنتا
تیری نینوں میں ہے نندیا
کر لے کچھ یاد سجن کی
جیون ہے رین بسیرا
تیری نینوں میں ہے نندیا
سن اس کو کان لگا کر
باجے ہے کوچ کا ڈنکا
تیری نینوں میں ہے نندیا
پریمی کی ریت نہیں ہے
یوں لمبی تان کے سونا
تیری نینوں میں ہے نندیا
سچ کا پرکاش ہے تجھ میں
پھر جھوٹ کو کیوں اپنایا
تیری نینوں میں ہے نندیا
رکھ اپنے مورکھ من میں
اس اونچے گھاٹ کی آشا
تیری نینوں میں ہے نندیا
ہے کھیون ہارا پریتم
نہیں کوئی اور بھروسا
تیری نینوں میں ہے نندیا
جتنے بھی ہیں جگ باسی
اک دن ہے سب کو جانا
تیری نینوں میں ہے نندیا
اس انت کال میں سجنی
نہیں ہوگا کوئی کسی کا
تیری نینوں میں ہے نندیا
کیوں نام گھڑے کا لے تو
جب وہ ہے ترا سہارا
تیری نینوں میں ہے نندیا
اب کون کرے رکھوالی
ٹوٹا منجدھار میں ’ترھا‘
تیری نینوں میں ہے نندیا
مایا ہے آنی جانی
رکھ دھیان سدا ساجن کا
تیری نینوں میں ہے نندیا
اے مایا لوبھ کی اندھی
دو دن کا کھیل ہے دنیا
تیری نینوں میں ہے نندیا
ساجن کے ڈر سے تونے
کب ساتھ دیا نردھن کا
تیری نینوں میں ہے نندیا
جو اپنے پتی کو چھوڑے
کب دیگی ساتھ ہمارا
تیری نینوں میں ہے نندیا
جگ جیون کا ہے سپنا
ہتے پانی پہ چھایا
تیری نینوں میں ہے نندیا
یہ سستی چھوڑ ابھاگن
اب مان سجن کا کہنا
تیری نینوں میں ہے نندیا

[اصل بیت پڑھیں]
چوتھی داستان
1

جادۂ مستقیم راہِ ازل
بے نیازِ بلندی و پستی
نیک و بد کی نہیں کوئی تخصیص
عام ہے فیضِ رہبر ہستی

[اصل بیت پڑھیں]
2

تو امین غم محبت ہے
بے نیاز غم جہاں ہو جا
ہے عنان گیر کوئی سر ازل
راکب عمر بے عناں ہو جا
شیوۂ خود سپردگی سے تو
دوش و فردا پہ کامراں ہو جا
خوئے تسلیم و جذبہ تحقیق
ساتھ لے اور پھر عیاں ہو جا

[اصل بیت پڑھیں]
3

عام یہ رسم ہے زمانے کی
کہ بھلوں سے بھلائی کرتے ہیں
لیکن انکا کوئی جواب نہیں
جو بروں سے بھلائی کرتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
4

ہے بدوں کی بدی سے دلچسپی
اور نیکوں کو نیکیوں کا خیال
اپنی اپنی پسند کی ہے بات
اپنے اپنے خیال کا ہے سوال

[اصل بیت پڑھیں]
5

حسبِ دستور راہگیروں پر
نظرِ التفات کرتے ہیں
ساتھ لے کر شکستہ پائوں کو
رہ دشوار سے گذرتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
6

نہیں ہے اس سے بڑھ کر کام کوئی
بڑی نعمت ہے سوداے حقیقت
تجھے جن سے ملے ہیں نایاب گوہر
وہ سوداگر ہیں داناے حقیقت

[اصل بیت پڑھیں]
7

وہی سمجھے گا حسن کا معیار
جوہرِ خاص کو جو پہچانے
کس کو کہتے ہیں گوہر نایاب
اس حقیقت کو جوہری جانے

[اصل بیت پڑھیں]
8

وہ ہے صراف اور تو سونا
نظر اس کی ہے امتحاں تیرا
طبع جوہر شناس کے نزدیک
ہر زرِ کم عیار کا سودا
روح انساں پہ پرتو ظلمت
جوہر دل پہ زنگ کبر و ریا

[اصل بیت پڑھیں]
9

گرچہ موتی ہیں میری جھولی میں
تیرا معیار ہی نرالا ہے
کہ یہ بے قدر ہیں ترے آگے
سنگ ریزوں کا بول بالا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
10

جواہر کی پرکھ تھا کام جن کا
نہ جانے اب کہاں وہ جوہری ہیں
یہ ان کے جانشینوں کا ہے عالم
کہ سب منت کش آہن گری ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
11

خدایا وہ نہ چھوڑیں ساتھ میرا
رہے ان پر ہمیشہ تیری رحمت
سوائے جوہری کے کون جانے
درخشاں گوہروں کی قدرو قیمت
درِ یکدانہ کی نیرنگیوں پر
لگا رکھتے ہوں جو چشمِ بصیرت

[اصل بیت پڑھیں]
12

کبھی تم ان کی باتوں میں نہ آنا
کہ یہ صراف جھوٹے جوہری ہیں
نہیں ان کو تمیز سنگ و جوہر
گرفتارِ طلسمِ زرگری ہیں
تو ان کے پاس جا، جن کی نگاہیں
فریبِ دید سے یکسر بری ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
13

توڑ کر اپنا بے بہا موتی
وقت کو اس طرح نہ کھونا تھا
ہاتھ میں لے کے پارے پارے کو
اپنی غفلت پہ تجھ کو رونا تھا

[اصل بیت پڑھیں]
14

توڑ کر اپنا بے بہا موتی
تجھ کو غافل ہی رہ نہ جانا تھا
چن کے پلکوں سے ذرے ذرے کو
جا کے صراف کو دکھانا تھا

[اصل بیت پڑھیں]
15

دفعتاً دستِ نازِ جاناں سے
گوہرِ شاہوار چھوٹ گیا
اہل دل کی نگاہ میں اس کی
بڑھ گئی قدر جب یہ ٹوٹ گیا

[اصل بیت پڑھیں]
16

ایسے موتی ہیں تیرے دامن میں
تاک میں جن کی اک زمانہ ہے
رہزنوں کا بھی ہے وہی مسکن
موتیوں کا جہاں خزانہ ہے

[اصل بیت پڑھیں]
17

کہہ رہا ہے یہ تیرے دل کا چور
کون میری دلاوری جانے
گر کسی کی ہزار آنکھیں ہوں
پھر بھی کوئی مجھے نہ پہچانے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

ساجن کی یاد دلائوں
سکھیو! میں تمہیں جگائوں
پھر بھیڑ پتنگوں کی ہو
آشا کے دیپ جلائوں
سکھیو! میں تمہیں جگائوں
رستے میں کہیں نہ ٹھہروں
جب پیا ملن کو جائوں
سکھیو! میں تمہیں جگائوں
پریتم کے دوارے جا کر
میں پگ پگ نین بچھائوں
سکھیو! میں تمہیں جگائوں
جب موت کے بادل گرجیں
مرنے سے نہ میں گھبرائوں
سکھیو! میں تمہیں جگائوں
آتی ہے موت اچانک
بھید اس کا تمہیں بتائوں
سکھیو! میں تمہیں جگائوں
آگے ہے بڑا اندھیارا
میں خالی ہاتھ نہ جائوں
سکھیو! میں تمہیں جگائوں
گیانی ہے وہ پریتم پیارا
میں کیسے بھید چھپائوں
سکھیو! میں تمہیں جگائوں
کیا ڈر ہو کسی بپتا کا
جب پیا سے آس لگائوں
سکھیو! میں تمہیں جگائوں
سکھ پائے میرا جیون
پریتم کی سرن میں آئوں
سکھیو! میں تمہیں جگائوں

[اصل بیت پڑھیں]
پانچویں داستان
1

شکستہ بادباں پرہول موجیں
مگر تم نے نہ میری بات مانی
بہ صد منت یہ سمجھاتی رہی ہیں
نہ بیٹھو! اس میں کشتی ہے پرانی

[اصل بیت پڑھیں]
2

وہاں کیا آس موجوں سے لگائیں
جہاں ہر سو بھنور آنکھیں دکھائیں
ادھر طوفاں ادھر تاریک ساحل
اگرجائیں بھی اب کس سمت جائیں
تلاطم خیزیٔ موجِ بلا سے
سفینہ کس طرح اپنا بچائیں
بجز فضل خدا کیا آسرا ہے
کسے اب ناخدا کہہ کر بلائیں

[اصل بیت پڑھیں]
3

ذرا اے ناخدا ہشیار رہنا
تلاطلم خیز ہر موج بلا ہے
وہاں ڈوبے ہیں کتنے ہی سفینے
جدھر تو نائو کو لے کر چلا ہے
جہازوں کو کیا ہے غرق جس نے
تجھے بھی اس بھنور کا سامنا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

بڑا خونیں سمندر سامنے ہے
کہیں ٹھنڈی ہوا میں سو نہ جانا
تلاطم خیز ہے موجوں کی یورش
سنبھل کر نائو کو آگے بڑھانا

[اصل بیت پڑھیں]
5

تلاطم خیز موجوں کے شناور
شعور قعر دریا رکھنے والے
بھروسہ کر خدا کی رحمتوں پر
سفینہ کر حوادث کے حوالے

[اصل بیت پڑھیں]
6

رموزِ قعر دریا جانتے ہیں
ہلاکت خیز موجوں کے شناور
ہمیشہ جھوٹ کے سودے سے نفرت
کہ ان کو دولت حق ہے میسر
سجاتے ہیں سفینہ زندگی کا
متاع عجز سے راتوں کو اٹھ کر
پھر اس کو ڈال دیتے ہیں بھنور میں
وہ اپنے ساتھیوں کے بن کے رہبر

[اصل بیت پڑھیں]
7

خدا کے فضل سے اس پار پہنچے
وہ باہمت شناور وہ دلاور
نہ گرداب فنا نے ان کو تاکا
نہ موجوں نے اٹھایا ناگہاں سر

[اصل بیت پڑھیں]
8

کمر باندھے ہوئے بیٹھے ہیں ساتھی
مگر غفلت ہے طاری تیرے دل پر
کہاں تک تیری بے فکری کا عالم
یہ موجوں کے تھپیڑے یہ سمندر
رواں ہیں عالم وارفتگی میں
سفینے تاجروں کے سونے بندر
وہی خوش بخت پہچیں گے سلامت
نہیں واجب کوئی محصول جن پر

[اصل بیت پڑھیں]
9

’لطیف‘ ان تاجروں پر رحمت حق
چلے ہیں لے کے جو انمول گوہر
سمندر میں ہوا کے رخ پہ ڈالا
سفینہ قیمتی سامان بھر کر
ترے عاشق ہیں اے شاہِ مدینہ
در رحمت کھلے ان تاجروں پر

[اصل بیت پڑھیں]
10

مرے حق میں ہو کتنی نیک یہ فال
سفینہ گھاٹ پر، محبوب گھر میں
نہ ہو پھر راہ میں کوئی رکاوٹ
رہے محبوب کی منزل نظر میں
دعا کو ہاتھ اٹھتے ہیں سر شام
مری کشتی ہے بحر پر خطر میں
خوشی کے شادیانے بج رہے ہوں
وطن میں ہوںجو رہتے ہیں سفر میں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

سپنوں میں جیون بیتا
دن میں نے یوں ہی گنوائے
ساجن میں ایک ابھاگن
دکھ میرا کون مٹائے
دن میں نے یوں ہی گنوائے
آجائو ساجن پیارے
بیٹھی ہوں آس لگائے
دن میں نے یوں ہی گنوائے
بیٹھی ہوں یاد میں تیری
کیا اپنی دشا بنائے
دن میں نے یوں ہی گنوائے
جو کھوٹ ہے میرے من میں
ساجن ہی اُسے مٹائے
دن میں نے یوں ہی گنوائے

[اصل بیت پڑھیں]
چھٹی داستان
1

وہیں ’ تُرھے‘ کو باندھ لے کس کے
جس جگہ پرسکوں روانی ہے
کسمپرسی کا ہے وہاں عالم
خوب گہرا جہاں پہ پانی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

آبگیروں کے جو شناور ہیں
فکر ان کو نہیں کوئی زنہار
ہاں مگر کیسے پار اتریں گے
یہ اناڑی یہ صاحب دستار

[اصل بیت پڑھیں]
3

خدا کو یاد کر بہر خدا تو
کہیں تجھ کو نہ لے ڈوبے یہ طوفاں
نہیں آرام کا یہ وقت غافل
کہ ہر سو ہے ہجومِ برق و باراں
جو بے پروا رہا ان آفتوں سے
اسے ہونا پڑا آخر پشیماں
بچا ہے کون گرداب اجل سے
سلامت اس کی زد سے کس کی ہے جاں

[اصل بیت پڑھیں]
4

عاقبت سے جو بے نیاز کرے
دشمنِ جاں وہ کیف و مستی ہے
غرق ہو گا بزعم خود آخر
جو ہوا خواہِ خود پرستی ہے
اس میں آتے ہیں نت نئے طوفان
اے مسافر یہ بحرِ ہستی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

نہ ٹھہرے گا کبھی دریا کا پانی
نہ سوئیں گے یہ بے آرام تارے
تری غفلت کو لیکن کیا کہوں میں
تجھے ہے نیند پیاری میرے پیارے
وہاں جائے گا خالی ہاتھ کیا تو
جہاںخوش بخت پر دامن سدھارے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

بھٹکی ہوں ڈگر ڈگر میں
پگ پگ ہے مجھ کوبھاری
میں گھاٹ گھاٹ کی ماری
پہنچوں اب کیچ میں کیسے
میں دور دیس کی ناری
میں گھاٹ گھاٹ کی ماری
بھید اپنا کسے بتائوں
داسی ہوں پیا تمہاری
میں گھاٹ گھاٹ کی ماری
جی بھر کے نیر بہائوں
ساجن پہ میں بلہاری
میں گھاٹ گھاٹ کی ماری

[اصل بیت پڑھیں]

سر سامونڈی

پہلی داستان
1

بحری تاجروں کا کارواں ہے نہ جانے کس گھڑی لنگر اٹھائے
نہیںکچھ اعتبار ان تاجروں کا جہاز ان کا روانہ ہو نہ جائے
انہیں سوئے دیارِموج و طوفان ہوائے آبگوں اکثر بلائے
ترے حق میں غنیمت یہ گھڑی ہے کہ پھر یہ ہاتھ آئے یا نہ آئے

[اصل بیت پڑھیں]
2

جب ان کے ناخدا لنگر اٹھائیں تجھے بھی ہم سفر اپنا بنائیں
ہوئے تیار کشتیبان سارے بھری ہیں بادبانوں میں ہوائیں
بغیر ان کے نہ ہوگی کوئی رونق رہیں گی سربسر ویراں فضائیں
نہ کر اب دیر آنا ہے تو آجا یہ سوداگر روانہ ہو نہ جائیں

[اصل بیت پڑھیں]
3

ہٹوں گی اب یہاں سے میں نہ ہرگز مجھے چاہے کوئی کتنا ہٹائے
میں ڈرتی ہوں کہیں ساجن کی نیّا اکیلا ہی نہ مجھ کو چھوڑ جائے

[اصل بیت پڑھیں]
4

اکیلا چھوڑ کر جاتے ہو مجھ کو سجن تم نے نہ میری بات مانی
جلائے گی مجھے برکھا کی اگنی سدا روتی رہے گی یہ جوانی

[اصل بیت پڑھیں]
5

نہ وہ صبحیں نہ وہ شامیں سہانی وبال دوش ہے اب زندگانی
نہ ساحل پر کوئی ہنگامہ ہے اب نہ موجوں میں وہ پہلی سی روانی
لبِ ساحل پہ آجاتی ہے اکثر کوئی بسری ہوئی رنگیں کہانی

[اصل بیت پڑھیں]
6

زمانہ ہو گیا ہے راہ تکتے مگر تم لوٹ کر ابتک نہ آئے
گئے ہو تم جہاں اے جانے والو خبر اس دیس سے کوئی نہ لائے

[اصل بیت پڑھیں]
7

بہت ہی دور جا پہنچے مسافر نظر میں اب بلندی ہے نہ پستی
نہ جانے کس گھڑی رخصت ہوئے تھے نہ دیکھی پھر کبھی آکر یہ بستی
انہیں کیا دامنِ ساحل کی پروا جنہیں راس آگئی طوفاں پرستی
نہ آنے دیں گے ان کو پاس تیرے دیار موج و طوفاں کے بسیرے

[اصل بیت پڑھیں]
8

روانہ ہوگئے بحری مسافر نہ جانے اب وہ آئیں یا نہ آئیں
بسائیں بستیاں اس پار جا کر کہاں تک ان کے غم میں جی جلائیں

[اصل بیت پڑھیں]
9

موافق ہوں سمندر کی ہوائیں بھٹک کر راستے میں رہ نہ جائیں
بر آئے ان کی ہر امید یا رب! یہ تاجر منزل مقصود پائیں

[اصل بیت پڑھیں]
10

رہی جانے کی ان کو اتنی جلدی کہ وہ دو چار دن بھی رہ نہ پائے
بہت دن ہوگئے مجھ کو ترستے مرے ساجن مگر اب تک نہ آئے
میں ان کی یاد میں بیکل ہوں ایسی کوئی برچھی سے جیسے چھید جائے
سدا اس پار ہی رہنا ہے جن کو کوئی ایسوں سے کیسے لو لگائے

[اصل بیت پڑھیں]
11

کسی ملاح کے چرنوں کی داسی کھڑی ہے دیر سے چپو اٹھائے
چبھن دل میں ہے، آنکھوں میں ہیں آنسو سنو کیا کہہ رہی ہے سر جھکائے
’تمہاری بات کا کس کو یقیں ہے یہ قصے اب نہ تم مجھ کو سنائو
یہ تنہائی، یہ ویرانی ، یہ راتیں ٹھہر جائو، خدارا اب نہ جائو‘

[اصل بیت پڑھیں]
12

بھٹک کر رہ گئی ہوں اس کنارے ہنسی میری اڑاتا ہے زمانہ
مجھے بھی ساتھ لے جاتے خدارا یہاں سے جب ہوئے تھے وہ روانہ

[اصل بیت پڑھیں]
13

یہ حالت ہے مرے بے چین دل کی کوئی بھٹکی ہوئی کشتی ہو جیسے
خبر کیا تھی کہ ان سے پیار کرکے مجھے سہنے پڑیں گے رنج ایسے
بھلا بیٹھے ہیں مجھ کو میرے مانجھی سکھی میں اپنا جی بہلائوں کیسے

[اصل بیت پڑھیں]
14

دلا سے دے رہی ہوں اپنے دل کو مگر یاد ان کی رہ رہ کر ستائے
کئی منجدھار منہ کھولے ہوئے ہیں خدا ان کے سفینے کو بچائے
مرے دل میں ہے کیوں طوفان برپا ہوئی کیا بات جو اب تک نہ آئے

[اصل بیت پڑھیں]
15

سہانی رت ’سروں‘ میں پھول آئے
’لوہیڑوں‘ پر جوانی آگئی ہے
فضا بدلی، چلی بادِ شمالی
خنک موسم ، ہوا میں دلکشی ہے
گئے ایسے کہ پھر واپس نہ آئے
نہیں کیا کچھ، مگر ان کی کمی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
16

گئے ایسے کہ پھر واپس نہ آئے
وہ اب آئیں تو ان سے روٹھ جائوں
یہ تنہائی، یہ جاڑے، یہ جدائی
کہاں جائوں میں کیسے چین پائوں
سنائوں کس کو اپنی آپ بیتی
کسے میں اپنے سینے سے لگائوں
نہ چھیڑ اے ماں! میرا جیون دکھی ہے
میں اپنا بھید کیا تجھ کوبتائوں

[اصل بیت پڑھیں]
17

تم آئے ہو تو اب جانے نہ دوں گی
کرو مجھ کو نہ تڑپانے کی باتیں
پسینہ بھی ابھی سوکھا نہیں ہے
ابھی سے پھر ہیں کیوں جانے کی باتیں

[اصل بیت پڑھیں]
18

بہت دن ہوگئے ہیں دکھ اٹھاتے کہیں ایسا نہ ہو دل ٹوٹ جائے
کرو سکھیو! مرے ساجن کی باتیں کہ باتوںہی سے شاید چین آئے

[اصل بیت پڑھیں]
19

دیار دوست کو جا اے دل! اے دل!
عبیر آمیز ہیں جس کی فضائیں
بشوقِ آستاں بوسی بڑھے چل
خدا جانے تجھے پھر کب بلائیں

[اصل بیت پڑھیں]
20

پڑی ہوں گھاٹ پر جن کے سہارے
اگر وہ چھوڑ کرمجھ کو سدھارے!

[اصل بیت پڑھیں]
21

نہ بھولوں گی وہ پیاری شکل و صورت
کہ ستواں ناک اور پتلی کمر ہے
نظر میں دل کشی آنکھوں میںکاجل
مسافر کچھ تجھے اس کی خبر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
22

کبھی تو لوٹ کر آئے گا پیارا
ہوا ہو جائے گا دکھ درد سارا
اسی امید پر اب جی رہی ہوں
یہی امید ہے میرا سہارا

[اصل بیت پڑھیں]
23

ہوا میں اڑ رہے ہیں ان کے پرچم
وہ دولت مند تاجر لوٹ آئے
خدا جانے اب ان کی زیب و زینت
لبِ ساحل پہ کیا کیا گل کھلائے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

ساجن کی ڈگر پر مجھ کو
کوئی نہیں روک سکے گا
وہ مری جیون جوت جگانے
پردیسی پریتم آئے
کوئی نہیں روک سکے گا
وہ اپنی چھب دکھلا کر
سکھیوں کے من برمائے
کوئی نہیں روک سکے گا
میں جنگل جنگل بھٹکوں
جب تک وہ مجھے بھٹکائے
کوئی نہیں روک سکے گا
میں کھوج میں ہوں ساجن کی
کوئی نہ مجھے بہکائے
کوئی نہیں روک سکے گا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

اس پار سے جب وہ آئیں
میں پگ پگ نین بچھائوں
ساجن کو بھول نہ جائوں
آشائوں سے سپنوں سے
اپنے من کو بہلائوں
ساجن کو بھول نہ جائوں
ترسائیں نہ دن برھا کے
نینوں سے نین ملائوں
ساجن کو بھول نہ جائوں
بیٹھی ہوں آس لگائے
سکھ پیا ملن کے پائوں
ساجن کو بھول نہ جائوں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

مجھے چھوڑ گئے ہیں ساجن
اب کیسے جی بہلائوں
کب تک یہ بات چھپائوں
جب یاد پیا کی آئے
نینوں سے نیر بہائوں
کب تک یہ بات چھپائوں
دکھ جیون کا دیمک ہے
میں کیسے جان بچائوں
کب تک یہ بات چھپائں
ماں! کون ہے میرا ساتھی
میں اپنا کسے بنائوں
کب تک یہ بات چھپائوں
آجائو پریتم پیارے
میں واری واری جائوں
کب تک یہ بات چھپائوں

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

یہ زادِ راہ کی الجھن ہے کیسی
یہ سامانِ سفر کیوں ہو رہا ہے
نہ جانا میرے بنجارے نہ جانا
ترا عزمِ سفر صبر آزما ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

لگن اس پار کی دل میں ہے پھر کیوں؟
نہ جائو میرے بنجارے نہ جائو
کہیں غم کھاتے کھاتے مر نہ جائوں
محبت کی قسم ہے لوٹ آئو

[اصل بیت پڑھیں]
3

وہ میرے روکنے سے کیا رکیں گے
لپٹ کر ان سے لاکھ آنسو بہائوں
یہ آتش زیرپا بحری مسافر
مری ماں! میں انہیں کب تک بنائوں
وہ ان کے بادباں لہرا رہے ہیں
سفینے رقص کرتے جا رہے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
4

رچی ہے میرے من میں پریت ان کی
بغیر ان کے میں کیسے چین پائوں
کہیں ایسا نہ ہو وہ بھول جائیں
میں ان کی یاد میں آنسو بہائوں

[اصل بیت پڑھیں]
5

لبِ ساحل پہ چرچے ہو رہے ہیں
کہ اب تاجر ہیں واپس آنے والے
وہ میری زندگی کا ہیں سہارا
بغیر ان کے پڑے جینے کے لالے

[اصل بیت پڑھیں]
6

وہ کھولے بادباں چپو اٹھائے
گئے ایسے کہ پھر واپس نہ آئے
رکے ہیں کون سی منزل میں تاجر
خدا جانے وہاں کیا دکھ اٹھائے

[اصل بیت پڑھیں]
7

پھر آیا موسمِ بادِ شمالی
اٹھائے مانجھیوں نے اپنے لنگر
پھر ان کے بادباں لہرا رہے ہیں
پھر ان کو یاد آیا ہے سمندر
دلِ افسردہ کی گہرائیوں سے
اٹھے گی ایک لمبی ہوک اکثر

[اصل بیت پڑھیں]
8

گھروں میں شادیانے بج رہے ہیں
خوشی سے جشن سکھیوں نے منائے
جنہیں بادِ شمالی لے اڑی تھی
سفر سے وہ مسافر لوٹ آئے

[اصل بیت پڑھیں]
9

بلائیں لوں، خوشی کے گیت گائوں
میں ان کی راہ میں آنکھیں بچھائوں
وہ جب پردیس سے لوٹیں سہیلی!
تو ان کو اپنے سینے سے لگائوں

[اصل بیت پڑھیں]
10

پھر آیا موسم بادِ بہاری
بڑھی قلب و نظر کی بے قراری
چلے جائیں گے پھر بحری مسافر
کھڑی ہیں کشتیاں تیار ساری

[اصل بیت پڑھیں]
11

انہیںمیں ہوںمرے ساجن بھی اے کاش
سفینے جانبِ ساحل جب آئیں
میں ان کے بادباں پہچان جائوں
ادھر جب کشتیوں کو وہ بڑھائیں
بڑی مدت سے ان کی منتظر ہیں
ترس کر میری آنکھیں رہ نہ جائیں
خداوندا مبارک ہوں یہ آثار
دعا ہے میرے پیارے لوٹ آئیں

[اصل بیت پڑھیں]
12

ہوئے جب بادباں تیار کھل کر
تو سب نے دفعتاً مستول اٹھائے
بڑھے لے کر وہ اپنی کشتیوں کو
پھریرے سے ہوا میں لہلہائے
’لطیف‘ ان تاجروں پر رحمت حق
سفر جن تاجروں کو راس آئے

[اصل بیت پڑھیں]
13

وہ اپنے بادباں کو سی رہے تھے
اچانک کوچ کا پیغام آیا
بڑھے دریا کے جانب والہانہ
کسی گرداب کا دھوکہ نہ کھایا
بالاآخر اس طرف اترے سلامت
سکون جاوداں کا راز پایا

[اصل بیت پڑھیں]
14

اگر حائل نہ ہو گردابِ باطل
تہِ دریا ہیں گوہر کے خزانے
پہن کر جو لباسِ فقر نکلا
وہی غواص ان کی قدر جانے

[اصل بیت پڑھیں]
15

یہی چرچا ہے اکثر اس کنارے
مسافر لوٹ کر اب تک نہ آئے
رہے مہجور دل کی دھڑکنوں میں
سلگتے آنسوئوں میں جگمگائے

[اصل بیت پڑھیں]
16

یہ ان بیوپاروں کی عورتیں ہیں
روانہ ہوچکے ہیں جو سفر پر
اب ان کا کام ہے ساگر کی پوجا
کھڑی رہتی ہیں لے کر مشک و عنبر

[اصل بیت پڑھیں]
17

ہوئے پورے مرے ارمان سارے
ملے پھر مجھ سے آکر میرے پیارے
میں اب ان مانجھیوں کی ہوں پجارن
مرے کام آگئے جن کے سہارے

[اصل بیت پڑھیں]
18

ہوا میں جن کے پرچم اڑ رہے ہیں
نظر آجائیں ان کے بادباں بھی
سفر سے جن کے ساجن لوٹ آئے
خوشی ہے آج ان سکھیوں کو کتنی!

[اصل بیت پڑھیں]
19

لبِ ساحل پہ ہنگامے ہیں برپا
جہاں گرد و جہاں بیں آ رہے ہیں
وہ دیکھو ان کے مستولوں کے پرچم
ہوا میں کس طرح لہرا رہے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
20

لگائیں جھنڈیاںِ دیپک جلائے
جہاں تک ہو سکا رستے سجائے
میں ہوں اپنے خدا سے لو لگائے
وہی ساجن سے اب مجھ کو ملائے

[اصل بیت پڑھیں]
21

جو اس ساگر کی سیوا کو نہ جائے
اُسے کیوں کر محبت راس آئے
جلائے جو بھی آشائوں کے دیپک
وہی ساجن کو سینے سے لگائے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

روکو نہ مجھے تم سکھیو!
جائوں گی سجن کے دوارے
ساگر میں ڈال کے ڈیرا
ساجن پردیس سدھارے
جائوں گی سجن کے دوارے
گھٹ گھٹ کے یاد میں ان کی
مر جائوں نہ دکھ کے مارے
جائوں گی سجن کے دوارے
درد ان کا مجھے تڑپائے
تڑپوں میں سانج سکارے
جائوں گی سجن کے دوارے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کیوں چھوڑا ساتھ سجن کا
تیری ہی بھول نے سجنی
سکھ چھین لیا تن من کا
کیوں چھوڑا ساتھ سجن کا
جا اُس کی کھوج میں ناداں
جو ساتھی ہے جیون کا
کیوں چھوڑا ساتھ سجن کا
پردیس گیا ہے ساجن
اب سپنا دیکھ ملن کا
کیوں چھوڑا ساتھ سجن کا
کل جیسا آج نہیں ہے
یہ چولا تیرے تن کا
کیوں چھوڑا ساتھ سجن کا
دکھڑوں کو سننے والا
اب کون ہے تجھ برھن کا
کیوں چھوڑا ساتھ سجن کا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

ان کے ساتھ ہی جائوں گی
بنجاروں سے پیار مجھے
اپنی نائو کو ٹھیرالے
کھیون ہار! میں آئوں گی
بنجاروں سے پیار مجھے
بھول چکیں جن کو سکھیاں
ان کی یاد دلائوں گی
بنجاروں سے پیار مجھے
پریت کی ساری بپتائیں
سہ سہ کر مسکائوں گی
بنجاروں سے پیار مجھے
ان کو یاد کروں گی میں
ان سے پریت نبھائوں گی
بنجاروں سے پیار مجھے
ساجن ایک مہا ساگر
ان کے بھید میں پائوں گی
بنجاروں سے پیار مجھے

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

تھکی ہاری ہوں، میں بپتا کی ماری
بھلا اس پار کے کیا بھید پائوں
مجھے بھی ساتھ لے چل میرے مانجھی
بھٹک کر اس کنارے رہ نہ جائوں
یہ جانے والے میری زندگی ہیں
انہیں میں کس طرح رو کوں منائوں

[اصل بیت پڑھیں]
2

دیا اس کو نہ سورج ڈوبنے تک
کسی مانجھی کی نیّا نے سہارا
مگرجب چاہنے والے نے چاہا
تو فوراً مل گیا اس کو کنارا

[اصل بیت پڑھیں]
3

مری سکھیوں کے ساجن آگئے ہیں
نہ جانے میرے ساجن کیوں نہ آئے
مجھے چھیڑو نہ میری پیاری سکھیو!
اُٹھے اک ہوک سی دل کانپ جائے
یہ دن جاڑوں کے اور مانگے کے برتن
بنا ساجن کے کیا کیا دکھ اٹھائے

[اصل بیت پڑھیں]
4

یوں ہی تکتی رہوں گی راہ ان کی
نہ چھوڑوں گی میں آشا کے سہارے
رہا ان کا کرم مجھ پر ہمیشہ
خوشی کے ساتھ میں نے دن گذارے
نہ جانے میرے تن میں کھوٹ تھی کیا
گئے کیوں روٹھ کر وہ میرے پیارے
اٹھا کر چل دیئے وہ اپنے لنگر
تڑپتی رہ گئی میں غم کے مارے
وہ کھیون ہار ان کی لاج رکھ لے
لگا دیتا ہے جو کشتی کنارے

[اصل بیت پڑھیں]
5

لبوں پر بحر کا ذکر مسلسل
دلوں میں موج و طوفان کی صدا ہے
دیارِ دوست سے پیغام آیا
کوئی سوئے تلاطم کھینچتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
6

نہ بھولے اس کنارے کی نشانی
وہیں آئے جہاں میٹھا ہے پانی
دل ان کے پاک ہیں زر کی ہوس سے
جواہر سے لدی ہے زندگانی
سکھی وہ لوٹ کر ’لنکا‘ سے آئے
بڑے انمول موتی ساتھ لائے

[اصل بیت پڑھیں]
7

اٹھے لنگر سویرے ہی سویرے
یہ دریا آشنا تیرے نہ میرے
تلاش سیم و زر میں سوئے ’لنکا‘
روانہ ہو گئے ہیں منہ اندھیرے
ہمیشہ کام ہے موجوں سے لڑنا
سدا ساگر میں ہیں ان کے بسیرے

[اصل بیت پڑھیں]
8

سحر ہوتے ہی پھر تیار ہیں یہ
بڑے ظالم ہیں یہ بحری مسافر
کہاں تک میں کروں گی یاد ان کو
مجھے تو مار ڈالیں گے یہ تاجر

[اصل بیت پڑھیں]
9

ہوئے تیار پھر جانے کو ’سید‘
یہ بنجارے سویرے ہی سویرے
اُنہیں کب راس آتا ہے کنارا
سدا ساگر میں ہوں جن کے بسیرے

[اصل بیت پڑھیں]
10

وہ پھر جانے کو ہیں تیار اے کاش!
کہیں جانے سے ان کو روک سکتی
یہ ایسے ہیں کہ ماں کی مامتا بھی
نہیں جانے سے ان کو روک سکتی

[اصل بیت پڑھیں]
11

رہے تم تو سدا پردیس ہی میں
سہاگن ہو کے میں نے سکھ نہ پایا
مجھے پھر چھوڑ کر جاتے ہو ساجن
تمہارے بعد کیا کیا دکھ اٹھایا

[اصل بیت پڑھیں]
12

پھر ان کے بادباں لہرا رہے ہیں
کہیں پردیس کو پھر جارہے ہیں
غم و رنج والم کے گہرے سائے
دل بے تاب پر منڈلا رہے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
13

دیوالی آئی اور بیوپاریوں نے ، سکھی پھر گھاٹ سے لنگر اٹھائے
پکڑ کر ان کے چپو پیاریوں نے، نہ جانے کس قدر آنسو بہائے
اٹھائے ہیں وہ دکھ دکھیاریوں نے، جنہیں سن کر زمانہ کانپ جائے

[اصل بیت پڑھیں]
14

دیوالی آئی بنجاروں نے پھر سے
لیا بادِ شمالی کا سہارا
بلاتا ہے پھر ان کی کشتیوں کو
کوئی بھولا ہوا شاید کنارا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

اے سکھیو! موری دھیر بندھائو
مرا من ہے پریت کا مارا
کیا بھول ہوئی تھی مجھ سے
کیوں روٹھا مجھ سے پیارا
مرا من ہے پریت کا مارا
ڈھونڈے ہے یہ دکھیا داسی
اب کس کا اور سہارا
مرا من ہے پریت کا مارا
میں کتنے بھی دکھ جھیلو
بسیرے بھولوں نہ سجن کا دوارا
مرا من ہے پریت کا مارا
کیا ہنسنے والے جانیں
سکھیو! دکھ درد ہمارا
مرا من ہے پریت کا مارا
ساجن کے پاس نہ پہنچا
جو راہی ہمت ہارا
مرا من ہے پریت کا مارا
نینوں میں نیر ہوں ایسے
جیسے برکھا کی دھارا
مرا من ہے پریت کا مارا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

میں پربت پربت ماری
میں جنم جنم دکھیاری
مرا من ہے پریم پجاری
سمجھوں میں سجن کی بھیدی
پاس آئے جو کوئی ناری
مرا من ہے پریم پجاری
مرے جیون کی ہر آشا
اک بجھی بجھی چنگاری
مرا من ہے پریم پجاری
پھرتی ہوں جنگل جنگل
دن رات لگن کی ماری
مرا من ہے پریم پجاری
بن باسی بن کر سجنی
بن جائوں ان کی پیاری
مرا من ہے پریم پجاری

[اصل بیت پڑھیں]

سر کاموڈ

پہلی داستان
1

ہزاروں عیب وابستہ ہیں مجھ سے
میں اک ملاح کی بیٹی ہوںپیارے
مجھے احساس ہے بے مایگی کا
کہ مانندِ تنِ ماہی ہوں پیارے
کہیں ایسے نہ ہو پھرے رخی ہو
خبر ہے تجھ کو جیسی بھی ہوں پیارے
کہاں میں اور کہاں محلوں کی رانی
میں اس زمرے میں کب آتی ہوں پیارے
کہاں ذرہ کہاں خورشیدِ تاباں
’سمہ‘ تو اور میں ’گندری‘ ہوں پیارے

[اصل بیت پڑھیں]
2

تماچی! گھاٹ کے مالک خدارا!
نہ کرنا اپنی گندری سے کنارا
نہ لینا تم کوئی محصول ہم سے
کہ ہر ملاح ہے غربت کا مارا
کہیں آنکھیںنہ مجھ سے پھیر لینا
دیا ہے گر محبت کا سہارا

[اصل بیت پڑھیں]
3

فقط یہ مچھلیاںہیں ان کی دولت
غریب و ناتواں ہیں یہ مچھیرے
مگر یہ فخر بھی کیا کم ہے ان کو
کہ اب ہیں حاشیہ بردار تیرے

[اصل بیت پڑھیں]
4

یہ ان کے جال اور یہ کشتیاں ہیں
یہ ان کے ٹوکرے اور مچھلیاں ہیں
سحر کو تیرے در کی پیشیاں ہیں
پھر اس کے بعد ماہی گیریاں ہیں
خدا جانے ’تماچی۔جام‘ پیارے
تجھے اب ہم سے کیوںدلچسپیاں ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
5

یہ ان کی ’کھاریاں‘ اور ’چھاج‘ تو بہ
کہ بدبو مچھلیوں کی جن سے آئے
پڑے رہتے ہیں اس پانی میں وہ بھی
سگِ آبی جہاں غوطے لگائے
جو رہتے ہوں ہمیشہ ’باندھیوں‘ پر
تعجب ہے انہیں دل میں بسائے
نہ صورت ان کی اچھی ہے نہ سیرت
نہ جانے کیوں وہ ان کے ناز اٹھائے

[اصل بیت پڑھیں]
6

کہاں تہمد ہیں اب کیچڑ میںلت پت
کہاں اب تن پہ برگِ نیلوفر ہیں
سروں پر جن کے کل تک موڑیاں تھیں
وہ اب راجہ کی منظور نظر ہیں
چلی جائیں وہاںجس وقت چاہیں
کھلے ان کے لئے محلوں کے در ہیں
سمہ نے بخش دی ہے جھیل ان کو
ستارے آج ان کے اوج پر ہیں
تماشا ہے کہ اب سارے مچھیرے
تماچی جام سے شیر و شکر ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
7

بھلا بیٹھی ہے وہ اپنی حقیقت
سمہ نے جب سے بخشی ہے حضوری
محل میں رانیوں کے ساتھ اکثر
رسوماتِ حرم کرتی ہے پوری
نہ اب وہ مچھلیاں ہیں اور نہ کھارے
کہاں ہے اپنے آپے میںیہ’ ’نوری‘
نہ جانے کس خیال و خواب میں ہے
کوئی دیکھے تو اس کی لاشعوری

[اصل بیت پڑھیں]
8

ہوا گرویدہ اس گندری کا ایسا
کہ رتھ میں لے کے اپنے ساتھ آیا
بطور خاص جب نوری کے ہاتھوں
سمہ نے پھول نیلوفر کا پایا

[اصل بیت پڑھیں]
9

ہجوم مہ و شاں میں جلوہ آرا
وہی حسنِ نگاہ شرمگیں تھا
تماچی جام کی آغوش میں بھی
غرور و ناز نوری کو نہیں تھا

[اصل بیت پڑھیں]
10

کہاں بغض و حسد اب رانیوں میں
نیاز آگیں ہے نوری کی جوانی
سمہ سردار اس پر شیفتہ ہے
وہ راجہ ہے یہ اس کے من کی رانی

[اصل بیت پڑھیں]
11

سنے تھے مچھلیوں میں ہاتھ لیکن
ادائوں میں نرالی شوخیاں تھیں
تماچی جام کی ہمسایگی سے
دلِ نوری میں کیا رعنائیاں تھیں

[اصل بیت پڑھیں]
12

وہ ملاحوں میںپیدا تو ہوئی تھی
مگر قسمت میں تھے اوصاف حوری
سمہ سردار نے پہچان کر ہی
اسے بخشا تھا اعزاز حضوری
’سرندے‘ میں نیا تاگا ہو جیسے
یوں ہی تھی رانیوں کے بیچ نوری

[اصل بیت پڑھیں]
13

بہت ہی خوبصورت ہے وہ نوری
نہیں ’کینجھر‘ میں اس کا کوئی ثانی
سمہ خود مورچھل جھلتا ہے اس پر
بنی ہے جب سے اس کے من کی رانی
تعلق کیا اسے ان مشغلوں سے
کہاں کی کشتیاں ’مڈ‘ اور ’میانی‘

[اصل بیت پڑھیں]
14

وہی مالک ہے ان گھاٹوں کا نوری
اسی کی ہے یہاں فرماں روائی
بہر صورت تجھے لازم ہے پیاری
تماچی جام کی مدحت سرائی

[اصل بیت پڑھیں]
15

سمہ اور سومرہ شہزادیوں کو
عبث ہے اب یہ زعمِ سرفرازی
خوشاکنجھر کی وہ نادار گندری
کہ جس نے جیت لی الفت کی بازی

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

راج محل سے ملاحوں میں
جام تماچی آیا
دیکھ کے اک البیلی سج دھج
نوری کو اپنایا
جام تماچی آیا
دھن دولت جنتا میں بانٹے
مایا جال کو توڑا
کنجھر کی گندری کے کارن
راج پاٹ کو چھوڑا
جانے کیا کیا کھو کر اس نے
من کا موتی پایا
جام تماچی آیا
کیسے کیسے ہیرے اس نے
اس گندری پر وارے
اپنے من کی جیت کے کارن
جیتے دائوں بھی ہارے
دھن دولت کی چنتا کیسی
سب کچھ بھینٹ چڑھایا
جام تماچی آیا

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

نہ جانا توڑ کر میرے سہارے
ترے قرباں مری آنکھوں کے تارے
ملی ہے گندریوں کی سرخروئی
تری وابستگی سے مجھ کو پیارے
خوشی سے کاش ہم دونوں ہمیشہ
رہیں آباد کنجھر کے کنارے

[اصل بیت پڑھیں]
2

بہار آتے ہی پھر بادِ شمالی
سراپا مشکبو ہونے لگی ہے
درختوں کے گھنے سایوں میں پیارے
یہ کنجھر ایک گہوارہ بنی ہے
میں تیرے ساتھ ہوں آب رواں پر
میسر اب مجھے ہر اک خوشی ہے
کنول کے تیرتے پھولوں کی سج دھج
نگاہوں میں سمائی جا رہی ہے
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید
محبت مدعائے زندگی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

سمہ کی رانیاں بن ٹھن کے آئیں
تماچی نے نہ دیکھا آنکھ اٹھا کر
نہ چھوڑا ساتھ ملاحوں کا اس نے
اگرچہ لاکھ تکلیفیں اٹھائیں
پھرا وہ مچھلیوں کا جال لے کر
ہوائیں سارا دن کنجھرکی کھائیں

[اصل بیت پڑھیں]
4

ہوئی اک دوسرے کے حق میں راحت
تماچی جام اور نوری کی الفت
سمجھتے ہیں سبکسارانِ کنجھر
وہ افسانہ تھا یا کوئی حقیقت

[اصل بیت پڑھیں]
5

کنارہ کش رہی ہر انجمن سے
جدا سب سے تھی اس نوری کی فطرت
سے کیا اہلِ کنجھر سے تعلق
تماچی سے ہوئی جس کو محبت

[اصل بیت پڑھیں]
6

تماچی گندریوں پر مہرباں ہے
تماچی کارسازِ بے کساں ہے
تماچی بے نیاز جسم و جاں ہے
تماچی حاصلِ صد آستاں ہے
تماچی ہی تماچی جاوداں ہے
تماچی محرمِ کون و مکاںہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

وہ ملاحوں کا دل آرام آیا
بصد آسائش و اکرام آیا
صدا یہ جھونپڑوں سے آرہی ہے
کہ پھر پیارا تماچی جام آیا
خدا رکھے سروں پر اس کا سایہ
وہ بن کر سربسر انعام آیا

[اصل بیت پڑھیں]
8

تماچی جام اور تیری حضوری
یہ کیا اعجاز ہے اے چشمِ نوری
رہی باقی نہ کوئی حدِّ فاصل
مٹادی عشق نے ہر ایک دوری

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

گندری اس کو کون کہے گا
جام تماچی میت ہو جس کا
پاس بھی اس کو جو نہ بٹھائیں
وہ ہی اب درشن کو آئیں
پلٹی کیسی پریت نے کایا
گندری اس کو کون کہے گا
جام تماچی میت ہو جس کا
وہ راجا یہ اس کی رانی
پریم لگن کی ریت سہانی
جے جے بولے ساری جنتا
گندری اس کو کون کہے گا
جام تماچی میت ہو جس کا

[اصل بیت پڑھیں]

سر سسئی

پہلی داستان
1

وہاں پہنچا مجھے امرِ مشیت! جہاں وہ آرزوئے جسم و جاں ہے
وہی ہے منتہائے سعیِ۔ٔ پیہم کہاں ہے وہ مرا پنہوں کہاں ہے
وہ میری زندگی کا آسرا ہے مرے قلب و نظر کا مدعا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

نگاہوں سے عیاں کربِ مسلسل لبوں پر نالہائے جانستاں ہیں
رخِ محبوب کے رنگیں نظارے نہ جانے کیوں تصور پر گراں ہیں
سرِ منزل کوئی دم توڑتا ہے محبت کے انوکھے امتحاں ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
3

بجھایا اس نے جتنا تشنگی کو
تمنائوں نے اتنا ہی بڑھایا
سسئی کو اشتیاقِ دلربا نے
مٹا کر بھی نہ جانے کیا بنایا

[اصل بیت پڑھیں]
4

جھلک ہی دیکھ کر اس دلربا کی
سوا پہلے سے بھی وارفتگی ہے
بجھائے گا اسے کیا بحرِ ہستی
محبت کی انوکھی تشنگی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

مرے محبوب اک جامِ محبت
مجھے خود اپنے ہاتھوں سے پلا دے
قسم ہے مجھ کو اس تشنہ لبی کی
سراپا تشنۂ الفت بنا دے
نہ ہو سیری کبھی وارفتگی سے
بجھائوں تشنگی کو تشنگی سے

[اصل بیت پڑھیں]
6

سسئی کو چاہئے پنہوں کی خاطر
سہے اُفتاد ہائے ناگہانی
بھرم قائم ہے جن کی تشنگی کا
انہیں خود ڈھونڈھنے آئیگا پانی
سسئی کو چاہئے پنہوں کی خاطر
سہے اُفتاد ہائے ناگہانی
بھرم قائم ہے جن کی تشنگی کا
انہیں خود ڈھونڈھنے آئیگا پانی

[اصل بیت پڑھیں]
7

بسیرے جن کے ہیں آبِ رواں پر
انہیں کیوں زحمت تشنہ لبی ہے
وہ پنہوں ہے رگِ جاں سے قریں تر
سسئی جنگل میں جس کو ڈھونڈھتی ہے
سن اے محرومِ رازِ خود شناسی
عبث یہ شکوۂ بیچارگی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

سسئی ملتی رہی پنہوں سے لیکن
محبت آشنا ہونے نہ پائی
رہی در پردہ کچھ بیگانگی سی
بالاآخر خود پرستی رنگ لائی

[اصل بیت پڑھیں]
9

چلی بادِ سموم ایسی کہ جس نے
ہلا ڈالا زمین و آسمان کو
کیا تعبیر پیغام اجل سے
سبھی نے اس بلائے ناگہاں کو
سہارا اپنی بے تابی کا سمجھا
ہر اک ذی روح نے آہ و فغاں کو
فضا میں ہر طرف چھایا ہوا غم
بیاباں سوزِ غم سے خود جہنم

[اصل بیت پڑھیں]
10

اگر ہے کیچ کی حسرت سسئی کو
بنائے اپنا رہبر عاجزی کو
میسر ہے جسے بے لوث الفت
وہ کیا جانے فریب گمرہی کو
محبت برتر از بیم و رجا ہے
محبت آپ اپنا مدعا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
11

بنا کر عاجزی کو اپنا رہبر
سسئی! کوہ و بیاباں سے گزرنا
رہِ الفت میں جو کچھ پیش آئے
اسے بھولے سے بھی ظاہر نہ کرنا
شعورِ آبلہ پانی مبارک
شعارِ کوہ پیمائیِ مبارک

[اصل بیت پڑھیں]
12

نہ اب بھنبھور میں آنسو بہانا
نہ ہاڑھے۱؎ کی طرف دامن بڑھانا
بڑی مشکل سے ملتی ہے یہ دولت
رموزِ عاشقی سب سے چھپانا
غمِ محبوب کے سوزِ دروں سے
جہاں تک ہو سکے دل کو بچانا

[اصل بیت پڑھیں]
13

تجھے کیوں درد کی شدت کا شکوہ
ترا مسلک نہیں راحت شعاری
تجھے کیا فکر سامانِ جہاں سے
ترا ساماں متاعِ خاکساری
کہاں کا بعد کیسا قرب ظاہر
نہیں کچھ بھی سوائے بیقراری

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

تن من میں اب گونج رہا ہے کوئی سہانا گیت
آشائوں میں رچی بسی ہے ساجن تیری پریت
آجا لوٹ کے پریتم پیارے ترس رہے ہیں نین
اب بھنبھور میں تجھ بن بالم کیسے آئے چیں
کوئی نہیں سنسار میں ’آری‘! مجھ برھن کا میت
آشائوں میں رچی بسی ہے ساجن تیری پریت
تیرے بنا اے میرے گیانی! کون مرا دکھ درد مٹائے
کس کو بنائوں اپنا بھیدی کون مری اب دھیر بندھائے
میرے لئے ہے پت جھڑ جیسی برکھا رت کی ریت
آشائوں میں رچی بسی ہے ساجن تیری پریت

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

اے سسئی! کیچ دور ہے لیکن
بدگماں ہو نہ رہ گزاروں سے
دور پگڈنڈیوں پہ چلتی جا
تجھ کو ملنا ہے شہ سواروں سے
آرزو کو چراغِ راہ سمجھ
کیوں ہراساں ہے کوہساروں سے
اس قدر بھی تو وہ بعید نہیں
دیدۂ شوق نا امید نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
2

عقلِ کل بھی ہے حسنِ کامل بھی
خود وہ شاہد ہے اور خود مشہود
جرأت شوق گر میسر ہو
ہر قدم پر ہے منزلِ مقصود

[اصل بیت پڑھیں]
3

کیچ کی سمت لے چلی مجھ کو
میری افسردہ حال تنہائی
دور افتادہ اک بیاباں میں
میرے پنہوں کو میری یاد آئی

[اصل بیت پڑھیں]
4

میں کہاں آشنائے صحرا ہوں
میرے پیارے ترا سہارا ہے
مرحلے ختم ہی نہیں ہوتے
دردِ درماندگی نے مارا ہے
اف یہ بادِ سموم کی حدت
بھنک رہا جس سے جسم سارا ہے
جان لیوا ہے تشنگی میری
تیری خاطر مگر گوارا ہے
دشت و کہسار گونج اٹھے ہیں
میں نے جب بھی تجھے پکارا ہے
کاش! میری امید بر آئے
ہر طرف تو ہی تو نظر آئے

[اصل بیت پڑھیں]
5

ڈھونڈھتی ہوں مگر نہیں ملتا
میرے پیارے کا نقشِ پا کوئی
آتشین رہ گزر گھنے جنگل
ہم سفر ہے نہ رہنما کوئی

[اصل بیت پڑھیں]
6

دے سہارا مجھے مرے محبوب
تجھ سے ہوں اب میں لو لگائے ہوئے
دشت گنجان اور گھنے جنگل
ناگ بیٹھے ہیں پھن اُٹھائے ہوئے

[اصل بیت پڑھیں]
7

ہائے اس اجنبی بیاباں میں
کنِ مصائب سے وہ ہوئی دوچار
کیا خبر تھی کہ رنگ لائے گا
آخر کار دو دلوں کا پیار

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

سکھیو! میں کہاں ڈھونڈھوں
موھے چھوڑ گئے پردیسی
میرے پنہوں کے سنتانی
وہ البیلے ’آریانی‘
اونٹوں کو سجا بنا کر
موھے گہری نیند سلا کر
منہ موڑ گئے پردیسی
موھے چھوڑ گئے پردیسی
کیا اچھا ہو پھر آئیں
اور ساتھ مجھے لے جائیں
پنہوں کی یاد ستائے
بھید اس کا کون بتائے
دل توڑ گئے پردیسی
موھے چھوڑ گئے پردیس

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

نہیں منت پذیرِ کوہ وصحرا
جمالِ یار ہر جا ضوفشاں ہے
خوشا غمازیٔ ذوقِ فراواں
بساطِ گوشۂ دل میں نہاں ہے
یہ سچ ہے مشکلاتِ زندگی میں
تلاش دوست سب سے جانستاں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

اگر ہے اے سسٔی! درکار پنہوں
بنا اپنا کسی خلوت نشیں کو
و گر نہ عمر بھر ڈھونڈھا کرے گی
بیاباں در بیاباں اس حسیں کو

[اصل بیت پڑھیں]
3

اسے اپنے ہی گھر میں ڈھونڈھ ناداں
کہ پنہوں ہے چراغ زیرِ داماں
وہ تیری خلوت دل میں مکیں ہے
نہیں سرگشتۂ کوہ و بیاباں
نشانِ جلوہ گاہ یار کیا ہے
فقط اک اعتبارِ چشم حیراں

[اصل بیت پڑھیں]
4

نہ لے بیکار غیروں کا سہارا
مکیں ہے تیرے ہی دل میں وہ پیارا
اسے تو در بہ در کیا ڈھونڈھتی ہے
سمجھتی ہے جسے آنکھوں کا تارا

[اصل بیت پڑھیں]
5

دلیلِ معرفت کب ہیں یہ راہیں
سسٔی تو کیوں پریشاں کو بہ کو ہے
وہ دُرِّ بے بہا ہے تیرے دل میں
زباں پر تیری جس کی گفتگو ہے
شعور خود شناسی چاہئے بس
جو خود تجھ میں ہے اس کی جستجو ہے؟

[اصل بیت پڑھیں]
6

ترا پنہوں ہے تیرے دل میں پنہاں
بیاباں کی طرف کیوں جارہی ہے
ملے گا اس طرح کب ’ہوت‘ تجھ کو
فریبِ نو بہ نو کیوں کھا رہی ہے
’لطیف‘ اس کو وفا کیا راس آئے
جو فکر ماسوا میں ڈوب جائے

[اصل بیت پڑھیں]
7

لگن پنہوں کی ہے جن کے دلوں میں
کہاں زیبا انہیں آوارگی ہے
سسئی کی خود فریبی ہے سراسر
کہ اس کو ’کیچ‘ ہی میں ڈھونڈھتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

نہیں اب شکوۂ بے اعتنائی
گوارا ہے مجھے بے دست و پائی
یہ صحرا اور یہ کوہ و بیاباں
سراسر ہیں دلیلِ نارسائی
دماغ اس کا بھلا کیا ساتھ دے گا
جسے حاصل ہے دل کی پیشوائی
اسے درماندہ ہی رہنا پڑے گا
خودی جس شخص کے دل میں سمائی
جو ’آری‘ میں نظر آتی تھی مجھ کو
جھلک وہ روح کے نزدیک پائی
مری رگ رگ میں نغمہ زن ہے ’پنہوں‘
خوشا قسمت مری خود آشنائی

[اصل بیت پڑھیں]
9

خدا ناخواستہ گمراہ ہو کر
خودی کی منزلوں میں کھو نہ جانا
خدا را کیچیوں کی نام لیوا
سراپا دردِ حسرت ہو نہ جانا

[اصل بیت پڑھیں]
10

نہ ہو آمادۂ ترکِ محبت
مثالِ مشک تن من میں بسالے
تجھے لازم ہے اے درمندہ راہی
محبت ہی کو تو رہبر بنالے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کت گئے ہیں میرے ساجن، کیا کروں کہاں میں جائوں
سکھیو! یہ بھول تھی میری، اب کیسے اُن کو پائوں
کت گئے ہیں میرے ساجن……
میں سوتے سوتے جاگی اک ہوک اٹھی من رویا
موھے چھوڑ گئے پردیسی، میں کب تک نیر بہائوں
کت گئے ہیں میرے ساجن……
پریتم کا سندیسہ دے کر سکھیو! مرا من بہلائو
بیکل ہیں مری آشائیں بھید اپنا کسے بتائوں
کت گئے ہیں میرے ساجن……

[اصل بیت پڑھیں]
چوتھی داستان
1

دیدنی ہے ہوس کا یہ انجام
سیکڑوں راہ رو ہوئے ناکام
ہاں مگر جن کا رہنما ہے عشق
ان کی منزل ہے انکا پہلا گام

[اصل بیت پڑھیں]
2

عیب ہر ایک آدمی میں ہے
آدمیت کسی کسی میں ہے
جو بلا نوش ہیں وہ کیا جانیں
کیا مزہ دردِ تشنگی میں ہے
کون جانے کہ زیست کی معراج
جاں سپاری و تن دہی میں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

بس وہی دے سکے گی میرا ساتھ
جان کو جو نہ سمجھے اپنی جان
جائو اب لوٹ جائو اے سکھیو!
کیچ کا راستہ نہیں آسان

[اصل بیت پڑھیں]
4

میری ہمجولیو! مری سکھیو!
وسعت کائنات ہے آگے
سہل اندیش کا یہاں کیا کام
امتحانِ حیات ہے آگے
جرأت عزمِ کوہ پیمائی
حد ناممکنات ہے آگے
نہ خودی ہے نہ بے خودی کوئی
آستانِ نجات ہے آگے

[اصل بیت پڑھیں]
5

کوہساروں سے بھاگنے والی!
یہ سکوں کس کو راس آیا ہے
سخت مشکل ہے راہ منزل دوست
کس نے گھر بیٹھے اس کو پایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
6

جائو پیاری سہاگنو! جائو
میری تقدیر میں ہے تنہائی
دے رہی ہے پیام رست و خیز
آتشیں دشت کی یہ پہنائی
پیارے پنہوں کے پیار نے مجھ کو
کر دیا وقف کوہ پیمائی
تم کو بھی پھونک لے نہ ساتھ مرے
آتشِ غم کی شعلہ آرائی
آرزوے وصال اے سکھیو!
ہائے مجھ کو کہاں کہاں لائی

[اصل بیت پڑھیں]
7

ماں! مجھے اب سکونِ خاطر ہے
اس کی حلقہ بگوش ہوں اب میں
میری سج دھج رہے فقیرانہ
اس کی جوگن نہ کیوں بنوں اب میں

[اصل بیت پڑھیں]
8

بزم خلد بریں سے بڑھ کر ہے
ساقیا! مجھ کو تیرا میخانہ
ہوگئی اس کی زندگی سرشار
جس نے چکھ لی، ہوا وہ دیوانہ
کون جانے کہ کیوں ہے مے آلود
یہ مرا خرقۂ فقیرانہ

[اصل بیت پڑھیں]
9

بدگماں ہوگئے مرے دیور
خیر، اے ماں قصور وار ہوں میں
گیت گائے نہ پھول برسائے
میں نے جانا گناہگار ہوں میں
ہاں مگر اس بلوچ کا وعدہ!
ہمہ تن محوِ انتظار ہوں میں

[اصل بیت پڑھیں]
10

ہائے تیرے سوا مرے پنہوں
دل مرا اور کس کو اپنائے
میرے پیارے کیا تھا جو وعدہ
کاش وہ تجھ کو یاد آجائے

[اصل بیت پڑھیں]
11

یاد کر پہلے اپنا عہدِ وفا
اے تمنائے وعدۂ محبوب
سخت کوشی ہے عشق کا شیوہ
ہو رہی ہے سفر سے کیوں مرعوب
صرف قول و قرار کیا معنی؟
سرنگوں انتظار کیا معنی؟

[اصل بیت پڑھیں]
12

اے سسئی سن کے وعدۂ محبوب
بھول کر بھی کہیں نہ سو جانا
تو نے دیکھا نہیں ابھی شاید
حسن کا بے نیاز ہو جانا

[اصل بیت پڑھیں]
13

چشم پرنم زباں پہ تیرا نام
دل پریشان اور ڈھلتی شام
اے تمناے مسکنِ محبوب
الجھنیں بڑھ رہی ہیں گام بہ گام
میں نہ لوٹوں گی، اب نہ لوٹوں گی
لاکھ بہکائے شدتِ آلام

[اصل بیت پڑھیں]
14

روک سکتی نہیں سفر سے مجھے
میری مجبور آبلہ پائی
کہہ سکے کیا مجال کوئی مجھے
ناشناسِ غمِ شناسائی
میری منزل ہے مسکنِ محبوب
ہمت افزا ہے جادہ پیمائی

[اصل بیت پڑھیں]
15

اشک آنکھوں میں پائوں میں چھالے
دل ہی دل میں گھٹے گھٹے نالے
میرے پیارے نہیں کوئی شکوہ
جتنا بھی چاہے مجھ کو تڑپالے
میں ترا آسرا نہ چھوڑوں گی
اے مری زندگی کے رکھوالے

[اصل بیت پڑھیں]
16

اے سسئی تجھ کو کون سمجھائے
اب پتہ ہے نہ کچھ نشاں ان کا
تو رہی محوِ خواب اے ناداں
کر گیا کوچ کارواں ان کا

[اصل بیت پڑھیں]
17

اہل بھنبھور لاکھ سمجھائیں
وہ نہ سمجھے گی کچھ بجز محبوب
نہ ملے کاروانِ گم گشتہ
رہِ الفت میں موت بھی مرغوب
یہ خلوصِ وفا، یہ صدقِ طلب
ہو گئے ایک طالب و مطلوب

[اصل بیت پڑھیں]
18

میری ہمجولیو! مری سکھیو!
مشورہ دو نہ لوٹ جانے کا
اب یہ ہی ہے تلافی۔ٔ مافات
غم نہیں مجھ کو دکھ اٹھانے کا
شکر ہے مجھ کو عشق نے بخشا
حوصلہ خود کو آزمانے کا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

تجھ بن ٹیس ہی ٹیس ہے جیون اے مرے من کے میت
ہائے انوکھا دکھ ہے پریتم، تیری میری پریت
روگی میرا تن ہے سارا
مجھ برھن کا کون سہارا
بالم تیرے سوگ نے مارا
آجا تیرا نام ہے پیارا
سن لے اے مرے سندر ساجن سانسوں کا سنگیت
ہائے انوکھا دکھ ہے پریتم میری پریت
ہوک اٹھے دکھ بڑھتا جائے
مورکھتا نے دن یہ دکھائے
بیٹھی ہوں اب آس لگائے
تو میرا دکھ درد مٹائے
مان لے بات ’لطیف‘ کی ساجن، ہے یہ ہی پریم کی ریت
ہائے انوکھا دکھ ہے پریتم، تیری میری پریت

[اصل بیت پڑھیں]
پانچویں داستان
1

منزلِ عمر بے نشاں معلوم
حاصلِ سعیٔ رائیگاں معلوم
اک طرف کیچ اک طرف بھنبھور
عشق کا عزم بے کراں معلوم
کوہ و صحرا میں جستجو کیسی
اور پنہوں کا آستاں معلوم
اب مجھے ماسوا سے کیا حاصل
اور جزا و سزا سے کیا حاصل

[اصل بیت پڑھیں]
2

اپنی ہستی پہ چھا گیا جب خود
عشق پابندِ جسم و جاں نہ رہا
کوہ و صحرا بھی ہوگئے نا پید
فاصلہ کوئی درمیاں نہ رہا
مرحبا وصلِ شاہد و مشہود
کوئی تفریق کا گماں نہ رہا
خود شناسی خدا شناسی ہے
ورنہ ہستی صنم تراشی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

جب میں ’بھنبھور‘ سے فرار ہوئی
مطمئن روح بے قرار ہوئی
میرا ’پنہوں‘ مجھی میں تھا پنہاں
بے سبب اتنی سوگوار ہوئی
اب نہ وہ درد ہے نہ وہ آزار
وہ اسیری نہ وہ در و دیوار

[اصل بیت پڑھیں]
4

آپ ہی بن گئی ہوں میں ’پنہوں‘
آگئی راس مجھ کو تنہائی
اب وہ شرم و حجاب کیا معنی؟
لوگ کہتے ہیں مجھ کو سودائی
میری رگ رگ میں نغمہ زن محبوب
مرحبا میری خودشناسائی
کچھ نہیں فرقِ خالق و مخلوق
جز تماشائے شانِ یکتائی
بس وہی ایک منزلِ آخر
اک بہانہ ہے جادہ پیمائی

[اصل بیت پڑھیں]
5

ظاہری علم و آگہی کب تک
وقفِ اوہام زندگی کب تک
خود سسئی اور خود ہی پنہوں ہوں
اے غمِ عشق یہ دوئی کب تک

[اصل بیت پڑھیں]
6

سامنے اس کے موت بھی کیا ہے
ہائے یہ مرحلہ جدائی کا
توڑ ڈالے نہ کوہسار کہیں
سلسلہ جرأت آزمائی کا
اے مرے پنہوں! اے بلوچ مرے
سامنا ہو نہ جگ ہنسائی کا
اس سے پہلے کہ جان سے جائوں
میں تجھے اپنے سامنے پائوں

[اصل بیت پڑھیں]
7

دیکھ کر اپنی خانہ ویرانی
رو رہی ہوں میں ان سہاروں کو
جن کے دھوکے میں آکے مجبوراً
کھو دیا تھا شتر سواروں کو

[اصل بیت پڑھیں]
8

اے وصالِ دوام کی طالب
کچھ نہیں تیرے درد کا درماں
اپنی ہستی مٹا کے دیکھ ذرا
کیا دکھاتا ہے دیدہ حیران
کونسی شے ہے وہ نہیں جس میں
ذرہ ذرہ ہے مظہر جاناں

[اصل بیت پڑھیں]
9

غور سے دیکھ آئینہ دل کا
عکس ہے اس میں حسنِ کامل کا
راہ کیا پوچھتی ہے غیروں سے
اُن کو کیا علم تیری منزل کا
پیار کی شرط ہے فقط ایثار
پیار بکتا نہیں سر بازار

[اصل بیت پڑھیں]
10

تیری جھولی میں ہے وہ پہلے سے
مانگتی پھر رہی ہے جس کی بھیک
دیکھ اٹھا کر نقابِ ہستی کو
کہ رگِ جاں سے بھی ہے وہ نزدیک

[اصل بیت پڑھیں]
11

آخر کار یہ ہوا معلوم
مجھ کو تیرا پتا لگانے میں
نور تیرا محیط عالم ہے
کوئی تجھ سا نہیں زمانے میں

[اصل بیت پڑھیں]
12

جاوداں میری سعیٔ پیہم ہے
میرا عزمِ حیات محکم ہے
اے تمناے جلوۂ جاناں
ہر طرف ایک ہی سا عالم ہے
میری ہستی ہے شعلہ زارِ طلب
گل فشاں جس میں آتش غم ہے

[اصل بیت پڑھیں]
13

کیا بتائوں رہِ محبت میں
میں نے پایا بھی کچھ تو کیا پایا
جب کسی اہلِ کیچ کو دیکھا
میں نے پنہوں سمجھ کے اپنایا
اے مرے دلنواز ’آریانی‘
ہر طرف تو ہی تو نظر آیا

[اصل بیت پڑھیں]
14

رات دن تیری جستجو مجھ کو
راہبر جذبۂ محبت ہے
تیرا پرتو ہے روح وارفتہ
ہر تمنا تری امانت ہے
درمیاں ہے حجابِ عشق ابھی
یہ اٹھالوں تو عینِ راحت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
15

یوں بھٹکتی نہ کوہساروں میں
دور ہوتا نہ مجھ سے ’آریانی‘
کیا خبر تھی کہ پیار کے بدلے
ہاتھ آئے گی یہ پریشانی
میں جھلک دیکھتے ہی پنہوں کی
جانے کیوں ہو گئی تھی دیوانی
کچھ نہ سوچا تھا میں نے اے سکھیو!
ہائے میں اور میری نادانی
دے گئے جُل مجھے مرے دیور
آہ نادانی، اف پشیمانی!

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

میں آن پھنسی بپتا میں
پریتم موہے دھیر بندھانا
سجنا موھے چھوڑ نہ جانا
سنسان یہ پریت ڈگر ہے
کیا جانوں کیچ کدھر ہے
میرے پنہوں راہ سُجھانا
سجنا موھے چھوڑ نہ جانا
ہر گھاٹی ہے انجانی
ہو کہاں مرے آریانی
میری جیون جوت جگانا
سجنا موھے چھوڑ نہ جانا

[اصل بیت پڑھیں]
چھٹی داستان
1

بے قراری بڑھا گیا کوئی
جسم و جاں میں سما گیا کوئی
میرا تن من جلا گیا کوئی
آگ ایسی لگا گیا کوئی
سایۂ زلفِ یار کیا کہیے
کتنے فتنے جگا گیا کوئی

[اصل بیت پڑھیں]
2

سایۂ زلفِ یار نے مارا
عارضِ تابدار نے مارا
کرکے بیخود یہ اہتمامِ وفا
اک سلیقہ شعار نے مارا
ہائے یہ رات تیرہ و تنہا
یادِ گیسوئے یار نے مارا
سر بہ سر درد لادوا بن کر
خود مرے حالِ زار نے مارا
مرگِ عاشق نہیں شہادت ہے
مطمئن ہوں کہ پیار نے مارا

[اصل بیت پڑھیں]
3

تجھ سے وابستہ ہر تمنا ہے
رحم کر اپنے جاں نثاروں پر
رحمت بے حساب کے قرباں
یوں خفا ہو نہ خاکساروں پر
کون ہے مجھ غریب کا والی
جی رہی ہوں ترے سہاروں پر
جان لیوا ہے کوہ پیمائی
ہو نہ جائوں ہلاک تنہائی

[اصل بیت پڑھیں]
4

میں تری جستجو میں سرگرداں
رات دن صبح و شام ہوں پیارے
نظرِ التفات کے قرباں
رہروِ تشنہ کام ہوں پیارے
قہر زیبا نہیں غریبوں پر
مجھ سے نادار کم نصیبوں پر

[اصل بیت پڑھیں]
5

سنگدل کوہسار سے کہہ دو
میرا محبوب آریانی ہے
کیوں دکھاتا ہے تو مجھے آنکھیں
جاں بلب میری نا توانی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
6

زخم ہی زخم پاے نازک میں
دید کا شوق چشم حیراں کو
راحتِ وصل کی نوید ملے
کاش میرے دل پُر ارماں کو
کیوں بھٹکتی ہوں کون ہے محبوب
کیا خبر وسعت بیاباں کو
ہائے گم گشتہ کیچیوں کی یاد
مضطرب کیوں نہ ہو دل ناشاد

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

انجانی راہ دکھا کر
دکھ میرا اور بڑھا کر
موھے اپنی اور بلا کر
ترسائیں گے ساجن پیارے
لوٹ آئیں گے ساجن پیارے
مجھ برھن کو اپنا کر
پاس آکر گلے لگا کر
نینوں سے پریم جتا کر
لے جائیں گے ساجن پیارے
لوٹ آئیں گے ساجن پیارے

[اصل بیت پڑھیں]
ساتویں داستان
1

تیرا ہر نقشِ پا مرے پیارے
کیچ کا راستہ دکھاتا ہے
اب سرِ راہ بیٹھنا کیسا
سعیٔ پیہم پہ حرف آتا ہے
وصل اس کا نصیب ہو یا رب
جو مرے حوصلے بڑھاتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

ان سے کہہ دو کہ ہوں کمر بستہ
جن کو وندر کی سمت جانا ہے
راہِ دشوارِ جستجو سے گریز
آپ اپنا مذاق اڑانا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

مضطرب ہے مری نگاہ ابھی
نامکمل ہے رسم و راہ ابھی
اے تمناے جلوۂ جاناں
دور ہے دور جلوہ گاہ ابھی
جارہی ہوں جہاں ہے وہ غمخوار
موت آساں ہے زندگی دشوار

[اصل بیت پڑھیں]
4

وہ شب وصل تیرا گم ہونا
اب کہاں سے میں ڈھونڈھ کر لائوں
اے اجل مجھ کو اتنی مہلت دے
سر خوشِ جام شوق ہو جائوں
مرکزِ انتشارِ غم ہے دل
ایک شیرازۂ الم ہے دل

[اصل بیت پڑھیں]
5

دیکھ اے لذتِ فراق یار
پا بہ زنجیر ہو گئی ہوں میں
وہ مختارِ جسم و جاں ہے میرا
جس کی الفت میں کھو گئی ہوں میں

[اصل بیت پڑھیں]
6

رتبۂ مرگِ رہروانِ عشق
سہل اندیش لوگ کیا جانیں
میں نے اس راہ میں جو دیکھا ہے
وہ محبت کے آشنا جانیں

[اصل بیت پڑھیں]
7

اب سر راہ بیٹھنا نہ کہیں
دیکھتا ہے وہ رہنما تجھ کو
دیدۂ تر سے خیر مقدم کر
گر ملے اس کا نقشِ پا تجھ کو
تیری خوش قسمتی کہ پنہوں نے
کردیا منزل آشنا تجھ کو

[اصل بیت پڑھیں]
8

پاے درماندہ چشمِ خوابیدہ
راہِ الفت کو سازگار نہیں
عشق کا سوز و ساز کیا جانے
جو سرِ راہ اشکبار نہیں
زندگی ایک جاوداں تگ و دو
اس سے کوئی رہِ فرار نہیں
حاصلِ عشق پیچ و تابِ دوام
فرصت راحت و قرار نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
9

آرزو، جستجو، خلش، تگ و دو
بے بسی، درد، کرب، غم، آزار
کوہساروں کے سلسلے، توبہ
سانس لینا بھی ہوگیا دشوار
دیدنی ہے سسئی کی بیتابی
جیسے بیم و رجا میں ہو تکرار
کون جانے ’لطیف‘ کب ہو سسئی
واصلِ خاک، آستانۂ یار

[اصل بیت پڑھیں]
10

بڑھتا ہی جا رہا ہے گام بہ گام
سلسلہ میری نارسائی کا
وہ خلش دے گئے مرے دیور
جس سے امکاں نہیں رہائی کا

[اصل بیت پڑھیں]
11

اے نگہدار نقش پاے دوست
دل کی بے تابیاں بڑھائے جا
ان خطرناک کوہساروں میں
جرأت شوق آزمائے جا

[اصل بیت پڑھیں]
12

کردیا شوق نے کمربستہ
شدتِ درد سے نہ گھبرائی
کون جانے سسئی کا عجز و نیاز
محوِ حیرت ہے ہر تماشائی
جذبِ دل کی کوئی مثال نہیں
’ہوت‘ کو ’حب‘ سے کھینچ لے آئی
آخر کار مل گیا محبوب
آگئی کام کوہ پیمائی

[اصل بیت پڑھیں]
13

تشنگی، پیچ و تاب کا عالم
ایک مسلسل سراب کا عالم
وسعتِ کوہسار صبر شکن
لمحہ لمحہ عتاب کا عالم
وصلِ جاناں کا پیش خیمہ ہے
نو بہ نو اضطراب کا عالم

[اصل بیت پڑھیں]
14

ڈوب اپنے ضمیر کے اندر
صحبت دیگراں سے کیا حاصل
اے تمناے جلوۂ جاناں
صرف آہ و فغاں سے کیا حاصل
مسلک عشق شانِ درویشی
کرّ و فرِّ جہاں سے کیا حاصل

[اصل بیت پڑھیں]
15

ایک ہیجان بے کراں دل میں
اتنی بے چین اس قدر خاموش
جستجوے نشان منزل میں
اتنی بے چین جس قدر خاموش

[اصل بیت پڑھیں]
16

اے سسئی اپنے دل کی آگ کو تو
ہر طرف شعلہ ریز ہونے دے
آتش غم ہے زندگی کی دلیل
آتش غمک کو تیز ہونے دے

[اصل بیت پڑھیں]
17

راز رسواے اشک و آہ نہیں
رازداں جز دلِ تباہ نہیں
کھو دیا جس نے تیرے پنہوں کو
وہ خود طالبِ گواہ نہیں
خیر اتنا تو ہو گیا ثابت
خود فریبی دلیلِ راہ نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

یہ جیون ایک سفر ہے
پربت پہ پریت ڈگر ہے
’آری‘! مری آنکھ کا تارا
مرا پنہوں پیارا پیارا
مجھے جس کے سوگ نے مارا
نہیں کوئی اور سہارا
سنسان جگت ہے سارا
مرے من کا میت کدھر ہے
پربت پہ پریت ڈگر ہے
پھرتی ہوں آس لگائے
برھا کی ہوک چھپائے
بھنبھور میں چین نہ آئے
دن رین جیا گھبرائے
کب ساجن مجھے بلائے
سپنوں میں پریم نگر ہے
پربت پہ پریت ڈگر ہے
داسی میں بلوچوں کی ہوں
چرنوں کی دھول بنی ہوں
برھن ہوں اور دکھی ہوں
بھنبھور سے کیچ چلی ہوں
بیکل اب جیتے جی ہوں
بن باس ہی میرا گھر ہے
پربت پہ پریت ڈگر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
آٹھویں داستان
1

میں بے ہمدرد، بے کس، بے سہارے
کھڑی ہوں منتظر ’حب‘ کے کنارے
رواں ہیں دم بدم آنکھوںسے آنسو
خدارا آبھی جا اے میرے پیارے
کہاں تک میں رہوں گی دور تجھ سے
مرے پنہوں! مری آنکھوں کے تارے

[اصل بیت پڑھیں]
2

وہی تو آرزوے جسم و جاں ہے
وہی تو آبروے امتحاں ہے
کہاں ہے میرا پردیسی کہاں ہے
بڑی مشکل میں جانِ ناتواں ہے
وہی اس تنگناے زندگی میں
دلِ وسعت طلب کا رازداں ہے
یہاں زاد سفر کا ذکر کیسا
نظر میں کائنات بے کراں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

ہوئی ہے گامزن تیرے سہارے
تری نا آشناے راہ پیارے
نہایت پُر خطر ہے وسعتِ دشت
برا ہے حال میرا ڈر کے مارے
عجب کیا راہ سے لوٹ آئے پیارا
کہ دل میں ہیں ابھی ارمان سارے

[اصل بیت پڑھیں]
4

نہیں کوئی سسئی کا اب سہارا
گیا ہے چھوڑ کر جب سے وہ پیارا
کیا ہے ریگزاروں نے پریشاں
محبت نے اسے بے موت مارا
’لطیف‘ اس میں بھی کوئی مصلحت ہے
وگرنہ کس کو یہ زحمت گوارا
ملا دے پھر اُسے پنہوں سے اپنے
مدد اے جذبۂ الفت! خدارا

[اصل بیت پڑھیں]
5

سسئی کو آکے عزرائیل نے جب
گراں خوابی کے عالم میں جگایا
بظاہر اور ہی منظر تھا لیکن
وہ یہ سمجھی پیامِ دوست آیا

[اصل بیت پڑھیں]
6

سسئی نے دفعتاً ان سے یہ پوچھا
نکیریں اس کی پرسش کو جب آئے
کہو اے میرے دل کے راز دارو
تم اپنے ساتھ پنہوں کو بھی لائے

[اصل بیت پڑھیں]
7

ٹپک اے قطرۂ خونِ تمنا
برنگِ بادہ میری چشم نم سے
ملی ہے کس کو دنیا میں رہائی
غم سود و زیان و کیف و کم سے
دیارِ دوست کی جانب بڑھے جا
نہ گھبرا رہگدز کے پیچ و خم سے

[اصل بیت پڑھیں]
8

اسے بھنبھور سے اب کیا تعلق
سسئی آوارۂ راہِ وفا ہے
وصال دوست کی اک یاد رفتہ
دلِ درد آشنا کا مدعا ہے
بجز رنگینیٔ خونِ تمنا
مآلِ جستجو شوق کیا ہے
’لطیف‘ اس کو کہیں سے ڈھونڈ لائیں
وہ پیارا جو اچانک کھو گیا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
9

مبارک عزمِ کہسار و بیاباں
نہیں وہ ہوت اب ’ہاڑے‘ میںناداں
نہ ہونا سختی۔ٔ رہ سے پریشاں
اگرہے آرزوے وصلِ جاناں

[اصل بیت پڑھیں]
10

بڑھے جا رہ نورد کوہ و صحرا
گلہ کیسا غمِ درماندگی کا
اگر پنہوں کی ہے دل میں تمنا
مٹا دے خوف دل سے بے کسی کا
ہٹا کر ریت کو رستہ بنانا
کہیں تو اس کے نیچے دب نہ جانا

[اصل بیت پڑھیں]
11

یہ سنگ و خشت ہیں یہ پیچ و خم ہیں
انہوں نے تھا جہاں ڈیرا جمایا
خدا جانے کہاں گم ہو گئے وہ
نشان ان جانے والوں کا نہ پایا
مگر صد آفریں اے سعیٔ پیہم
سسئی کو تو نے کیا سے کیا بنایا
’لطیف‘ ان کوہساروں کو دعا دو
سسئی کو کیچ کا رستہ دکھایا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

تم بن میرے پریتم پیارے تڑپوں گی دن رین
جائو نہ چھوڑ کے مجھ کو اکیلی جیارا ہے بے چین
سکھیو! آئو منائیں
ساجن روٹھ نہ جائیں
بھاڑ میں جائے یہ جگ جیون، چھوڑو پیا نہ ساتھ
مجھ اندھی کا کون سہارا رکھیو ہاتھ میں ہاتھ
نینا نیر بہائیں
ساجن روٹھ نہ جائیں
ہائے وہ اونٹ جو میرے من کو مار گئے بن موت
سندر سپنوں کی ہر آشا بن گئی میری سوت
اپنا میت بنائیں
ساجن روٹھ نہ جائیں

[اصل بیت پڑھیں]
نویں داستان
1

تجھے جس کی تمنا ہے وہ محبوب
ملے گا باوجودِ نارسائی
یہ عزم رہروی اے سعیٔ پیہم
مٹادے گا حدودِ نارسائی

[اصل بیت پڑھیں]
2

وہ بیگانہ سہی جس کی طلب ہے
کوئی کجرو اسے کب پاسکا ہے
بغیر اک رہروِ راہِ طلب کے
سرِ منزل بھلا کون آسکا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

کہیں دھوکا نہ دے مجھ غمزدہ کو
خرامِ دشت پیماے ہوا بھی
کہیں یہ ریگ صحرا گم نہ کردے
مرے پنہوں کے پیارے نقش پا بھی

[اصل بیت پڑھیں]
4

ابھی اے آرزوے وصلِ جاناں
مری قسمت میں ہیں کوہ و بیاباں
مرے پنہوں کا نقش پا مٹا کر
صبا نے کردیا مجھ کو پریشاں

[اصل بیت پڑھیں]
5

گذرنا ہے تجھے بھی اب ادھر سے
گئے ہیں کیچ کو ناقے جدھر سے
خدارا مبتلاے بار ہستی
سبق لے اس غبار رہگذر سے

[اصل بیت پڑھیں]
6

تلاشِ دوست میں ہر ایک منزل
فریبِ راہ ہے منزل نہیں ہے
تیری رہبر ہے پیہم بے قراری
تمناے سکونِ دل نہیں ہے
کوئی کہدے سسئی سے جا کے ’سید‘
محبت سعیٔ لا حاصل نہیں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

گھسٹتی جارہی ہوں میرے پیارے
میں لے کر اپنی کہنی کا سہارا
نہیں اب پیر اٹھانے کی سکت بھی
نہ کر اب دیر آنے میں خدارا

[اصل بیت پڑھیں]
8

سسئی کی سعیٔ پیہم رنگ لائی
اسے راس آگیا دردِ جدائی
بخیر و عافیت ’حب‘ سے گذر کر
نوید آسائشِ منزل کی پائی

[اصل بیت پڑھیں]
9

قسم ہے تجھ کو درماندہ نہ ہونا
کسی مشکل سے مشکل مرحلے میں
سفر ہر ایک راہی کے لئے ہے
نہ آئے فرق تیرے حوصلے میں

[اصل بیت پڑھیں]
10

کہاں ہے اے مری آنکھوںکے تارے
بڑی بے چینیوں میں دن گذارے
بنے گردِ سفر کتنے بیاباں
تجھے اب تک نہ پایا میرے پیارے
میںکیا خاطر میں لائوں مشکلوں کو
سمجھتی ہوں ترے پیہم اشارے
بتا اے آرزوے دیدِ جاناں
کہیں دیکھے ہیں ایسے غم کے مارے
’لطیف‘ اس راہرو پر آفریں ہے
جو اس عالم میں بھی ہمت نہ ہارے

[اصل بیت پڑھیں]
11

کہاں تک دشت پیمائی کا شکوہ
یقیں ہے تیرے پاس آئوں گی پیارے
بھٹکتی ہی رہوںگی تیری خاطر
مصائب سے نہ گھبرائوں گی پیارے
یہ نازک پیر اور خارِ مغیلاں
مگر جیسے بھی ہو، جائوں گی پیارے
ندامت سے جھکا کر اپنے سر کو
تجھے پھر سے منا لائوں گی پیارے

[اصل بیت پڑھیں]
12

اسے کیوں شکوۂ درماندگی ہو
جسے اس کی محبت کھینچتی ہو
گذر جائے گا کوہ و دشت و در سے
وہ جس کی آس پنہوں سے لگی ہو
مقدر میں ہے اس کے سرفرازی
میسر جس کو ایسی زندگی ہو

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

پھروں میں ڈگر دن رین
ترس ترس گئے میرے نین
پربت پربت گھاٹی گھاٹی تیری کھوج لگائوں
پھر بھی اے ابھمانی پریتم! تیرا بھید نہ پائوں
آجا لوٹ کے من بیکل ہے آئے نہ تجھ بن چین
پھروں میں ڈگر ڈگر دن رین
کہنے کو ہوں اور کسی کی، پر ہے تجھ سے پیار
مورکھ ہے وہ سکھی جو بالم! جائے نہ تیرے دوار
ڈھونڈ رہے ہیں امرت رس کو میرے پیارے نین
پھروں میں ڈگر ڈگر دن رین

[اصل بیت پڑھیں]
دسویں داستان
1

سن مری روح کی پکار نہ جا
جا نہ اے جانِ انتظار، نہ جا
دل مضطر ہے سوگوار نہ جا
ہوک اٹھتی ہے بار بار، نہ جا
یہ بیاباں، یہ صعوبتِ راہ
یہ درندے یہ ریگ زار، نہ جا
میںنہ جائوں گی لوٹ کر پیارے
کر بھی لے میرا اعتبار، نہ جا
کیسی بے چین ہوں تری خاطر
دیکھ تجھ سے ہے کتنا پیار، نہ جا

[اصل بیت پڑھیں]
2

تجھ سے اب تک نباہ کرتی ہوں
اعتراف گناہ کرتی ہوں
دشت و کہسار تک بھی چیخ اٹھے
کس قیامت کی آہ کرتی ہوں

[اصل بیت پڑھیں]
3

غم سے مانوس ہوگئی ہوں میں
وہ خوشی ہے نہ وہ زمانہ ہے
اب تو وہ ذوق و شوق کا عالم
ایک بھولا ہوا فسانہ ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

جس سے وابستہ ہے مری تقدیر
اس کی آمد ہے زیست کا پیغام
سر بہ سر اضطرابِ شوق ہوں میں
اب مجھے صبر وشکر سے کیا کام

[اصل بیت پڑھیں]
5

زندگی صبر و شکر کے با وصف
ناوکِ غم سے دلفگار رہی
کون جانے کہ میں تری خاطر
تا ابد وقفِ انتظار رہی

[اصل بیت پڑھیں]
6

روے زیبا ذرا دکھا جائو
دل پریشاں ہے اب تو آجائو
پھر مرا شوق کم نہ ہو جائے
آؤ آکر اسے بڑھا جائو
دیکھ کر تم کو کچھ نہ دیکھ سکوں
چشمِ حیراں میں یوں سما ج

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

نینا درشن کی ابھلاشی ہیں اب تو آجائو
پل بھر کو بھی چین نہیں ہے ساجن دھیر بندھائو
داسی بنکر اونٹ تمہارے پربت پر لیجائوں گی
اپنے من کا سکھ سمجھوں گی جتنے دکھ بھی پائونگی
پریم پجارن ہوں میں اپنا تن من بھینٹ چڑھائونگی
کیچ کے ہر اک کاگا کو میں چن چن ماس کھلائونگی
مان لو بات ’لطیف‘ کی پیارے ’آریانی‘ آجائو
پل بھر کو بھی چین نہیں ہے ساجن دھیر بندھائو

[اصل بیت پڑھیں]
گیارھویں داستان
1

دلِ پر سوز کی ہمراز ہو جا
روادارِ نگاہِ ناز ہو جا
سمجھ اس نغمۂ ایما کی لے کو
بذات خود سکوتِ ساز ہو جا
صداے محرمانہ آ رہی ہے
سراپا گوش بر آواز ہو جا

[اصل بیت پڑھیں]
2

بناے غیریت تیری خودی ہے
عبث یہ وقفۂ بیگانگی ہے
یہ قیدو بندِ حرف و نغمۂ و صوت
حریف اعتماد عاشقی ہے
نہیں جنبش بھی اب اس کے لبوں کو
جسے حاصل سکوتِ آگہی ہے
سراپا گوش بر آواز ہو جا
بڑی پر سوز لے اس نغمہ کی ہے
دلوں میں ایک ہیجانِ مسلسل
فضا میں ارتعاش سرمدی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

کبھی تو نالۂ پرجوش ہو جا
کبھی خود ہی سراپا گوش ہو جا
بہر صورت مٹا دے اپنی ہستی
بہر عنواں حریفِ ہوش ہو جا
نگاہ دوست تیرا خوں بہا ہے
یہی مفہوم ِ تسلیم و رضا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

کہاں یہ شاخہاے نو دمیدہ
ملیں گی پھر تمہیں اے ساربانو!
تمہارے کام آئیں گی سفر میں
لئے جائو انہیں جو میری مانو

[اصل بیت پڑھیں]
5

جدھر دیکھو غبارِ رہگذر ہے
کدھر ہے نقشِ پا تیرا کدھر ہے
کہاں ہے روشنیٔ دل کہ در پیش
جہاں کا تیرہ و تنہا سفر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
6

مجھے محسوس ہوتا ہے یقینا
کہ برگ و بار ہیں تیرے نظارے
مداوا چشمِ حیراں کا ترا نور
انیسِ رندگی تیرے اشارے

[اصل بیت پڑھیں]
7

تفاوت ظاہر و باطن میں رکھنا؎
بہر عنواں حریف مدعا ہے
ترے ہر فعل سے ثابت ہو پیاری
کہ تیرا دل حقیقت آشنا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

یہ برھن تمہیں پکارے
لوٹ آئو پریتم پیارے
بھنبھور کو چھوڑ چلی ہوں
سب ناتے توڑ چلی ہوں
سکھ سے منہ موڑ چلی ہوں
نینا ہیں پریت کے مارے
لوٹ آئو پریتم پیارے
جس نے یہ چوٹ نہ کھائی
کیا جانے پیڑ پرائی
ہو لاکھ مری رسوئی
آئوں گی پاس تمہارے
لوٹ آئو پریتم پیارے

[اصل بیت پڑھیں]
ابیات متفرقہ
1

نیند آنکھوں میں کروٹیں لے کر
آج تیری تلاش کرتی ہے
روحِ ماضی میں ٹیس سی اٹھ کر
حال کو پاش پاش کرتی ہے
اور ٹھہرے ہوئے دکھوں کو جب
مائلِ ارتعاش کرتی ہے
میری ہستی مچلنے لگتی ہے
تیری یادوں میں ڈھلنے لگتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

میں دلدادہ ہوں تیری میرے ’آری‘
کروں یہ التجا میں اور کس سے
عطا کر مجھ کو ایسا عزمِ راسخ
وقارِ کوہِ شرمندہ ہو جس سے

[اصل بیت پڑھیں]
3

سسئی تجھ کو اگر پیارا ہے ’آری‘
بھکارن بن کے اس کو ڈھونڈ پیاری
بسرکرنی ہے اب پنہوں کی خاطر
بیاباں در بیاباں عمر ساری

[اصل بیت پڑھیں]
4

بجا آسائش و آرام اپنا
مگر بہتر ہے تیری بے قراری
نہیں اے رہرو راہِ تمنا
صلاے عام یہ الفت شعاری

[اصل بیت پڑھیں]
5

کسی کی اجنبی نظروں کی خاطر
نہ جانے کیوں ہے اس کو بے قراری
کوئی جانے گا کیا دکھ درد اس کا
عجب عالم میں ہے یہ غم کی ماری

[اصل بیت پڑھیں]
6

سپیروں کی طرح بیباک ہو کر
بیاباں در بیاباں گھومتی ہے
’لطیف‘ ان روح فرسا وادیوں میں
خدا جانے سسئی کیا ڈھونڈتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

یہ تیرا رشتہ و پیوند ان سے!
وطن جن کا ہے کوسوں دور پیاری
ملے شاید پتہ ان کا کسی سے
کبھی ہمت نہ ہار اے غم کی ماری
کہاں کی دھوپ کیسی چھانو آجا
ترا مسلک ہے پیہم بے قراری

[اصل بیت پڑھیں]
8

وہ دیور تو ہیں پہلے ہی سے بدظن
مجھے اب ان سے امیدِ وفا کیا
رہے بھنبھور میں اب کس کی خاط
اسے درکار پنہوں کے سوا کیا
’لطیف‘ اس رہِ گذار پر خطر میں
سسئی کو اور کوئی آسرا کیا
فقط اک اعتبارِ وصلِ جاناں
مداواے دلِ درد آشنا کیا

[اصل بیت پڑھیں]
9

کہیں ایسا نہ ہو اے غم رسیدہ
کہ تو پنہوں کو اپنے بھول جائے
سوا اس کے نہیں کوئی بھی تیرا
جو اس بے چارگی میں کام آئے
محبت میں وہی جیتے گا آخر
جو ہنستے کھیلتے ہر دکھ اٹھائے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کوئی عالم ہو تیری آرزو ہے
جہاں جاتی ہوں تیری جستجو ہے
فراز کوہسار و وسعت دشت
بڑی پرکیف سعی۔ٔ جستجو ہے
کہاں ڈھونڈوں تجھے اے میرے پنہوں
کہاں وہ ناقۂ آوارہ خو ہے
جبین شعلہ آسا کو ابھی تک
سکونِ سنگِ در کی جستجو ہے
خدارا اب وہیں مجھ کو بلالے
جہاں اے پیارے ’آری جام‘ تو ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

صدائے آرزو بن کر وہ پیارا
مرے ہر ریشۂ جاں سے پکارا
وہیں اب بھیج دو مجھ کو خدارا
جہاں ہے وہ مری آنکھوں کا تارا
مجھے بھنبھور میں روکو نہ سکھیو!
نہ مانوں گی میں کہنا تمہارا
یہ کیسی آگ ہے اے وحشت دل
سلگ اٹھا ہے میرا جسم سارا
سہارا دے مجھے اے سعی۔ٔ پیہم
نہیں درماندگی مجھ کو گوارا
’لطیف‘ اب کیا کریں ذوقِ طلب کو
ہوا ہے سامنے وہ جلوہ آرا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

خدارا روٹھ کر مجھ سے نہ جائو
مرے پنہوں کہاں ہو لوٹ آئو
نہ ہانکو کیچیو! اونٹوں کو اپنے
مرے نزدیک انہیں لاکر بٹھائو
جہیز اپنا لئے بیٹھی ہوں کب سے
کہاں ہیں میرے باراتی بلائو
وہی رونق وہی جشنِ طرب ہو
اب آجائو مری شادی رچائو
کوئی دکھ بانٹنے والا نہیں ہے
نہ اب اس سے زیادہ دل دکھائو
نہیں بھنبھور میں اب کوئی میرا
تمہیں آکر مجھے اپنا بنائو
وہی ہے بے وسیلوں کا وسیلہ
’لطیف‘ آئو اسی کے گیت گائو

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

تھکی ہاری اکیلی بے سہارے
نہ جانے کیچ کب پہنچوں گی پیارے
ہوئی ہے شام سورج ڈوبتا ہے
کہاں ہے اے مری آنکھوں کے تارے
نشاں ان سے میں تیرا پوچھتی ہوں
مگر یہ اجنبی دہقاں بچارے
بتائیں گے بھلا کیا تو کہاں ہے
مجھ اے کاش تو خود ہی پکارے
نہیں رکتے مری آنکھوں کے آنسو
پھٹا جاتا ہے سینہ غم کے مارے
میں تیری خاکِ پا بن کر رہوں گی
بجا لائوں گی تیرے حکم سارے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کوئی ہمدم نہ کوئی راہبر ہے
میں تنہا اور یہ لمبا سفر ہے
پیادہ پا ہوئی ہوں کوہ پیما
دیار غیر راہِ پرخطر ہے
نشاں تیرا بتائے گا کوئی تو
مرا غم آشنا ہر اک شجر ہے
جلاکر اپنے گھر کو پوچھتی ہوں
بتا اے بیکسی جانا کدھر ہے
تیرے ہونٹوں سے مے پینے چلی ہوں
ترا ہر نقشِ پا مجھ کو خضر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کوئی دیکھے تو میری چشمِ گریاں
کوئی سمجھے مرا حالِ پریشاں
سحر ہوتے ہی میں جائوں گی سکھیو!
بلاتے ہیں مجھے کوہ و بیاباں
خداوند! کوئی رہگیر آکر
بتا دے مجھ کو راہِ شہر جاناں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

مری سکھیو! مجھے ایسی دعا دو
نثار جلوۂ جاناں بنا دو
سفر درپیش ہے اب آخرت کا
مجھے کچھ کام کی باتیں بتا دو
لحد میں جن سے دل کو چین آئے
وہ آدابِ حکیمانہ سکھادو
خدا اور اس کے پیغمبر کی خاطر
کوئی پیغام جاں پرور سنادو
میںاب جا کر نہ واپس آسکوں گی
بھلادو اب مجھے دل سے بھلا دو

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

سکھی دل کی لگی دل میں چھپائے
پھروں گی اب سجن سے لو لگائے
چلو اے پیاریو! چل کر منائیں
خدا جانے وہ آئے نہ آئے
کسی کی کیا مجال اے ہم نشینو!
کہ بات اس دلربا کی ٹال جائے
بھکاری بن کے اکثر عاشقوں نے
درِ محبوب پر ڈیرے جمائے
کوئی خالی نہ آیا جس کے در سے
مجھے بھی کاش وہ داتا بلائے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کہی ہے بات جو اس آشنا نے
میں جانوں اور یہ دنیا نہ جانے
خبر بھی ہے تمہیں اے کوہ و صحرا
مجھے جانا ہے پنہوں کو منانے
محبت میں اسی کی جیت ہوگی
جو ہارے اور ہار اپنی نہ مانے
اجل کی گود یا آغوشِ جاناں
حقیقت ایک، باقی سب فسانے
اشاروں پر کسی پردہ نشیں کے
یوں ہی بنتے بگڑتے ہیں زمانے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

مرے پنہوں! میںجب وندر میں آئی
گماں یہ تھا کہ تیری راہ پائی
بیاباں ہی بیاباں اور وہ بھی
فقط پیمانۂ صبر آزمائی
نہ آتے کیچ سے پنہوں کے بھائی
یقینا ان کے دل میں تھی برائی
فریب ایسا دیا مجھ کو کہ آخر
ہوئی مجبورِ دردِ نارسائی
تری خاطر بیاباں میں بھی خوش ہوں
گوارا ہے مجھے تیری جدائی
مرے پنہوں! کوئی شکوہ نہیں ہے
اسی میں ہے اگر میری بھلائی
سنا ہے اپنے اونٹوں کو سجائے
جتوں کی ایک ٹولی آج آئی
کیا آرام اس وادی میں لیکن
کسی کو بھی خبر ہونے نہ پائی
’لطیف‘ ان کو کوئی ڈھونڈے کہاں تک
جو خود کرتے ہیں اپنی رہنمائی
رہِ منزل بھی ہیں، منزل بھی ہیں وہ
نہ گمراہی نہ خوفِ نارسائی

[اصل بیت پڑھیں]

سر معذوری

پہلی داستان
1

کاھشِ جاں خلوصِ قلب کے ساتھ ’ہوت‘! تیری طرف رواں ہوں میں
منتظر ہیں سگان کوچۂ یار ان کی خادم بہ جسم و جاں ہوں میں
سنگریزے ہی سنگریزے ہیں اور دیبا و پرنیاں ہوں میں
دم بخود ہوں تری تمنا میں والہانہ رواں دواں ہوں میں

[اصل بیت پڑھیں]
2

سامنے ہے شکار چپ ہو جا
اے سگِ کوے یار چپ ہوجا
پیارے پنہوں کے پیار کی ماری
میں ہوں اک خاکسار چپ ہو جا
کیوں سمجھتا ہے اجنبی مجھ کو
اے مرے راز دار چپ ہو جا
میں ہوا خواہِ وصلِ جاناں ہوں
اے سگِ کوے یار چپ ہو جا

[اصل بیت پڑھیں]
3

اس کی صورت سے جو نہیں ڈرتے
ان سے مانوس ہو کے رہتا ہے
اے دلِ بے قرار سنتا جا
کیا سگِ کوے یار کہتا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

تو کسی اور کو نہ زحمت دے
کام میرا تمام کرتا جا
اک ذرا اپنے دستِ نازک کو
مائلِ انتقام کرتا جا

[اصل بیت پڑھیں]
5

جہاں مردار ہے اہل جہاں سگ
یہ جگ والوں کی حالت ہے یہ ہے جگ

[اصل بیت پڑھیں]
6

مثل مردار ہے جہاں کہ یہاں
ہم نے دیکھی بشر میں خوے سگاں
قدر کیا جانیں ان کی اہلِ ہوس
خون دل پی کے جو ہوئے ہوں جواں

[اصل بیت پڑھیں]
7

جان کر مجھ کو طالبِ دیدار
چونک اٹھے سگانِ کوچۂ یار
اپنے مالک کے حکم سے مجبور
یہ وفا کیش اور خلوص شعار
چاہتیں ہیں جو ان کے مالک کو
یہ ستاتے نہیں انہیں زنہار

[اصل بیت پڑھیں]
8

ان کے آقا نے ان کو اکسا کر
دم بہ دم بھونکنا سکھایا ہے
ورنہ کیا ہیں سگانِ کوچۂ یار
کس نے ایسوں کو منہ لگایا ہے
ان کی آواز کو بسا اوقات
دل کی گہرائیوں میں پایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
9

مجھ کو پہچان تو گئے ہوں گے
راز داں ہیں یہ میرے پیاروں کے
خوف مجھ کو نہیں کوئی زنہار
ان درندوں سے کوہساروں کے
وہ بظاہر مجھے ڈراتے ہیں
اصل میں مجھ کو آزماتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

تجھ پہ ظاہر ہے عاجزی میری
دیکھ اے دوست زندگی میری
اے خوشا شدت غم و آلام
بس مجھے مل گئی خوشی میری
پڑھ رہی ہوں سبق محبت کا
بڑھتی جاتی ہے بے خودی میری
میں ہوں مانوس حزن اے پیارے
عیں راحت ہے بیکسی میری
فاقہ مستی نہیں تو کیا ہے ’لطیف‘
آرزوے وصال بھی میری

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

ہم نے اپنا لیا ترے غم کو
کام حرص و ہوا سے کیا ہم کو
چاہتے ہیں کہ مسکرائیں ہم
کیا غرض بھوک پیاس سے ہم کو
اب کوئی کس طرح چھپائے گا
اپنی دیوانگی کے عالم کو
اپنی غفلت سے کھونہ بیٹھے کہیں
چشم خوابیدہ حسن محرم کو
محو عشرت شعار اپنا بنا
طلب انبساط پیہم کو

[اصل بیت پڑھیں]
2

وحشت دل کو سازگار نہیں
وہ گریباں جو تار تار نہیں
یہ گل اندامی و سمن پوشی
محرم شوق وصل یار نہیں
اے شناساے راہ و رسم عدم
عیش و عشرت ترا شعار نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
3

حاجت در شاہوار نہیں
اتنا ارزاں وصالِ یار نہیں
یاد رکھ سر گذ شت ’لیلا‘ کو
زیب و زینت کا اعتبار نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
4

خنجر ’لا‘ کو آبدار تو کر
اپنی حیوانیت پہ وار تو کر
ہر تمنائے زیست بے معنی
دوشِ ہستی سے کم یہ بار تو کر
راس آئے گا قول ’سید‘ بھی
جرأت شوق استوار تو کر

[اصل بیت پڑھیں]
5

دیکھ ’ہاڑھے‘ سے وہ گذر آئی
کیچ کی راہ جس نے اپنائی
اب تو ہمجولیوں کے جھرمٹ میں
اس کو محسوس ہوگی تنہائی
ساز و سامانِ زیست کیا معنی
اور کس کام کی خود آرائی
کیسی حرص و ہوس محبت میں
شرط ہے اس میں جادہ پیمائی
بوالہوس کے لئے نہیں آساں
دیدہ و دل کی بے تمنائی
میم و زر سے ہوئی ہے کب حاصل
شوقِ جاوید کی توانائی

[اصل بیت پڑھیں]
6

اپنی بے مائیگی بجا لیکن
وہ غم دل جو اب پرایا ہے
اور جس کی عزیز داری
کوہ و صحرا میں آزمایا ہے
کیچ میں کیوں نہ مہرباں ہو گا
جو مرے ساتھ ساتھ آیا ہے
فخر ہے مجھ کو پیارے پنہوںپر
یہ سفر مجھ کو راس آیا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

ایک گمنام گوشہ گیر تھی میں
لیکن اے جانِ جاں ترا دستور!
سندھ تو سندھ ساری دنیا میں
کر دیا مجھ کو عشق نے مشہور

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

تو ہے داسی ہوت پیا کی بات تری بن آئے
سکھی ری پریت ڈگر مل جائے
اونچے نیچے پربت سجنی رنگے لہو سے پائوں
بیکل من میںکیچ کی آشا ڈھونڈے پب کی چھائوں
جن اونٹوں کی کھوج میں ہے تو ان اونٹوں کو پائے
سکھی ری پریت ڈگر مل جائے
پگ پگ پر انجانی بادھا دور ’جتوں‘ کا دیس
بدلے ہیںہر اک بپتا نے کیسے کیسے بھیس
بن آریانی اس درگت میں کون تجھے اپنائے
سکھی ری پریت ڈگر مل جائے
جس کے ٹوٹے من میں باجے برھا کاسنگیت
وہ برھن ساجن کی داسی، ساجن اس کا میت
چھا جائے جب گھور نراشا پریتم دھیر بندھائے
سکھی ری پریت ڈگر مل جائے

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

لاکھ رنج و غمِ فراق سہے
حوصلے پھر بھی تازہ دم ہی رہے
رہِ الفت کی مشکلات نہ پوچھ
کوئی یہ مشکلات کس سے کہے
پیرو نقشِ پاے یار ہوں میں
محرم جبرو و اختیار ہوں میں

[اصل بیت پڑھیں]
2

ہائے گذروں گی پیادہ پا کیونکر
پیش افتادہ رہگذاروں سے
ایک ہیبت سی مجھ پہ طاری ہے
ان فلک بوس کوہساروں سے
کون جانے کہاں ملوں جا کر
اپنے گم گشتہ شہسواروں سے

[اصل بیت پڑھیں]
3

قہر آلود شدت سرما
راہ دشوار اور میں انجان
اب سرِ راہ بیٹھنا کیسا
کتنے بیچین ہیں مرے ارمان
یوں بظاہر تو میں بھی انساں ہوں
اک مجسم تلاش جاناں ہوں

[اصل بیت پڑھیں]
4

لاکھ مجبوریاں سہی لیکن
اب میں ہاڑے سے منہ نہ موڑوں گی
پر خطر وادیوں سے گھبرا کر
کیچ کا راستہ نہ چھوڑوں گی
میں ہوں پنہوں کی طالب دیدار
عہد اپنا کبھی نہ توڑوں گی

[اصل بیت پڑھیں]
5

کوہ و صحرا میں کام آئے کون
میرے دکھ درد کو مٹائے کون
اپنے گم گشتہ راز داروں سے
میں بہت دور ہوں ملائے کون
ہائے کس راہگیر سے پوچھوں
مجھ کو ان کا نشاں بتائے کون

[اصل بیت پڑھیں]
6

ہو نہ نشو و نما درختوں کی
اور اونچے یہ کوہسار نہ ہوں
دیکھ لوں میں نقوش پاے حبیب
میری آنکھیں جو اشکبار نہ ہوں

[اصل بیت پڑھیں]
7

اے بیاباں تجھے خبر ہو گی
کس طرف میرا ماہِ طلعت ہے
میرے پیاروں کا راز دار ہے تو
کیوں یہ طاری سکوت حیرت ہے
پیچ در پیچ رہگذاروں میں
روز افزوں غمِ محبت ہے
دیکھ تو ہائے کتنی درماندہ
ایک غمگین اسیر فرقت ہے
کوئی آکر مجھے سہارا دے
ہر قدم پر نئی مصیبت ہے
خارزاروں کے مرحلے توبہ
قابل رحم میری حالت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

غم نہیں پیر لاکھ زخمی ہوں
میں وہاں ننگے پائوں جائوں گی
شکوۂ سنگ و خار ہے کس کو
کون کہتا ہے لوٹ آئوں گی

[اصل بیت پڑھیں]
9

آریانی سے ہے سسئی کو لگائو
نہیں رسم جہاں کی زندانی
وہ سدا ننگے پائوں چلتے ہیں
جن کا شیوہ نہیں تن آسانی

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

سکھی ری! پریت کی ریت سہائے
جیون کی پھلواری سجنی! نیارے پھول کھلائے
میرا من للچائے
سکھی ری! پریت کی ریت سہائے
ہاتھ میں تھی کل سانجھ کو سکھیو! جن اونٹوں کی ڈور
بھور بھئی تو ان کو لے کر چلے گئے چت چور
گہری نیند میں ایسی سوئی جیسے جگ سوجائے
سکھی ری! پریت کی ریت سہائے
پربت پربت گھوم گھوم کے ہوئی تھکن سے چور
میںہوں داسی ہوت پیا کی پاس رہوں یا دور
مدھر ملن کی آشا مجھ کو کیچ کی راہ سجھائے
سکھی ری! پریت کی ریت سہائے
برھا کے دن کاٹ رہی ہوں بپتائوں کے ساتھ
کب ہو گا اے پیارے پنہوں ! ہاتھ میں تیرا ہاتھ
اس انجانے دیس میں سجنی کون مرے کام آئے
سکھی ری! پریت کی ریت سہائے

[اصل بیت پڑھیں]
چوتھی داستان
1

جستجوے جمال ہستی میں موت بھی تو حیات ہوتی ہے
اے سسئی اس جہان فانی کی ہر خوشی بے ثبات ہوتی ہے
جستجوے نجات میں حائل آرزوے نجات ہوتی ہے
وصلِ جاناں کی ایک ساعت بھی انتخاب حیات ہوتی ہے
اک ثبوت ثبات اپنے پاس آرزوے ثبات ہوتی ہے
ذکر پنہوں کی جستجو کا ہے کس کی ہمت کی بات ہوتی ہے
اس طرف وہ نظر نہیں ہوتی جس طرف کائنات ہوتی ہے
جاں نثارانِ حسن جاناں پر نگہ التفات ہوتی ہے
دیدہ و دل کی منزلِ آخر حدِّ ناممکنات ہوتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

اے سسئی! ان کی پیروی کرنا
جاں گئی جن کی راہ جاناں میں
کیا ہے دو روزہ زندگی کا بھرم
دیدۂ شوقِ و چشمِ حیراں میں

[اصل بیت پڑھیں]
3

موت سے پہلے جس کو موت آئی
زندگی اس نے جاوداں پائی
مدعاے حیات کیا کہیے
جُز تماشاے حسن یکتائی
جاں نثارانِ جلوۂ جاناں
خود تماشا ہیں خود تماشائی

[اصل بیت پڑھیں]
4

زندگی اک فریبِ کثرت ہے
مجھ کو اس زندگی سے نفرت ہے
تابہ کے عزمِ کوہ پیمائی
اب کہاں مجھ میں اتنی طاقت ہے
اے اجل تو پناہ دے مجھ کو
تیری آغوش عینِ راحت ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

اے سسئی پست ہمتی تیری
حائلِ شوقِ وصلِ یار ہوئی
پیارے پنہوں کو کر دیا بدنام
اور خود بھی ذلیل و خوار ہوئی
ڈر گئی سوزِ عشق سے ناداں
موت سے کیوں نہ ہمکنار ہوئی
اب پیشمانیوں سے کیا حاصل
اب گراں جانیوں سے کیا حاصل

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

پیارے پنھوں لوٹ آ،جیارا ہے بچپن
پریتم تیرے سوگ میں روتی ہوں دن رین
جس دن آری جام کے اونٹوں کو میں پاوں
مہندی ہری ملیر ک بھر بھر پیٹ کھلاوں
ساجن مجھ کو سونپ دے کوئی ایسا کام
جس کے کارن ہو سکے جگ میں میرا نام

[اصل بیت پڑھیں]
پانچویں داستان
1

آ رہی ہے صداے یار آجا
تیز تر اے وفا شعار آجا
عشق جینے کا اک بہانہ ہے
اے شناساے ہجر یار آجا
تیری یادوں میں کھوئی کھوئی سی
ہے ازل کی کوئی پکار آجا
حسن یکتا کشاں کشاں آئے
اے تمناے بے قرار آجا
ماوراے حیات ہے کوئی
تیزتر اے نفس شمار آجا
جلوۂ دوست خود تری خاطر
کب سے ہے محوِ انتظار آجا

[اصل بیت پڑھیں]
2

گرم و سردِ زمانہ کیا جانے
جو محبت کا مدعا جانے
پتہ پتہ سکوتِ معنی خیز
ہر شجر یار کا پتہ جانے
پوچھتی ہے سسئی پرندوں سے
کس کا نام و نشاں خدا جانے
کاش پھر مہرباں ہو آریانی
دور ہو جائے خانہ ویرانی

[اصل بیت پڑھیں]
3

کون سمجھائے تجھ کو اے رہگیر
کچھ نہیں فرقِ عجلت و تاخیر
عرصۂ زیست میں بہر صورت
وقت ناوک ہے اور تو نخچیر
گل کھلاتی ہے نو بہ نو قسمت
ورنہ کیا جذب و شوق کی تاثیر
کون سمجھے سکوتِ راز ازل
کون جانے نوشتۂ تقدیر

[اصل بیت پڑھیں]
4

راہ دشوار اور تو معذور
جان کر کیوں یہ دکھ اٹھایا ہے
جانے کیوں تجھ کو کوہساروں میں
جذبۂ عشق کھینچ لایا ہے
جانے کیوں تو نے اپنے تن من کو
کیچیوں کے لئے جلایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

کلبلاتی ہوئی تمنائیں
یہ اذیت، یہ آرزو، یہ تلاش
جارہی ہوں رواں دواں یون ہی
میری منزل کہیں ملے اے کاش

[اصل بیت پڑھیں]
6

اس تگ و دو کا جو بھی ہو انجام
ہو سکوں گی نہ خائفِ آلام
گلۂ دوست شکوۂ ہجراں
میری دیوانگی پہ ہیں الزام
بڑھ رہی ہوں رہِ محبت میں
اپنی منزل کی سمت گام بہ گام
طعنہ زن مجھ پہ کوئی کیا ہوگا
ننگ کی آرزو نہ خواہشِ نام

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

اس پریت ڈگر میں اے سجنی!
جیون جیون میں بڑھتی جائوں گی
ساجن کا سندیسہ پائوں گی
کہتی ہے جو دنیا کہنے دو
پریتم کی آس نہ توڑوں گی
ان بپتائوں سے گھبرا کر
’وندر‘ کا ساتھ نہ چھوڑوں گی
اس ’کیچی آری جام‘ کو میں
آشا کا میت بنائوں گی
ساجن کا سندیسہ پائوں گی
ریشم سے پائوں کو ریتے نے
پگ پگ پہ لہو سے لال کیا
آ دیکھ تو آری جام ذرا
مجھ برھن کا کیا حال کیا
سکھیو میں ’جتوں‘ کی باتوں کو
من ہی من میں دہرائوں گی
ساجن کا سندیسہ پائوں گی

[اصل بیت پڑھیں]
چھٹی داستان
1

مبتلاے خیال یار ہوں میں
کون جانے کہ بے قرار ہوں میں
آزمودہ ہے وعدۂ فردا
دشمنِ رسمِ انتظار ہوں میں
تو نہ آئے تو موت آجائے
میرے پیارے بہ حال زار ہوں میں

[اصل بیت پڑھیں]
2

دیکھ لیں گردشیں زمانے کی
اب تمنا ہے تجھ کو پانے کی
اس طرح تیرے در پہ سجدہ کروں
نوبت آئے نہ سر اٹھانے کی

[اصل بیت پڑھیں]
3

پیارے پنہوں تری دہائی ہے
کیا مصیبت سسئی پہ آئی ہے
اب بجھائے گا کون تیرے سوا
آگ جو عشق نے لگائی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

دکھ شعورِ ثبات ہے پیاری
سکھ فرار حیات ہے پیاری
تا ابد نقشِ پاے جاناں ہیں
زیرِ پا کائنات ہے پیاری

[اصل بیت پڑھیں]
5

اے سسئی رنج و غم کا پشتارہ
ایک دن تیرے کام آئے گا
اور یہ عزمِ کوہ پیمائی
پیارے پنہوں سے پھر ملائے گا

[اصل بیت پڑھیں]
6

کیا خبر تھی کہ جذبۂ ناکام
زندگی کا مذاق اڑائے گا
میں سمجھتی تھی شعلۂ الفت
اپنے محبوب سے ملائے گا

[اصل بیت پڑھیں]
7

تیری خلوت کا ایک لمحہ بھی
جلوتِ ماہ و سال سے بہتر
پیارے پنہوں مجھے ترا دیدار
لاکھ حسن و جمال سے بہتر
مجھ ستم کش کو خلوت غم بھی
بزمِ آسودہ حال سے بہتر

[اصل بیت پڑھیں]
8

ایک لمحہ تری محبت کا
زندگی۔ٔ دوام سے بہتر
زلف و رخ کا تصورِ پیہم
گردشِ صبح و شام سے بہتر

[اصل بیت پڑھیں]
9

جادۂ عشق سے بلاتا خیر
مسکراتے ہوئے گذر جانا
زندگی کا پیام ہوتا ہے
دوست کی جستجو میں مر جانا

[اصل بیت پڑھیں]
10

دیکھ تو اے شبِ ستم ایجاد
کس کے لب پر ہے شکوۂ بیدار
جانداروں پہ ہی نہیں موقوف
سنگ ریزے بھی آج ہیں ناشاد
وسعتِ دشت گونج اٹھی ہے
ہے کہیں کوئی مائل فریاد

[اصل بیت پڑھیں]
11

اے سسئی آہوان رم خوردہ
تجھ کو رو رو کے یاد کرتے ہیں
اور پھر اجنبی سرابوں میں
اپنی ہستی سے در گذرتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
12

سسکیاں لے رہی ہے آج فضا
ہائے وہ کشتۂ محبت ہائے
دشنہ یار کا ہلاک آخر
پہلوے یار ہی میں تسکیں پائے

[اصل بیت پڑھیں]
13

ذکر کرتا ہے ہر شجر تیرا
ان پہ بھی ہو گیا اثر تیرا
ذرے ذرے میں ٹیس اٹھتی ہے
دیکھ کر خونچکاں جگر تیرا
اے سسئی رہروانِ ہستی سے
جانے کیا کہہ گیا سفر تیرا

[اصل بیت پڑھیں]
14

زخم کوئی تو اس نے کھایا ہے
ورہ کیوں اتنا دکھ اٹھایا ہے
اور تو اور ان درختوں نے
اس کا غم سینہ سے لگایا ہے
شدتِ کرب میں سکوں کیسا
کس کا پرتو سسئی پہ چھایا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
15

غم سسئی کو ہے اپنے پیاروں کا
اور اپنی بھری بہاروں کا
نالۂ نے میں بھی پس پردہ
سوز شامل ہے دلفگاروں کا

[اصل بیت پڑھیں]
16

موسم برشگال کے باوصف
اس کی قسمت میں قحط سالی ہے
برکتیں ہیں ’جتوں‘ سے وابستہ
اور یہ دم بخود سوالی ہے
پیارے پنہوں کے پاس سب کچھ ہے
ہاتھ پھر بھی سسئی کا خالی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

آشا کی چتا جلانے کو
ساجن میں تمہیں بلاتی ہوں
جیون تو میں نے لٹا دیا
اب لوٹو راکھ لٹاتی ہوں
روٹھے ہو پیا مناتی ہوں
ساجن میں تمہیں بلاتی ہوں
آجائو ملن کو پردیسی
میں دور دیس کو جاتی ہوں
تھک ہار کے اب اس گھاٹی میں
لو اپنی جان گنواتی ہوں
ساجن میں تمہیں بلاتی ہوں
اس رنگ رنگیلی دنیا میں
اک سپنا بن کر آتی ہوں
کچھ دیر بھٹکتی رہتی ہوں
پھر یادوں میں کھو جاتی ہوں
ساجن میں تمہیں بلاتی ہوں
دکھ درد سبھی مٹ جاتے ہیں
جب تم کو گلے لگاتی ہوں
تم پھولوں کی سندرتا ہو
میں ان کی مہک بن جاتی ہوں
ساجن میں تمہیں بلاتی ہوں

[اصل بیت پڑھیں]
ساتویں داستان
1

جستجو اس کی صبح ہو یا شام
نہ ملا پھر بھی مجھ کو ’آری جام‘
کاش اک بار دیکھ کر اس کو
ڈوب جائے مرا دلِ ناکام
گم نہ کردے کہیں مری منزل
تیز رفتار ابلقِ ایام

[اصل بیت پڑھیں]
2

میرے پنہوں کے دیس میں اے شام
جا کے ’ہوتوں‘ کو دے مرا پیغام
کیچ کی سمت آرہی تھی میں
لیکن افسوس شدت آلام
کر گئی مجھ کو موت سے دوچار
قابلِ رشک ہے مرا انجام

[اصل بیت پڑھیں]
3

کاش میری امید بر آئے
پیارا پنہوں کہیں نظر آئے
رائیگاں ہو نہ زندگی میری
کام دشواریٔ سفر آئے
میرے اشکوں میں جھلملاتی ہوئی
میرے آری کی رہگذر آئے
جنت عشرت دوام ملے
اس کے پہلو میں موت اگر آگئے

[اصل بیت پڑھیں]
4

یہ فلک بوس کوہ یہ صحرا
کاش ہو تیری پیروی مجھ سے
پیارے پنہوں تری جدائی میں
روٹھ جائے نہ زندگی مجھ سے!
دفعتاً ہو کے مائلِ فریاد
پوچھتی ہے یہ بیکسی مجھ سے
عمر ساری گذر گئی بیکار
کب ملے گا وہ اجنبی مجھ سے

[اصل بیت پڑھیں]
5

سعی۔ٔ پیہم کے باوجود اے دوست
نہ ملا اپنا مدعا مجھ کو
اس سے پہلے کہ ہو ترا دیدار
کردیا عشق نے فنا مجھ کو

[اصل بیت پڑھیں]
6

غم یہ ہے تجھ سے دور ہوں پیارے
اور کوئی مجھے ملال نہیں
وہ عزازیل سامنے ہے مرے
کہہ سکوں کچھ مری مجال نہیں

[اصل بیت پڑھیں]
7

یک مدت ہوئی ہے غم کھاتے
کیا کہوں درد نارسائی سے
موت اب سر پہ آگئی پیارے
مر نہ جائوں غمِ جدائی سے

[اصل بیت پڑھیں]
8

اپنے پنہوں کی جستجو اس کو
عاشقی کا مزا چکھائے گی
اور اس اجنبی بیاباں میں
لقمۂ کر گساں بنائے گی

[اصل بیت پڑھیں]
9

مثلِ طائوس شاخساروں میں
وہ ہے محوِ تلاش جلوۂ یار
پیٹ بھرنے کو برگ و بار ملے
بھوک سے جب وہ ہوگئی لاچار
ہائے اس کا جمال رنگا رنگ
اور یہ گردِ سایۂ اشجار
ہائے یہ اس کا روے خاک آلود
ہائے یہ جست و خیز یہ رفتار
ہائے یہ اس کا عزم و استقلال
ہائے یہ اس کی جرأت ایثار
آرہی ہے وہ باز گشت صدا
جس میں شامل ہیں سینکڑوں اسرار
کون جانے کہ اس بیاباں میں
رنگ کیا لائے حسرتِ دیدار

[اصل بیت پڑھیں]
10

اس بیاباں میں پیارے پنہوں کو
ڈھونڈھتی ہے مگر نہیں پاتی
کاش یہ باز گشتِ نالۂ دل
اے سسئی تیرے کام آجاتی

[اصل بیت پڑھیں]
11

رہروانِ رہِ فنا کے سوا
منزل شوق کس نے پائی ہے
کون جانے یہ باز گشت صدا
درحقیقت کہاں سے آئی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
12

ہائے ان کی نفیر درد آلود
دشتِ ویراںمیں ولولہ انگیز
جیسے کوئل کی کوک جنگل میں
سرد راتوں میں ہو قیامت خیز

[اصل بیت پڑھیں]
13

ہائے ان کی نفیر درد آلود
ان سرابوں میں یوں بھٹکتی ہے
جیسے طوطی کی دلنشیں آواز
آتے آتے کہیں اٹکتی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
14

گونجتی ہے سرابِ ہستی میں
آج اس کی نفیر زہرہ گداز
آسمانوں میں ولولہ انگیز
جیسے آوارہ کونج کی آواز
جیسے اک ضربِ سرمدی معاً
جوش میں آکے ٹوٹ جائے ساز

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

میں جائوں واری واری
اے میرے پیارے آری
پھرتی ہوں ماری ماری
بس دیر نہ کر اب آجا
یہ گھاٹی ہے انجانی
تو کہاں ہے اے آریانی
مرگھ آشا مری جوانی
اب آجا پیاس مٹا جا
میں جائوں واری واری

[اصل بیت پڑھیں]

سر دیسی

پہلی داستان
1

قیامت ہے ترا مل کر بچھڑنا خدارا روک لے ناقے کو پیارے
نہ جا ویران کر کے دل کی دنیا کہیں میں مر نہ جائوں غم کے مارے

[اصل بیت پڑھیں]
2

کبھی ناقے کبھی پنہوں کے بھائی
نیا ہر روز انداز ستم ہے
یہ کہسار و بیاباں میں بھٹکنا
ازل سے میری قسمت میں رقم ہے
مگر میری خوشی ہے تیرا ہر غم
ترا غم جو ملے وہ مغتنم ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

وہ ناقے اور مرے پنہوں کے بھائی
جنہوں نے مجھ کو دانستہ ستایا
مری تقدیر! کوہ و دشت نے بھی
مرے دکھ درد کو پیہم بڑھایا
بہت ڈھونڈا مگر ان وادیوں میں
نظر پنہوں کا نقشِ پا نہ آیا

[اصل بیت پڑھیں]
4

نہیں شکوہ مجھے بیگانگی کا
سمجھتی ہوں تری بے اعتنائی
کہاں ہے ناقۂ رم آشنا تو
ابھی سے کجروی و کج ادائی
مرا پنہوں ہے کوسوں دور مجھے سے
خدا جانے وہاں کب ہو رسائی

[اصل بیت پڑھیں]
5

یہاں وہ اجنبی ناقے جب آئے
ترے دیور تھے جن کو ساتھ لائے
خیال اس بات کا آیا نہ تجھ کو
کہ ان پر کوئی پابندی لگائے
تجھے یہ بات بھی سوجھی نہ افسوس
کہ زنجیر اپنی زلفوںسے بنائے
سسئی! پھر ان کی نوبت ہی نہ آتی
جو دکھ تونے جدائی میں اٹھائے
اگر کچھ باخبر پہلے سے رہتی
تو ٹل جاتے یہ بدبختی کے سایے

[اصل بیت پڑھیں]
6

مرے پیارے مرے پنہوں کے بھائی
اگر بھنبھور میں بیلوں پہ آتے
تو ان کے پائوں کی آہٹ کو سن کر
یہاں سب سونے والے جاگ جاتے
مناتی رت جگا ایسا کہ پھر وہ
مرے پنہوں کو چھپ کر لے نہ جاتے
اگر وہ چل بھی دیتے رات ہی کو
انہیں پیدل ہی چل کر ڈھونڈ لاتے
صبا رفتار تھا ہر اونٹ ان کا
نہیں تو ہم کبھی دھوکا نہ کھاتے

[اصل بیت پڑھیں]
7

مجھے معلوم تھی اونٹوں کی خصلت
مگر وہ اونٹ کیسے تھے خدایا
کہ جب رکھے گئے پالان ان پر
کوئی چیخا نہ کوئی بلبلایا
انہیں پہلے سے میرے دیوروں نے
کچھ ایسا راز داں اپنا بنایا
کہ پنہوں کو گئے جس وقت لے کر
کسی نے بھی نہ اس کا بھید پایا

[اصل بیت پڑھیں]
8

چلوں گی جادۂ صبر و رضا پر
کہ میں ہوں واقف امر مثیت
کیا جو کچھ بھی میرے دیوروں نے
نہیں اس کی مجھے کوئی شکایت
کروں بیکار کیوں اونٹوں کا شکوہ
میں دیکھو گی دکھائے جو بھی قسمت

[اصل بیت پڑھیں]
9

نہ جانے چھوڑ کر کس وقت چل دیں
انہیں پابندیٔ مہر و وفا کیا
محبت دیس والوں ہی سے اچھی
بھلا پردیسیوں کا آسرا کیا
صبا میں بوے پنہوں جب نہیں ہے
تو پھر بھنبھور کے صبح و مسا کیا

[اصل بیت پڑھیں]
10

کیا تھا ہنس کے جن کا خیر مقدم
گئے افسوس وہ مجھ کو رلا کر
خبر کیا تھی کہ ان کی اجنبیت
مجھے تڑپائے گی اپنا بنا کر
خدا جانے وہ شب بیدار ناقے
کہاں گم ہو گئے صورت دکھا کر

[اصل بیت پڑھیں]
11

کوئی ان ظالموں سے یہ تو پوچھے
جدا کیوں مجھ سے پنہوں کو کیا ہے
بگاڑا کیا تھا ان اونٹوں کا میں نے
یہ بدلہ مجھ سے آخر کیوں لیا ہے
نہ آئیں اب وہ میرے پاس ہرگز
جنہوں نے مجھ کو ایسا جل دیا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
12

دعا دیتی ہے میری بے زبانی
خدا رکھے جتوں کی نوجوانی
جہاںمیں کوئی بھی میرا نہیں اب
بہت ویراں ہے میری زندگانی
تمنا ایک زنجیر محبت
محبت ایک ربط جاودانی

[اصل بیت پڑھیں]
13

سسئی جس کارواں کی منتظر تھی
رواں پیشِ نظر وہ کارواں ہے
وہی ناقے وہی آرائشیں ہیں
مگر وہ دیدۂ حیراں کہاں ہے
سسئی اس خوابِ آسائش سے حاصل؟
محبت پیچ و تابِ جاوداں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
14

خبر لے اے مرے گم گشتہ پنہوں
میں سرتا پا محبت ہوگئی ہوں
کہاں ہیں اب وہ پراسرار ناقے
میں جن کی جستجو میں کھو گئی ہوں
نہ آئے لوٹ کر وہ جانے والے
میں ہوں اب کوہساروں کے حوالے

[اصل بیت پڑھیں]
15

نہ یہ غم تھے نہ ایسی بے کسی تھی
بڑی پرکیف میری زندگی تھی
جتوں نے کردیا مجھ کو پریشاں
و گر نہ ہر خوشی میری خوشی تھی

[اصل بیت پڑھیں]
16

نہ جذبِ شوق یہ زحمت اٹھاتا
نہ احساس وفا ناکام ہوتا
کہاں ملتا مجھے سوزِ محبت
اگر دل واقف انجام ہوتا

[اصل بیت پڑھیں]
17

نہ دیکھا تھا کبھی پہلے جتوں کو
کہاںڈھونڈوں انہیں اے چشمِ حیراں
انوکھے پیچ و خم دکھلا رہے ہیں
مجھے یہ اجنبی کوہ و بیاباں
صبا رفتار ان کا کارواں ہے
میںدرماندہ ہوں باحال پریشاں
مرے پاس آ بھی جا اے آریانی
خدارا یوںنہ ہو مجھ سے گریزاں

[اصل بیت پڑھیں]
18

محبت بھی نہ مجھ کو راس آئی
کوئی دیکھے جتوں کی بے وفائی
مجھے تھی ہوت سے دیرینہ نسبت
مگر قسمت میں تھی اس سے جدائی
خدا جانے کہ میرے دیوروں کو
نظر آئی تھی مجھ میں کیا برائی

[اصل بیت پڑھیں]
19

جدھر یہ کارواں اب گامزن ہے
ادھر ہی پیارے پنہوں کا وطن ہے
پھسلتے بھی نہیں وہ تیز رفتار
عجب ان تیز اونٹوں کا چلن ہے
مرا دل توڑ کر وہ جا رہے ہیں
نجانے مجھ سے کیا کیا سوئِ ظن ہے

[اصل بیت پڑھیں]
20

ادھر ہوں رحمتِ کامل کے سایے
جدھر وہ ناقۂ محبوب جائے
خدایا پیارے پنہوں کو کہیں بھی
نہ ہرگز کوئی زحمت پیش آئے
ہزاروں صورتیں دیکھی ہیں میںنے
مگر اس کے سوا کوئی نہ بھائے

[اصل بیت پڑھیں]
21

درختوں میں تری خوشبو بسی ہے
مہک تیرے تصور کی چمن میں
فریب عشق دے کر کھو گئے ہیں
خدا جانے وہ جت کس انجمن میں
درندوں سے مجھے کیا خوف ہو گا
بسا ہے ایک انساں میرے من میں

[اصل بیت پڑھیں]
22

کچھ ان اونٹوں نے میرا دل دکھایا
کچھ ان کے ساربانوں نے ستایا
کہوں کیا دیوروں کی دشمنی کو
جنہوںنے مجھ سے پنہوں کو چھڑایا
کیا سورج نے خود چھپ کر اندھیرا
صبا نے نقشِ پا اس کا مٹایا
قمر بھی ہو گیا روپوش آخر
پہاڑوں نے بھی میرا غم بڑھایا
ہوا دشمن مرا سارا زمانہ
مصیبت میں نہ کوئی کام آیا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

چاند کسی کا میت نہیں ہے
سچی اس کی پریت نہیں ہے
پنچھی اس کو کب پاتے ہیں
اڑتے اڑتے تھک جاتے ہیں
پھول سے ہر گز پیار نہ کرنا
کانٹوں کا بیوپار نہ کرنا
پھول سدا مرجھا جاتے ہیں
کانٹوں میں الجھا جاتے ہیں
سکھیو! ان سے دور ہی رہنا
چاہے جتنے بھی دکھ سہنا
جو پنہوں کولے جاتے ہیں
اور سسئی کو تڑپاتے ہیں
اپنے دل پر چوٹ نہ کھانا
اور جتوں کے پاس نہ جانا
اوجھل ہو کر ترساتے ہیں
پربت پربت بھٹکاتے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
دوسری داستان
1

اندھیری اور برستی رات پنہوں!
ترے ناقے کہاں ہیں میرے دمساز
یہی وہ طاق و بام و در ہیں پیارے
کہ جن میں گونجتی تھی تیری آواز
تری ہر یاد یادِ جاوداں ہے
علاج چاکِ زخم خونچکاں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
2

سسئیِ سے کہہ رہی ہے ہر سہیلی
کہ یہ راہِ وفا راہِ جنوں ہے
خدارا لوٹ بھی آ غم کی ماری
رواں کس دھن میں باحال زبوں ہے
کہاں تک آتشیں راہوں پہ چلنا
کہاں وہ خود ترا سوزِ دروں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

خیال یار جائے گا نہ دل سے
سزاے مرگ بھی مجھ کو گوارا
نہیں مایوس میں سعی۔ ٔ وفا سے
کہیں تو مل ہی جائیگا وہ پیارا
ازل ہی سے مرے ذوقِ طلب نے
لیا ہے پیارے پنہوں کا سہارا

[اصل بیت پڑھیں]
4

گیاہے جب سے آری جام میرا
مری دنیا اندھیرا ہی اندھیرا
تلاشِ یار ہے، تنہائیاں ہیں
غم و آلام نے ڈالا ہے گھیرا
نہ کشتی ہے نہ کوئی ناخدا ہے
سراسر موج و طوفان پر بسیرا
جدا اس راہبر سے ہو گئی ہوں
فریبِ ماسوا میں کھو گئی ہوں

[اصل بیت پڑھیں]
5

تلاشِ ناقۂ محبوب توبہ
سسئی نذر بیاباں ہو گئی ہے
خدا جانے وہ اب آئیں نہ آئیں
یہ جن کی جستجو میں کھو گئی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
6

حمایت ہوت کی حاصل ہے جن کو
انہیں کیا زحمتِ کوہ و بیاباں
گذر جاتے ہیں راہِ پر خطر سے
بآسانی گدائے کوئے جاناں
گلہ ان تیزرو اونٹوں سے کیسا
نہیں ان سے کسی لغزش کا امکاں
کیا ہے ان وفاداروں کی خاطر
مشیت نے ہر اک منزل کو آساں
کوئی اے کاش مجھ کو بھی بتا دے
کہاں ہے منزلِ یار گریزاں

[اصل بیت پڑھیں]
7

بلوچی میں کبھی کرتے وہ باتیں
کبھی کچھ بولتے تھے فارسی میں
خدا جانے وہ پراسرار کیچی
یہاں کیوں آئے کیا ٹھانے تھے جی میں
خبر کیا تھی چلے جائیں گے یہ لوگ
رہوں گی میں یہاں بھنبھور ہی میں
یہ میری زندگی کا حال ہے اب
کہ پیہم دکھ ہی دکھ ہیں زندگی میں

[اصل بیت پڑھیں]
8

انہیں کچھ کھانے پینے کا نہیں فکر
وہ ناقے سرخوش عزم سفر ہیں
خدا جانے انہیں کیسی لگن ہے
کہ وہ منزل بہ منزل تیز تر ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
9

جہاں جاتے ہوئے ناقے بھی لرزیں
سسئی ان وادیوں میں جا رہی ہے
سلگتی اور تپتی بادِ صحرا
سسئی کے جسم کو جھلسا رہی ہے
نشاں پنہوں کا کوسوں تک نہیں ہے
مگر وہ ہے کہ بڑھتی جارہی ہے
’لطیف‘ اس دشت آوارہ کو شاید
محبت راستہ دکھلا رہی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
10

سرِ نازک تہِ سنگِ گراں ہے
مکمل اب سسئی کی داستاں ہے
جسے اپنا نہ سمجھا تھا جتوں نے
وہ درماندہ شریکِ کارواں ہے
’لطیف‘ اس غمزدہ کی باوفائی
ازل سے تا ابد ہے، جاوداں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

دکھ دور ہوا سکھ پائے
جیون کا سندیسہ لائے
جب ساجن لوٹ کے آئے
میں پگ پگ نین بچھائے
بیٹھی تھی آس لگائے
جب ساجن لوٹ کے آئے
نینوں سے نین ملائے
پھر سوئے بھاگ جگائے
جب ساجن لوٹ کے آئے
مرا انگ انگ مسکائے
آشا کے دیپ جلائے
جب ساجن لوٹ کے آئے
سنسان ہوا کی لہریں
کستوری سا مہکائے
جب ساجن لوٹ کے آئے
انجان تھی ان سے سجنی
جو بھید سجن سے پائے
جب ساجن لوٹ کے آئے

[اصل بیت پڑھیں]
تیسری داستان
1

خدارا اپنے اونٹوں کو نہ ہانکو
کہیں میں مر نہ جائوں غم کے مارے
تمہارا پیار میرا آسرا ہے
نہ جائو توڑ کر میرے سہارے
قسم بھنبھور کی گلیوں کی جن میں
کسی کی آرزو میں دن گذارے
نہ لوں گی نام بھی بھنبھور کا میں
دکھا دو کیچ کے پیارے نظارے

[اصل بیت پڑھیں]
2

اگر ہے کیچ کو جانا تو جائے
مگر ایسا نہ ہو پھر لوٹ آئے
سسئی اس رہگذار جانستاں میں
نہیں ممکن کہ تو آرام پائے
فقط جھلسی ہوئی ویرانیاں ہیں
نہ پانی ہے نہ سبزہ ہے نہ سائے

[اصل بیت پڑھیں]
3

سنا ہے کیچ کی راہوں میں اکثر
فنا کے گھاٹ اترے جانے والے
ہجوم رہرواں اب تک ہے لیکن
پڑے ہیں جان کے ان سب کو لالے
خدا جانے وہ گذرے ہیں کدھر سے
پتا چلتا نہیں کچھ رہگذر سے

[اصل بیت پڑھیں]
4

کہاں ہے ان کی جلوہ گاہ یارب
مجھے ہر وقت جن کی جستجو ہے
سکونِ زندگی کا چشمۂ صاف
مرے پیارے جتوں کی گفتگو ہے
ادھر ہی منزلِ آخر ہے اپنی
جدھر وہ کاروانِ رنگ و بوہے
وہیں لے چل مجھے جذب تمنا
جہاں وہ منتہاے آرزو ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

سنا ہے کیچیوں کے کارواں نے
کیا ہے آخر شب رخ ادھر کا
پہنچ جائوں میں ان کے کارواں تک
یہی ہے مدعا قلب و نظر کا
چمک اٹھے ’لطیف‘ ان کی نظر سے
مقدر دامن دریوزہ گر کا

[اصل بیت پڑھیں]
6

سراغِ خاکِ راہِ یار پائوں
اٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگائوں
مثالِ نسترن میں لہلہائوں
جو بوے دامنِ محبوب پائوں
اگر وہ گوہرِ نایاب مل جائے
میں اپنے دامنِ دل میں چھپائوں
بفیضِ جلوہ گاہِ حسنِ محبوب
میں اپنی تیرہ بختی کو مٹائوں
جدا مجھ سے نہ ہو وہ پیارا پنہوں
خدایا میں اسی کے ساتھ جائوں
کہیں وہ کاروانِ شوق میرا
جو مل جائے، لگن دل کی بجھائوں

[اصل بیت پڑھیں]
7

سنا ہے اپنے اونٹوں کو سنوارے
ادھر آئے ہیں پھر کیچی ہمارے
سراپا کیف ہے جن کا تصور
خوشا وہ جذب و مستی کے نظارے
بہرقیمت میںان کے ساتھ جائوں
اگر ہوں مہرباں مجھ پر وہ پیارے
مرا پنہوں ہے میرے دل کی زینت
میں ہوں وابستۂ حسنِ عقیدت

[اصل بیت پڑھیں]
8

جلو مں جس کے وہ رعنا جواں ہے
بڑا ہی خوبصورت کارواں ہے
کہیں انمول ہیروں کا نظارا
کہیں گلہاے رنگیں کا سماں ہے
خبر ہے کچھ تمہیں اے راہگیرو!
کہاں ہے قافلہ اُن کا، کہاں ہے!

[اصل بیت پڑھیں]
9

وہ جب آئے یہاں اونٹوں کو لے کر
کھلا مجھ پر نہ ان کا راز کوئی
ہوئے گم اس طرح پنہوں کو لے کر
نہ آئی کان میں آواز کوئی
جھپٹ کر جیسے میرے من کا موتی
اچانک لے گیا ہو باز کوئی
کہاں میں اتنی گہری نیند سوتی
مری قسمت اگرکھوٹی نہ ہوتی

[اصل بیت پڑھیں]
10

عجب ان کیچیوں نے گل کھلایا
نظر مجھ کو میرا پنہوں نہ آیا
وہ راتوں رات یوں بھاگے یہاں سے
کھلی جب آنکھ میں نے کچھ نہ پایا
خدایا اپنے پنہوں سے ملا دے
ملا دے اپنے پنہوں سے خدایا

[اصل بیت پڑھیں]
11

سحر ہونے سے پہلے ہی سدھارا
ہمارا مہرباں، مہماں ہمارا
یہ آخر کیا ہوا اے چشم حیراں
مجھے پنہوں نے کیوں بے موت مارا
نظر میں چار سو ویرانیاں ہیں
کچھ ایسا گم ہوا میرا سہارا
نہ زندہ چھوڑتی اونٹوں کو ان کے
اگر ملتا کوئی ایسا اشارا
کہ دانستہ جتوں نے میری خاطر
بچھایا ہے یہ دلکش جال سارا
اب اس معمورۂ ہستی میں اس بن
مجھے بھاتا نہیں کوئی نظارا

[اصل بیت پڑھیں]
12

مرے بھنبھور کو ویران کرکے
کدھر کا رخ کیا اس کارواں نے
کہاں ہیں کیچ اور مکران یا رب!
بہت ڈھونڈا ہے مجھ آشفتہ جاں نے
وہی کھینچے گا میرے دل سے ناوک
بنایا ہے ہدف جس مہرباں نے
ہراساں اور پریشاں کر دیا ہے
مجھے اس ہیبتِ کوہِ گراں نے

[اصل بیت پڑھیں]
13

رہا اس عالمِ سود و زیاں میں
تمہارا غم مجھے ہر غم سے پیارا
رہے گا عمر بھر یہ دشت ویراں
دلِ وحشت زدہ کا استعارا
تم ایسے کھوئے دشتِ بے کراں میں
تمہیں ہر سانس میں میں نے پکارا

[اصل بیت پڑھیں]
14

کہیں تم راکھ ہو کر رہ نہ جائو
شرارِ آہِ سوزاں کے اثر سے
بس اب ہٹ جائو اے کوہ و بیاباں!
گذرنے کو ہوں میں اس رہگذر سے
مجھے جل دے کر میرے دیوروں نے
کیا مجھ کوجدا اس راہبر سے
وہ میری زندگی کا آسرا
مرے قلب و نظر کا مدعا ہے

[اصل بیت پڑھیں]
15

ابھی اس رہگذارِ پرخطر میں
نہ جانے اور کتنے مرحلے ہیں
مگر اے آرزوے منزلِ شوق
محبت کے نرالے حوصلے ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

سکھیو! میں ہوئی ہوں برھن
مجھے چھوڑ گئے ہیں ساجن
میں بھولی بھالی ناری
سمجھی تھی ہوت کو اپنا
نینوں سے نین ملا کر
دیکھا تھا سندر سپنا
اب سب کچھ بھول گئی ہوں
انجان پیا کے کارن
مجھے چھوڑ گئے ہیں ساجن
پربت پربت میں بھٹکی
بن بن میں نیر بہائے
اس تپتی کیچ ڈگر میں
کیسے کیسے دکھ پائے
جل بھن کر راکھ ہوئے ہیں
برھا کی آگ میں تن من
مجھے چھوڑ گئے ہیں ساجن
ہر وقت ’لطیف‘ یہ چاہے
مل جائے آنکھ کا تارا
اس آری جام سے بڑھکر
نہیں کوئی اور سہارا
میں ڈھونڈ رہی ہوں جن کو
کب ہوں گے اس کے درشن
موھے چھوڑ گئے ساجن

[اصل بیت پڑھیں]
چوتھی داستان
1

ستایا کیوں مجھے آکر جتوں نے
یہ کیسا ظلم ڈھایا دیوروں نے
خدا جانے مرے دل کا سہارا
کہاں گم کردیا ان ظالموں نے
کیا سنسان مثل دشت ویراں
مرا بھنبھور کیچی جابروں نے
کیا ہے ایک سحر حشر ساماں
بظاہر آرسیدہ ساحروں نے
بہت ہی دور ہوں پنہوں سے لیکن
قسم کھائی ہے میرے حوصلوں نے
کہ اب ان کو مٹا کر چین لیں گے
کھلایا ہے یہ گل جن فاصلوں نے

[اصل بیت پڑھیں]
2

فریب راہ مجھ کو ہر نشاں ہے
کہاں ہے وہ مرا پنہوں کہاں ہے
کہاں ہے کاروانِ حسن اے دل
کہاں وہ سر خوشی کا کارواں ہے
خدا جانے گیا کس راہ سے وہ
کہ سونی رہگذار کہکشاں ہے
نظر آتے ہیں خوابوں کے بھنور سے
ابد تک تیرگی بیکراں ہے
سنائوںکیا تجھے میں اے شب غم
بڑی پردرد میری داستاں ہے
یہ کیا معلوم تھا اک صبح محشر
پسِ بے ہوشیٔ خواب گراں ہے
خبر کیا تھی جتوں کا خیر مقدم
مرے حق میں وداع جسم و جاں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

وہ میری سجدہ گاہِ دل نشیں ہے
جہاں وہ راحت قلب حزیں ہے
یہ دنیا ہوکہ ہو دنیاے آخر
سوا اس کے مرا کوئی نہیں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

برہمن زاد ہوں لیکن یہ سچ ہے
کہ اک دھوبی نے لاکر مجھ کو پالا
مجھے دنیا نے سمجھا ایک دھوبن
بظاہر ہوش جب میں نے سنبھالا
کیا اک اجنبی سے پیار میں نے
سمجھ کر دیدہ و دل کا اجالا
یہ کیا معلوم تھا اس کی جدائی
دلِ مہجور میں ڈالے گی چھالا
اب اس کی جستجو میں کھو گئی ہوں
مجھے بے موت جس نے مار ڈالا

[اصل بیت پڑھیں]
5

مہکتا ہے مثالِ مشک پنہوں
مرے کپڑوں میں ہے صابون کی بو

[اصل بیت پڑھیں]
6

مرا پنہوں بھی کپڑے دھو رہا تھا
اچانک کیچ سے قاصد جب آیا
کہا اس نے پسند آئی نہ یہ بات
کہ اک دھوبن سے تو نے دل لگایا

[اصل بیت پڑھیں]
7

کہاں ہے کیچ اور بھنبھور کیسا
یہ سارے رشتہ و پیوند کیا ہیں
نگاہوں میں انوکھی التجائیں
لبوں پر نالہ ہاے نارسا ہیں
نہ جانے کیوں مرے درپے ہیں دشمن
نہ جانے دوست کیوں صبر آزما ہیں

[اصل بیت پڑھیں]
8

عجب یہ زندگی کا کارواں ہے
تنِ تنہا ہر اک راہی یہاں ہے
بہر منزل ہجوم رہرواں ہے
کوئی ہمدم نہ کوئی راز داں ہے
کہیں صحرا کہیں کوہِ گراں ہے
سفر یا رہرووں کا امتحاں ہے
یہ راہِ سخت اور یہ خستہ حالی!
مگر تیری طلب دامن کشاں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

کیوں میری آشا توڑ گئے
سپنوں میں بھٹکتا چھوڑ گئے
بھنبھور سے کیوں منہ موڑ گئے
کیا بھول ہوئی مجھ سے پریتم؟
کچھ دیر تو جی کو بہلاتے
اک رات ہی کیچی رک جاتے
اتنا تو نہ مجھے تڑپاتے
کیا بھول ہوئی مجھ سے پریتم؟
’منجر‘ سے اونٹوں کو ساجن
بہلا لینا میرے کارن
درشن ابھلاسی ہے برہن
کیا بھول ہوئی مجھ سے پریتم؟

[اصل بیت پڑھیں]
پانچویں داستان
1

فزوں ہردم سسئی کا دردِ ہجراں
نہیںاس درد کا کوئی بھی درماں
ہرن کی طرح کب سے سوختہ جاں
سرابِ زندگی میں ہے ہراساں
ہما جس طرح سرگرداں فضا میں
نگاہِ اہل عالم سے ہو پنہاں

[اصل بیت پڑھیں]
2

جو دیکھے آخرِ شب چند آہو
سسئی سمجھی جتوں کے اونٹ آئے
تمناے رخِ یارِ گریزاں
نہ جانے اور کتنے گل کھلائے
سسئی اس عالمِ بیم و رجا میں
تری روحِ تپاں تسکین پائے

[اصل بیت پڑھیں]
3

خوشا یہ آہوانِ دشت ویراں
تلاشِ آب میں اُفتان و خیزاں
کچھ ایسی ہی مرے وارفتگی ہے
خلا میں کھو گئی ہے چشم حیراں
جھلک تھی جس کی پیارے کیچیوں میں
مجھے پیارا ہے وہ حسن گریزاں

[اصل بیت پڑھیں]
4

سسئی! اس وادیٔ کوہ گراں میں
درندوں سے بھی تو دوچار ہو گی
مگر کہتی ہے یہ فریاد تیری
کہ تو حلقہ بگوشِ یار ہو گی

[اصل بیت پڑھیں]
5

بجیں گے پھر خوشی کے شادیانے
قریں مجھ سے مرا ہمراز ہو گا
وہی ہو گا وفورِ عشق و مستی
وہی پھر ربط سوز و ساز ہو گا

[اصل بیت پڑھیں]
6

جہاں تشویش میں ہراک شتر ہے
جہاں وہ تنگ و پیچاں رہگذر ہے
وہاںبھی مطمئن ہے قلب اس کا
وہاں بھی گامزن وہ دیدہ ور ہے
سکوتِ مرگ ہے جن وادیوں میں
سسئی ان وادیوں میں رہ سپر ہے
اسے آرام کی اب کیا تمنا
سفر اس کا محبت کا سفر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
7

نہ جانے کیوں رہِ جاناں میں حائل
خیالِ ہیبتِ کوہِ گراں ہے
ہزاروں مرحلے ہر مرحلہ سخت
مگر پہنچوں گی میں پنہوں جہاں ہے

[اصل بیت پڑھیں]
8

مری قسمت میں تھا دھوکے میں آنا
متاع دل چرا کر لے گئے ہیں
بتائو تو مجھے اے کوہسارو!
کہاں اس کو چھپا کر لے گئے ہیں
مرے پنہوں کو ’برفت‘ اور ’بروہی‘
زبردستی اٹھا کر لے گئے ہیں
سرابوں میں بھٹکتی پھر رہی ہوں
سراپا تشنگی ہی تشنگی ہوں

[اصل بیت پڑھیں]
9

دمادم بڑھ رہی ہوں بے خودی میں
مجھے روکیں گے کیا کوہ و بیاباں
یہ ’کانبھو‘ اور ’کارو‘ میرے نزدیک
نہیں کچھ بھی بجز ابرِ بہاراں
ز سر تاپا کسی کی جستجو ہوں
دلِ حسرت زدہ کی آرزو ہوں

[اصل بیت پڑھیں]
10

ہوا ابر سیہ پھر اتفاقاً
فرازِ کوہ سے دست و گریباں
سکوتِ مرگ سا طاری ہے بن پر
بڑے پرھول ہیں دشت وبیاباں
میں تنہا پاپیادہ دل گرفتہ
کہاں جائوں بایں حالِ پریشاں
کرے گی آپ میری رہنمائی
یہ پیہم آرزوئے روئے جاناں

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

جائوں گی کیچ کی اور
سکھی ری… چھوڑ کے میں بھنبھور
سکھی ری… جائوں گی ہوت کی اور
آشا ہے لوٹ آئیں گے پریتم
پریت کی ریت نبھائیں گے پریتم
آگ لگائی ہے جو من میں
خود ہی آن بجھائیں گے پریتم
بھائے پنہل چت چور… سکھی ری
جائوں گی کیچ کی اور
بن بن میں بھٹکانے والا
جیون جوت جگانے والا
پھرتی ہوں میں کھوج میں جس کی
آئے گا وہ آنے والا

ناچے من کا مور… سکھی ری
جائوں گی کیچ کی اور

[اصل بیت پڑھیں]
چھٹی داستان
1

یہ کوہستان کی پیچیدہ راہیں
یہ ویرانی یہ خاموشی یہ آہیں
تجسس میں رہیں منزل بہ منزل
تھکی ماندی نم آلودہ نگاہیں
بیاباں در بیاباں خاک چھانی
ابھی ہیں دور اس کی جلوہ گاہیں
کہاں تک ساتھ دیں پائوں کے چھالے
اگر اہلِ طلب چلنا بھی چاہیں
وہی آخر بنیں گے دل کے غمخوار
جہاں تک ہوسکے ان سے نباہیں

[اصل بیت پڑھیں]
2

عجب ’وندر‘ کی راہِ پر ستم ہے
عجب یہ رہگذار خم بہ خم ہے
کہاںگم ہیں وہ پراسرار ناقے
صبا سے تیز تر جن کا قدم ہے
سرابوں میں ہراساں پھر رہی ہوں
جگر میں آگ ہے، آنکھوں میںنم ہے
جدائی میں تری اے میرے پنہوں
یہ طرفہ یورش رنج و الم ہے
کہاں ہے لوٹ آ اے میرے پیارے
مرے جینے کی اب امید کم ہے

[اصل بیت پڑھیں]
3

یہ کوہستاں یہ ویران ٹیلے
کھڑے ہوں جیسے فیل مست بن کر
میں اس کوہِ گراں کو کاٹ دیتی
اگر ہوتا کوئی تیشہ میسر
ہوئی نشو و نما اس کی غموں سے
تمنا بن گئی نخل تناور

[اصل بیت پڑھیں]
4

فراز کوہِ تا حدِ نظر ہے
خدا جانے مری منزل کدھر ہے
مسلسل رہگذاروں کا سفر ہے
وہی صحرائے گرم و پرخطر ہے
یہاں کیا کام ہے فرزانگی کا
بڑی صبر آزما یہ رہگذر ہے
مگر اے جذبۂ جوشِ محبت
مجھے غم کیا کہ پنہوں راہبر ہے
اسی کا ہے تصور میرے دل میں
اسی کا نقش پا پیش نظر ہے
صداے ناقہ جیسے ہر قدم پر
دلِ آگاہ سے نزدیک تر ہے
زمانے میں ازل سے کارفرما
محبت ہی محبت کا اثر ہے

[اصل بیت پڑھیں]
5

مسلسل کوہساروں کا سفر ہے
خدا جانے مرا پنہوں کدھر ہے
یہ تپتی ریت یہ وحشی درندے
ستم انگیز دشتِ پرخطر ہے
جہاں ناقے بھی ہمت ہار جائیں
وہی یہ تنگ و تیرہ رہگذر ہے
یہ عالم ہے کہ جیسے ہر قدم پر
وطن پیارے جتوں کا دور تر ہے
نہیں کچھ اور اب میری نظر میں
وہ آری جام ہی پیش نظر ہے
جتوں کے بائیں سے گزرے نہ تیتر
نکل جائیں شگون بد سے بیچ کر

[اصل بیت پڑھیں]
6

کہاں وہ انتظار روے جاناں
کہ چاہا بھی تو کمتر نیند آئی
کہاں یہ بدنصیبی چشم حیراں
کہ منزل پر پہنچ کر نیند آئی
سزا یہ ہے کہ تڑپوں زندگی بھر
خطا یہ تھی کہ شب بھر نیند آئی

[اصل بیت پڑھیں]
7

یہ احساں ہے دلِ بے مدعا کا
مجھے کچھ ڈر نہیں روز جزا کا
حریم چشم حیراں بن گیا ہے
ہر اک جلوہ کسی جانِ وفا کا

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

جتوں بن جگ جیون ہے روگ
سکھی ری… جگ جیون ہے روگ
بلائے موھے ’پنھل‘ چت چور
چلی ہوں آج میں کیچ کی اور
نہیں ہے بھاگ میں اب بھنبھور
لیا ہے آشائوں نے جوگ
سکھی ری! جگ جیون ہے روگ
آئے نہ بیکل من کوچین
پھروں گی بن بن میں دن رین
ملا ہے مجھ کو جیون سوگ
سکھی ری! جگ جیون ہے روگ

[اصل بیت پڑھیں]
وائي

پھرتی ہوں کنجن کنجن
بیکل ہوں جتوں کے کارن
بھنبھور میں کون ہے میرا
اجڑا وہ رین بسیرا
روٹھے مرے سندر ساجن
بیکل ہوں جتوں کے کارن
کیا بھول ہوئی تھی جانے
گھیرا جو مجھے بپتا نے
سکھ پائے کیسے جیون
بیکل ہوں جتوں کے کارن
ہر وقت ’لطیف‘ ہے کہتا
گھر ڈھونڈھ لے اپنے پی کا
اب جائوں کہاں میں برہن
بیکل ہوں جتوں کے کارن

[اصل بیت پڑھیں]
ساتویں داستان
1

نہ دو ترغیب مجھ کو واپسی کی
کہ یہ توہین ہے وارفتگی کی
کبھی بھنبھور میں جو دل کشی تھی
جھلک بھی اب نہیں اس دل کشی کی
دیا ہے جب سے دل پنہوں کو سکھیو!
نہیں ہے مجھ کو حسرت زندگی کی

[اصل بیت پڑھیں]
2

قطار اندر قطار آئے تھے ناقے
بڑی پرکیف انکی کہکشاں تھی
وہ آویزے وہ گھنگھرو وہ چھنا چھن
عجب بانگِ دراے کارواں تھی

[اصل بیت پڑھیں]
3

سسئی جنگل م ںتھک کر رہ گئی ہے
درندوں سے بھی کیا کچھ کہہ گئی ہے
بہر صورت یہ نخچیر محبت
ستم دل پر ہزاروں سہ گئی ہے

[اصل بیت پڑھیں]
4

کرم کر اب تو میرے دل پہ آری
چلی ہے کیچ کو یہ غم کی ماری
خبر لے اے مسیحائے محبت
نہ جائیں کوششیں بیکار ساری
تجھے معلوم ہے اے میرے پنہوں
کہ دردِ دل نہیں ہے اختیاری

[اصل بیت پڑھیں]